پاک کلام کی آیتوں کی وضاحت
پاک کلام کی مشہور آیتوں اور اِصطلاحوں کا اصل مطلب جانیں۔ آیتوں کو اُن کے سیاقوسباق میں پڑھتے وقت دیکھیں کہ اِنہیں کب، کہاں اور کیوں لکھا گیا۔ وضاحت کے لیے دیے گئے فٹنوٹس اور آیت کے ساتھ دی گئی دوسری آیتوں کے حوالوں کی مدد سے آیت یا اِصطلاح کو اَور اچھی طرح سمجھیں۔
زبور 37:4 کی وضاحت—”خداوند میں مسرور رہ“
یہ زبور سمجھدار اور ایک ایسا شخص بننے میں ہماری مدد کیسے کرتا ہے جس سے خدا خوش ہوتا ہے؟
زبور 46:10 کی وضاحت—”خاموش ہو جاؤ اور جان لو کہ مَیں خدا ہوں“
کیا اِس آیت کا مطلب یہ ہے کہ چرچ میں خاموشی سے بیٹھا جائے؟
اَمثال 3:5، 6—”اپنے فہم پر تکیہ نہ کر“
آپ کیسے ثابت کر سکتے ہیں کہ آپ خود سے زیادہ یہوواہ پر بھروسا کرتے ہیں؟
اَمثال 16:3 کی وضاحت—”اپنے سب کام خداوند پر چھوڑ دے“
ایسی کون سی دو وجوہات ہیں جن کی بِنا پر اِنسانوں کو کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے خدا کی رہنمائی مانگنی چاہیے؟
اَمثال 17:17 کی وضاحت—”دوست ہر وقت محبت دِکھاتا ہے“
اِس مثل میں بڑی خوبصورتی سے بتایا گیا ہے کہ ایک سچا دوست کیسا ہوتا ہے۔
یسعیاہ 41:10 کی وضاحت—”مت ڈر کیونکہ مَیں تیرے ساتھ ہوں“
یہوواہ نے ایک ہی بات تین فرق فرق طریقوں سے کہہ کر اپنے وفادار بندوں کو یقین دِلایا کہ وہ اُن کی مدد کرتا ہے۔
یسعیاہ 42:8 کی وضاحت—”مَیں خداوند ہوں“
خدا نے اپنی ذات کے لیے کون سا نام چُنا ہے؟
یرمیاہ 29:11 کی وضاحت—”مَیں تمہارے حق میں اپنے خیالات کو جانتا ہوں“
کیا خدا نے ہر اِنسان کا مستقبل پہلے سے ہی طے کر رکھا ہے؟
یوحنا 16:33 کی وضاحت—”مَیں دُنیا پر غالب آیا ہوں“
یسوع مسیح کے الفاظ سے اُن کے پیروکاروں کو یہ حوصلہ کیسے مل سکتا ہے کہ وہ خدا کو خوش کر سکتے ہیں؟
2-کُرنتھیوں 12:9—”میرا فضل تیرے لئے کافی ہے“—وضاحت
پولُس رسول کو خدا کی عظیم رحمت سے کیسے فائدہ ہوا؟ ہم خدا کی عظیم رحمت سے کیسے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں؟

