مواد فوراً دِکھائیں

سینکڑوں زبانوں میں ویڈیوز

سینکڑوں زبانوں میں ویڈیوز

یہوواہ کے گواہوں کے بارے میں یہ بات بڑی مشہور ہے کہ وہ وسیع پیمانے پر ترجمے کا کام کرتے ہیں۔‏ نومبر 2014ء تک ہم نے 125 زبانوں میں بائبل کا ترجمہ کِیا تھا اور 742 زبانوں میں کتابیں اور رسالے وغیرہ شائع کیے تھے۔‏ ہم ویڈیوز کا ترجمہ بھی کرتے ہیں۔‏ جنوری 2015ء میں ویڈیو ہماری عبادت گاہوں میں کیا ہوتا ہے؟‏ 398 زبانوں میں دستیاب تھی اور ویڈیو بائبل میں دلچسپی کیوں لیں؟‏ 569 زبانوں میں۔‏ اِن ویڈیوز کو بنانے کا مقصد کیا تھا؟‏ اور اِنہیں اِتنی زبانوں میں کیسے تیار کِیا گیا؟‏

مارچ 2014ء میں یہوواہ کے گواہوں کی گورننگ باڈی نے پوری دُنیا میں ہماری برانچوں کو یہ ہدایت دی کہ وہ زیادہ سے زیادہ زبانوں میں اِن ویڈیوز کا ترجمہ کریں تاکہ لوگ ہمارے مُفت بائبل کورس سے واقف ہو جائیں۔‏

مختلف زبانوں میں ویڈیوز کی تیاری میں کیا کچھ شامل ہے؟‏ سب سے پہلے مقامی زبان بولنے والی ٹیم ویڈیو کا ترجمہ کرتی ہے۔‏ پھر ویڈیو کے ہر کردار کے لیے ایک مقامی شخص کو چُنا جاتا ہے تاکہ اُس کی آواز ریکارڈ کی جا سکے۔‏ پھر تمام آوازوں کی ریکارڈنگ ہوتی ہے،‏ آوازوں کو ویڈیو میں صحیح جگہ پر لگایا جاتا ہے اور کچھ تصویروں کے لیے عبارتیں تیار کی جاتی ہیں۔‏ آخر میں سب آوازوں،‏ عبارتوں اور تصویروں کو ملا کر ایک فائل بنائی جاتی ہے جو ہماری ویب سائٹ پر ڈالی جاتی ہے۔‏

ہماری کچھ برانچوں میں سٹوڈیوز اور آڈیو ٹیکنیشن (‏یعنی ریکارڈنگ کرنے کے ماہر)‏ ہیں۔‏ لیکن اُن زبانوں میں ویڈیوز کیسے تیار کی گئیں جو دُور دراز علاقوں میں بولی جاتی ہیں؟‏

پوری دُنیا میں ایسے علاقوں میں ہمارے آڈیو ٹیکنیشن بھیجے گئے۔‏ اُن کے پاس بس ایک مائیکروفون تھا اور ایک ایسا کمپیوٹر جس پر ریکارڈنگ کرنے کے لیے سافٹ ویئر ڈالا گیا تھا۔‏ وہ کسی دفتر میں،‏ ہماری کسی عبادت گاہ میں یا کسی گھر میں عارضی سٹوڈیو بناتے تھے۔‏ مقامی زبان بولنے والے لوگوں میں سے کچھ قاریوں کے طور پر کام کرتے تھے،‏ ایک شخص ریکارڈنگ کے دوران قاریوں کو تجاویز دیتا تھا اور ایک شخص اِس بات کا خیال رکھتا تھا کہ قاری سب کچھ ٹھیک ٹھیک پڑھیں۔‏ ریکارڈنگ کے بعد ٹیکنیشن اپنا سامان باندھتا تھا اور پھر دوسرے علاقے کی طرف نکل پڑتا تھا۔‏

اِس طریقے سے پہلے کی نسبت تین گُنا زیادہ زبانوں میں ویڈیوز تیار کی گئیں۔‏

لوگوں نے اِن ویڈیوز کو بےحد پسند کِیا۔‏ کچھ لوگوں نے تو اپنی زبان میں پہلے کبھی کوئی ویڈیو دیکھی ہی نہیں تھی۔‏

ایک زبان جس میں یہ ویڈیوز تیار کی گئیں،‏ وہ پیچان چچارا ہے۔‏ یہ زبان آسٹریلیا میں بولی جاتی ہے اور اِسے 2500 سے زیادہ لوگ بولتے ہیں۔‏ اِس کی ریکارڈنگ شہر ایلس سپرنگز میں ہوئی۔‏ کیلن تھامس جنہوں نے ریکارڈنگ کرنے میں مدد کی،‏ اُنہوں نے بتایا:‏ ”‏یہ ویڈیوز بڑی مقبول ہوئیں۔‏ مقامی لوگ اِنہیں بڑے شوق سے دیکھتے تھے اور پوچھتے تھے کہ وہ اِن جیسی اَور ویڈیوز کہاں دیکھ سکتے ہیں۔‏ اِس زبان میں ویڈیوز اور کتابیں بہت کم ملتی ہیں۔‏ اِس لیے جب لوگوں نے اپنی زبان میں ویڈیوز دیکھیں تو اُن کی حیرت کی اِنتہا نہ رہی۔‏“‏

یہوواہ کے دو گواہ چھوٹی سی کشتی میں ملک کیمرون کے ایک دریا میں سفر کر رہے تھے۔‏ اِس دوران وہ ایک گاؤں میں رُکے اور وہاں کے سردار سے بات کی جو ایک سکول میں پڑھاتا ہے۔‏ جب گواہوں کو پتہ چلا کہ سردار باسا زبان بولتا ہے تو اُنہوں نے اپنے ٹیبلٹ پر اُس زبان میں ویڈیو بائبل میں دلچسپی کیوں لیں؟‏ چلائی۔‏ سردار یہ ویڈیو دیکھ کر بہت متاثر ہوا اور کچھ کتابیں بھی مانگیں۔‏

ملک اِنڈونیشیا کے ایک گاؤں کا مذہبی پیشوا یہوواہ کے گواہوں کے خلاف ہے۔‏ گواہوں نے اُس علاقے میں جتنے رسالے اور کتابیں بانٹی تھیں،‏ اُس نے اُنہیں جمع کر کے جلا دیا۔‏ گاؤں کے کچھ لوگوں نے یہوواہ کے گواہوں کی عبادت گاہ کو آگ لگانے کی دھمکی بھی دی۔‏ اِس پر چار پولیس والے یہوواہ کی ایک گواہ کے گھر گئے اور اُس سے اور اُس کے گھر والوں سے پوچھ گچھ کی۔‏ پولیس والے اُن سے یہ جاننا چاہتے تھے کہ آخر یہوواہ کے گواہ اپنی عبادت گاہ میں کیا کرتے ہیں۔‏ اِس پر اُنہوں نے پولیس والوں کو اِنڈونیشیائی زبان میں ویڈیو ہماری عبادت گاہوں میں کیا ہوتا ہے؟‏ دِکھائی۔‏

ویڈیو دیکھنے کے بعد ایک پولیس والے نے کہا:‏ ”‏اب مجھے پتہ چلا کہ لوگ یہوواہ کے گواہوں کے بارے میں جو کچھ کہتے ہیں،‏ وہ صحیح نہیں ہے۔‏“‏ ایک اَور پولیس والے نے کہا:‏ ”‏کیا آپ مجھے یہ ویڈیو دے سکتے ہیں تاکہ مَیں اِسے دوسروں کو بھی دِکھا سکوں؟‏ اِس میں آپ کے بارے میں صحیح معلومات دی گئی ہیں۔‏“‏ اب یہوواہ کے گواہوں کے بارے میں پولیس والوں کی غلط فہمیاں دُور ہو گئی ہیں اور وہ اُن کی حفاظت بھی کرتے ہیں۔‏

کیا آپ نے اِن ویڈیوز کو اپنی زبان میں دیکھا ہے؟‏