مواد فوراً دِکھائیں

وہ خودکُشی کرنے والے تھے

وہ خودکُشی کرنے والے تھے

یہوواہ کی دو گواہ گھر گھر تبلیغ کر رہی تھیں اور اِس دوران اُنہوں نے ایک گھر کا دروازہ بجایا۔‏ اِس پر ایک آدمی نے دروازہ کھولا۔‏ وہ آدمی بہت پریشان لگ رہا تھا اور اُس کے پیچھے سیڑھیوں کے اُوپر ایک رسی لٹک رہی تھی۔‏

جب اُس آدمی نے یہوواہ کی گواہوں کو اندر بلا‌یا تو اُنہوں نے پوچھا کہ یہ رسی کس لیے ہے؟‏ آدمی نے جواب دیا کہ وہ خودکُشی کرنے والا تھا لیکن جب دروازہ بجا تو اُس نے فیصلہ کِیا کہ وہ آخری بار دروازہ کھولے گا۔‏ دونوں گواہوں نے اُس آدمی کو سمجھایا بجھایا اور اُسے ڈاکٹر کے پاس لے گئیں۔‏

اِس واقعے کی خبر ملک بیلجیئم کے ایک اخبار میں شائع ہوئی۔‏ یہوواہ کے گواہوں نے اِس آدمی کے علا‌وہ بھی کئی لوگوں کو خودکُشی کرنے سے روکا ہے۔‏ اِس سلسلے میں دُنیا بھر سے چند واقعات پر غور کریں۔‏

یونان میں رہنے والی ایک عورت نے لکھا:‏ ”‏میرا جیون ساتھی مجھ پر بہت ظلم ڈھاتا تھا جس کی وجہ سے مجھے شدید ڈپریشن ہو گیا۔‏ مَیں اِتنی دُکھی تھی کہ مَیں نے اپنی جان لینے کا فیصلہ کر لیا۔‏ یہ فیصلہ کرنے کے بعد مجھے تھوڑا سکون ملا کیونکہ مَیں اپنی تکلیفوں سے نجات چاہتی تھی۔‏‏“‏

لیکن وہ عورت خودکُشی کرنے کی بجائے ڈاکٹر کے پاس گئی۔‏ اِس کے کچھ عرصے بعد اُس کی ملا‌قات یہوواہ کے گواہوں سے ہوئی اور وہ اُن کے اِجلا‌سوں پر جانے لگی۔‏ وہ کہتی ہے:‏ ”‏یہوواہ کے گواہوں نے مجھے وہ بےلوث محبت دی جس کے لیے مَیں کئی سالوں سے ترس رہی تھی۔‏‏“‏ اُس نے یہ بھی کہا:‏ ”‏اب مجھے سچے دوست مل گئے ہیں جن پر مَیں بھروسا کر سکتی ہوں۔‏ اب مَیں خوش،‏ مطمئن اور پُراُمید ہوں۔‏‏“‏

اِنگلینڈ سے یہوواہ کی ایک گواہ نے لکھا:‏ ”‏میری ایک جاننے والی نے بڑی پریشانی کی حالت میں مجھے فون کِیا اور بتایا کہ وہ رات کو خودکُشی کر لے گی۔‏ مَیں نے اُسے جاگو!‏ مئی 2008ء (‏اُردو میں جولائی-‏ستمبر 2008ء)‏ کے ایک مضمون سے کچھ باتیں بتائیں جس میں خودکُشی سے گریز کرنے کے سلسلے میں کچھ مشورے دیے گئے تھے۔‏ مَیں نے اُسے سمجھایا اور اُس کے ساتھ کچھ آیتیں پڑھیں جن سے اُسے تسلی ملی۔‏ اب وہ خودکُشی نہیں کرنا چاہتی حالانکہ ابھی بھی اُسے مشکلا‌ت کا سامنا ہے۔‏‏“‏

گھانا میں مائیکل نامی یہوواہ کے ایک گواہ نے اپنے کام کی جگہ پر ایک جوان عورت سے بات چیت کی۔‏ ایک دن جب مائیکل نے دیکھا کہ وہ عورت بہت پریشان ہے تو اُنہوں نے اُس سے وجہ پوچھی۔‏

اِس پر عورت نے جواب دیا کہ وہ اپنی زندگی ختم کرنا چاہتی ہے کیونکہ اُس کے شوہر نے اُسے چھوڑ دیا ہے اور ایک دوسری عورت کے ساتھ رہ رہا ہے۔‏ مائیکل نے اُسے تسلی دی اور اُسے دو کتابیں دیں جن میں پاک کلام کی تعلیمات کی وضاحت کی گئی ہے۔‏ اِن تعلیمات کے بارے میں جاننے کے بعد اُس عورت نے خودکُشی کرنے کا اِرادہ ترک کر دیا اور یہوواہ کے گواہوں کے ساتھ بائبل کورس کِیا۔‏ اب وہ عورت یہوواہ کی گواہ ہے۔‏

امریکہ کے ایک اخبار میں یہ خبر شائع ہوئی کہ ایک نوجوان یہوواہ کے گواہ نے تبلیغی کام کے دوران سڑک کے کنارے کھڑی ایک گاڑی کو دیکھا جس کا انجن چل رہا تھا۔‏

اُس یہوواہ کے گواہ نے بتایا:‏ ”‏مَیں نے دیکھا کہ ایک چار اِنچ موٹا پائپ گاڑی کے سائلنسر کے ساتھ لگا ہوا تھا اور اِس کا دوسرا سرا کھڑکی سے اندر جا رہا تھا جسے ٹیپ لگا کر پوری طرح بند کِیا گیا تھا۔‏

مَیں فٹافٹ گاڑی کے پاس پہنچا۔‏ جب مَیں نے اندر جھانکا تو گاڑی میں دھواں بھرا ہوا تھا اور ایک عورت بیٹھی رو رہی تھی۔‏ مَیں نے چیخ کر اُس سے کہا کہ ”‏یہ آپ کیا کر رہی ہیں؟‏“‏

جب مَیں دروازہ کھولنے لگا تو میں نے دیکھا کہ پچھلی سیٹ پر تین بچے بیٹھے ہوئے ہیں۔‏ جوں ہی مَیں نے دروازہ کھولا،‏ اُس عورت نے کہا:‏ ”‏مجھے جانا ہے!‏ مجھے جانا ہے!‏ مَیں اپنے بچوں کو بھی ساتھ لے جاؤں گی۔‏“‏

مَیں نے اُس سے کہا:‏ ”‏ایسا مت کریں۔‏ یہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔‏“‏

اُس نے جواب دیا:‏ ”‏مجھے آسمان پر جانا ہے۔‏ مَیں اپنے بچوں کو بھی ساتھ لے جاؤں گی۔‏“‏

وہ عورت مسلسل رو رہی تھی۔‏ مَیں گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور میرے بھی آنسو بہنے لگے۔‏ مَیں نے دوبارہ اُس سے کہا کہ ”‏ایسا مت کریں۔‏“‏ پھر مَیں گاڑی کے اندر کی طرف جھکا اور آرام آرام سے اُسے باہر نکا‌لا۔‏

پھر وہ چیخی:‏ ”‏میرے بچوں کو بچاؤ!‏“‏

بچوں نے میری طرف اپنے ہاتھ بڑھائے۔‏ دو لڑکیاں تھیں جن کی عمر چار اور پانچ سال تھی اور ایک لڑکا تھا جس کی عمر دو سال تھی۔‏ وہ چپ چاپ پچھلی سیٹ پر بیٹھے تھے۔‏ اُنہیں تو یہ علم بھی نہیں تھا کہ کچھ ہی دیر میں اُن کی جان جا سکتی تھی۔‏

جب وہ چاروں گاڑی سے باہر آ گئے تو مَیں نے انجن بند کر دیا۔‏ پھر ہم پانچوں ایک چھوٹی سے دیوار پر بیٹھ گئے اور مَیں نے اُس عورت سے کہا:‏ ”‏مجھے بتائیں کہ مسئلہ کیا ہے۔‏“‏“‏

یہوواہ کے گواہ زندگی کو خدا کا ایک بہت قیمتی تحفہ سمجھتے ہیں۔‏ پوری دُنیا میں وہ ایسے لوگوں کی مدد کرتے ہیں جنہوں نے خودکُشی کرنے کی کوشش کی ہے اور ایسے لوگوں کو تسلی بھی دیتے ہیں جن کے عزیز خودکُشی کرنے کی وجہ سے اُن سے بچھڑ گئے ہیں۔‏