2-‏کُرنتھیوں 7‏:1‏-‏16

  • خود کو ناپاکی سے پاک کریں (‏1‏)‏

  • پولُس کو کُرنتھیوں پر فخر ہے (‏2-‏4‏)‏

  • طِطُس اچھی خبر لائے (‏5-‏7‏)‏

  • وہ دُکھ جو خدا کو پسند ہے (‏8-‏16‏)‏

7  عزیزو، چونکہ ہم سے ایسے وعدے کیے گئے ہیں اِس لیے آئیں، اپنے جسم اور اپنی سوچ*‏ کو ہر طرح کی ناپاکی سے پاک کریں اور خدا کا خوف رکھتے ہوئے پاک سے پاک‌تر ہوتے جائیں۔‏ 2  اپنے دلوں میں ہمارے لیے جگہ بنائیں۔ ہم نے کسی سے نااِنصافی نہیں کی، ہم نے کسی کو نہیں بگا‌ڑا، ہم نے کسی سے ناجائز فائدہ نہیں اُٹھایا۔ 3  مَیں یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ بُرے ہیں کیونکہ آپ تو مرتے دم تک ہمارے دلوں میں رہیں گے۔ 4  آپ سے تو مَیں کُھل کر بات کر سکتا ہوں۔ دراصل مجھے آپ پر بڑا فخر ہے۔ اور مَیں نے بڑی تسلی پائی ہے اور مَیں بہت خوش ہوں حالانکہ ہمیں بہت سی مصیبتوں کا سامنا ہے۔‏ 5  کیونکہ جب ہم مقدونیہ پہنچے تو ہمیں کوئی آرام نہیں ملا بلکہ ہمیں طرح طرح کی مصیبتوں کا سامنا رہا۔ دراصل باہر مخالفت تھی اور اندر پریشانیاں۔ 6  لیکن بے‌دلوں کو تسلی بخشنے والے خدا نے طِطُس کے ذریعے ہمیں تسلی دی۔ 7  اور ہمیں نہ صرف طِطُس کی موجودگی کی وجہ سے تسلی ملی بلکہ اِس لیے بھی کہ اُن کو آپ سے تسلی ملی تھی۔ کیونکہ اُنہوں نے ہمیں بتایا کہ آپ مجھ سے ملنے کے لیے کتنے بے‌تاب ہیں، آپ کتنے دُکھی ہیں اور آپ میری کتنی فکر رکھتے ہیں۔ یہ سُن کر میری خوشی دوبالا ہو گئی۔‏ 8  مجھے اِس بات پر افسوس نہیں کہ مَیں نے آپ کو اپنے خط سے دُکھی کِیا۔ بے‌شک پہلے تو مجھے کچھ افسوس ہوا کہ آپ میرے خط کی وجہ سے دُکھی ہو گئے (‏چاہے تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی)‏ 9  لیکن اب مَیں خوش ہوں۔ مَیں اِس لیے خوش نہیں کہ آپ کو دُکھ ہوا تھا بلکہ اِس لیے کہ اِس دُکھ کی وجہ سے آپ نے توبہ کی۔ آپ نے ایسا دُکھ محسوس کِیا جو خدا کو پسند ہے اِس لیے آپ کو ہماری وجہ سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔ 10  جب کوئی شخص ایسا دُکھ محسوس کرتا ہے جو خدا کو پسند ہے تو وہ توبہ کرتا ہے اور اِس کے نتیجے میں نجات پاتا ہے اور افسوس کی گنجائش نہیں رہتی۔ لیکن دُنیاوی دُکھ کا انجام موت ہے۔ 11  جب آپ نے ایسا دُکھ محسوس کِیا جو خدا کو پسند ہے تو اِس کے نتیجے میں آپ میں بڑا جوش پیدا ہوا، آپ کو دھچکا لگا، آپ نے اپنی بدنامی کو دُور کِیا، آپ نے خدا کا خوف کِیا اور آپ نے بڑے شوق اور جذبے سے غلطی کو درست کِیا۔ ہاں، آپ نے ہر لحاظ سے اِس معاملے میں پاکیزگی سے کام لیا۔ 12  جب مَیں نے آپ کو لکھا تو اُس کی خاطر نہیں لکھا جس نے گُناہ کِیا تھا اور اُس کی خاطر بھی نہیں جس کے خلاف گُناہ ہوا تھا بلکہ آپ کی خاطر تاکہ خدا کے حضور ظاہر ہو جائے کہ آپ کتنے شوق سے ہماری بات مانتے ہیں۔ 13  اِسی لیے تو ہمیں تسلی ملی۔‏ لیکن تسلی ملنے کے علاوہ ہمیں طِطُس کی خوشی کو دیکھ کر بڑی خوشی بھی ملی کیونکہ آپ نے اُن*‏ کو تازہ‌دم کر دیا۔ 14  مَیں نے طِطُس کو بڑے فخر سے آپ کے بارے میں بتایا تھا اور آپ نے مجھے مایوس نہیں کِیا۔ جیسے وہ ساری باتیں سچی تھیں جو ہم نے آپ کو بتائی تھیں، بالکل ویسے ہی وہ باتیں بھی سچ ثابت ہوئیں جو ہم نے طِطُس کو آپ کے بارے میں بتائی تھیں۔ 15  وہ تو آپ سے اَور بھی زیادہ پیار کرنے لگے ہیں کیونکہ وہ آپ کی فرمانبرداری سے بہت متاثر ہوئے اور اِس بات سے بھی کہ آپ نے بڑے احترام سے اُن کا خیرمقدم کِیا۔ 16  مَیں خوش ہوں کہ مَیں ہر لحاظ سے آپ پر اِعتماد کر سکتا ہوں۔‏*

فٹ‌ نوٹس

یونانی میں:‏ ”‏روح“‏
یونانی میں:‏ ”‏اُن کی روح“‏
یا شاید ”‏کہ آپ کی وجہ سے میری حوصلہ‌افزائی ہوئی۔“‏