مواد فوراً دِکھائیں

پاک کلام میں ذکرکردہ عورتیں—‏ہم اُن سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏

پاک کلام میں ذکرکردہ عورتیں—‏ہم اُن سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏

پاک کلام کا جواب

 بائبل میں بہت سی عورتوں کا ذکر کِیا گیا ہے جن سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ (‏رومیوں 15:‏4؛‏ 2-‏تیمُتھیُس 3:‏16، 17‏)‏ اِس مضمون میں اِن میں سے کچھ عورتوں کی زندگی پر مختصراً بات کی جائے گی۔ اِن میں سے زیادہ‌تر نے ہماری لیے اچھی مثال قائم کی جبکہ کچھ ہمارے لیے عبرت کی مثال بن گئیں۔—‏1-‏کُرنتھیوں 10:‏11؛‏ عبرانیوں 6:‏12‏۔‏

  آستر

 آستر کون تھیں؟‏ وہ ایک یہودی عورت تھیں جنہیں فارس کے بادشاہ ارتخششتا نے اپنی ملکہ کے طور پر چُنا۔‏

 اُنہوں نے کیا کِیا؟‏ اُنہوں نے اپنی قوم کا نام‌ونشان مٹنے سے بچا لیا۔ اُنہیں پتہ چلا کہ بادشاہ نے یہ حکم جاری کِیا ہے کہ ایک مخصوص دن پر فارس کی سلطنت میں رہنے والے تمام یہودیوں کو مار ڈالا جائے۔ یہودیوں کے خلاف یہ سازش ہامان نامی آدمی نے کی تھی جو ایک وزیرِاعظم تھا۔ (‏آستر 3:‏13-‏15؛‏ 4:‏1،‏ 5‏)‏ آستر نے اِس سازش کا پردہ فاش کرنے کے لیے اپنے کزن مردکی کی مدد لی اور اپنی جان خطرے میں ڈال کر اپنے شوہر یعنی بادشاہ ارتخششتا کو اِس کے بارے میں بتایا۔ (‏آستر 4:‏10-‏16؛‏ 7:‏1-‏10‏)‏ اِس پر بادشاہ نے آستر اور مردکی کو ایک اَور حکم جاری کرنے کو کہا جس میں یہودیوں کو اِس بات کی اِجازت دی گئی کہ وہ اپنی جان بچانے کے لیے لڑیں۔ یہودیوں نے ڈٹ کر اپنے دُشمنوں کا مقابلہ کِیا اور اُنہیں مات دی۔—‏آستر 8:‏5-‏11؛‏ 9:‏16، 17‏۔‏

 ہم آستر سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏ آستر نے دلیری اور خاکساری کی عمدہ مثال قائم کی۔ (‏زبور 31:‏24؛‏ فِلپّیوں 2:‏3‏)‏ حالانکہ وہ بہت خوب‌صورت تھیں اور ملکہ تھیں لیکن اُنہوں نے دوسروں سے مشورہ اور مدد لی۔ اُنہوں نے بڑی سمجھ‌داری اور احترام سے اپنے شوہر سے بات کی۔ اور جب یہودیوں کی جان کو خطرہ تھا تو اُنہوں نے بڑی دلیری سے اپنے بارے میں بتایا کہ وہ خود بھی ایک یہودی ہیں۔‏

  ابیجیل

 ابیجیل کون تھیں؟‏ وہ نابال نامی امیر آدمی کی بیوی تھیں جو بڑا بدتمیز شخص تھا۔ لیکن ابیجیل بہت ہی سمجھ‌دار اور خاکسار تھیں۔ وہ نہ صرف ظاہری طور پر بلکہ دل سے بھی ایک خوب‌صورت اِنسان تھیں۔—‏1-‏سموئیل 25:‏3‏۔‏

 اُنہوں نے کیا کِیا؟‏ اُنہوں نے اپنے گھرانے کو آنے والی تباہی سے بچانے کے لیے سمجھ‌داری سے کام لیا۔ وہ اور نابال ایک ایسے علاقے میں رہتے تھے جہاں اِسرائیل کے اگلے بادشاہ داؤد اپنی جان بچانے کے لیے چھپے ہوئے تھے۔ جب داؤد اور اُن کے آدمی وہاں رہ رہے تھے تو اُنہوں نے نابال کی بھیڑوں کا خیال رکھا تاکہ کوئی اُنہیں چُرا کر نہ لے جائے۔ لیکن جب ضرورت پڑنے پر داؤد کے آدمیوں نے نابال سے کھانے پینے کی کچھ چیزیں مانگیں تو نابال نے بڑی بدتمیزی سے اِنکار کر دیا۔ اِس پر داؤد اِتنے غصے میں آ گئے کہ وہ اور اُن کے آدمی نابال اور اُس کے گھرانے کے سارے مردوں کا نام‌ونشان مٹانے کے لیے چل پڑے۔—‏1-‏سموئیل 25:‏10-‏12،‏ 22‏۔‏

 جب ابیجیل کو پتہ چلا کہ اُن کے شوہر نے کیا کِیا ہے تو اُنہوں نے فوری قدم اُٹھایا۔ اُنہوں نے اپنے ملازموں کے ہاتھ داؤد اور اُن کے آدمیوں کے لیے کھانے پینے کی چیزیں بھیجیں اور پھر خود بھی معافی مانگنے کے لیے داؤد کے پاس گئیں۔ (‏1-‏سموئیل 25:‏14-‏19،‏ 24-‏31‏)‏ جب داؤد نے ابیجیل کی فراخ‌دلی اور خاکساری کو دیکھا اور یہ دیکھا کہ ابیجیل نے اُنہیں کتنا اچھا مشورہ دیا ہے تو وہ یہ سمجھ گئے کہ خدا نے اُنہیں خون بہانے سے روک لیا ہے۔ (‏1-‏سموئیل 25:‏32، 33‏)‏ اِس کے کچھ عرصے بعد نابال مر گیا اور داؤد نے ابیجیل سے شادی کر لی۔—‏1-‏سموئیل 25:‏37-‏41‏۔‏

 ہم ابیجیل سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏ حالانکہ ابیجیل بہت خوب‌صورت اور امیر تھیں لیکن اُنہوں نے اِن باتوں کو اپنے سر چڑھنے نہیں دیا۔ وہ صلح کرنے کی خاطر اُس غلطی کے لیے بھی معافی مانگنے کو تیار تھیں جو اُنہوں نے کی بھی نہیں تھی۔ اُنہوں نے ایک بہت ہی مشکل صورتحال کو پُرسکون ہو کر اور بڑی دلیری اور سمجھ‌داری سے نمٹایا۔‏

  اِیزِبل

 اِیزِبل کون تھی؟‏ وہ اِسرائیلی بادشاہ اخی‌اب کی بیوی تھی۔ وہ ایک غیراِسرائیلی عورت تھی جو یہوواہ کی عبادت نہیں کرتی تھی۔ اِس کی بجائے وہ کنعانیوں کے دیوتا بعل کی پوجا کرتی تھی۔‏

 اُس نے کیا کِیا؟‏ ملکہ اِیزِبل ایک بہت ہی بے‌رحم، دوسروں پر حکم چلانے والی اور ظالم عورت تھی۔ اُس نے ملک میں نہ صرف بعل کی پوجا اور بدکاری کو فروغ دیا بلکہ سچے خدا یہوواہ کی عبادت کا نام‌ونشان مٹانے کی کوشش بھی کی۔—‏1-‏سلاطین 18:‏4،‏ 13؛‏ 19:‏1-‏3‏۔‏

 اِیزِبل اپنی خواہشوں کو پورا کرنے کے لیے جھوٹ کا سہارا لیتی تھی اور لوگوں کو جان سے مروا ڈالتی تھی۔ (‏1-‏سلاطین 21:‏8-‏16‏)‏ خدا نے اُس کے انجام کے بارے میں پیش‌گوئی کہ وہ بہت بُری موت مرے گی اور اُسے دفنایا بھی نہیں جائے گا۔—‏1-‏سلاطین 21:‏23؛‏ 2-‏سلاطین 9:‏10،‏ 32-‏37‏۔‏

 ہم اِیزِبل سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏ اِیزِبل ہمارے لیے عبرت کی مثال ہے۔ وہ اِس قدر بُری عورت تھی کہ وہ بے‌شرمی اور بدکاری کا نشان بن گئی۔‏

  حنّہ

 حنّہ کون تھیں؟‏ وہ القانہ نامی آدمی کی بیوی تھیں اور سموئیل کی ماں تھیں جو بعد میں بنی‌اِسرائیل کے ایک جانے مانے نبی بنے۔—‏1-‏سموئیل 1:‏1، 2،‏ 4-‏7‏۔‏

 اُنہوں نے کیا کِیا؟‏ حنّہ کی کوئی اولاد نہیں تھی اور اِس غم سے تسلی پانے کے لیے وہ خدا سے دُعا کِیا کرتی تھیں۔ حنّہ کی ایک سوتن تھی جس کا نام فننہ تھا۔ فننہ کے بچے تھے لیکن حنّہ اپنی شادی کے بہت سالوں بعد بھی بے‌اولاد تھیں۔ فننہ اُنہیں طعنے دیا کرتی تھی لیکن حنّہ تسلی پانے کے لیے خدا سے دُعا کرتی تھیں۔ اُنہوں نے خدا سے یہ منت مانی کہ اگر وہ اُنہیں ایک بیٹا دے گا تو وہ اُسے خیمۂ‌اِجتماع میں اُس کی خدمت کرنے کے لیے دے دیں گی۔ خیمۂ‌اِجتماع ایک ایسا خیمہ تھا جسے اُس زمانے میں بنی‌اِسرائیل خدا کی عبادت کرنے کے لیے اِستعمال کرتے تھے اور اِسے ایک جگہ سے دوسری جگہ لگا سکتے تھے۔—‏1-‏سموئیل 1:‏11‏۔‏

 خدا نے حنّہ کی دُعا کا جواب دیا اور اُنہیں ایک بیٹے سے نوازا جس کا نام حنّہ اور اُن کے شوہر نے سموئیل رکھا۔ حنّہ نے اپنے وعدے کو پورا کِیا اور سموئیل کو خیمۂ‌اِجتماع میں خدمت کرنے کے لیے بھیج دیا حالانکہ اُس وقت سموئیل بہت چھوٹے تھے۔ (‏1-‏سموئیل 1:‏27، 28‏)‏ حنّہ ہر سال سموئیل کے لیے ایک جُبّہ بنا کر لے جاتی تھیں۔ بعد میں خدا نے حنّہ کو پانچ اَور بچوں سے نوازا جن میں سے تین بیٹے تھے اور دو بیٹیاں۔—‏1-‏سموئیل 2:‏18-‏21‏۔‏

 ہم حنّہ سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏ حنّہ نے دل سے یہوواہ خدا سے دُعا کی جس سے اُنہیں اپنی مشکلوں کو برداشت کرنے کی طاقت ملی۔ اُنہوں نے 1-‏سموئیل 2:‏1-‏10 میں شکرگزاری کی جو دُعا کی، اُس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خدا پر کتنا مضبوط ایمان رکھتی تھیں۔‏

  حوا

 حوا کون تھیں؟‏ حوا وہ سب سے پہلی عورت تھیں جنہیں خدا نے بنایا اور جن کا ذکر بائبل میں دوسری عورتوں میں سب سے پہلے ملتا ہے۔‏

 اُنہوں نے کیا کِیا؟‏ حوا نے خدا کا دیا ہوا حکم توڑ دیا۔ اپنے شوہر آدم کی طرح حوا بھی ایک بے‌عیب اِنسان تھیں جنہیں اپنی مرضی سے فیصلے کرنے کی آزادی تھی اور جن میں محبت اور دانش‌مندی جیسی خوبیوں کو پیدا کرنے کی صلاحیت ڈالی گئی تھی۔ (‏پیدایش 1:‏27‏)‏ حوا جانتی تھیں کہ خدا نے آدم کو ایک ایسے درخت کے بارے میں بتایا ہے جس کا پھل وہ دونوں نہیں کھا سکتے کیونکہ اگر وہ ایسا کریں گے تو وہ مر جائیں گے۔ لیکن شیطان کے ورغلانے پر وہ اِس بات پر یقین کرنے لگیں کہ وہ نہیں مریں گی۔ وہ تو اِس بات پر بھی یقین کرنے لگیں کہ خدا کی نافرمانی کرنے میں اُن کی بھلائی ہے۔ لہٰذا اُنہوں نے اُس درخت کا پھل کھا لیا اور اپنے شوہر کو بھی اِسے کھانے پر راضی کر لیا۔—‏پیدایش 3:‏1-‏6؛‏ 1-‏تیمُتھیُس 2:‏14‏۔‏

 ہم حوا سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏ حوا کی مثال سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اگر ہم اپنی غلط خواہشوں کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں تو یہ کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ حوا خدا کے حکم کے خلاف جا کر اُس چیز کی خواہش کرنے لگیں جس پر اُن کا کوئی حق نہیں تھا۔—‏پیدایش 3:‏6؛‏ 1-‏یوحنا 2:‏16‏۔‏

  دبورہ

 دبورہ کون تھیں؟‏ وہ ایک نبِیّہ تھیں جن کے ذریعے خدا نے اپنے بندوں یعنی بنی‌اِسرائیل کو بتایا کہ وہ اُن سے کیا چاہتا ہے۔ خدا نے دبورہ کو اُن مسئلوں کو سلجھانے کے لیے بھی اِستعمال کِیا جو اِسرائیلیوں کے بیچ کھڑے ہو جاتے تھے۔—‏قضاۃ 4:‏4، 5‏۔‏

 اُنہوں نے کیا کِیا؟‏ دبورہ نبِیّہ نے دلیری سے خدا کے بندوں کی حمایت کی۔ خدا کی رہنمائی میں اُنہوں نے برق سے کہا کہ وہ اپنے دُشمنوں یعنی کنعانیوں سے لڑنے کے لیے بنی‌اِسرائیل کی پیشوائی کریں۔ (‏قضاۃ 4:‏6، 7‏)‏ جب برق نے دبورہ کو اپنے ساتھ چلنے کو کہا تو دبورہ ڈر کر پیچھے نہیں ہٹیں بلکہ وہ اُن کے ساتھ جانے کو تیار ہو گئیں۔—‏قضاۃ 4:‏8، 9‏۔‏

 جب خدا نے بنی‌اِسرائیل کو جنگ میں بڑی فتح بخشی تو دبورہ اور برق نے ایک گیت گایا جس کے کچھ بول دبورہ کے کہے ہوئے تھے۔ اِس گیت میں اُنہوں نے یاعیل نامی ایک اَور بہادر عورت کا ذکر کِیا جنہوں نے کنعانیوں کو شکست دینے میں ایک اہم کردار ادا کِیا۔—‏قضاۃ 5 باب۔‏

 ہم دبورہ سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏ دبورہ بہت دلیر تھیں اور اُن میں دوسروں کے لیے قربانی دینے کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔ اُنہوں نے دوسروں کی حوصلہ‌افزائی کی کہ وہ ایسے کام کریں جو یہوواہ کی نظر میں ٹھیک ہیں۔ اور جب دوسرے ایسا کرتے تھے تو وہ اُنہیں دل کھول کر داد دیتی تھیں۔‏

  دلیلہ

 دلیلہ کون تھی؟‏ دلیلہ وہ عورت تھی جس سے بنی‌اِسرائیل کے قاضی سمسون کو محبت ہو گئی۔—‏قضاۃ 16:‏4، 5‏۔‏

 اُس نے کیا کِیا؟‏ اُس نے فلستیوں کی طرف سے وہ رشوت قبول کر لی جو اُنہوں نے اُسے سمسون کو ورغلانے کے لیے دی تھی۔ خدا بنی‌اِسرائیل کو فلستیوں کے ہاتھ سے چھڑانے کے لیے سمسون کو اِستعمال کر رہا تھا۔ فلستی لاکھ کوششوں کے باوجود بھی سمسون کو اپنے قابو میں نہیں کر پا رہے تھے کیونکہ خدا نے سمسون کو بہت طاقت دی ہوئی تھی۔ (‏قضاۃ 13:‏5‏)‏ اِسی لیے فلستی افسروں نے دلیلہ سے مدد مانگی۔‏

 اُنہوں نے دلیلہ کو رشوت دی تاکہ وہ سمسون کی بے‌پناہ طاقت کا راز جان کر اُنہیں بتائے۔ دلیلہ نے اُن کے دیے ہوئے پیسوں کو قبول کر لیا اور کئی کوششوں کے بعد آخرکار سمسون سے اُن کی طاقت کا راز اُگلوا لیا۔ (‏قضاۃ 16:‏15-‏17‏)‏ اِس کے بعد اُس نے وہ راز فلستیوں کو بتا دیا جس پر فلستیوں نے سمسون کو پکڑ کر قید میں ڈال دیا۔—‏قضاۃ 16:‏18-‏21‏۔‏

 ہم دلیلہ سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏ دلیلہ ہمارے لیے عبرت کی مثال ہے۔ پیسوں کے لالچ میں آ کر وہ خودغرض بن گئی اور اُس نے یہوواہ خدا کے بندے سے دغابازی اور بے‌وفائی کی۔‏

  راحب

 راحب کون تھیں؟‏ وہ ایک فاحشہ تھیں جو ملک کنعان کے شہر یریحو میں رہتی تھیں۔ بعد میں وہ یہوواہ خدا کی عبادت کرنے لگیں۔‏

 اُنہوں نے کیا کِیا؟‏ راحب نے دو اِسرائیلی آدمیوں کو اپنے گھر میں چھپایا جو اُن کے شہر کی جاسوسی کرنے آئے تھے۔ اُنہوں نے ایسا اِس لیے کِیا کیونکہ اُنہوں نے یہ سنا تھا کہ یہوواہ خدا نے کیسے اپنے بندوں کو مصریوں کی غلامی سے آزاد کرایا اور بعد میں اموریوں کے حملے سے بچایا۔‏

 راحب نے اِسرائیلی جاسوسوں کی مدد کی اور اُن سے مِنت کی کہ جب وہ یریحو پر حملہ کرنے آئیں تو وہ اُنہیں اور اُن کے گھر والوں کو نہ ماریں۔ اُن جاسوسوں نے راحب کی بات مان لی۔ مگر اُنہوں نے اُن کے آگے کچھ شرطیں بھی رکھیں۔ ایک تو یہ کہ وہ کسی کو بھی اُن کے منصوبے کے بارے میں نہ بتائیں، دوسرا یہ کہ وہ اور اُن کے گھر والے اُس وقت اُن کے گھر کے اندر رہیں جب وہ شہر پر حملہ کرتے ہیں اور تیسرا یہ کہ وہ اپنے گھر کی کھڑکی سے باہر لال رنگ کی رسی لٹکا دیں تاکہ وہ اُن کے گھر کو پہچان سکیں۔ راحب نے جاسوسوں کی کہی ایک ایک بات پر عمل کِیا اور یوں وہ اور اُن کا گھرانہ بچ گیا۔‏

 بعد میں راحب نے ایک اِسرائیلی آدمی سے شادی کر لی اور اُنہیں یہ شرف ملا کہ اُن کے بیٹے کی نسل سے بادشاہ داؤد اور بعد میں یسوع آئے۔—‏یشوع 2:‏1-‏24؛‏ 6:‏25؛‏ متی 1:‏5، 6،‏ 16‏۔‏

   ہم راحب سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏ بائبل میں راحب کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اُنہوں نے ایمان کی عمدہ مثال قائم کی۔ (‏عبرانیوں 11:‏30، 31؛‏ یعقوب 2:‏25‏)‏ اُن کے ساتھ جو کچھ ہوا، اُس سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ یہوواہ کسی کا طرف‌دار نہیں اور وہ معاف کرنے والا خدا ہے۔ وہ اُن لوگوں کو برکت دیتا ہے جو اُس پر بھروسا کرتے ہیں پھر چاہے اُن کا پس‌منظر کچھ بھی ہو۔‏

راخل

 راخل کون تھیں؟‏ وہ لابن کی بیٹی تھیں اور یعقوب کی بیوی تھیں جن سے یعقوب بہت پیار کرتے تھے۔‏

 اُنہوں نے کیا کِیا؟‏ راخل کی شادی یعقوب سے ہوئی تھی اور اُن دونوں کے دو بیٹے تھے۔ یہ دو بیٹے بنی‌اِسرائیل کے 12 قبیلوں کے سربراہوں میں شامل تھے۔ راخل کی ملاقات یعقوب سے تب ہوئی تھی جب وہ اپنے باپ کی بھیڑوں کی دیکھ‌بھال کر رہی تھیں۔ (‏پیدایش 29:‏9، 10‏)‏ اپنی بڑی بہن لیاہ کی نسبت راخل ”‏حسین اور خوب‌صورت“‏ تھیں۔—‏پیدایش 29:‏17‏۔‏

 یعقوب راخل سے بہت محبت کرتے تھے اور اُن سے شادی کرنے کی خاطر وہ سات سال تک کام کرنے کو تیار ہو گئے۔ (‏پیدایش 29:‏18‏)‏ لیکن لابن نے دھوکے سے یعقوب کی شادی پہلے اپنی بڑی بیٹی لیاہ سے کرا دی۔ بعد میں لابن نے یعقوب کو راخل سے بھی شادی کرنے کی اِجازت دے دی۔—‏پیدایش 29:‏25-‏27‏۔‏

 یعقوب لیاہ اور اُن کے بچوں سے اِتنی محبت نہیں کرتے تھے جتنی راخل اور اُن سے ہونے والے بچوں سے۔ (‏پیدایش 37:‏3؛‏ 44:‏20،‏ 27-‏29‏)‏ اِس وجہ سے اُن دونوں بہنوں میں دُشمنی ہو گئی۔—‏پیدایش 29:‏30؛‏ 30:‏1،‏ 15‏۔‏

   ہم راخل سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏ راخل نے اپنی گھریلو زندگی میں آنے والی مشکلوں کو ثابت‌قدمی سے برداشت کِیا اور کبھی اِس بات کی اُمید نہیں چھوڑی کہ خدا اُن کی دُعائیں سنے گا۔ (‏پیدایش 30:‏22-‏24‏)‏ اُن کی زندگی پر غور کرنے سے ہمیں یہ اندازہ ہوتا ہے کہ جب ایک مرد یا عورت نے ایک سے زیادہ شادیاں کی ہوں تو گھر والوں کو کتنی مشکلوں کا سامنا ہوتا ہے۔ راخل کو جن مسئلوں کا سامنا کرنا پڑا، اُن سے ہم یہ دیکھ سکتے ہیں کہ خدا نے شادی کے حوالے سے جو معیار قائم کِیا تھا، اُس میں کتنی دانش‌مندی پائی جاتی ہے۔ اور وہ معیار یہ تھا کہ ایک آدمی کی صرف ایک بیوی ہو۔—‏متی 19:‏4-‏6‏۔‏

رِبقہ

 رِبقہ کون تھیں؟‏ وہ اِضحاق کی بیوی تھیں اور یعقوب اور عیسو اُن کے جُڑواں بیٹے تھے۔‏

 اُنہوں نے کیا کِیا؟‏ رِبقہ نے اُس وقت بھی خدا کی مرضی پر عمل کِیا جب ایسا کرنا اُن کے لیے آسان نہیں تھا۔ جب وہ کنوئیں سے پانی نکال رہی تھیں تو ایک آدمی نے اُن سے پینے کے لیے پانی مانگا۔ رِبقہ نے فوراً اُس آدمی کو پانی دیا اور اُس سے کہا کہ وہ اُس کے اُونٹوں کے لیے بھی پانی لائیں گی۔ (‏پیدایش 24:‏15-‏20‏)‏ وہ آدمی ابراہام کا نوکر تھا اور کافی دُور سے سفر کر کے آیا تھا تاکہ وہ اپنے مالک کے بیٹے اِضحاق کے لیے بیوی ڈھونڈ سکے۔ (‏پیدایش 24:‏2-‏4‏)‏ اِس کام کے لیے اُس نے دُعا میں خدا سے مدد بھی مانگی۔ جب اُس آدمی نے دیکھا کہ رِبقہ کتنی محنتی اور مہمان‌نواز ہیں تو وہ یہ سمجھ گیا کہ خدا نے اُسے اُس کی دُعا کا جواب دے دیا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ رِبقہ اِضحاق کی بیوی بنیں۔—‏پیدایش 24:‏10-‏14،‏ 21،‏ 27‏۔‏

 جب رِبقہ نے سنا کہ وہ آدمی کس مقصد سے اُن کے ہاں آیا ہے تو وہ اُس کے ساتھ جانے کو تیار ہو گئیں اور اِضحاق سے شادی کر لی۔ (‏پیدایش 24:‏57-‏59‏)‏ بعد مَیں اُن کے جُڑواں بیٹے ہوئے۔ خدا نے رِبقہ پر ظاہر کِیا کہ اُن کا بڑا بیٹا عیسو، اُن کے چھوٹے بیٹے یعقوب کی خدمت کرے گا۔ (‏پیدایش 25:‏23‏)‏ لہٰذا جب اِضحاق نے اپنے پہلوٹھے بیٹے عیسو کو برکت دینے کا فیصلہ کِیا تو رِبقہ نے فوراً اِس بات کو یقینی بنایا کہ برکت یعقوب کو ملے کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ خدا ایسا ہی چاہتا ہے۔—‏پیدایش 27:‏1-‏17‏۔‏

   ہم رِبقہ سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏ رِبقہ ایک خاکسار، محنتی اور مہمان‌نواز عورت تھیں۔ اِن خوبیوں کی وجہ سے وہ ایک اچھی ماں اور بیوی بن پائیں اور وفاداری سے خدا کی خدمت کر پائیں۔‏

رُوت

 رُوت کون تھیں؟‏ وہ ایک موآبی عورت تھیں جنہوں نے اپنے ملک اور اپنے دیوتاؤں کو چھوڑ دیا اور ملک اِسرائیل جا کر یہوواہ کی عبادت کرنے لگیں۔‏

 اُنہوں نے کیا کِیا؟‏ رُوت نے اپنی ساس نعومی کے لیے بے‌پناہ محبت ظاہر کی۔ نعومی اپنے شوہر اور اپنے بیٹوں کے ساتھ اُس وقت ملک موآب آئی تھیں جب ملک اِسرائیل میں قحط پڑا تھا۔ اُن کے بیٹوں نے وہاں موآبی عورتوں سے شادی کر لی جن کے نام رُوت اور عرفہ تھے۔ بعد مَیں نعومی کا شوہر اور دونوں بیٹے فوت ہو گئے اور یوں نعومی، رُوت اور عرفہ تینوں بیوہ ہو گئیں۔‏

 نعومی نے اپنے ملک اِسرائیل لوٹنے کا فیصلہ کِیا جہاں قحط ختم ہو گیا تھا۔ رُوت اور عرفہ نے بھی اُن کے ساتھ جانے کا فیصلہ کِیا۔ لیکن نعومی نے اُن سے کہا کہ وہ اپنے رشتے‌داروں کے پاس لوٹ جائیں۔ اِس پر عرفہ اپنے رشتے‌داروں کے پاس چلی گئیں۔ (‏رُوت 1:‏1-‏6،‏ 15‏)‏ مگر رُوت اپنی ساس سے لپٹی رہیں۔ وہ نعومی سے بہت محبت کرتی تھیں اور اُن کے خدا یہوواہ کی عبادت کرنا چاہتی تھیں۔—‏رُوت 1:‏16، 17؛‏ 2:‏11‏۔‏

 چونکہ رُوت اپنی ساس کی وفادار تھیں اور بہت محنتی تھیں اِس لیے جلد ہی نعومی کے شہر بیت‌لحم میں اُن کا اچھے لفظوں میں ذکر ہونے لگا۔ بوعز نامی ایک امیر زمین‌دار رُوت کی اُن خوبیوں کی وجہ سے اُن سے بہت متاثر ہوا اور اُس نے دل کھول کر اُنہیں اور اُن کی ساس کو کھانے پینے کی چیزیں دیں۔ (‏رُوت 2:‏5-‏7،‏ 20‏)‏ بعد میں رُوت کی شادی بوعز سے ہو گئی اور اُنہیں یہ اعزاز ملا کہ اُن کے بیٹے کی نسل سے بادشاہ داؤد اور یسوع مسیح آئے۔—‏متی 1:‏5، 6،‏ 16‏۔‏

 ہم رُوت سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏ رُوت اپنی ساس نعومی اور یہوواہ خدا سے اِتنی محبت کرتی تھیں کہ وہ اپنا ملک اور اپنے گھر والوں کو چھوڑنے کو تیار تھیں۔ اُنہوں نے مشکل سے مشکل وقت میں بھی محنت سے کام کِیا اور وہ اپنی ساس اور خدا کی وفادار رہیں۔‏

سارہ

 سارہ کون تھیں؟‏ وہ ابراہام کی بیوی اور اِضحاق کی ماں تھیں۔‏

 اُنہوں نے کیا کِیا؟‏ سارہ نے شہر اُور میں آرام‌دہ زندگی چھوڑ دی کیونکہ وہ خدا کے اُن وعدوں پر پکا ایمان رکھتی تھیں جو اُس نے اُن کے شوہر سے کیے تھے۔ خدا نے ابراہام سے کہا کہ وہ شہر اُور کو چھوڑ کر ملک کنعان چلے جائیں۔ خدا نے ابراہام سے وعدہ کِیا کہ وہ اُنہیں برکت دے گا اور اُنہیں ایک بڑی قوم بنائے گا۔ (‏پیدایش 12:‏1-‏5‏)‏ اُس وقت سارہ کی عمر غالباً 60 سے اُوپر تھی۔ تب سے سارہ اور اُن کے شوہر ابراہام ایک جگہ سے دوسری جگہ خیمے لگا کر رہنے لگے۔‏

 حالانکہ اِس طرح سے زندگی گزارنا خطرے سے خالی نہیں تھا لیکن سارہ نے یہوواہ کی ہدایتوں پر عمل کرنے میں ابراہام کا پورا پورا ساتھ دیا۔ (‏پیدایش 12:‏10،‏ 15‏)‏ بہت سالوں تک سارہ کی کوئی اولاد نہیں ہوئی جس کی وجہ سے وہ بہت دُکھی رہتی تھیں۔ لیکن خدا نے ابراہام سے وعدہ کِیا کہ وہ اُن کی اولاد کو برکت دے گا۔ (‏پیدایش 12:‏7؛‏ 13:‏15؛‏ 15:‏18؛‏ 16:‏1، 2،‏ 15‏)‏ بعد میں خدا نے ابراہام سے کہا کہ اُن کی اولاد سارہ سے آئے گی۔ سارہ نے ابراہام کے بیٹے کو اُس وقت جنم دیا جب اُن کے بچے پیدا کرنے کی عمر نکل چُکی تھی۔ اُس وقت وہ 90 سال کی تھیں اور اُن کے شوہر 100 سال کے تھے۔ (‏پیدایش 17:‏17؛‏ 21:‏2-‏5‏)‏ ابراہام اور سارہ نے اپنے بیٹے کا نام اِضحاق رکھا۔‏

 ہم سارہ سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏ یہ کہ ہم خدا کے وعدوں پر مکمل بھروسا رکھ سکتے ہیں، اُن وعدوں پر بھی جن کے بارے میں شاید ہمیں لگے کہ اِن کا پورا ہونا ناممکن ہے۔ (‏عبرانیوں 11:‏11‏)‏ سارہ نے بیویوں کے لیے بھی اچھی مثال قائم کی۔ اُن کی مثال سے ظاہر ہوتا ہے کہ شادی کے بندھن میں احترام کتنا اہم ہوتا ہے۔—‏1-‏پطرس 3:‏5، 6‏۔‏

شولمیت

 شولمیت کون تھی؟‏ وہ گاؤں میں رہنے والی ایک خوب‌صورت لڑکی تھی جس کا ذکر غزلُ‌الغزلات کی کتاب میں ملتا ہے۔ بائبل میں اُس کا نام نہیں بتایا گیا۔‏

 اُس نے کیا کِیا؟‏ شولمیت اُس چرواہے کی وفادار رہی جس سے وہ بہت محبت کرتی تھی۔ (‏غزلُ‌الغزلات 1:‏7؛‏ 2:‏16‏)‏ شولمیت اِتنی خوب‌صورت تھی کہ بادشاہ سلیمان بھی اُس کی خوب‌صورتی سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور اُنہوں نے اُس کا دل جیتنے کی بڑی کوشش کی۔ (‏غزلُ‌الغزلات 7:‏6‏)‏ حالانکہ دوسروں نے شولمیت کو بہت مجبور کِیا کہ وہ بادشاہ سلیمان کی محبت کو چُنے مگر اُس نے ایسا کرنے سے اِنکار کر دیا۔ وہ غریب چرواہے سے پیار کرتی تھی اور اُس کی وفادار رہنا چاہتی تھی۔—‏غزلُ‌الغزلات 3:‏5؛‏ 7:‏10؛‏ 8:‏6‏۔‏

   ہم شولمیت سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏ حالانکہ شولمیت بہت خوب‌صورت تھی اور لوگوں نے اُسے سر آنکھوں پر بٹھایا لیکن وہ اِس بات کی وجہ سے مغرور نہیں ہو گئی۔ اُس نے دوسروں کے دباؤ کی وجہ سے یا پیسے یا شہرت کے لالچ میں آ کر چرواہے سے محبت کرنا نہیں چھوڑی۔‏

لُوط کی بیوی

 لُوط کی بیوی کون تھی؟‏ بائبل میں اُس کا نام نہیں بتایا گیا۔ لیکن اِس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اُس کی دو بیٹیاں تھیں اور وہ اپنے گھرانے کے ساتھ شہر سدوم میں رہتی تھی۔—‏پیدایش 19:‏1،‏ 15‏۔‏

 اُس نے کیا کِیا؟‏ اُس نے خدا کا دیا ہوا حکم توڑ دیا۔ خدا نے فیصلہ کِیا تھا کہ وہ سدوم اور اِس کے آس‌پاس کے شہروں کو تباہ کر دے گا کیونکہ وہاں بہت زیادہ بُرائی پھیل گئی تھی۔ مگر محبت کی بِنا پر خدا نے لُوط اور اُن کے گھر والوں کو بچانے کے لیے اپنے دو فرشتوں کو اُن کے پاس بھیجا۔—‏پیدایش 18:‏20؛‏ 19:‏1،‏ 12، 13‏۔‏

 فرشتوں نے لُوط اور اُن کے گھرانے سے کہا کہ وہ اِس علاقے سے بھاگ جائیں اور پیچھے مُڑ کر نہ دیکھیں ورنہ وہ مارے جائیں گے۔ (‏پیدایش 19:‏17‏)‏ لیکن لُوط کی بیوی نے ”‏پیچھے سے مُڑ کر دیکھا اور وہ نمک کا ستون بن گئی۔“‏—‏پیدایش 19:‏26‏۔‏

   ہم لُوط کی بیوی سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏ لُوط کی بیوی کے ساتھ جو کچھ ہوا، اُس سے پتہ چلتا ہے کہ ہمیں دولت سے اِس قدر پیار نہیں کرنا چاہیے کہ ہم خدا کے حکموں کو ہی توڑ دیں۔ یسوع مسیح نے لُوط کی بیوی کو عبرت کی مثال بتاتے ہوئے کہا:‏ ”‏یاد رکھیں کہ لُوط کی بیوی کے ساتھ کیا ہوا تھا۔“‏—‏لُوقا 17:‏32‏۔‏

لیاہ

 لیاہ کون تھیں؟‏ وہ خدا کے بندے یعقوب کی پہلی بیوی تھیں۔ اُن کی چھوٹی بہن راخل اُن کے شوہر کی دوسری بیوی تھیں۔—‏پیدایش 29:‏20-‏29‏۔‏

 اُنہوں نے کیا کِیا؟‏ لیاہ سے یعقوب کے چھ بیٹے ہوئے۔ (‏رُوت 4:‏11‏)‏ یعقوب لیاہ کی بجائے راخل سے شادی کرنا چاہتے تھے۔ مگر لابن نے راخل کی جگہ لیاہ کی شادی یعقوب سے کرا دی۔ جب یعقوب کو پتہ چلا کہ اُن کی شادی دھوکے سے لیاہ سے کرا دی گئی ہے تو وہ لابن پر غصہ ہوئے۔ لابن نے اُنہیں آگے سے جواب دیا کہ اُن کے ہاں یہ رواج نہیں ہے کہ بڑی بیٹی سے پہلے چھوٹی بیٹی کی شادی ہو جائے۔ لہٰذا ایک ہفتے بعد لابن نے یعقوب کی شادی راخل سے کر دی۔—‏پیدایش 29:‏26-‏28‏۔‏

 یعقوب لیاہ سے زیادہ راخل سے محبت کرتے تھے۔ (‏پیدایش 29:‏30‏)‏ لیاہ کو یعقوب کی طرف سے زیادہ محبت اور توجہ نہیں مل رہی تھی۔ خدا نے دیکھا کہ لیاہ کے دل پر کیا بیت رہی ہے اِس لیے اُس نے اُنہیں چھ بیٹوں اور ایک بیٹی سے نوازا۔—‏پیدایش 29:‏31‏۔‏

   ہم لیاہ سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏ لیاہ نے خدا پر بھروسا رکھا اور اُس سے دُعا کی۔ حالانکہ اُن کی گھریلو زندگی میں بہت سے مسئلے چل رہے تھے لیکن اُنہوں نے اِس بات کو نظرانداز نہیں کِیا کہ خدا اُن کی کن کن طریقوں سے مدد کر رہا ہے۔ (‏پیدایش 29:‏32-‏35؛‏ 30:‏20‏)‏ اُنہیں جن مشکلوں سے گزرنا پڑا، اُن سے ہم یہ دیکھ پاتے ہیں کہ جب ایک مرد یا عورت نے ایک سے زیادہ شادیاں کی ہوں تو گھر والوں کو کتنی مشکلوں کا سامنا ہوتا ہے۔ حالانکہ خدا نے اُس زمانے میں اِس بندوبست کو برداشت کِیا لیکن شادی کے حوالے سے اُس کا یہی معیار ہے کہ ایک شوہر کی صرف ایک بیوی ہو اور ایک بیوی کا صرف ایک شوہر ہو۔—‏متی 19:‏4-‏6‏۔‏

مارتھا

 مارتھا کون تھیں؟‏ وہ لعزر اور مریم کی بہن تھیں۔ وہ تینوں بہن بھائی یروشلیم کے نزدیک ایک گاؤں میں رہتے تھے جو بیت‌عنیاہ کہلاتا تھا۔‏

 اُنہوں نے کیا کِیا؟‏ مارتھا یسوع مسیح کی قریبی دوست تھیں۔ پاک کلام میں بتایا گیا ہے کہ ”‏یسوع کو مارتھا، مریم اور لعزر سے بہت پیار تھا۔“‏ (‏یوحنا 11:‏5‏)‏ مارتھا ایک مہمان‌نواز عورت تھیں۔ ایک مرتبہ جب یسوع اُن کے گھر آئے تو مریم یسوع کے قدموں میں بیٹھ کر اُن کی باتیں سننے لگیں جبکہ مارتھا اُن کے کھانے کا اِنتظام کرنے لگ گئیں۔ جب مارتھا نے دیکھا کہ مریم اُن کا کام میں ہاتھ نہیں بٹا رہیں تو اُنہوں نے یسوع سے اُن کی شکایت کی۔ یسوع نے بڑے پیار سے مارتھا کی سوچ کو درست کِیا۔—‏لُوقا 10:‏38-‏42‏۔‏

 پھر جب لعزر بہت بیمار ہو گئے تو مارتھا اور اُن کی بہن نے یسوع کو یہ پیغام بھیجا کہ وہ اُن کے پاس آ جائیں کیونکہ اُنہیں یقین تھا کہ یسوع اُن کے بھائی کو شفا دے سکتے ہیں۔ (‏یوحنا 11:‏3،‏ 21‏)‏ لیکن لعزر فوت ہو گئے۔ بعد میں جب یسوع مارتھا اور اُن کی بہن کے پاس پہنچے تو مارتھا نے یسوع سے ایسی باتیں کیں جن سے ظاہر ہوا کہ وہ اُس وعدے پر پکا ایمان رکھتی تھیں جو بائبل میں مُردوں کو زندہ کرنے کے حوالے سے کِیا گیا ہے۔ اِس کے علاوہ وہ اِس بات پر بھی پکا یقین رکھتی تھیں کہ یسوع اُن کے بھائی کو زندہ کر سکتے ہیں۔—‏یوحنا 11:‏20-‏27‏۔‏

 ہم مارتھا سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏ مارتھا دوسروں کی مہمان‌نوازی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی تھیں۔ جب اُن کی اِصلاح کی گئی تو اُنہوں نے خوشی سے اِسے قبول کِیا۔ اُنہوں نے کُھل کر اپنے احساسات اور ایمان کا اِظہار کِیا۔‏

مریم (‏مارتھا اور لعزر کی بہن)‏

 مریم کون تھیں؟‏ اپنے بھائی لعزر اور بہن مارتھا کی طرح مریم بھی یسوع کی قریبی دوست تھیں۔‏

 اُنہوں نے کیا کِیا؟‏ مریم نے کئی بار ظاہر کِیا کہ وہ خدا کے بیٹے یسوع کی دل سے قدر کرتی تھیں۔ اُنہوں نے اِس بات پر ایمان ظاہر کِیا کہ یسوع اُن کے بھائی لعزر کو مرنے سے بچا سکتے تھے اور وہ اُس وقت وہیں موجود تھیں جب یسوع نے لعزر کو زندہ کِیا۔ حالانکہ مارتھا اُس وقت مریم پر غصہ ہوئیں جب مریم اُن کا ہاتھ بٹانے کی بجائے یسوع کی باتیں سننے لگیں مگر یسوع مسیح نے مریم کو اِس بات پر داد دی کہ اُنہوں نے کسی دوسرے کام کی نسبت پاک کلام کی سچائیاں سیکھنے کو اہمیت دی۔—‏لُوقا 10:‏38-‏42‏۔‏

 ایک موقعے پر مریم نے دل کھول کر یسوع مسیح کی مہمان‌نوازی کی۔ وہ ایک ’‏خوشبودار تیل لے کر آئیں جو بہت ہی قیمتی تھا‘‏ اور اِسے یسوع کے سر اور پیروں پر ڈالنے لگیں۔ (‏متی 26:‏6، 7‏)‏ وہاں موجود دوسرے لوگ اِس بات پر ناراض ہوئے کہ مریم نے اِتنا قیمتی تیل ضائع کر دیا۔ مگر یسوع نے مریم کے حق بولتے ہوئے کہا:‏ ”‏پوری دُنیا میں جہاں بھی [‏خدا کی بادشاہت کی]‏خوش‌خبری کی مُنادی کی جائے گی وہاں اِس واقعے کا بھی ذکر کِیا جائے گا اور اِس عورت کو یاد کِیا جائے گا۔“‏—‏متی 24:‏14؛‏ 26:‏8-‏13‏۔‏

   ہم مریم سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏ مریم نے اپنے اندر مضبوط ایمان پیدا کِیا۔ اُنہوں نے خدا کی عبادت کو روزمرہ کے کاموں سے زیادہ اہمیت دی۔ وہ یسوع کا اِتنا احترام کرتی تھیں کہ وہ اُن کی خاطر اپنی قیمتی چیز بھی قربان کرنے سے پیچھے نہ ہٹیں۔‏

مریم مگدلینی

 مریم مگدلینی کون تھیں؟‏ وہ یسوع مسیح کی ایک وفادار شاگرد تھیں۔‏

 اُنہوں نے کیا کِیا؟‏ مریم مگدلینی اُن کئی عورتوں میں سے ایک تھیں جو یسوع اور اُن کے شاگردوں کے ساتھ خوش‌خبری کی مُنادی کرنے کے لیے سفر کِیا کرتی تھیں۔ وہ دل کھول کر اپنے مالی وسائل سے یسوع اور اُن کے شاگردوں کی خدمت کرتی تھیں۔ (‏لُوقا 8:‏1-‏3‏)‏ وہ زمین پر یسوع کی خدمت کے ختم ہونے تک اُن کی پیروی کرتی رہیں اور اُس وقت بھی یسوع سے دُور نہ ہوئیں جب یسوع کو سُولی دی گئی۔ اُنہیں اُن لوگوں میں شامل ہونے کا اعزاز ملا جنہوں نے یسوع کو مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد سب سے پہلے دیکھا۔—‏یوحنا 20:‏11-‏18‏۔‏

   ہم مریم مگدلینی سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏ مریم نے دل کھول کر یسوع کی مدد کی اور وہ اُن کی وفادار رہیں۔‏

مریم (‏موسیٰ کی بہن)‏

 مریم کون تھیں؟‏ وہ موسیٰ اور ہارون کی بہن تھیں۔ وہ اُن عورتوں میں سے پہلی عورت تھیں جن کا ذکر بائبل میں ایک نبِیّہ کے طور پر کِیا گیا۔‏

 اُنہوں نے کیا کِیا؟‏ ایک نبِیّہ کے طور پر مریم لوگوں کو خدا کا پیغام سنایا کرتی تھیں۔ اُنہیں بنی‌اِسرائیل میں ایک خاص مقام حاصل تھا اور اُنہوں نے اُس وقت اِسرائیلی آدمیوں کے ساتھ مل کر فتح کا گیت گایا تھا جب خدا نے مصری فوج کو بحیرۂ‌احمر میں ہلاک کر دیا تھا۔—‏خروج 15:‏1،‏ 20، 21‏۔‏

 کچھ وقت بعد مریم اور ہارون موسیٰ کے خلاف باتیں کرنے لگے۔ غالباً وہ ایسا غرور اور حسد میں آ کر کرنے لگے۔ وہ جو کچھ کہہ رہے تھے، خدا اِسے سُن رہا تھا اور اُس نے اُن کی سخت اِصلاح کی۔ (‏گنتی 12:‏1-‏9‏)‏ اُس نے مریم کو کوڑھ کی بیماری لگا دی، غالباً اِس لیے کیونکہ مریم نے منفی باتیں کرنا شروع کی تھیں۔ جب موسیٰ نے مریم کی شفایابی کے لیے خدا سے اِلتجا کی تو خدا نے اُنہیں ٹھیک کر دیا۔ سات دن سب سے الگ تھلگ رہنے کے بعد مریم کو دوبارہ سے بنی‌اِسرائیل کے بیچ رہنے کی اِجازت مل گئی۔—‏گنتی 12:‏10-‏15‏۔‏

 پاک کلام سے پتہ چلتا ہے کہ مریم نے اِصلاح کو قبول کِیا۔ اِس کے صدیوں بعد خدا نے مریم کے خاص اعزاز کا ذکر کرتے ہوئے بنی‌اِسرائیل کو یاد دِلایا:‏ ”‏[‏مَیں نے]‏ تمہارے آگے موسیٰؔ اور ہاؔرون اور مریمؔ کو بھیجا۔“‏—‏میکاہ 6:‏4‏۔‏

   ہم مریم سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏ مریم کے ساتھ جو کچھ ہوا، اُس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا اُن باتوں کو بڑے دھیان سے سنتا ہے جو اُس کے بندے ایک دوسرے سے یا ایک دوسرے کے بارے میں کرتے ہیں۔ اُن کی مثال سے ہم یہ بھی سیکھتے ہیں کہ ہمیں غرور اور حسد سے بچنا چاہیے کیونکہ یہ ایسی چیزیں ہیں جن کی وجہ سے دوسروں کی نیک‌نامی پر داغ لگ سکتا ہے۔‏

مریم (‏یسوع کی ماں)‏

 مریم کون تھیں؟‏ وہ ایک یہودی لڑکی تھیں اور جب اُنہوں نے یسوع کو جنم دیا تو وہ کنواری تھیں کیونکہ خدا نے اُنہیں ایک معجزے کے ذریعے حاملہ کِیا تھا۔‏

اُنہوں نے کیا کِیا؟‏ مریم نے بڑی خاکساری سے خدا کی مرضی پر عمل کِیا۔ اُن کی منگنی یوسف نامی آدمی سے ہوئی تھی۔ اور اُس وقت وہ منگنی‌شُدہ ہی تھیں جب فرشتہ اُن سے ملنے آیا تھا اور اُس نے اُنہیں یہ بتایا تھا کہ وہ حاملہ ہوں گی اور مسیح کو جنم دیں گی جس کا لوگ کافی عرصے سے اِنتظار کر رہے تھے۔ (‏لُوقا 1:‏26-‏33‏)‏ اُنہوں نے خوشی خوشی خدا کی طرف سے ملنے والی اِس ذمے‌داری کو قبول کر لیا۔ یسوع کی پیدائش کے بعد مریم اور یوسف کے چار اَور بیٹے اور کم از کم دو بیٹیاں ہوئیں۔ لہٰذا مریم ساری عمر کنواری نہیں رہیں۔ (‏متی 13:‏55، 56‏)‏ حالانکہ خدا نے اُنہیں ایک بہت بڑا اعزاز بخشا لیکن اُنہوں نے کبھی بھی اپنی بڑائی نہیں چاہی، نہ تو اُس وقت جب یسوع زمین پر ہی تھے اور نہ ہی مسیحی کلیسیا کے قائم ہونے کے بعد۔‏

 ہم مریم سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏ مریم خدا کی وفادار تھیں اور اُنہوں نے خوشی سے اُس ذمے‌داری کو قبول کر لیا جسے نبھانا آسان نہیں تھا۔ وہ صحیفوں کا اچھا علم رکھتی تھیں۔ جب مریم نے لُوقا 1:‏46-‏55 میں درج باتیں کہیں تو اُنہوں نے غالباً 20 صحیفوں کا حوالہ دیا۔‏

یاعیل

 یاعیل کون تھیں؟‏ وہ حبر نامی آدمی کی بیوی تھیں جو کہ غیراِسرائیلی تھا۔ یاعیل نے بڑی دلیری سے خدا کے بندوں کا ساتھ دیا۔‏

 اُنہوں نے کیا کِیا؟‏ یاعیل نے اُس وقت فوری قدم اُٹھایا جب کنعانی فوج کا سردار سیسرا اُن کے خیمے میں پناہ لینے آیا۔ سیسرا کو بنی‌اِسرائیل نے جنگ میں بڑی بُری شکست دی تھی اور اب وہ اپنی جان بچانے کے لیے پناہ ڈھونڈ رہا تھا۔ یاعیل نے سیسرا سے کہا کہ وہ اُن کے خیمے میں آ کر چھپ جائے اور تھوڑا آرام کر لے۔ جب سیسرا سو گیا تو یاعیل نے اُسے مار ڈالا۔—‏قضاۃ 4:‏17-‏21‏۔‏

 یاعیل نے جو کِیا، اُس سے وہ پیش‌گوئی پوری ہوئی جو دبورہ نبِیّہ نے کی تھی۔ اُنہوں نے کہا تھا:‏ ”‏[‏یہوواہ]‏ سیسرا کو ایک عورت کے حوالے کر دے گا۔“‏ (‏قضاۃ 4:‏9‏، اُردو جیو ورشن‏)‏ یاعیل نے جو کام کِیا، اُس کی تعریف میں اُن کے لیے کہا گیا کہ ’‏وہ سب عورتوں سے مبارک ٹھہریں گی۔‘‏—‏قضاۃ 5:‏24‏۔‏

  ہم یاعیل سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏ یاعیل نے صحیح کام کرنے کے لیے فوری قدم اُٹھایا اور دلیری ظاہر کی۔ اُن کے تجربے سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا اپنی پیش‌گوئی کو پورا کرنے کے لیے واقعات کا رُخ کہیں بھی موڑ سکتا ہے۔‏

وہ دَور جس میں بائبل میں ذکرکردہ عورتیں رہیں

  1.  حوا

  2. نوح کا طوفان (‏2370 قبل‌ازمسیح)‏

  3.  سارہ

  4.  لُوط کی بیوی

  5.  رِبقہ

  6.  لیاہ

  7.  راخل

  8. مصر سے رِہائی (‏1513 قبل‌ازمسیح)‏

  9.  مریم

  10.  راحب

  11.  رُوت

  12.  دبورہ

  13.  یاعیل

  14.  دلیلہ

  15.  حنّہ

  16. اِسرائیل کا پہلا بادشاہ (‏1117 قبل‌ازمسیح)‏

  17.  ابیجیل

  18.  شولمیت

  19.  اِیزِبل

  20.  آستر

  21.  مریم (‏یسوع کی ماں)‏

  22. یسوع مسیح کا بپتسمہ (‏29 عیسوی)‏

  23.  مارتھا

  24.  مریم (‏مارتھا اور لعزر کی بہن)‏

  25.  مریم مگدلینی

  26. یسوع مسیح کی موت (‏33 عیسوی)‏