مواد فوراً دِکھائیں

وسطی یورپ میں پناہ گزینوں کے لیے تسلی بخش پیغام

وسطی یورپ میں پناہ گزینوں کے لیے تسلی بخش پیغام

حالیہ سالوں میں افریقہ،‏ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا سے بڑی تعداد میں پناہ گزین یورپ آئے ہیں۔‏ اِن پناہ گزینوں کی مدد کرنے کے لیے حکومتی ایجنسیاں اور مقامی رضاکار اِنہیں خوراک،‏ رہائش اور علا‌ج معالجے کی سہولتیں فراہم کر رہے ہیں۔‏

لیکن پناہ گزینوں کو اِن چیزوں کے ساتھ ساتھ ایک اَور اہم چیز کی بھی ضرورت ہے۔‏ اُنہیں تسلی اور ایک اچھے مستقبل کی اُمید کی ضرورت ہے کیونکہ اُن میں سے بہت سے لوگ بڑی پریشانی اور تکلیف سے گزر رہے ہوتے ہیں۔‏ وسطی یورپ میں یہوواہ کے گواہ اِس حوالے سے پناہ گزینوں کی مدد کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔‏ وہ پناہ گزینوں کی بات سنتے ہیں اور اُنہیں پاک کلام سے پیغام دیتے ہیں جس سے اُنہیں تسلی اور اُمید ملتی ہے۔‏

پاک کلام سے تسلی

اگست 2015ء سے ملک آسٹریا اور جرمنی میں یہوواہ کے گواہوں کی 300 سے زیادہ کلیسیاؤں (‏یعنی جماعتوں)‏ سے یہوواہ کے گواہ،‏ پناہ گزینوں کو تسلی دے رہے ہیں۔‏ اُنہوں نے دیکھا ہے کہ پناہ گزین پاک کلام سے خاص طور پر اِن سوالوں کے جواب حاصل کرنا چاہتے ہیں:‏

اگست 2015ء سے اکتوبر 2015ء کے دوران یہوواہ کے گواہوں نے وسطی یورپ میں اپنی برانچ سے چار ٹن سے زیادہ مطبوعات منگوائیں اور اِنہیں پناہ گزینوں کو بالکل مُفت دیا۔‏

مادری زبان میں پاک کلام کا پیغام سنانے کی کوشش

بہت سے پناہ گزین صرف اپنی مادری زبان بولتے ہیں۔‏ اِس لیے یہوواہ کے گواہ اُنہیں پاک کلام کا پیغام سنانے کے لیے ویب سائٹ org.‏jw کو اِستعمال کرتے ہیں جس پر سینکڑوں زبانوں میں مضامین اور ویڈیوز دستیاب ہیں۔‏ متیاس اور پیٹرا،‏ جرمنی کے شہر ایرفرٹ میں رضاکاروں کے طور پر پناہ گزینوں کو خدا کا پیغام سناتے ہیں۔‏ وہ کہتے ہیں:‏ ”‏کبھی کبھی ہم اُن سے اِشاروں،‏ تصویروں یا ڈرائنگ کے ذریعے بات کرتے ہیں۔‏“‏ وہ JW Language ایپ بھی اِستعمال کرتے ہیں جسے مختلف زبانیں سیکھنے کے لیے تیار کِیا گیا ہے۔‏ اِس ایپ کے ذریعے یہوواہ کے گواہ پناہ گزینوں کو اُن کی مادری زبان میں بائبل کا پیغام سناتے ہیں۔‏ کچھ یہوواہ کے گواہ ویڈیوز اور پاک کلام کی آیتیں دِکھانے کے لیے JW Library ایپ اِستعمال کرتے ہیں جو بہت سی زبانوں میں دستیاب ہے۔‏

پناہ گزینوں کا ردِعمل

جرمنی کے شہر شوائن فرٹ سے ایک جوڑے نے جو یہوواہ کا گواہ ہے،‏ بتایا:‏ ”‏بہت سے پناہ گزین ہمارے اِردگِرد جمع ہو گئے۔‏ ہم نے صرف ڈھائی گھنٹے میں اُن کو تقریباً 360 کتابیں اور رسالے وغیرہ دیے۔‏ اُن میں سے کئی نے ہلکا سا سر جھکا کر ہمارا شکریہ ادا کِیا۔‏“‏ ولف گنگ،‏ جرمنی کے قصبے ڈِیٹس میں رضاکارانہ طور پر پاک کلام کا پیغام سناتے ہیں۔‏ وہ کہتے ہیں:‏ ”‏پناہ گزین یہ دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں کہ کسی کو اُن کی فکر ہے۔‏ کبھی کبھی تو وہ پانچ چھ زبانوں میں مطبوعات مانگتے ہیں۔‏“‏

بہت سے پناہ گزین فوراً ہی مطبوعات پڑھنا شروع کر دیتے ہیں جبکہ کچھ بعد میں آ کر یہوواہ کے گواہوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔‏ جرمنی کے شہر برلن میں رہنے والی یہوواہ کی ایک گواہ جن کا نام اِلونکا ہے،‏ کہتی ہیں:‏ ”‏دو نوجوانوں نے ہم سے کچھ مطبوعات لیں۔‏ آدھے گھنٹے بعد وہ ہمارے لیے تھوڑی سی بریڈ لائے تاکہ ہمارا شکریہ ادا کر سکیں۔‏ اُنہوں نے ہم سے معذرت کی کہ اُن کے پاس ہمیں دینے کے لیے اَور کچھ نہیں ہے۔‏“‏

‏”‏آپ کا بہت بہت شکریہ“‏

سماجی کارکنوں،‏ افسروں اور پڑوسیوں نے یہوواہ کے گواہوں کی کوششوں کو بہت سراہا۔‏ ایک سماجی کارکُن نے جو تقریباً 300 پناہ گزینوں کی دیکھ بھال کرتا ہے،‏ کہا:‏ ”‏آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ لوگ اِن پردیسیوں کی بھلا‌ئی کے بارے میں اِتنے فکرمند ہیں۔‏“‏ ایک اَور سماجی کارکُن نے پناہ گزینوں کے ایک کیمپ میں یہوواہ کے گواہوں سے کہا کہ یہ بہت اچھی بات ہے کہ پناہ گزینوں کو اُن کی زبان میں کوئی ایسی چیز پڑھنے کے لیے دی جائے جس سے اُنہیں تسلی ملے کیونکہ ”‏اِس وقت اُن کے پاس تین وقت کے کھانے کے علا‌وہ اَور کچھ نہیں ہے۔‏“‏

ماریون اور اُن کے شوہر سٹیفان ملک آسٹریا میں رہتے ہیں۔‏ ایک دن دو پولیس افسروں نے جو گشت پر تھے،‏ آ کر اُن سے پوچھ گچھ کی۔‏ ماریون اور سٹیفان نے اُنہیں بتایا کہ وہ رضاکاروں کے طور پر لوگوں کو پاک کلام کا پیغام دے رہے ہیں۔‏ اِس پر اُن پولیس والوں نے ماریون اور سٹیفان کا شکریہ ادا کِیا اور اُن سے دو کتابیں مانگیں۔‏ ماریون کہتی ہیں:‏ ”‏پولیس والے اکثر ہمارے کام کی تعریف کرتے ہیں۔‏“‏

آسٹریا کی ایک عورت باقاعدگی سے پناہ گزینوں کے ایک کیمپ میں اِمداد دیتی ہے۔‏ اُس نے کئی بار یہ دیکھا کہ یہوواہ کے گواہ پناہ گزینوں کی مدد کرنے کے لیے موسم کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔‏ ایک دن اُس نے یہوواہ کے گواہوں سے کہا:‏ ”‏اِس میں کوئی شک نہیں کہ پناہ گزینوں کو مالی مدد کی ضرورت ہے۔‏ لیکن اُنہیں سب سے زیادہ ضرورت اُمید کی ہے۔‏ اور یہ اُمید آپ اُنہیں دے رہے ہیں۔‏“‏