ایوب 38‏:1‏-‏41

  • یہوواہ کے سامنے اِنسان بہت معمولی ہیں ‏(‏1-‏41‏)‏

    • ‏”‏جب مَیں نے زمین کی بنیاد ڈالی تو تُم کہاں تھے؟“‏ ‏(‏4-‏6‏)‏

    • خدا کے بیٹوں نے خوشی کے نعرے مارے ‏(‏7‏)‏

    • قدرتی نظاموں کے بارے میں سوال ‏(‏8-‏32‏)‏

    • اجرامِ‌فلکی کو چلانے والے قوانین ‏(‏33‏)‏

38  پھر یہوواہ نے طوفان میں سے ایوب کو جواب دیا:‏  2  یہ کون ہے جو میری باتوں کو توڑمروڑ کر پیش کر رہا ہےاور بغیر علم کے بول رہا ہے؟‏  3  مہربانی سے مرد کی طرح اپنی کمر کَس لو؛‏مَیں تُم سے سوال کروں گا اور تُم مجھے جواب دو۔‏  4  جب مَیں نے زمین کی بنیاد ڈالی تو تُم کہاں تھے؟‏ اگر تُم اِس بات کو سمجھتے ہو تو مجھے بتاؤ۔‏  5  کیا تمہیں پتہ ہے کہ کس نے اِس کا ناپ مقرر کِیایا کس نے ناپنے کی ڈوری سے اِس کی پیمائش کی؟‏  6  اِس کے پائے کس میں بٹھائے گئےاور کس نے اِس کے کونے کا پتھر رکھا  7  جب صبح کے ستارے مل کر شادمانی سے للکارنے لگےاور خدا کے سب بیٹے*‏ خوشی کے نعرے مارنے لگے؟‏  8  کس نے سمندر کو دروازے لگا کر بند کِیاجب وہ کوکھ سے پھوٹ نکلا؛‏  9  جب مَیں نے اُسے بادلوں کا لباس پہنایااور سیاہ بادلوں میں لپیٹا؛‏ 10  جب مَیں نے اُس کی حد مقرر کیاور اُس کے دروازے اور کُنڈے لگائے 11  اور کہا:‏ ”‏تُو بس یہاں تک آ سکتا ہے، اِس سے آگے نہیں؛‏تیری اُونچی لہریں یہیں رُک جائیں“‏؟‏ 12  کیا تُم نے کبھی*‏ صبح کو حکم دیا ہےیا سحر کو اُس کی جگہ بتائی ہے 13  تاکہ وہ زمین کے کناروں کو پکڑ کربُرے لوگوں کو اِس سے جھاڑ دے؟‏ 14  روشنی پڑنے پر زمین کی شکل یوں بدل جاتی ہے جیسے مُہر لگنے پر مٹی کیاور اِس کے نقش یوں نمایاں ہو جاتے ہیں جیسے خوب‌صورت کپڑے کے۔‏ 15  لیکن بُرے لوگوں کو اُن کی روشنی سے محروم کر دیا جاتا ہےاور اُن کا اُٹھا ہوا بازو توڑ دیا جاتا ہے۔‏ 16  کیا تُم سمندر کے سرچشموں تک گئے ہویا کیا تُم نے گہرے پانیوں میں جا کر مشاہدہ کِیا ہے؟‏ 17  کیا تُم پر موت کے دروازے ظاہر کیے گئے ہیںیا کیا تُم نے گہری تاریکی*‏ کے دروازے دیکھے ہیں؟‏ 18  کیا تُم سمجھ پائے ہو کہ زمین کتنی وسیع ہے؟‏ اگر تمہیں اِن سب باتوں کا پتہ ہے تو مجھے بتاؤ۔‏ 19  روشنی کدھر بستی ہے اور تاریکی کا بسیرا کہاں ہے؟‏ 20  کیا تُم اِنہیں اِن کے ٹھکانوں تک لے جا سکتے ہواور اِن کے گھروں کے راستے سمجھ سکتے ہو؟‏ 21  کیا تُم اِن سب چیزوں سے پہلے پیدا ہوئے تھےاور کیا تمہاری زندگی کے دن اِتنے زیادہ ہیں کہ تمہیں اِس سب کا علم ہو؟‏ 22  کیا تُم برف کے گوداموں میں داخل ہوئے ہویا کیا تُم نے اَولوں کے گودام دیکھے ہیں 23  جنہیں مَیں نے مصیبت کے وقت کے لیے رکھا ہےیعنی لڑائی اور جنگ کے دن کے لیے؟‏ 24  روشنی*‏ کس سمت سے پھیلتی ہےاور مشرقی ہوا کہاں سے زمین پر چلتی ہے؟‏ 25  کس نے آسمان میں سیلاب کے لیے گزرگاہ تیار کیاور گرجتے طوفانی بادلوں کے لیے راستہ بنایا 26  تاکہ غیرآباد زمین پر بارش برسے،‏ہاں، اُس ویرانے پر جہاں کوئی اِنسان نہیں رہتا؛‏ 27  تاکہ اُجڑی اور بنجر زمین کی پیاس بُجھےاور اُس میں گھاس اُگے؟‏ 28  کیا بارش کا کوئی باپ ہےاور شبنم کے قطروں کو کس نے پیدا کِیا؟‏ 29  برف کس کی کوکھ سے نکلیاور آسمان کے پالے*‏ کو کس نے جنم دیا؟‏ 30  کون پانیوں کی سطح کو پتھر کی طرح سخت بناتا ہےاور گہرے پانیوں کی سطح کو مضبوطی سے جماتا ہے؟‏ 31  کیا تُم کیماہ*‏ جُھرمٹ کی رسیاں باندھ سکتے ہویا کیسل*‏ جُھرمٹ کی ڈوریاں کھول سکتے ہو؟‏ 32  کیا تُم ایک جُھرمٹ*‏ کو اُس کے مقررہ وقت پر نکال سکتے ہویا عاش*‏ جُھرمٹ کو اُس کے بیٹوں سمیت راستہ دِکھا سکتے ہو؟‏ 33  کیا تُم اُن قوانین سے واقف ہو جو اجرامِ‌فلکی*‏ کو چلاتے ہیںیا کیا تُم زمین پر اِن*‏ کا اِختیار قائم کر سکتے ہو؟‏ 34  کیا تُم بادلوں کو حکم دے سکتے ہوکہ وہ تُم پر مُوسلادھار بارش برسائیں؟‏ 35  کیا تُم کڑکتی بجلی کو روانہ کر سکتے ہو؟‏ کیا وہ آ کر تُم سے کہتی ہے:‏ ”‏مَیں حاضر ہوں!‏“‏ 36  بادلوں*‏ میں دانش‌مندی کس نے ڈالیاور آسمان کے عجائب*‏ کو سمجھ کس نے بخشی؟‏ 37  کون اِتنا دانش‌مند ہے کہ بادلوں کو گن سکےاور کون آسمان سے پانی کے مٹکے اُلٹ سکتا ہے 38  جس سے مٹی بہہ کر کیچڑ بن جاتی ہےاور مٹی کے ڈھیلے آپس میں چپک جاتے ہیں؟‏ 39  کیا تُم شیر کے لیے شکار کر سکتے ہویا جوان شیروں کی بھوک مٹا سکتے ہو؟‏ 40  جب وہ اپنی ماند میں گھات لگا کر بیٹھتے ہیںیا اپنے ٹھکانے میں شکار کی تاک میں ہوتے ہیں تو کیا تُم اُن کا پیٹ بھر سکتے ہو؟‏ 41  کوّوں کو اُس وقت کھانا کون مہیا کرتا ہےجب اُن کے بچے خدا کو مدد کے لیے پکارتے ہیںاور خوراک نہ ہونے کی وجہ سے اِدھر اُدھر بھٹکتے ہیں؟‏

فٹ‌ نوٹس

یہ ایک عبرانی محاورے کا ترجمہ ہے جو فرشتوں کی طرف اِشارہ کرتا ہے۔‏
لفظی ترجمہ:‏ ”‏اپنے دنوں میں“‏
یا ”‏موت کے سائے“‏
یا شاید ”‏بجلی“‏
پالا برف کی قلموں کی وہ تہہ ہوتی ہے جو شدید سردی میں کسی سطح پر جم جاتی ہے۔‏
شاید ثور نامی جُھرمٹ میں ثریّا نامی ستارے
شاید جبّار (‏جوزا)‏
عبرانی لفظ:‏ ”‏مزاروت۔“‏ 2سل 23:‏5 میں اِس سے ملتا جلتا لفظ جمع میں اِستعمال ہوا ہے جو راس چکر کے جُھرمٹوں کی طرف اِشارہ کرتا ہے۔‏
شاید دُبِ‌اکبر (‏سات ستاروں کا جُھرمٹ)‏
یعنی سورج، چاند، ستارے وغیرہ۔ لفظی ترجمہ:‏ ”‏آسمان“‏
یا شاید ”‏خدا“‏
یا شاید ”‏اِنسان“‏
یا شاید ”‏اور ذہن“‏