یعقوب 3‏:1‏-‏18

  • زبان پر قابو (‏1-‏12‏)‏

    • زیادہ لوگ اُستاد نہ بنیں (‏1‏)‏

  • جو دانش‌مندی اُوپر سے آتی ہے (‏13-‏18‏)‏

3  میرے بھائیو، آپ میں سے زیادہ لوگ اُستاد نہ بنیں کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ ہم اُستادوں کی عدالت زیادہ سخت ہوگی۔ 2  کیونکہ ہم سب بار بار غلطی کرتے ہیں۔ اگر کوئی بولتے وقت غلطی نہیں کرتا تو وہ کامل شخص ہے اور اپنے پورے جسم کو بھی قابو میں رکھ سکتا ہے۔ 3  جب ہم گھوڑوں کو قابو کرنے کے لیے اُن کے مُنہ میں لگام ڈالتے ہیں تو ہم اُن کے جسم کو جہاں چاہے، لے جا سکتے ہیں۔ 4  بحری جہازوں کو لے لیں:‏ حالانکہ وہ بہت بڑے ہوتے ہیں اور تیز ہواؤں کے زور پر چلتے ہیں پھر بھی ملاح اپنی مرضی کے مطابق ایک چھوٹی سی پتوار کے ذریعے اُن کا رُخ بدل سکتا ہے۔‏ 5  اِسی طرح زبان بھی جسم کا ایک چھوٹا سا عضو ہے لیکن وہ بڑے بڑے بول بولتی ہے۔ دیکھیں!‏ تھوڑی سی آگ سے پورے جنگل میں آگ لگ جاتی ہے۔ 6  زبان بھی ایک آگ ہے۔ یہ جسم کا وہ عضو ہے جو بُرائی کی جڑ ہے کیونکہ یہ پورے جسم کو آلودہ کر دیتی ہے، اِسے ہنوم کی وادی*‏ سے آگ لگتی ہے اور یہ پوری زندگی کو آگ لگا دیتی ہے۔ 7  ہر قسم کے جنگلی جانوروں، پرندوں، رینگنے والے جانوروں اور سمندری جانوروں پر قابو پایا جا سکتا ہے اور اِنسانوں نے اُن پر قابو پایا بھی ہے۔ 8  لیکن کوئی بھی شخص زبان پر قابو نہیں پا سکتا۔ دراصل یہ بے‌لگام اور نقصان‌دہ ہے اور جان‌لیوا زہر سے بھری ہوئی ہے۔ 9  اِس سے ہم اپنے آسمانی باپ یہوواہ*‏ کی بڑائی کرتے ہیں لیکن اِس سے ہم لوگوں کو بددُعا بھی دیتے ہیں جنہیں ”‏خدا کی صورت“‏ پر بنایا گیا ہے۔ 10  ایک ہی مُنہ سے دُعا اور بد دُعا دونوں نکلتی ہیں۔‏ میرے بھائیو، ایسا کرنا صحیح نہیں ہے۔ 11  کیا ایک ہی چشمے سے میٹھا اور کھارا پانی نکل سکتا ہے؟ 12  میرے بھائیو، کیا اِنجیر کے درخت پر زیتون لگ سکتے ہیں یا کیا انگور کی بیل پر اِنجیر لگ سکتے ہیں؟ اِسی طرح نمکین پانی کے چشمے سے میٹھا پانی نہیں نکل سکتا۔‏ 13  آپ میں سے کون دانش‌مند اور سمجھ‌دار ہے؟ وہ اپنے اچھے چال‌چلن سے ظاہر کرے کہ اُس کے کام اُس نرم‌مزاجی سے کیے گئے ہیں جو دانش‌مندی کا نتیجہ ہے۔ 14  لیکن اگر آپ کے دل میں شدید حسد ہے اور آپ لڑائی جھگڑے*‏ کی طرف مائل ہیں تو شیخی نہ بگھاریں اور سچائی کے خلاف جھوٹ نہ بولیں۔ 15  ایسی دانش‌مندی اُوپر سے نہیں آتی بلکہ زمینی، نفسانی اور شیطانی ہے۔ 16  کیونکہ جہاں حسد اور لڑائی جھگڑا*‏ ہوتا ہے وہاں بدنظمی اور ہر طرح کی بُرائی بھی ہوتی ہے۔‏ 17  لیکن جو دانش‌مندی اُوپر سے آتی ہے، وہ پہلے تو پاک ہوتی ہے، پھر صلح‌پسند، سمجھ‌دار،‏*‏ فرمانبردار، رحم اور اچھائی*‏ سے معمور، غیرجانب‌دار اور بے‌ریا ہوتی ہے۔ 18  اور نیکی کے پھل کا بیج صلح‌پسند لوگوں کے لیے*‏ خوش‌گوار ماحول میں بویا جاتا ہے۔‏

فٹ‌ نوٹس

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏
‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏
یا شاید ”‏خودغرضی“‏
یا شاید ”‏خودغرضی“‏
یا ”‏لچک‌دار؛ معقول؛ لحاظ کرنے والی“‏
یونانی میں:‏ ”‏اچھے پھلوں“‏
یا شاید ”‏کے ذریعے“‏