مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

کیا مجھے اچھے دوستوں کی ضرورت ہے؟‏

کیا مجھے اچھے دوستوں کی ضرورت ہے؟‏

نوجوانوں کا سوال

کیا مجھے اچھے دوستوں کی ضرورت ہے؟‏

‏”‏جب مَیں غصے میں ہوتی ہوں تو مَیں اپنے احساسات کے بارے میں کسی کو بتانا چاہتی ہوں۔‏ جب مَیں پریشان ہوتی ہوں تو مَیں چاہتی ہوں کہ کوئی مجھے دلاسا دے۔‏ جب مَیں خوش ہوتی ہوں تو مَیں اپنی خوشی دوسروں کے ساتھ بانٹنا چاہتی ہوں۔‏ میرے خیال میں دوستوں کا ہونا بہت ضروری ہے۔‏“‏ —‏ بریٹنی۔‏

کہا جاتا ہے کہ چھوٹے بچوں کو کھیلنے کے لئے ساتھیوں کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ نوجوانوں کو دوستوں کی ضرورت ہوتی ہے۔‏ درحقیقت،‏ ساتھیوں اور دوستوں میں کیا فرق ہے؟‏

ساتھی وہ ہوتا ہے جو محض آپ کے ساتھ وقت گزارتا ہے۔‏

دوست وہ ہوتا ہے جو آپ کے ساتھ وقت صرف کرنے کے ساتھ‌ساتھ آپ جیسی سوچ بھی رکھتا ہے۔‏

خدا کا کلام بیان کرتا ہے:‏ ”‏دوست ہر وقت محبت دکھاتا ہے اور بھائی مصیبت کے دن کے لئے پیدا ہوا ہے۔‏“‏ (‏امثال ۱۷:‏۱۷‏)‏ اِس آیت میں جس دوست کا ذکر کِیا گیا ہے وہ ساتھی سے کہیں بڑھ کر ہے!‏

سچ ہے:‏ جوں‌جوں آپ بڑے ہوتے ہیں آپ کو ایسے دوستوں کی ضرورت ہوتی ہے جو

‏(‏۱)‏ اچھی خوبیوں کے مالک ہوں۔‏

‏(‏۲)‏ خدا کے معیاروں کے مطابق زندگی بسر کرتے ہوں۔‏

‏(‏۳)‏ آپ پر اچھا اثر ڈالتے ہوں۔‏

سوال:‏ آپ یہ کیسے جان سکتے ہیں کہ آپ کے دوست اِن باتوں پر پورا اُترتے ہیں؟‏ آئیں اِن باتوں پر باری‌باری غور کرتے ہیں۔‏

نمبر ۱:‏ اچھی خوبیاں

آپ کو کیا معلوم ہونا چاہئے؟‏ ہر شخص آپ کا سچا دوست نہیں ہو سکتا۔‏ خدا کا کلام بیان کرتا ہے کہ ایسے دوست بھی ہیں جو ”‏بربادی کا باعث“‏ ہیں۔‏ (‏امثال ۱۸:‏۲۴‏،‏ کیتھولک ترجمہ‏)‏ شاید یہ بات آپ کو عجیب لگے۔‏ لیکن ذرا سوچیں:‏ کیا آپ کا کبھی کوئی ایسا دوست تھا جس نے آپ سے ناجائز فائدہ اُٹھایا ہو؟‏ یاپھر کیا آپ کا کوئی ایسا دوست تھا جس نے آپ کی پیٹھ پیچھے آپ کے خلاف باتیں کی ہوں یا افواہیں پھیلائی ہوں؟‏ شاید ایسے تجربات کی وجہ سے آپ کا دوستی پر سے اعتماد اُٹھ گیا ہو۔‏ * ہمیشہ یاد رکھیں کہ زیادہ دوست بنانے سے بہتر ہے کہ آپ کم مگر اچھے دوست بنائیں۔‏

آپ کیا کر سکتے ہیں؟‏ ایسے دوستوں کا انتخاب کریں جن کی خوبیوں کی نقل کی جا سکتی ہے۔‏

‏”‏ہر کوئی میری دوست فیونا کی تعریف کرتا ہے۔‏ مَیں چاہتی ہوں کہ لوگ میری بھی تعریف کریں۔‏ مجھے اُس پر فخر ہے۔‏“‏‏—‏۱۷ سالہ ایوٹ۔‏

عملی مشورت۔‏

۱.‏ گلتیوں ۵:‏۲۲،‏ ۲۳ کو پڑھیں۔‏

۲.‏ خود سے پوچھیں،‏ کیا میرے دوست وہ خوبیاں ظاہر کرتے ہیں جو ’‏رُوح کے پھل‘‏ کا حصہ ہیں؟‏

۳.‏ ذیل میں اپنے قریبی دوستوں کے نام لکھیں۔‏ ہر ایک کے نام کے آگے اُس کی اُن خصوصیات کے بارے میں لکھیں جو اُس کی شخصیت کو آشکارا کرتی ہیں۔‏

نام خصوصیت

‏․․․․․ ․․․․․‏

‏․․․․․ ․․․․․‏

‏․․․․․ ․․․․․‏

تجویز:‏ اگر آپ کے ذہن میں اُس کی بُری خصوصیات آتی ہیں تو اچھے دوستوں کی تلاش کرنے کے بارے میں سوچیں!‏

نمبر ۲:‏ خدا کے معیار

آ پ کو کیا معلوم ہونا چاہئے؟‏ اگر آپ دوست بنانے کے سلسلے میں حد سے زیادہ پریشان ہوتے ہیں تو آپ ایسے دوست بنانے کے خطرے میں ہوتے ہیں جو خدا کے معیاروں کے مطابق نہیں چلتے۔‏ خدا کا کلام بیان کرتا ہے:‏ ”‏احمقوں کا ساتھی ہلاک کِیا جائے گا۔‏“‏ (‏امثال ۱۳:‏۲۰‏)‏ اِس آیت میں استعمال ہونے والا لفظ ”‏احمقوں“‏ کُندذہن لوگوں کی طرف اشارہ نہیں کرتا۔‏ دراصل اِس سے مُراد وہ لوگ ہیں جو نہ تو خدا کے اخلاقی معیاروں کو قبول کرتے ہیں اور نہ ہی اُن پر چلتے ہیں۔‏ یقیناً آپ ایسے لوگوں سے دوستی نہیں کریں گے۔‏

آپ کیا کر سکتے ہیں؟‏ کسی بھی شخص کو دوست بنانے کی بجائے دوستوں کا انتخاب کرتے وقت سوچ‌سمجھ کر فیصلہ کریں۔‏ (‏زبور ۲۶:‏۴‏)‏ اِس کا مطلب ہے کہ آپ کو ”‏صادق اور شریر میں اور خدا کی عبادت کرنے والے اور نہ کرنے والے میں امتیاز“‏ کرنے کے قابل ہونا چاہئے۔‏—‏ملاکی ۳:‏۱۸‏۔‏

اگرچہ خدا کسی کا طرفدار نہیں ہے توبھی وہ اچھے اور بُرے لوگوں میں امتیاز کرتے ہوئے اِس بات کا فیصلہ کرتا ہے کہ اُس کے ”‏خیمہ میں کون رہے گا۔‏“‏ (‏زبور ۱۵:‏۱-‏۵‏)‏ آپ بھی ایسا ہی کر سکتے ہیں۔‏ اگر آپ خدا کے اعلیٰ معیاروں کے مطابق زندگی گزارتے ہیں تو اِن معیاروں پر چلنے والے دیگر لوگ آپ سے دوستی کرنا چاہیں گے۔‏ جی‌ہاں،‏ ایسے لوگ آپ کے بہترین دوست ثابت ہوں گے۔‏

‏”‏مَیں اِس بات کے لئے بہت شکرگزار ہوں کہ میرے والدین نے میری مدد کی تاکہ مَیں اپنی عمر کے ایسے لوگوں کے ساتھ دوستی کر سکوں جو خدا کے معیاروں کے مطابق چلتے ہیں۔‏“‏‏—‏۱۳ سالہ کرسٹوفر۔‏

عملی مشورت۔‏

نیچے دئے گئے سوالات کے جواب دیں:‏

▪ جب مَیں اپنے دوستوں کے ساتھ ہوتا ہوں تو کیا مَیں اِس بات سے پریشان رہتا ہوں کہ وہ مجھ پر غلط کام کرنے کے لئے دباؤ ڈالنے کی کوشش کر سکتے ہیں؟‏

□ جی‌ہاں □ جی‌نہیں

▪ کیا مَیں اِس ڈر سے اپنے دوستوں کو اپنے والدین سے ملوانے سے ہچکچاتا ہوں کہ وہ اُنہیں پسند نہیں کریں گے؟‏

□ جی‌ہاں □ جی‌نہیں

تجویز:‏ اگر آپ نے اُوپر دئے گئے سوالوں کا جواب ہاں میں دیا ہے تو ایسے دوستوں کی تلاش کریں جو خدا کے اعلیٰ معیاروں کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں۔‏ ایسے لوگوں کا انتخاب کریں جو آپ سے عمر میں تھوڑے بڑے ہیں اور جنہوں نے خدا کے معیاروں کے مطابق زندگی بسر کرنے کے سلسلے میں عمدہ مثال قائم کی ہے۔‏

نمبر ۳:‏ اچھا اثر

آپ کو کیا معلوم ہونا چاہئے؟‏ بائبل بیان کرتی ہے:‏ ”‏بُرے لوگوں کی صحبت میں رہنے سے اچھی عادتیں بگڑ جاتی ہیں۔‏“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۳۳‏؛‏ نیو اُردو بائبل ورشن‏)‏ لورین نامی ایک نوجوان لڑکی بیان کرتی ہے:‏ ”‏میرے ہم‌جماعت مجھے اُسی صورت میں قبول کرتے اگر مَیں اُن کی بات مانتی۔‏ مَیں خود کو تنہا محسوس کرتی تھی لہٰذا اُن سے دوستی کرنے کے لئے مَیں نے اُن جیسے کام کرنے کا فیصلہ کِیا۔‏“‏ لورین نے اِس بات کا تجربہ کِیا ہے کہ جب آپ دوسروں کے معیاروں کے مطابق چلنے لگتے ہیں تو آپ شطرنج کے ایک مہرے کی طرح بن جاتے ہیں۔‏ یقیناً آپ ایسا نہیں چاہیں گے!‏

آپ کیا کر سکتے ہیں؟‏ اُن لوگوں کے ساتھ دوستی ختم کر دیں جو آپ کو اپنے جیسی زندگی گزارنے پر مجبور کرتے ہیں۔‏ یوں آپ کی عزتِ‌نفس بڑھے گی۔‏ نیز آپ ایسے دوستوں کی تلاش کر پائیں گے جو آپ پر اچھا اثر ڈالیں گے۔‏—‏رومیوں ۱۲:‏۲‏۔‏

‏”‏میرا قریبی دوست کلنٹ دوسروں کے احساسات کو سمجھتا ہے اِس لئے وہ میرے لئے بڑی حوصلہ‌افزائی کا باعث بنا ہے۔‏“‏—‏۲۱ سالہ جیسن۔‏

عملی مشورت۔‏

خود سے نیچے دئے گئے سوال پوچھیں:‏

▪کیا مَیں نے اپنے دوستوں کو خوش کرنے کے لئے اپنے پہناوے اور بول‌چال کو بدل لیا ہے؟‏

□ جی‌ہاں □ جی‌نہیں

▪کیا مَیں اکثر اپنے دوستوں کے ساتھ ایسی جگہوں پر جاتا ہوں جہاں مجھے نہیں جانا چاہئے؟‏

□ جی‌ہاں □ جی‌نہیں

تجویز:‏ اگر اوپر دئے گئے سوالوں کے لئے آپ کا جواب جی‌ہاں ہے تو اپنے والدین یا کسی پُختہ شخص سے مشورہ لیں۔‏ اگر آپ یہوواہ کے گواہ ہیں تو آپ کلیسیا کے کسی بزرگ کے پاس جا سکتے اور اُسے بتا سکتے ہیں کہ آپ کو ایسے دوستوں کا انتخاب کرنے کے لئے مدد کی ضرورت ہے جو آپ پر اچھا اثر ڈالیں۔‏

عنوان ”‏نوجوانوں کا سوال“‏ کے مزید مضامین اِس ویب‌سائٹ پر مل سکتے ہیں:‏ www.watchtower.org/ype

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

^ پیراگراف 14 بِلاشُبہ،‏ ہم سب غلطیاں کرتے ہیں۔‏ (‏رومیوں ۳:‏۲۳‏)‏ اِس لئے جب آپ کا کوئی دوست آپ کا دل دکھاتا ہے لیکن بعد میں معافی مانگتا ہے تو یاد رکھیں کہ ”‏محبت بہت سے گناہوں پر پردہ ڈال دیتی ہے۔‏“‏—‏۱-‏پطرس ۴:‏۸‏۔‏

ذرا سوچیں

▪ آپ کے خیال میں ایک دوست میں کونسی خوبیاں ہونی چاہئیں،‏ اور کیوں؟‏

▪ ایک اچھا دوست بننے کے لئے آپ کو خود میں کونسی خوبیاں پیدا کرنی چاہئیں؟‏

‏[‏صفحہ ۲۷ پر بکس/‏تصویریں]‏

بعض نوجوان کیا کہتے ہیں؟‏

‏”‏میرے والدین نے مجھے کچھ دوستوں سے دُور رہنے کے لئے کہا مگر مَیں اُن سے دوستی رکھنا چاہتا تھا۔‏ تاہم،‏ میرے والدین نے مجھے بہت اچھی مشورت دی تھی۔‏ اگرچہ مجھے اِس پر عمل کرنا مشکل لگا توبھی جب مَیں نے سنجیدگی سے اِس پر غور کِیا تو مَیں سمجھ گیا کہ مَیں اِن دوستوں کی بجائے بہت سے اچھے دوست بنا سکتا ہوں۔‏‏“‏ ‏—‏ کول۔‏

‏”‏خدا کی خدمت میں مشغول رہنے سے مَیں کلیسیا کے بہن‌بھائیوں کو اچھی طرح جاننے کے قابل ہوئی ہوں۔‏ یہاں مَیں جوان اور بوڑھے ہر طرح کے لوگوں سے ملتی ہوں۔‏ اِس طرح مَیں ایسے لوگوں کے ساتھ وقت گزارتی ہوں جو یہوواہ خدا سے محبت رکھتے ہیں۔‏‏“‏ ‏—‏ ایوٹ۔‏

‏”‏مَیں دوست بنانے کے سلسلے میں دُعا کرتا تھا لیکن پھر مَیں نے سوچا کہ ایسا کرنے کے لئے مَیں عملی طور پر تو کچھ کر نہیں رہا۔‏ اِس لئے مَیں نے اجلاسوں پر کلیسیا کے بہن‌بھائیوں کے ساتھ بات‌چیت کرنا شروع کی۔‏ جلد ہی میرے بہت سے نئے دوست بن گئے۔‏ اب مَیں خود کو تنہا محسوس نہیں کرتا۔‏‏“‏ ‏—‏ سیم۔‏

‏[‏صفحہ ۲۸ پر بکس]‏

اِن مشوروں پر عمل کریں

اپنے دوستوں کے بارے میں اپنے والدین سے بات کریں۔‏ اُن سے پوچھیں کہ جب وہ آپ کی عمر میں تھے تو اُن کے دوست کس طرح کے تھے۔‏ کیا اُنہوں نے جن دوستوں کا انتخاب کِیا اُس پر اُنہیں بعد میں پچھتانا پڑا؟‏ اگر ایسا ہے تو کیوں؟‏ اُن سے پوچھیں کہ اُنہیں جن مشکلات کا سامنا ہوا آپ اُن سے کیسے بچ سکتے ہیں۔‏

اپنے دوستوں کو اپنے والدین سے ملوائیں۔‏ اگر آپ ایسا کرنے سے ہچکچاتے ہیں تو خود سے پوچھیں،‏ ‏’‏ایسا کیوں ہے؟‏‏‘‏ کیا آپ کے دوستوں کی بعض عادات ایسی ہیں جو آپ جانتے ہیں کہ آپ کے والدین پسند نہیں کریں گے؟‏ اگر ایسا ہے تو آپ کو دوستوں کا انتخاب کرتے وقت سوچ‌سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہئے۔‏

‏[‏صفحہ ۲۸ پر بکس]‏

دوستی قائم رکھنے کے تین طریقے

اچھے سننے والے بنیں۔‏ اپنے دوستوں کی بھلائی کے لئے کوشاں رہیں۔‏—‏فلپیوں ۲:‏۴‏۔‏

معاف کرنے والے بنیں۔‏ اِس بات کی توقع نہ کریں کہ آپ کے دوست کبھی غلطی نہیں کریں گے۔‏ کیونکہ ”‏ہم سب کے سب اکثر خطا کرتے ہیں۔‏“‏—‏یعقوب ۳:‏۲‏۔‏

اپنے دوستوں کو اکیلے رہنے کا بھی موقع دیں۔‏ اُن سے یہ توقع نہ کریں کہ وہ ہر وقت آپ ہی کے ساتھ رہیں۔‏ اچھے دوست ضرورت کے وقت یقیناً آپ کی مدد کریں گے۔‏—‏واعظ ۴:‏۹،‏ ۱۰‏۔‏

‏[‏صفحہ ۲۶،‏ ۲۷ پر تصویر]‏

دوسروں سے دوستی کرنے کے لئے اگر آپ اُن کے معیاروں کے مطابق زندگی بسر کرنے لگتے ہیں تو آپ شطرنج کے ایک مہرے کی طرح بن جاتے ہیں