مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

خدا کے مقصد کی تکمیل کا ایک انتظام

خدا کے مقصد کی تکمیل کا ایک انتظام

خدا کے مقصد کی تکمیل کا ایک انتظام

‏”‏[‏خدا]‏ اپنی مرضی کی مصلحت سے سب کچھ کرتا ہے۔‏“‏—‏افسیوں ۱:‏۱۱‏۔‏

۱.‏ یہوواہ کے گواہوں کی تمام کلیسیائیں اپریل ۱۲،‏ ۲۰۰۶ کو کیوں جمع ہوں گی؟‏

بدھ اپریل ۱۲،‏ ۲۰۰۶ کی شام تقریباً ایک کروڑ ساٹھ لاکھ لوگ خداوند یسوع مسیح کی موت کی یادگار منانے کے لئے جمع ہوں گے۔‏ یہوواہ کے گواہوں کی تمام عبادتگاہوں میں ایک میز پر بےخمیری روٹی اور سُرخ مے رکھی جائیگی۔‏ یہ بےخمیری روٹی مسیح کے بدن کی اور سُرخ مے اُس کے خون کی علامت ہے۔‏ تقریر کے اختتام پر یسوع کی موت کی یادگار کی وضاحت کرتے وقت ان علامات یعنی روٹی اور مے کو تمام حاضرین کے سامنے سے گزارا جائے گا۔‏ یہوواہ کے گواہوں کی چند کلیسیاؤں میں حاضرین میں سے ایک یا اس سے زائد اشخاص اس بےخمیری روٹی اور سُرخ مے میں سے کھائیں پئیں گے۔‏ تاہم،‏ زیادہ‌تر کلیسیاؤں میں حاضرین میں سے کوئی بھی اس بےخمیری روٹی اور سُرخ مے میں سے نہیں کھائے پئے گا۔‏ کیوں صرف آسمانی اُمید رکھنے والے چند مسیحی ان علامات میں سے کھاتےپیتے ہیں جبکہ اکثریت جو زمین پر ہمیشہ کی زندگی کی اُمید رکھتی ہے ان میں سے نہیں کھاتی پیتی؟‏

۲،‏ ۳.‏ (‏ا)‏ یہوواہ خدا نے اپنے مقصد کی مطابقت میں تخلیق کا کام کیسے کِیا؟‏ (‏ب)‏ یہوواہ نے زمین اور انسان کو کس مقصد کے تحت بنایا تھا؟‏

۲ یہوواہ ایک بامقصد خدا ہے۔‏ وہ اپنے مقصد کی تکمیل کے لئے ”‏اپنی مرضی کی مصلحت سے سب کچھ کرتا ہے۔‏“‏ (‏افسیوں ۱:‏۱۱‏)‏ اُس نے سب سے پہلے اپنے اکلوتے بیٹے کو خلق کِیا۔‏ (‏یوحنا ۱:‏۱،‏ ۱۴؛‏ مکاشفہ ۳:‏۱۴‏)‏ اس کے بعد اُس نے اپنے بیٹے کے ذریعے روحانی بیٹوں کے ایک خاندان اور کائنات کو خلق کِیا جس میں زمین اور انسان بھی شامل ہیں۔‏—‏ایوب ۳۸:‏۴،‏ ۷؛‏ زبور ۱۰۳:‏۱۹-‏۲۱؛‏ یوحنا ۱:‏۲،‏ ۳؛‏ کلسیوں ۱:‏۱۵،‏ ۱۶‏۔‏

۳ یہوواہ خدا نے انسانوں کو زمین پر کسی امتحان پر پورا اُترنے کے لئے نہیں رکھا کہ اگر وہ کامیاب نکلے تو انہیں اپنے روحانی بیٹوں پر مشتمل خاندان کو بڑھانے کے لئے آسمان پر لیجائے گا جیساکہ دُنیائےمسیحیت کے بہتیرے چرچوں میں سکھایا جاتا ہے۔‏ اُس نے زمین کو ایک خاص مقصد یعنی ”‏آبادی“‏ کے لئے آراستہ کِیا ہے۔‏ (‏یسعیاہ ۴۵:‏۱۸‏)‏ خدا نے زمین کو انسان کے لئے اور انسان کو زمین کے لئے بنایا تھا۔‏ (‏زبور ۱۱۵:‏۱۶‏)‏ پوری زمین نے راستباز انسانوں سے معمور فردوس بن جانا تھا۔‏ اُنہیں اس فردوس کی باغبانی اور نگہبانی کرنی تھی۔‏ پہلے انسانی جوڑے کو آسمان پر جانے کی کوئی اُمید نہیں بخشی گئی تھی۔‏—‏پیدایش ۱:‏۲۶-‏۲۸؛‏ ۲:‏۷،‏ ۸،‏ ۱۵‏۔‏

یہوواہ کے مقصد کو ناکام بنانے کی کوشش

۴.‏ انسانی تاریخ کے آغاز ہی سے یہوواہ کے حکمرانی کرنے کے طریقۂ‌کار کو کیسے چیلنج کِیا گیا؟‏

۴ خدا کے ایک روحانی بیٹے نے بغاوت کر دی اور یہوواہ کی عطاکردہ آزاد مرضی کی بخشش کا غلط استعمال کرتے ہوئے اس کے مقصد میں رکاوٹ ڈالنے کی ٹھان لی۔‏ اُس نے یہوواہ کی حکمرانی کی اطاعت کرنے والے تمام لوگوں کے امن کو متاثر کِیا۔‏ اس روحانی بیٹے یعنی شیطان نے پہلے انسانی جوڑے کو خدا سے خودمختاری حاصل کرنے کی ترغیب دی۔‏ (‏پیدایش ۳:‏۱-‏۶‏)‏ شیطان نے یہوواہ خدا کی طاقت سے انکار نہیں کِیا تھا۔‏ اس کی بجائے اُس نے یہوواہ کے حکمرانی کرنے کے حق اور طریقۂ‌کار کو چیلنج کِیا۔‏ یوں انسانی تاریخ کے آغاز ہی سے زمین پر یہوواہ کی حاکمیت کا مسئلہ کھڑا ہو گیا۔‏

۵.‏ کونسا دوسرا مسئلہ اُٹھایا گیا اور اس کا تعلق کن کی وفاداری سے تھا؟‏

۵ شیطان نے ایوب کے زمانے میں کائنات پر حکمرانی کرنے کے اہم مسئلے سے منسلک ایک اَور مسئلہ اُٹھایا۔‏ شیطان نے خدا کی فرمانبرداری اور خدمت کرنے کی انسانوں کی نیت پر الزام لگایا۔‏ شیطان نے یہ دلالت کی کہ انسان خدا سے حاصل ہونے والی برکات کی وجہ سے اُس کی خدمت کر رہے تھے اور جب انہیں آزمائشوں کا سامنا ہوگا تو وہ اُس سے پھر جائیں گے۔‏ (‏ایوب ۱:‏۷-‏۱۱؛‏ ۲:‏۴،‏ ۵‏)‏ اگرچہ اس مسئلے کا تعلق یہوواہ کے ایک انسانی خادم سے تھا توبھی اس میں یہوواہ کے اکلوتے بیٹے سمیت تمام روحانی بیٹے شامل تھے۔‏

۶.‏ یہوواہ خدا نے اپنے نام اور مقصد کے مطابق کیا کِیا؟‏

۶ اپنے مقصد اور اپنے نام کے مطلب کے مطابق،‏ یہوواہ پیشینگوئی کرنے والا اور نجات دلانے والا خدا بن گیا۔‏ * اُس نے شیطان سے کہا:‏ ”‏مَیں تیرے اور عورت کے درمیان اور تیری نسل اور عورت کی نسل کے درمیان عداوت ڈالوں گا۔‏ وہ تیرے سر کو کچلے گا اور تُو اُس کی ایڑی پر کاٹے گا۔‏“‏ (‏پیدایش ۳:‏۱۵‏)‏ ”‏عورت“‏ کی نسل یعنی اپنی آسمانی تنظیم کے ذریعے یہوواہ شیطان کے چیلنج کا جواب دے گا اور آدم کی اولاد کو مخلصی اور زندگی کی اُمید فراہم کرے گا۔‏—‏رومیوں ۵:‏۲۱؛‏ گلتیوں ۴:‏۲۶،‏ ۳۱‏۔‏

‏’‏اُس کی مرضی کا بھید‘‏

۷.‏ یہوواہ خدا نے پولس کے ذریعے کونسے مقصد کو بیان کِیا؟‏

۷ افسس میں رہنے والے مسیحیوں کے نام اپنے خط میں پولس رسول نے بڑی خوبصورتی سے بیان کِیا کہ یہوواہ خدا اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لئے چیزوں کا انتظام کیسے کرتا ہے۔‏ پولس نے لکھا:‏ ”‏اُس نے اپنی مرضی کے بھید کو اپنے اُس نیک ارادہ کے موافق ہم پر ظاہر کِیا۔‏ جسے اپنے آپ میں ٹھہرایا لیا تھا۔‏ تاکہ زمانوں کے پورے ہونے کا ایسا انتظام ہو کہ مسیح میں سب چیزوں کا مجموعہ ہو جائے۔‏ خواہ وہ آسمان کی ہوں خواہ زمین کی۔‏“‏ (‏افسیوں ۱:‏۹،‏ ۱۰‏)‏ یہوواہ خدا کا جلالی مقصد یہ ہے کہ کائنات میں اُس کی حکمرانی کی اطاعت کرنے والی تمام مخلوقات متحد ہوں۔‏ (‏مکاشفہ ۴:‏۱۱‏)‏ یوں اُس کا نام پاک ٹھہرے گا،‏ شیطان جھوٹا ثابت ہوگا اور خدا کی مرضی ”‏جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی“‏ ہوگی۔‏—‏متی ۶:‏۱۰‏۔‏

۸.‏ جس لفظ کا ترجمہ ”‏انتظام“‏ کِیا گیا ہے اس کا کیا مطلب ہے؟‏

۸ یہوواہ کا ”‏نیک ارادہ“‏ یعنی مقصد ایک ”‏انتظام“‏ کے ذریعے پورا ہوگا۔‏ پولس رسول نے جو لفظ استعمال کِیا اس کا لفظی مطلب ”‏گھرانے کا انتظام“‏ ہے۔‏ یہ مسیحائی حکومت کی طرف اشارہ کرنے کی بجائے چیزوں کو منظم کرنے کے طریقۂ‌کار کی طرف اشارہ کرتا ہے۔‏ * یہوواہ خدا اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لئے جس شاندار طریقے سے چیزوں کا انتظام کرتا ہے اس کا تعلق ایک ”‏بھید“‏ سے ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آشکارا ہوگا۔‏—‏افسیوں ۱:‏۱۰؛‏ ۳:‏۹‏،‏ نیو ورلڈ ٹرانسلیشن فٹ‌نوٹس۔‏

۹.‏ یہوواہ نے کیسے اپنی مرضی کے بھید کو بتدریج آشکارا کِیا؟‏

۹ سلسلہ‌وار عہدوں کے ذریعے یہوواہ خدا نے آہستہ آہستہ یہ ظاہر کر دیا کہ عدن میں موعودہ نسل کے بارے میں کِیا گیا وعدہ کیسے پورا ہوگا۔‏ ابرہامی عہد کے ذریعے خدا نے ظاہر کِیا کہ موعودہ نسل ابرہام کے سلسلۂ‌نسب سے آئے گی اور اس کے وسیلہ سے ”‏زمین کی سب قومیں“‏ برکت پائیں گی۔‏ یہ عہد اس بات کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ نسل کے بنیادی حصے کے ساتھ دوسروں کا تعلق بھی ہے۔‏ (‏پیدایش ۲۲:‏۱۷،‏ ۱۸‏)‏ جسمانی اسرائیل کے ساتھ باندھا گیا یہوواہ کا عہد ”‏کاہنوں کی ایک مملکت“‏ کے مقصد کو بھی ظاہر کرتا ہے۔‏ (‏خروج ۱۹:‏۵،‏ ۶‏)‏ داؤد کے ساتھ باندھا گیا عہد یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ نسل ابد تک بادشاہت کی سربراہ ہوگی۔‏ (‏۲-‏سموئیل ۷:‏۱۲،‏ ۱۳؛‏ زبور ۸۹:‏۳،‏ ۴‏)‏ شریعتی عہد کے یہودیوں کو مسیحا تک لیجانے کے بعد یہوواہ نے اپنے مقصد کی تکمیل کے مزید پہلوؤں کو نمایاں کِیا۔‏ (‏گلتیوں ۳:‏۱۹،‏ ۲۴‏)‏ نسل کے بنیادی حصے سے تعلق رکھنے والے انسان پہلے سے بیان‌کردہ ”‏کاہنوں کی .‏ .‏ .‏ مملکت“‏ کو تشکیل دیں گے اور نئے ”‏اسرائیل“‏ یعنی روحانی اسرائیل کے طور پر ایک ’‏نئے عہد‘‏ میں داخل کئے جائیں گے۔‏—‏یرمیاہ ۳۱:‏۳۱-‏۳۴؛‏ عبرانیوں ۸:‏۷-‏۹‏۔‏

۱۰،‏ ۱۱.‏ (‏ا)‏ یہوواہ نے پہلے سے بیان‌کردہ نسل کی نشاندہی کیسے کی؟‏ (‏ب)‏ خدا کا اکلوتا بیٹا زمین پر کیوں آیا تھا؟‏

۱۰ خدا کے مقصد کے انتظام کے مطابق وہ وقت آ پہنچا جب پیش‌ازوقت بیان‌کردہ نسل نے زمین پر ظاہر ہونا تھا۔‏ یہوواہ نے جبرائیل فرشتے کو مریم کو یہ بتانے کے لئے بھیجا کہ وہ ایک بیٹے کو جنم دے گی جس کا نام یسوع ہوگا۔‏ فرشتے نے اُس سے کہا:‏ ”‏وہ بزرگ ہوگا اور خداتعالےٰ کا بیٹا کہلائے گا اور [‏یہوواہ]‏ خدا اُس کے باپ داؔؤد کا تخت اُسے دے گا۔‏ اور وہ یعقوؔب کے گھرانے پر ابد تک بادشاہی کرے گا اور اُس کی بادشاہی کا آخر نہ ہوگا۔‏“‏ (‏لوقا ۱:‏۳۲،‏ ۳۳‏)‏ یوں موعودہ نسل کی شناخت بالکل واضح ہو گئی۔‏—‏گلتیوں ۳:‏۱۶؛‏ ۴:‏۴‏۔‏

۱۱ یہوواہ کا اکلوتا بیٹا زمین پر آیا اور آخری دم تک آزمایا گیا۔‏ شیطان کے چیلنج کا جواب یسوع مسیح کی طرزِزندگی نے مہیا کرنا تھا۔‏ کیا وہ اپنے باپ کا وفادار رہے گا؟‏ اس کا تعلق ایک بھید سے تھا۔‏ بعدازاں،‏ پولس رسول نے یسوع کے کردار کے بارے میں بیان کِیا:‏ ”‏اِس میں کلام نہیں کہ دینداری کا بھید بڑا ہے یعنی وہ جو جسم میں ظاہر ہوا اور روح میں راستباز ٹھہرا اور فرشتوں کو دکھائی دیا اور غیرقوموں میں اُس کی منادی ہوئی اور دُنیا میں اُس پر ایمان لائے اور جلال میں اُوپر اُٹھایا گیا۔‏“‏ (‏۱-‏تیمتھیس ۳:‏۱۶‏)‏ جی‌ہاں،‏ اپنی موت تک راستی برقرار رکھنے سے یسوع نے شیطان کے چیلنج کا جواب دیا۔‏ لیکن بھید کے بارے میں دیگر تفصیلات کا ظاہر ہونا ابھی باقی تھا۔‏

‏”‏خدا کی بادشاہی کا بھید“‏

۱۲،‏ ۱۳.‏ (‏ا)‏ ’‏خدا کی بادشاہی کے بھید‘‏ کا ایک پہلو کیا ہے؟‏ (‏ب)‏ آسمان پر جانے کے لئے یہوواہ کے انسانوں کی ایک محدود تعداد کو منتخب کرنے میں کیا کچھ شامل ہے؟‏

۱۲ گلیل میں اپنی منادی کے دوران یسوع نے ظاہر کِیا کہ بھید کا اس کی مسیحائی بادشاہت سے قریبی تعلق ہے۔‏ اُس نے اپنے شاگردوں کو بتایا:‏ ”‏تُم کو آسمان کی بادشاہی [‏”‏خدا کی بادشاہی،‏“‏ مرقس ۴:‏۱۱‏]‏ کے بھیدوں کی سمجھ دی گئی ہے۔‏“‏ (‏متی ۱۳:‏۱۱‏)‏ اس بھید کا ایک پہلو یہوواہ خدا کا ۰۰۰،‏۴۴،‏۱ انسانوں کے ”‏چھوٹے گلّے“‏ کو منتخب کرنا ہے جو آسمان میں اس کے بیٹے کے ساتھ نسل کے حصے کے طور پر حکمرانی کریں گے۔‏—‏لوقا ۱۲:‏۳۲؛‏ مکاشفہ ۱۴:‏۱،‏ ۴‏۔‏

۱۳ انسانوں کو زمین پر رہنے کے لئے خلق کِیا گیا تھا۔‏ لہٰذا،‏ بعض انسانوں کے آسمان پر جانے کے لئے یہوواہ کی طرف سے ”‏نئے مخلوق“‏ کی ضرورت تھی۔‏ (‏۲-‏کرنتھیوں ۵:‏۱۷‏)‏ اس شاندار آسمانی اُمید میں شریک برگزیدہ اشخاص کو پطرس رسول نے لکھا:‏ ”‏ہمارے خداوند یسوؔع مسیح کے خدا اور باپ کی حمد ہو جس نے یسوؔع مسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے باعث اپنی بڑی رحمت سے ہمیں زندہ اُمید کے لئے نئے سرے سے پیدا کِیا۔‏ تاکہ ایک غیرفانی اور بےداغ اور لازوال میراث کو حاصل کریں۔‏“‏—‏۱-‏پطرس ۱:‏۳،‏ ۴‏۔‏

۱۴.‏ (‏ا)‏ ’‏خدا کی بادشاہی کے بھید‘‏ میں غیریہودیوں کو کیسے شامل کِیا گیا؟‏ (‏ب)‏ ہم ’‏خدا کی تہ کی باتوں‘‏ کو سمجھنے کے قابل کیوں ہیں؟‏

۱۴ مستقبل کی بادشاہتی حکومت کے حوالے سے بھید کا ایک دوسرا پہلو خدا کی یہ مرضی تھی کہ آسمان پر مسیح کے ساتھ حکمرانی کرنے کے لئے بلائے جانے والوں میں غیریہودیوں کو شامل کرے۔‏ پولس نے یہوواہ کے ”‏انتظام“‏ یعنی اپنے مقصد کی تکمیل کے طریقۂ‌کار کے اس پہلو کو بیان کِیا:‏ ”‏جو اَور زمانوں میں بنی‌آدم کو اس طرح معلوم نہ ہوا تھا جس طرح اُس کے مُقدس رسولوں اور نبیوں پر روح میں اب ظاہر ہو گیا ہے۔‏ یعنی یہ کہ مسیح یسوؔع میں غیرقومیں خوشخبری کے وسیلہ سے میراث میں شریک اور بدن میں شامل اور وعدہ میں داخل ہیں۔‏“‏ (‏افسیوں ۳:‏۵،‏ ۶‏)‏ بھید کے اس حصے کی سمجھ ”‏مُقدس رسولوں“‏ پر ظاہر کی گئی۔‏ اسی طرح آجکل بھی پاک روح کی مدد کے بغیر ہم ’‏خدا کی تہ کی باتوں‘‏ کو نہیں سمجھ سکتے۔‏—‏۱-‏کرنتھیوں ۲:‏۱۰؛‏ ۴:‏۱؛‏ کلسیوں ۱:‏۲۶،‏ ۲۷‏۔‏

۱۵،‏ ۱۶.‏ یہوواہ خدا نے مسیح کے ساتھی حکمرانوں کو انسانوں میں سے کیوں چُنا ہے؟‏

۱۵ ‏”‏ایک لاکھ چوالیس ہزار“‏ اشخاص کو آسمانی کوہِ‌صیون پر ”‏برّہ“‏ کے ساتھ کھڑے دکھایا گیا ہے۔‏ اُن کے بارے میں کہا گیا کہ یہ ”‏دُنیا میں سے خرید لئے گئے“‏ یعنی یہ ”‏خدا اور برّہ [‏یسوع مسیح]‏ کے لئے پہلے پھل ہونے کے واسطے آدمیوں میں سے خرید لئے گئے ہیں۔‏“‏ (‏مکاشفہ ۱۴:‏۱-‏۴‏)‏ یہوواہ خدا نے اپنے پہلے آسمانی بیٹے کو عدن میں وعدہ‌کردہ نسل کے بنیادی حصے کے طور پر منتخب کِیا لیکن اُس نے مسیح کے ساتھیوں کو انسانوں میں سے کیوں چُنا؟‏ پولس رسول نے بیان کِیا کہ اس محدود تعداد کو ”‏خدا کے ارادہ کے موافق،‏“‏ یعنی اُس کی ”‏مرضی کے نیک ارادہ کے موافق“‏ بلایا گیا تھا۔‏—‏رومیوں ۸:‏۱۷،‏ ۲۸-‏۳۰؛‏ افسیوں ۱:‏۵،‏ ۱۱؛‏ ۲-‏تیمتھیس ۱:‏۹‏۔‏

۱۶ یہوواہ کا مقصد اپنے عظیم اور پاک نام کو جلال دینا اور اپنی عالمگیر حاکمیت کی سربلندی کرنا ہے۔‏ اپنے بیمثال ”‏انتظام“‏ یا چیزوں کو منظم کرنے کے طریقۂ‌کار سے یہوواہ نے اپنے پہلوٹھے بیٹے کو زمین پر بھیجا،‏ جہاں اسے آخری دم تک آزمایا گیا۔‏ مزیدبرآں،‏ یہوواہ خدا اس بات کے لئے پُرعزم تھا کہ اُس کے بیٹے کی مسیحائی بادشاہت میں موت تک اس کی حکمرانی کی حمایت کرنے والے لوگ بھی شامل ہوں گے۔‏—‏افسیوں ۱:‏۸-‏۱۲؛‏ مکاشفہ ۲:‏۱۰،‏ ۱۱‏۔‏

۱۷.‏ ہم اس بات سے خوش کیوں ہو سکتے ہیں کہ مسیح اور اُس کے ساتھی حکمران بطور انسان زندگی گزار چکے ہیں؟‏

۱۷ یہوواہ نے اپنے بیٹے کو زمین پر بھیجنے اور انسانوں کا انتخاب کرنے سے جو بادشاہتی حکومت میں اُس کے بیٹے کے ہم‌میراث ہوں گے آدم کی اولاد کے لئے بہت زیادہ محبت دکھائی ہے۔‏ اس سے اُن لوگوں کو کیسے فائدہ پہنچ سکتا تھا جو ہابل سے لیکر یہوواہ کے وفادار رہے؟‏ انسانوں کے لئے یہوواہ کے ابتدائی مقصد کی مطابقت میں گناہ اور موت کے ساتھ پیدا ہونے والے ناکامل انسانوں کو روحانی اور جسمانی شفایابی اور کامل بنائے جانے کی ضرورت ہوگی۔‏ (‏رومیوں ۵:‏۱۲‏)‏ زمین پر ہمیشہ کی زندگی کے منتظر لوگوں کے لئے یہ جاننا کتنا تسلی‌بخش ہے کہ انکا بادشاہ اُن کے ساتھ اسی طرح مہرومحبت سے پیش آئے گا جیسے وہ اپنی زمینی زندگی کے دوران اپنے شاگردوں کے ساتھ پیش آیا تھا!‏ (‏متی ۱۱:‏۲۸،‏ ۲۹؛‏ عبرانیوں ۲:‏۱۷،‏ ۱۸؛‏ ۴:‏۱۵؛‏ ۷:‏۲۵،‏ ۲۶‏)‏ اُن کے لئے یہ جاننا بھی کتنا تسلی‌بخش ہے کہ آسمان میں مسیح کے ساتھی بادشاہتی کاہن وہ ایماندار مرد اور عورتیں ہوں گے جنہوں نے بذاتِ‌خود ہماری طرح ذاتی کمزوریوں اور زندگی کی مشکلات کا سامنا کِیا!‏—‏رومیوں ۷:‏۲۱-‏۲۵‏۔‏

یہوواہ کا لازوال مقصد

۱۸،‏ ۱۹.‏ افسیوں ۱:‏۸-‏۱۱ میں درج پولس کے الفاظ ہم پر کیوں واضح ہو گئے ہیں اور اگلے مضمون میں کس موضوع پر بات کی جائے گی؟‏

۱۸ اب ہم افسیوں ۱:‏۸-‏۱۱ میں درج ممسوح مسیحیوں کے لئے لکھے گئے پولس کے الفاظ کو بہتر طور پر سمجھنے کے قابل ہیں۔‏ اُس نے کہا،‏ یہوواہ نے ان پر ”‏اپنی مرضی کے بھید“‏ کو آشکارا کِیا،‏ وہ مسیح کے ساتھ ”‏میراث بنے“‏ اور ”‏اُس کے ارادہ کے موافق جو اپنی مرضی کی مصلحت سے سب کچھ کرتا ہے پیشتر سے مقرر“‏ ہوئے۔‏ ہم نے سمجھ لیا ہے کہ یہ بات اپنے مقصد کی تکمیل کے لئے یہوواہ کے شاندار چیزوں کے ”‏انتظام“‏ میں بالکل موزوں ٹھہرتی ہے۔‏ یہ اس بات کو سمجھنے میں بھی ہماری مدد کرتا ہے کہ کیوں مسیح کی موت کی یادگار پر حاضر محض چند مسیحی بےخمیری روٹی اور سُرخ مے میں سے کھاتےپیتے ہیں۔‏

۱۹ اگلے مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ مسیح کی موت کی یادگار کا آسمانی اُمید رکھنے والے مسیحیوں کے لئے کیا مطلب ہے۔‏ نیز ہم یہ بات بھی دیکھیں گے کہ زمین پر ہمیشہ کی زندگی کی اُمید رکھنے والے لاکھوں لوگوں کو اس بات میں کیوں دلچسپی لینی چاہئے کہ مسیح کی موت کی یادگار ان کے لئے کس بات کی علامت ہے۔‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

^ پیراگراف 6 خدا کے نام کا لفظی مطلب ہے،‏ ”‏سبب پیدا کرنے والا۔‏“‏ یہوواہ اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لئے کچھ بھی بن سکتا ہے۔‏—‏خروج ۳:‏۱۴‏۔‏

^ پیراگراف 8 پولس کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ ”‏انتظام“‏ اس کے زمانے میں بھی چل رہا تھا جبکہ صحائف ظاہر کرتے ہیں کہ مسیحائی بادشاہت ۱۹۱۴ تک قائم نہیں ہوئی تھی۔‏

اپنی یاد کو تازہ کریں

‏• یہوواہ نے زمین اور انسان کو کیوں بنایا؟‏

‏• یہوواہ کے اکلوتے بیٹے کے لئے زمین پر آزمایا جانا کیوں ضروری تھا؟‏

‏• یہوواہ نے مسیح کے ساتھی حکمرانوں کو انسانوں میں سے کیوں چُنا ہے؟‏

‏[‏مطالعے کے سوالات]‏