مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 پاک صحیفوں کی روشنی میں

ڈپریشن

ڈپریشن

ڈپریشن کیا ہے؟‏

‏”‏مَیں اپنی زندگی سے بیزار ہو چُکا ہوں۔‏“‏ —‏ایوب 10‏:‏1‏،‏ نیو اُردو بائبل ورشن۔‏

ماہرین کا کہنا:‏

ہر شخص کبھی نہ کبھی اُداس ہو جاتا ہے۔‏ لیکن ڈپریشن ایک ایسی بیماری ہے جس میں ایک شخص مسلسل اُداس رہتا ہے اور اِس وجہ سے اُس کی روزمرہ زندگی متاثر ہونے لگتی ہے۔‏ غور کریں کہ ماہرین ڈپریشن اور وقتی اُداسی کے بارے میں فرق‌فرق نظریے رکھتے ہیں۔‏ ایک شخص کی حالت کو دیکھ کر شاید کچھ ماہرین اِسے ڈپریشن کا نام دیں جبکہ دوسرے ماہرین اِسے وقتی اُداسی کہیں۔‏ بہرحال حقیقت تو یہ ہے کہ کچھ لوگ گہری مایوسی میں مبتلا رہتے ہیں،‏ اکثر چھوٹی‌چھوٹی بات پر خود کو کوستے ہیں اور یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ کسی کام کے نہیں۔‏

پاک صحیفوں کی تعلیم:‏

پاک کلام میں بہت سے ایسے لوگوں کا ذکر کِیا گیا ہے جو مایوسی کا شکار ہوئے۔‏ مثال کے طور پر پاک کلام میں لکھا ہے کہ ”‏حنّہ کا دل دُکھ سے بھرا ہوا تھا۔‏“‏ (‏1-‏سموئیل 1:‏10‏،‏ نیو اُردو بائبل ورشن‏)‏ اِس کے علاوہ ایک دفعہ ایلیاہ نبی دُکھ سے اِتنے نڈھال ہو گئے کہ اُنہوں نے دُعا کی کہ خدا اُن کی جان لے لے۔‏—‏1-‏سلاطین 19:‏4‏۔‏

پہلی صدی عیسوی کے مسیحیوں کو یہ ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ’‏کم‌ہمتوں کو دلاسا دیں۔‏‘‏ (‏1-‏تھسلنیکیوں 5:‏14‏)‏ ایک لغت کے مطابق اِصطلاح ”‏کم‌ہمتوں“‏ کا اِشارہ اُن لوگوں کی طرف ہے جو وقتی طور پر خود کو کسی پریشانی کے بوجھ تلے دبا محسوس کرتے ہیں۔‏ اِس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماضی میں بھی خدا کے بندے کبھی‌کبھار مایوسی کا شکار ہو جاتے تھے۔‏

 اگر ایک شخص ڈپریشن کا شکار ہے تو کیا اِس میں اُس کی اپنی غلطی ہے؟‏

‏”‏ساری مخلوقات .‏ .‏ .‏ کراہتی ہے اور دردِزہ میں پڑی تڑپتی ہے۔‏“‏ —‏رومیوں 8‏:‏22‏۔‏

پاک صحیفوں کی تعلیم:‏

پاک کلام میں بتایا گیا ہے کہ اِنسان اِس لئے بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں کیونکہ آدم اور حوا نے خدا کے خلاف بغاوت کی تھی۔‏ پاک صحیفوں میں خدا کے ایک نبی نے کہا:‏ ”‏مَیں گُناہ کی حالت میں ماں کے پیٹ میں پڑا۔‏“‏ (‏زبور 51:‏5‏)‏ پاک کلام میں یہ بھی لکھا ہے کہ ”‏ایک آدمی [‏یعنی پہلے اِنسان آدم]‏ کے سبب سے گُناہ دُنیا میں آیا اور گُناہ کے سبب سے موت آئی اور یوں موت سب آدمیوں میں پھیل گئی اِس لئے کہ سب نے گُناہ کِیا۔‏“‏ (‏رومیوں 5:‏12‏)‏ آدم کی اولاد ہونے کی وجہ سے ہم سب عیب‌دار ہیں اور بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔‏ اِسی وجہ سے ”‏ساری مخلوقات .‏ .‏ .‏ کراہتی ہے اور دردِزہ میں پڑی تڑپتی ہے۔‏“‏ (‏رومیوں 8:‏22‏)‏ لیکن پاک کلام میں ایک ایسی اُمید دی گئی ہے جو کوئی ڈاکٹر نہیں دے سکتا۔‏ خدا نے وعدہ کِیا ہے کہ وہ ہر طرح کی بیماری کو ختم کر دے گا۔‏ اِس میں ڈپریشن بھی شامل ہے۔‏—‏مکاشفہ 21:‏4‏۔‏

آپ ڈپریشن کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں؟‏

‏”‏[‏یہوواہ خدا]‏ شکستہ دلوں کے نزدیک ہے اور خستہ جانوں کو بچاتا ہے۔‏“‏ —‏زبور 34‏:‏18‏۔‏

ہمیں اِس سوال پر کیوں غور کرنا چاہئے؟‏

ہم حالات کو ہمیشہ اپنے قابو میں نہیں رکھ سکتے اور کبھی‌کبھی ہمیں ایسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو ہم پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔‏ (‏واعظ 9:‏11،‏ 12‏)‏ لیکن ہم کچھ اِقدام اُٹھا سکتے ہیں تاکہ ہم پر مایوسی طاری نہ ہو۔‏

پاک صحیفوں کی تعلیم:‏

پاک کلام میں بتایا گیا ہے کہ بیماروں کو ڈاکٹر کی ضرورت ہوتی ہے۔‏ (‏لوقا 5:‏31‏)‏ لہٰذا اگر آپ ڈپریشن کا شکار ہیں تو ڈاکٹر کے پاس جانے سے نہ ہچکچائیں۔‏ خدا کے کلام میں دُعا کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا ہے۔‏ مثال کے طور پر اِس میں لکھا ہے کہ ”‏اپنا بوجھ [‏یہوواہ خدا]‏ پر ڈال دے۔‏ وہ تجھے سنبھالے گا۔‏ وہ صادق کو کبھی جنبش نہ کھانے دے گا۔‏“‏ (‏زبور 55:‏22‏)‏ لیکن یہ نہ سوچیں کہ دُعا کرنے سے آپ کو صرف وقتی طور پر ذہنی سکون ملے گا۔‏ دُعا دراصل اُس خالق کے ساتھ بات کرنے کا ذریعہ ہے جو ”‏شکستہ‌دلوں کے نزدیک ہے۔‏“‏—‏زبور 34:‏18‏۔‏

کسی قریبی دوست کو اپنے احساسات بتانے سے بھی بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔‏ (‏امثال 17:‏17‏)‏ اِس سلسلے میں ایک یہوواہ کی گواہ جن کا نام ڈینی‌ایلا ہے،‏ کہتی ہیں:‏ ”‏ایک یہوواہ کے گواہ نے بڑی نرمی سے میرے ساتھ میرے ڈپریشن کے بارے میں بات کی۔‏ مَیں نے کئی سالوں تک کسی کو اپنے احساسات کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔‏ لیکن جب مَیں نے ایسا کِیا تو مجھے احساس ہوا کہ مجھے بہت پہلے کسی کے ساتھ اِس سلسلے میں بات کر لینی چاہئے تھی کیونکہ ایسا کرنے سے میرے دل کا بوجھ ہلکا ہو گیا۔‏“‏