رنگبرنگی دُنیا | برازیل
برازیل کی سیر
یہ فےژوآدا ہے جو کہ ایک مشہور برازیلی کھانا ہے۔
اِس پرندے کا نام ٹوکانہ ہے۔
برازیل کے آبائی لوگ شکار اور کھیتیباڑی کرکے اپنا گزر بسر کرتے تھے۔ جب پُرتگالی یہاں آئے تو اُنہوں نے رومن کیتھولک مذہب کو متعارف کرایا۔ پھر وقت گزرنے کے ساتھساتھ یہاں پر بہت سے گِرجاگھر بنائے گئے۔ اکثر اِن کے اندر کی دیواریں لکڑی کے ایسے مجسّموں سے سجی ہوئی ہیں جن پر سونے کا پتر چڑھایا گیا ہے۔
سولہویں سے اُنیسویں صدی عیسوی تک تقریباً 40 لاکھ افریقیوں کو غلام بنا کر برازیل لایا گیا تاکہ اُن سے کھیتیباڑی کرائی جائے۔ افریقی غلام اپنے ساتھ اپنےاپنے قبیلوں کی مذہبی رسمیں بھی لائے۔ اور آہستہآہستہ اِن رسموں نے مختلف چھوٹے موٹے مذاہب کی شکل اِختیار کرلی۔ یہاں کی موسیقی، رقص اور کھانوں پر بھی افریقی ثقافت کا اثر صاف نظر آتا ہے۔
یہاں کے ایک روایتی کھانے کا نام ”فےژوآدا“ ہے جو اصل میں ایک پُرتگالی کھانا ہے۔ اِسے طرحطرح کے گوشت اور کالے لوبیے سے تیار کِیا جاتا ہے اور چاولوں اور کرمکلہ (جو کہ بند گوبھی کی ایک قسم ہے) کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔ اُنیسویں اور بیسویں صدی میں یورپ (خاص طور پر جرمنی، اِٹلی، پولینڈ اور سپین)، جاپان اور کئی اَور ملکوں کے لوگ یہاں آ کر آباد ہو گئے۔
برازیل میں تقریباً 7 لاکھ 50 ہزار یہوواہ کے گواہ ہیں اور یہاں پر اِن کی 11 ہزار سے زیادہ کلیسیائیں ہیں۔ وہ 8 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو پاک کلام سے تعلیم دے رہے ہیں۔ یہاں پر یہوواہ کے گواہوں کی 31 تعمیراتی ٹیمیں ہیں جو مقامی یہوواہ کے گواہوں کے ساتھ مل کر عبادتگاہیں بناتی ہیں۔ یہ ٹیمیں ہر سال 250 سے 300 عبادتگاہیں تعمیر کرتی اور مرمت کرتی ہیں۔ مارچ 2000ء سے اب تک 3647 تعمیراتی منصوبوں کو مکمل کِیا جا چُکا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں؟
دریائےایمیزون میں دُنیا کے کسی بھی دریا کی نسبت زیادہ پانی بہتا ہے اور اِس کی لمبائی 6275 کلومیٹر (3900 میل) سے زیادہ ہے۔
دریائےایمیزون کے آسپاس کے علاقے میں دُنیا کا سب سے بڑا برساتی جنگل پایا جاتا ہے۔

