مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

صیاد کے پھندوں سے محفوظ رہیں

صیاد کے پھندوں سے محفوظ رہیں

صیاد کے پھندوں سے محفوظ رہیں

‏”‏[‏یہوواہ]‏ تجھے صیاد کے پھندے سے .‏ .‏ .‏ چھڑائے گا۔‏“‏—‏زبور ۹۱:‏۳‏۔‏

۱.‏ (‏ا)‏ زبور ۹۱:‏۳ میں ”‏صیاد“‏ کون ہے؟‏ (‏ب)‏ یہ ہمارے لئے خطرناک کیوں ہے؟‏

ایک شکاری تمام سچے مسیحیوں کو اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش میں ہے۔‏ وہ بلا کا ذہین اور مکار ہے۔‏ اسی کا ذکر زبور ۹۱:‏۳ میں ”‏صیاد“‏ یعنی شکاری کے طور پر کِیا گیا ہے۔‏ تاک میں بیٹھا یہ دُشمن کون ہے؟‏ جون ۱،‏ ۱۸۸۳ میں مینارِنگہبانی نے اس ”‏صیاد“‏ کی نشاندہی شیطان سے کی تھی۔‏ جیسے شکاری ایک پرندے کو پکڑنے کی کوشش کرتا ہے اُسی طرح یہ طاقتور دُشمن یہوواہ کے لوگوں کو دھوکا دینے اور پھنسانے کی کوشش کرتا ہے۔‏

۲.‏ شیطان کس لحاظ سے ایک شکاری کی طرح ہے؟‏

۲ پُرانے زمانے میں پرندوں کو ان کی سُریلی آواز اور دلکش رنگ والے پَروں کے لئے یا پھر خوراک کے طور پر یا قربانی چڑھانے کے لئے پکڑا جاتا تھا۔‏ تاہم،‏ پرندوں کو پکڑنا آسان کام نہیں ہوتا ہے کیونکہ یہ فطرتاً خطرے کی بُو پاتے ہی اُڑ جاتے ہیں۔‏ اس لئے شکاری جس پرندے کو پکڑنا چاہتے تھے وہ اُس کی خصوصیات اور عادات کا بغور جائزہ کرتے تھے۔‏ اس کے بعد وہ ان پرندوں کو دھوکا دیکر پکڑنے کی کوشش کرتے تھے۔‏ ہمیں پھنسانے کے لئے شیطان بھی کچھ ایسے ہی طریقے اختیار کرتا ہے۔‏ لیکن بائبل ہمیں اس کے طریقوں کو سمجھنے میں مدد کرتی ہے۔‏ شیطان ہم میں سے ہر ایک کو اچھی طرح جانتا ہے۔‏ وہ ہماری عادات اور خصوصیات کا جائزہ لیتا اور ہمیں پھنسانے کے لئے خفیہ پھندے لگاتا ہے۔‏ (‏۲-‏تیمتھیس ۲:‏۲۶‏)‏ اگر ہم اس کے پھندے میں پھنس جائیں گے تو خدا کے ساتھ ہمارا رشتہ برباد ہو جائے گا اور ہم ہمیشہ کی زندگی سے محروم ہو جائیں گے۔‏ اس صورتحال سے بچنے کے لئے ہمیں اس ”‏صیاد“‏ کی مختلف چالوں کی پہچان رکھنے کی ضرورت ہے۔‏

۳،‏ ۴.‏ (‏ا)‏ شیطان شیر کی طرح کیسے حملہ کرتا ہے؟‏ (‏ب)‏ وہ ایک سانپ کی طرح کیسے حملہ کرتا ہے؟‏

۳ زبورنویس نے شیطان کی تشبیہ ایک جوان شیر اور ایک سانپ سے کی تھی۔‏ (‏زبور ۹۱:‏۱۳‏)‏ ایک شیر کی طرح شیطان بعض اوقات یہوواہ کے خادموں پر کھلم‌کُھلا حملہ‌آور ہوتا ہے۔‏ وہ اُن پر اذیت لاتا ہے یا حکومت کی طرف سے اُن پر پابندیاں عائد کرواتا ہے۔‏ (‏زبور ۹۴:‏۲۰‏)‏ ایسے حملوں کی وجہ سے بعض نے یہوواہ خدا کی عبادت کرنا چھوڑ دی ہے۔‏ تاہم اکثر ان حملوں کے اُلٹے اثرات ہوتے ہیں اور خدا کے لوگوں کا اتحاد اَور بھی بڑھ جاتا ہے۔‏ لیکن شیطان ایک سانپ کی طرح چھپ کر بھی حملہ کرتا ہے۔‏

۴ جیسے ایک زہریلا سانپ خود کو چھپا کر اپنے شکار کو ڈستا ہے اسی طرح شیطان اپنی ذہانت کو استعمال کرکے مکاری سے ہم پر حملہ کرتا ہے۔‏ ایسا کرنے سے وہ خدا کے بعض خادموں کے ذہنوں کو زہرآلود کرنے میں کامیاب رہا ہے۔‏ اُس کے دھوکے میں پڑ کر اُنہوں نے یہوواہ کی مرضی کرنا چھوڑ دی ہے اور شیطان کی مرضی کرنے لگے ہیں۔‏ لیکن خوشی کی بات ہے کہ ہم شیطان کے حیلوں سے ناواقف نہیں ہیں۔‏ (‏۲-‏کرنتھیوں ۲:‏۱۱‏)‏ آئیں ہم چار ایسے پھندوں پر غور کرتے ہیں جنہیں وہ ایک شکاری کی طرح استعمال کرتا ہے۔‏

‏”‏انسان کا ڈر“‏

۵.‏ شیطان ’‏انسان کے ڈر‘‏ کا پھندا کیوں استعمال کرتا ہے؟‏

۵ ‏”‏صیاد“‏ جانتا ہے کہ انسان دوسروں میں مقبول ہونے کی خواہش رکھتا ہے۔‏ مسیحی دوسروں کے احساسات کا لحاظ رکھتے ہیں اور اس لئے اُنہیں ایک حد تک اس بات کا خیال ہے کہ لوگ ان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔‏ شیطان اس بات سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔‏ مثال کے طور پر وہ ’‏انسان کے ڈر‘‏ کے پھندے کو استعمال کرتا ہے۔‏ (‏امثال ۲۹:‏۲۵‏)‏ اگر ایک مسیحی،‏ انسان کے ڈر کی وجہ سے خدا کے حکموں کی خلاف‌ورزی کرنے لگتا ہے یا خدا کے حکموں کو بجا لانے میں کوتاہی کرنے لگتا ہے تو وہ ”‏صیاد“‏ کے پھندے میں پھنس چکا ہے۔‏—‏حزقی‌ایل ۳۳:‏۸؛‏ یعقوب ۴:‏۱۷‏۔‏

۶.‏ نوجوان ”‏صیاد“‏ کے پھندے میں کیسے پھنس سکتے ہیں؟‏

۶ اب ذرا غور کریں کہ ایک نوجوان سگریٹ پینے پر کیسے اُتر آتا ہے۔‏ جب وہ سکول جانے کے لئے گھر سے نکلتا ہے تو شاید سگریٹ پینے کا خیال اس کے ذہن میں نہ ہو۔‏ لیکن اُس دن اپنے ہم‌جماعتوں کے دباؤ میں آ کر وہ سگریٹ پی لیتا ہے۔‏ یوں وہ اپنے جسم کو نقصان پہنچاتا اور خدا کو ناراض کر لیتا ہے۔‏ (‏۲-‏کرنتھیوں ۷:‏۱‏)‏ وہ اس جال میں کیسے پھنس گیا؟‏ شاید اس نے بدکردار ساتھیوں میں اُٹھنا بیٹھنا شروع کر دیا ہے اور اُسے ڈر ہے کہ کہیں وہ اس کا مذاق نہ اڑائیں۔‏ اے نوجوانو!‏ خبردار رہیں کہ ”‏صیاد“‏ آپ کو ورغلا کر اِس پھندے میں نہ پھنسا لے۔‏ لہٰذا معمولی باتوں میں بھی سمجھوتہ نہ کریں۔‏ بُری صحبتوں سے بچنے کے سلسلے میں بائبل کی آگاہی پر دھیان دیں۔‏—‏۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۳۳‏۔‏

۷.‏ شیطان بعض مسیحی والدین کو کس طرح سے اپنے جال میں پھنسا لیتا ہے؟‏

۷ مسیحی والدین کو اپنے خاندانوں کی دیکھ‌بھال کرنے کی ذمہ‌داری کو بہت سنجیدہ خیال کرنا چاہئے۔‏ (‏۱-‏تیمتھیس ۵:‏۸‏)‏ تاہم،‏ شیطان اس معاملے میں بھی مسیحیوں کو اپنے جال میں پھنسانا چاہتا ہے۔‏ مثال کے طور پر شاید مسیحی اپنے آجر کے دباؤ میں آ کر اوور ٹائم کرنے لگتے ہیں اور یوں اجلاسوں سے غیرحاضر ہونے لگتے ہیں۔‏ یا پھر شاید وہ ڈسٹرکٹ کنونشن کے تمام سیشنوں پر حاضر نہیں ہوتے کیونکہ وہ چھٹی کی درخواست دینے سے ڈرتے ہیں۔‏ اس پھندے سے بچنے کا نسخہ یہ ہے کہ ہم ”‏[‏یہوواہ]‏ پر توکل“‏ کریں۔‏ (‏امثال ۳:‏۵،‏ ۶‏)‏ اس کے علاوہ،‏ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہم سب یہوواہ کے گھرانے کے فرد ہیں اور اس نے ہماری دیکھ‌بھال کرنے کی ذمہ‌داری اُٹھائی ہے۔‏ لہٰذا وہ زندگی کی ضروریات کو پورا کرنے میں ضرور ہماری مدد کرے گا۔‏ والدین کے طور پر کیا آپ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ جب آپ یہوواہ کی مرضی پوری کریں گے تو وہ ضرور آپ کی مدد کرے گا؟‏ یا کیا شیطان آپ کو انسان کے ڈر کے ذریعے اپنے پھندے میں پھنسا لے گا؟‏ دُعا کرکے ان سوالات پر غور کیجئے۔‏

دولت کا لالچ

۸.‏ شیطان دولت‌مند بننے کی خواہش کے ذریعے مسیحیوں کو اپنے پھندے میں کیسے پھنسانے کی کوشش کرتا ہے؟‏

۸ شیطان مسیحیوں کو اپنے پھندے میں پھنسانے کے لئے اُن کے دل میں دولت‌مند بننے کی خواہش کو جگانے کی کوشش بھی کرتا ہے۔‏ مثال کے طور پر آجکل راتوں رات امیر ہونے کی طرح طرح کی اسکیمیں پیش کی جاتی ہیں اور خدا کے بعض خادم بھی ان سے دھوکا کھا جاتے ہیں۔‏ بعض اوقات مسیحیوں سے کہا جاتا ہے کہ ”‏محنت کرو۔‏ اتنا کمانے کی کوشش کرو کہ آپ آرام کی زندگی گزار سکو۔‏ تب تو آپ کُل‌وقتی خدمت بھی کر سکو گے۔‏“‏ بعض لوگ ایسی بےتکی باتیں کرنے سے کلیسیا میں اپنے مسیحی بہن‌بھائیوں سے مالی فائدہ اُٹھانا چاہتے ہیں۔‏ ذرا غور کریں کہ ایسے لوگ دراصل کیا کہہ رہے ہیں۔‏ کیا اُن کی سوچ اس ”‏نادان“‏ دولتمند آدمی کی طرح نہیں جس کی تمثیل یسوع نے دی تھی؟‏—‏لوقا ۱۲:‏۱۶-‏۲۱‏۔‏

۹.‏ بعض مسیحی لالچ کے پھندے میں کیسے پھنس گئے ہیں؟‏

۹ شیطان اس بُری دُنیا کے ذریعے لوگوں میں طرح طرح کی چیزیں حاصل کرنے کا لالچ پیدا کرتا ہے۔‏ ایسا لالچ ایک مسیحی کے دل میں داخل ہو کر خدا کے کلام کو دبا دیتا ہے اور وہ ”‏بےپھل“‏ رہ جاتا ہے۔‏ (‏مرقس ۴:‏۱۹‏)‏ بائبل میں کھانے پہننے پر قناعت کرنے کی حوصلہ‌افزائی کی جاتی ہے۔‏ (‏۱-‏تیمتھیس ۶:‏۸‏)‏ تاہم،‏ بہتیرے مسیحی اس مشورے کو نظرانداز کرکے ”‏صیاد“‏ کے پھندے میں پھنس جاتے ہیں۔‏ اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟‏ شاید وہ غرور میں آ کر اپنی مالی حالت سے زیادہ اُونچا طرزِزندگی برقرار رکھنے کی کوشش میں ہیں۔‏ ذرا اس سلسلے میں اپنے آپ کو پرکھیں۔‏ کیا ہم خدا کی عبادت کی بجائے چیزیں حاصل کرنے کے لالچ کو اپنی زندگی میں پہلا درجہ دینے لگے ہیں؟‏ (‏حجی ۱:‏۲-‏۸‏)‏ افسوس کی بات ہے کہ جب ملک میں مہنگائی بڑھتی ہے تو بعض مسیحی اپنا اُونچا طرزِزندگی برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ روحانی طور پر کمزور ہو گئے ہیں۔‏ ایسا رویہ ”‏صیاد“‏ کو خوش کرتا ہے!‏

نامناسب تفریح

۱۰.‏ ہر مسیحی کو کس بارے میں اپنی جانچ کرنی چاہئے؟‏

۱۰ ‏”‏صیاد“‏ کا ایک اَور پھندا یہ ہے کہ وہ اچھے اور بُرے میں امتیاز کرنے کی ہماری صلاحیت کو بگاڑنے کی کوشش کرتا ہے۔‏ آجکل تفریح کے ذریعے ایک ایسی سوچ کو فروغ دیا جاتا ہے جو سدوم اور عمورہ کے لوگوں میں بھی پائی جاتی تھی۔‏ یہانتک کہ ٹیلی‌ویژن اور رسالوں میں دی گئی خبروں میں بھی تشدد کو نمایاں کِیا جاتا ہے اور فحاشی کو فروغ دیا جاتا ہے۔‏ میڈیا میں تفریح کے طور پر جو کچھ پیش کِیا جاتا ہے اس سے لوگوں کی ”‏نیک‌وبد میں امتیاز“‏ کرنے کی صلاحیت بگڑ گئی ہے۔‏ (‏عبرانیوں ۵:‏۱۴‏)‏ تاہم یاد کریں کہ یہوواہ خدا نے یسعیاہ نبی کے ذریعے آگاہ کِیا تھا:‏ ”‏اُن پر افسوس جو بدی کو نیکی اور نیکی کو بدی کہتے ہیں۔‏“‏ (‏یسعیاہ ۵:‏۲۰‏)‏ کیا ”‏صیاد“‏ نے ایسی تفریح کے ذریعے آپ کی سوچ کو بھی متاثر کِیا ہے؟‏ اس سلسلے میں ہم سب کو اپنی جانچ کرنی چاہئے۔‏—‏۲-‏کرنتھیوں ۱۳:‏۵‏۔‏

۱۱.‏ مینارِنگہبانی میں سلسلہ‌وار ٹی‌وی ڈراموں کے بارے میں کونسی آگاہی دی گئی تھی؟‏

۱۱ آج سے تقریباً ۲۵ سال پہلے خدا کے خادموں کو مینارِنگہبانی میں ٹی‌وی کے سلسلہ‌وار ڈراموں کے بارے میں خبردار کِیا گیا تھا۔‏ * اس میں لوگوں کے پسندیدہ ڈراموں کے اثر کے بارے میں یہ کہا گیا تھا:‏ ”‏ان ڈراموں میں اس سوچ کو فروغ دیا جاتا ہے کہ عشق کے نام پر سب کچھ جائز ہے۔‏ مثال کے طور پر ایک سین میں ایک غیرشادی‌شُدہ حاملہ لڑکی اپنی سہیلی سے کہتی ہے:‏ ’‏مَیں تو وِکٹر سے پیار کرتی ہوں۔‏ مجھے لوگوں کی باتوں کی کوئی پرواہ نہیں۔‏ .‏ .‏ .‏ مَیں خوش ہوں کہ مَیں وِکٹر کے بچے کی ماں بنوں گی!‏‘‏ اس سین کے ساتھ سُریلی موسیقی بج رہی ہے۔‏ ڈرامہ دیکھنے والا،‏ لڑکی کی حرکت کو بُرا خیال کرنے کی بجائے اس سے ہمدردی کرنے لگتا ہے۔‏ اُس کے نزدیک وِکٹر اچھا لڑکا ہے اور وہ لڑکی کی باتوں سے اتفاق کرنے لگتا ہے۔‏ اس ڈرامے کو دیکھنے کے بعد ایک عورت نے بیان کِیا:‏ ’‏حیرانگی کی بات ہے کہ ہم ایسا سین دیکھ کر کتنی آسانی سے غلط سوچ میں پڑ سکتے ہیں۔‏ ہم جانتے ہیں کہ جنسی بداخلاقی گُناہ ہے۔‏ .‏ .‏ .‏ لیکن میرے دل میں ڈرامے میں دکھائے جانے والے لڑکا لڑکی کے لئے ہمدردی پیدا ہو گئی۔‏‘‏ “‏

۱۲.‏ مینارِنگہبانی میں ٹی‌وی ڈراموں کے بارے میں جو آگاہی ۲۵ سال پہلے دی گئی تھی یہ آج بھی موزوں کیوں ہے؟‏

۱۲ جب سے یہ مضمون چھپا تھا اس طرح کے گھٹیا پروگراموں کی بھرمار رہی ہے۔‏ بہت سے ممالک میں ایسے ڈرامے ۲۴ گھنٹے نشر ہوتے ہیں۔‏ مرد،‏ عورتیں اور نوجوان باربار ایسے پروگرام دیکھتے ہیں۔‏ ہمیں یہ سوچ کر خود کو دھوکا نہیں دینا چاہئے کہ ”‏ایسے پروگرام مجھ پر اثر نہیں ڈال سکتے۔‏ ان میں تو محض وہی دکھایا جاتا ہے جو آجکل دُنیا میں ہو رہا ہے۔‏“‏ ایسی سوچ غلط ہے۔‏ کیا ایک مسیحی کو ٹی‌وی پر ایسے لوگوں کی حرکتوں سے محظوظ ہونا چاہئے جنہیں وہ اپنے گھر میں داخل ہونے کی اجازت تک نہ دے؟‏

۱۳،‏ ۱۴.‏ بعض مسیحیوں نے ٹی‌وی پروگراموں کے بارے میں آگاہیوں سے کیسے فائدہ اُٹھایا ہے؟‏

۱۳ بہتیرے مسیحیوں نے ”‏دیانتدار اور عقلمند نوکر“‏ کی آگاہیوں پر دھیان دیا ہے۔‏ (‏متی ۲۴:‏۴۵-‏۴۷‏)‏ سلسلہ‌وار ڈراموں کے بارے میں مینارِنگہبانی میں جو کچھ کہا گیا تھا اس پر غور کرنے کے بعد بعض نے اس رسالے کے ناشرین کو لکھا۔‏ اُنہوں نے بتایا کہ ان مضامین نے انہیں کیسے متاثر کِیا تھا۔‏ * ایک مسیحی بہن نے اعتراف کِیا:‏ ”‏مَیں ۱۳ سال تک سلسلہ‌وار ڈرامے دیکھا کرتی تھی۔‏ مَیں سوچا کرتی تھی کہ مسیحی اجلاسوں پر حاضر ہونے اور کسی حد تک منادی کے کام میں حصہ لینے سے مَیں ان ڈراموں کے اثر سے محفوظ تھی۔‏ لیکن ان ڈراموں نے میرے دل پر اثر کِیا اور مَیں اس سوچ میں پڑ گئی کہ اگر شوہر اپنی بیوی کے ساتھ بدسلوکی کرے تو بیوی زناکاری کرکے کوئی غلطی نہیں کرتی۔‏ یہ تو اُس کے شوہر کا اپنا قصور ہے۔‏ یہ خیال میرے دل میں نقش ہو گیا اور آخرکار مَیں زناکاری کرکے یہوواہ خدا اور اپنے بیاہتا ساتھی کے خلاف گناہ کر بیٹھی۔‏“‏ اس بہن کو کلیسیا سے خارج کر دیا گیا۔‏ جب اس نے ہوش میں آ کر توبہ کر لی تو اُسے دوبارہ سے کلیسیا میں قبول کر لیا گیا۔‏ سلسلہ‌وار ٹی‌وی ڈراموں سے خبردار کرنے والے مضامین نے اس بہن کی حوصلہ‌افزائی کی کہ جس بات سے یہوواہ نفرت کرتا ہے وہ اس سے لطف اُٹھانے سے انکار کرے۔‏—‏عاموس ۵:‏۱۴،‏ ۱۵‏۔‏

۱۴ ایک اَور قاری کی زندگی بھی ان ڈراموں سے متاثر ہوئی تھی۔‏ اس نے کہا:‏ ”‏ان مضامین کو پڑھ کر میرے آنکھوں میں آنسو آ گئے کیونکہ مَیں سمجھ گئی کہ میرا دل یہوواہ کی طرف کامل نہیں تھا۔‏ مَیں نے خدا سے وعدہ کِیا کہ مَیں دوبارہ سے ان سلسلہ‌وار ڈراموں کی غلامی میں نہیں پڑوں گی۔‏“‏ ان مضامین کے لئے قدردانی دکھانے کے بعد ایک مسیحی بہن نے ڈرامے دیکھنے کی اپنی عادت کا اعتراف کِیا اور لکھا:‏ ”‏ان مضامین کو پڑھ کر مَیں سوچنے لگی کہ .‏ .‏ .‏ کہیں یہوواہ کے ساتھ میرا رشتہ متاثر تو نہیں ہو گیا ہے؟‏ مَیں یہوواہ خدا سے دوستی رکھنے کے ساتھ ساتھ ان ڈراموں کے کرداروں کو کیونکر پسند کر سکتی ہوں؟‏“‏ اگر ایسے ٹی‌وی ڈرامے ۲۵ سال پہلے دلوں کو گمراہ کر سکتے تھے تو ظاہری بات ہے کہ آجکل ان کا اثر اَور بھی زیادہ ہو گیا ہے۔‏ (‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱۳‏)‏ ہمیں نامناسب تفریح کے پھندے سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے چاہے یہ سلسلہ‌وار ٹی‌وی ڈراموں کی شکل میں ہو یا پُرتشدد ویڈیو گیمز یا پھر فحش میوزک ویڈیوز کی شکل میں ہو۔‏

مسیحیوں میں اختلافات

۱۵.‏ بعض مسیحی شیطان کے کس پھندے میں پھنس گئے ہیں؟‏

۱۵ شیطان مسیحیوں میں پیدا ہونے والے اختلافات کو بھی پھندے کے طور پر استعمال کرتا ہے۔‏ وہ یہوواہ کے لوگوں کا اتحاد برباد کرنا چاہتا ہے۔‏ چاہے ہمیں خدا کی خدمت میں کتنی ہی ذمہ‌داریاں کیوں نہ سونپی گئی ہوں،‏ ہم سب شیطان کے اس پھندے میں پھنس سکتے ہیں۔‏ بعض مسیحی ان اختلافات کو اس حد تک بڑھنے دیتے ہیں کہ وہ یہوواہ کے خادموں کی روحانی خوشحالی،‏ امن اور اتحاد کو روند ڈالتے ہیں۔‏—‏زبور ۱۳۳:‏۱-‏۳‏۔‏

۱۶.‏ شیطان کس مکاری سے مسیحیوں کے اتحاد کو برباد کرنے کی کوشش کرتا ہے؟‏

۱۶ پہلی عالمی جنگ کے دوران،‏ شیطان نے یہوواہ کی زمینی تنظیم پر براہِ‌راست حملہ کِیا اور اسے برباد کرنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہا۔‏ (‏مکاشفہ ۱۱:‏۷-‏۱۳‏)‏ تب سے وہ مکاری سے خدا کے خادموں کے اتحاد کو برباد کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‏ جب مسیحیوں میں اختلافات کی وجہ سے پھوٹ پڑ جاتی ہے تو وہ ”‏صیاد“‏ کو اپنا مقصد پورا کرنے کا موقع دیتے ہیں۔‏ یوں اِن مسیحیوں کی زندگی میں اور کلیسیا میں بھی یہوواہ کی پاک روح کا اثر ماند پڑ جاتا ہے۔‏ اگر شیطان ایسا کرنے میں کامیاب رہتا ہے تو وہ بہت خوش ہوتا ہے۔‏ وہ جانتا ہے کہ جب کلیسیا کا امن اور اتحاد برباد ہو جاتا ہے تو منادی کے کام پر بھی بُرا اثر پڑتا ہے۔‏—‏افسیوں ۴:‏۲۷،‏ ۳۰-‏۳۲‏۔‏

۱۷.‏ اگر آپ کا کسی مسیحی بھائی یا بہن سے جھگڑا ہے تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟‏

۱۷ اگر اپنے کسی مسیحی بھائی یا بہن سے آپ کا جھگڑا ہے تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟‏ درحقیقت مسیحیوں میں مختلف وجوہات کی بِنا پر اختلافات پیدا ہو سکتے ہیں۔‏ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان اختلافات کو دُور نہیں کِیا جا سکتا۔‏ (‏متی ۵:‏۲۳،‏ ۲۴؛‏ ۱۸:‏۱۵-‏۱۷‏)‏ یاد رکھیں کہ بائبل میں جو ہدایتیں دی گئی ہیں یہ سب کی سب خدا کے الہام سے ہیں۔‏ ان پر عمل کرنے سے ہر مسئلے کا حل نکلتا ہے۔‏

۱۸.‏ یہوواہ کی مثال پر عمل کرنے سے ہم آپس کے اختلافات کیسے دُور کر سکتے ہیں؟‏

۱۸ یہوواہ ”‏معاف کرنے کو تیار ہے“‏ اور ’‏مغفرت اُس کے ہاتھ میں ہے‘‏ یعنی وہ گناہوں کو مکمل طور پر بخش دیتا ہے۔‏ (‏زبور ۸۶:‏۵؛‏ ۱۳۰:‏۴‏)‏ اس سلسلے میں ہمیں یہوواہ کی مانند بننا چاہئے۔‏ (‏افسیوں ۵:‏۱‏)‏ ہم سب گہنگار ہیں اور ہمیں یہوواہ کی معافی کی سخت ضرورت ہے۔‏ لہٰذا اگر ہمیں اپنے کسی مسیحی بھائی یا بہن کو معاف کرنا مشکل لگتا ہے تو ہمیں خبردار رہنا چاہئے۔‏ اگر ایسا ہے تو ہم اُس سخت‌دل نوکر کی مانند بننے کے خطرے میں ہیں جس کی تمثیل یسوع نے دی تھی۔‏ اس نوکر کے مالک نے اس کا بہت بڑا قرض بخش دیا تھا لیکن وہ خود اپنے ہمخدمت کا معمولی سا قرض بخشنے کو تیار نہ تھا۔‏ جب اُس کے مالک کو اس بات کی خبر ہوئی تو اُس نے اس سخت‌دل نوکر کو قید میں ڈلوا دیا۔‏ یسوع نے تمثیل کا اختتام اس طرح کِیا:‏ ”‏میرا آسمانی باپ بھی تمہارے ساتھ اِسی طرح کرے گا اگر تُم میں سے ہر ایک اپنے بھائی کو دل سے معاف نہ کرے۔‏“‏ (‏متی ۱۸:‏۲۱-‏۳۵‏)‏ ذرا اس تمثیل پر غوروخوض کریں۔‏ اس بات کو مدِنظر رکھیں کہ یہوواہ خدا نے کتنی مرتبہ ہمارے گناہ معاف کئے ہیں۔‏ چُنانچہ ہمیں بھی ایک دوسرے کو معاف کرنے سے آپس کے اختلافات دُور کرنے چاہئیں۔‏—‏زبور ۱۹:‏۱۴‏۔‏

‏”‏حق‌تعالیٰ کے پردہ“‏ میں محفوظ رہیں

۱۹،‏ ۲۰.‏ ہمیں اس خطرناک وقت میں یہوواہ کے ”‏پردہ“‏ اور ”‏سایہ“‏ کو کیسا خیال کرنا چاہئے؟‏

۱۹ ہم خطرناک وقت میں رہ رہے ہیں۔‏ اگر یہوواہ ہماری حفاظت نہ کرتا تو شیطان ہمیں کب کا ہلاک کر دیتا۔‏ ”‏صیاد“‏ کے پھندے سے بچنے کے لئے ہمیں ”‏حق‌تعالیٰ کے پردہ“‏ یعنی اس کی حفاظت میں رہنے کی ضرورت ہے۔‏ جی‌ہاں،‏ ہم ”‏قادرِمطلق کے سایہ میں سکونت“‏ کر سکتے ہیں۔‏—‏زبور ۹۱:‏۱‏۔‏

۲۰ لہٰذا ہمیں یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ حکم اور ہدایات دینے سے یہوواہ خدا ہم پر پابندیاں لگا رہا ہے بلکہ وہ ان کے ذریعے ہماری حفاظت کرتا ہے۔‏ یاد رکھیں کہ بلا کا ذہین شکاری ہم سب کا پیچھا کر رہا ہے۔‏ یہوواہ کی پُرمحبت مدد کے بغیر ہم میں سے کوئی بھی اس سے بچ نہیں پائے گا۔‏ (‏زبور ۱۲۴:‏۷،‏ ۸‏)‏ پس ہماری دُعا ہے کہ یہوواہ ہم سب کو ”‏صیاد“‏ کے پھندوں سے بچائے رکھے۔‏—‏متی ۶:‏۱۳‏۔‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

^ پیراگراف 11 براہِ‌مہربانی انگریزی میں شائع ہونے والے مینارِنگہبانی دسمبر ۱،‏ ۱۹۸۲،‏ صفحہ ۳-‏۷ کو دیکھیں۔‏

^ پیراگراف 13 براہِ‌مہربانی انگریزی میں شائع ہونے والے مینارِنگہبانی دسمبر ۱،‏ ۱۹۸۳،‏ صفحہ ۲۳ کو دیکھیں۔‏

کیا آپ کو یاد ہے؟‏

‏• ”‏انسان کا ڈر“‏ ایک جان‌لیوا پھندا کیوں ہے؟‏

‏• شیطان دولت کے لالچ کو پھندے کے طور پر کیسے استعمال کرتا ہے؟‏

‏• شیطان نے تفریح کے ذریعے بعض مسیحیوں کو کیسے پھنسا لیا ہے؟‏

‏• شیطان مسیحیوں کے اتحاد کو برباد کرنے کے لئے کونسا پھندا استعمال کرتا ہے؟‏

‏[‏مطالعے کے سوالات]‏

‏[‏صفحہ ۲۹ پر تصویر]‏

بعض مسیحی ”‏انسان کے ڈر“‏ کے پھندے میں پھنس گئے ہیں

‏[‏صفحہ ۳۱ پر تصویر]‏

یہوواہ جس چیز سے نفرت کرتا ہے کیا آپ اس سے محظوظ ہوتے ہیں؟‏

‏[‏صفحہ ۳۲ پر تصویر]‏

آپ اختلافات کو دُور کرنے کے لئے کیا کر سکتے ہیں؟‏