مواد فوراً دِکھائیں

ایک ریکا‌رڈنگ سینکڑوں آوازیں

ایک ریکا‌رڈنگ سینکڑوں آوازیں

‏”‏یہ بہت ہی دلچسپ،‏ مؤثر اور زبردست ہے۔‏“‏

‏”‏یہ بائبل میں درج واقعات میں جان ڈال دیتی ہے۔‏“‏

‏”‏یہ دل کو موہ لیتی ہے!‏ اب تک مَیں نے بائبل کی جتنی بھی ریکا‌رڈنگز سنی ہیں،‏ یہ اُن سب سے زیادہ جان دار ہے۔‏“‏

ایسے تعریفی کلمات اکثر اُن لوگوں کے مُنہ سے نکلتے ہیں جنہوں نے متی کی اِنجیل کی نئی ریکا‌رڈنگ سنی ہے۔‏ یہ ریکا‌رڈنگ jw.org پر انگریزی میں دستیاب ہے۔‏

یہوواہ کے گواہوں نے بائبل کی پہلی آڈیو ریکا‌رڈنگ 1978ء میں تیار کی۔‏ آہستہ آہستہ بائبل کے کچھ حصوں یا پوری بائبل کی ریکا‌رڈنگ 20 زبانوں میں تیار کی گئی۔‏

لیکن 2013ء میں نیو ورلڈ ٹرانسلیشن کا نظرثانی شُدہ ایڈیشن آیا جس کی وجہ سے بائبل کی آڈیو ریکا‌رڈنگ دوبارہ سے کرنے کی ضرورت تھی۔‏ بائبل میں 1000 سے زیادہ کردار ہیں۔‏ پُرانی ریکا‌رڈنگز میں صرف تین لوگوں کی آوازیں اِستعمال کی گئی تھیں۔‏ لیکن نئی ریکا‌رڈنگز میں ہر کردار کے لیے الگ آواز اِستعمال کی گئی ہے۔‏

اِس کی وجہ سے سننے والوں کے لیے بائبل کے واقعات کو تصور کرنا آسان ہو گیا ہے۔‏ اگرچہ آڈیو ریکا‌رڈنگز میں کسی طرح کے ساؤنڈ افیکٹس اِستعمال نہیں کیے گئے لیکن پھر بھی ایسا لگتا ہے جیسے آپ اُن واقعات کا حصہ ہیں۔‏

اِتنے سارے قاریوں کو اِکٹھا کرنے اور اُن سے کام لینے کے لیے بڑی منصوبہ سازی کی ضرورت تھی۔‏ پہلے یہ دیکھنا تھا کہ بائبل کے ہر اِقتباس میں کون مخاطب ہے،‏ اِس اِقتباس کا مطلب کیا ہے اور اِس میں کون سے جذبات ظاہر کیے گئے ہیں۔‏ مثلاً اگر کوئی رسول مخاطب ہے لیکن اِقتباس میں واضح نہیں کہ وہ کون ہے تو اُس کی شناخت طے کرنا ضروری تھا۔‏ اگر کوئی شکی انداز میں بات کر رہا ہے تو شاید وہ توما رسول ہو اور اگر کوئی جلدبازی میں یا بِلا‌سوچے سمجھے بات کر رہا ہے تو شاید وہ پطرس رسول ہو۔‏

کرداروں کی عمر کو بھی ذہن میں رکھا گیا۔‏ مثال کے طور پر اگر یوحنا رسول کی جوانی کے دَور کا کوئی واقعہ ہے تو کسی جوان شخص کی آواز اِستعمال کی گئی ہے اور اگر اُن کے بڑھاپے کا کوئی واقعہ ہے تو ایک بوڑھے شخص کی آواز لی گئی ہے۔‏

اِس کے علا‌وہ اچھے قاریوں کو تلا‌ش کِیا گیا۔‏ زیادہ تر قاری امریکہ میں یہوواہ کے گواہوں کی برانچ سے لیے گئے۔‏ آڈیشنز کا اِنتظام کِیا گیا اور جاگو!‏ کے انگریزی شمارے سے ایک پیراگراف منتخب کِیا گیا۔‏ آڈیشنز کے لیے آنے والے قاریوں سے کہا گیا کہ وہ اُس پیراگراف کو پڑھنے کی اچھی طرح تیاری کر لیں اور پھر اِسے پڑھ کر سنائیں۔‏ قاریوں سے بائبل کے کچھ ایسے مکا‌لمے بھی پڑھنے کے لیے کہا گیا جن میں غصے،‏ غم،‏ خوشی یا مایوسی کے جذبات پائے جاتے ہیں۔‏ اِن آڈیشنز سے یہ اندازہ لگا‌یا گیا کہ کون سا قاری زیادہ بہتر ہے اور کسے کون سا اِقتباس پڑھنے کے لیے دیا جائے۔‏

جب ہر قاری کو بتا دیا گیا کہ وہ کون سا اِقتباس پڑھے گا تو وہ اپنی باری کے لحاظ سے بروکلن،‏ پیٹرسن یا والکل میں سے کسی ایک سٹوڈیو میں ریکا‌رڈنگ کے لیے گیا۔‏ ریکا‌رڈنگ کے دوران ایک کوچ نے اِس بات کا خیال رکھا کہ قاری صحیح تلفظ اور لہجے کے ساتھ پڑھے۔‏ کوچ اور قاری دونوں کے پاس سکرپٹ تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ کہاں وقفہ دینا ہے اور کن جملوں یا لفظوں پر زور دینا ہے۔‏ کوچ کے پاس نیو ورلڈ ٹرانسلیشن کی پُرانی ریکا‌رڈنگز بھی تھیں جن سے اُس نے کچھ مدد لی۔‏

سٹوڈیو میں ریکا‌رڈنگ کے دوران کچھ ایڈیٹنگ بھی کی گئی۔‏ چونکہ کچھ جملوں کی بار بار ریکا‌رڈنگ ہوئی اِس لیے ایڈیٹر نے بالکل صحیح تلفظ یا آواز کے لیے لفظوں یا جملوں کو اِن ریکا‌رڈنگز سے لے لیا۔‏

فی الحال یہ معلوم نہیں کہ نیو ورلڈ ٹرانسلیشن کے 2013ء کے ایڈیشن کی مکمل ریکا‌رڈنگ میں کتنا وقت لگے گا۔‏ لیکن جیسے ہی کسی کتاب کی ریکا‌رڈنگ مکمل ہو جائے گی،‏ اُسے jw.org پر ڈال دیا جائے گا اور صفحہ Books of the Bible پر اُس کتاب کے نام کے ساتھ ہیڈفون کا نشان آ جائے گا جس سے ظاہر ہوگا کہ اِس کتاب کی آڈیو ریکا‌رڈنگ اب دستیاب ہے۔‏