مواد فوراً دِکھائیں

جان بچانے کے لیے ہر وقت تیار

جان بچانے کے لیے ہر وقت تیار

یہ اِتوار،‏ 5 جنوری 2014ء کی بات ہے۔‏ سیرژ نامی یہوواہ کے ایک گواہ بس میں ایک اِجتماع پر جا رہے تھے جو فرانس کے شہر پیرس کے قریب منعقد ہونا تھا۔‏ راستے میں اُنہوں نے ایک بھیانک حادثہ دیکھا۔‏ وہ بتاتے ہیں:‏ ”‏ایک گاڑی پُل کی حفاظتی دیوار سے ٹکرائی،‏ ہوا میں اُچھلی اور پُل سے ٹکرا کر اُلٹ گئی۔‏ اور اُلٹتے ہی اِس میں آگ بھڑک اُٹھی۔‏“‏

سیرژ 40 سال سے آگ بجھانے والے عملے میں کام کرتے آئے ہیں اور اب وہ اِس عملے کی ایک ٹیم کے کپتان ہیں۔‏ اِس حادثے کو دیکھتے ہی وہ سمجھ گئے کہ اُن کو کیا کرنا ہے۔‏ وہ کہتے ہیں:‏ ”‏حالانکہ ہم ہائی وے پر اُلٹی سمت جا رہے تھے لیکن مَیں نے ڈرائیور کو بس روکنے کے لیے کہا اور پھر مَیں جلتی ہوئی گاڑی کی طرف بھاگا۔‏“‏ سیرژ نے سنا کہ کوئی چیخ رہا ہے کہ ”‏بچاؤ!‏ بچاؤ!‏“‏ وہ کہتے ہیں:‏ ”‏مَیں نے سوٹ پہن رکھا تھا اور میرے پاس کسی قسم کا حفاظتی سامان نہیں تھا۔‏ لیکن اِن چیخوں کو سُن کر مجھے پتہ چلا کہ گاڑی میں لوگ زندہ ہیں۔‏“‏

اُنہوں نے گاڑی کی دوسری طرف جا کر دیکھا تو وہاں ایک نیم بےہوش شخص پڑا تھا۔‏ سیرژ اُسے گاڑی سے دُور لے گئے۔‏ وہ بتاتے ہیں:‏ ”‏اُس شخص نے مجھے بتایا کہ گاڑی میں دو اَور لوگ ہیں۔‏ اُس وقت تک کچھ اَور گاڑیاں بھی مدد کے لیے رُک گئی تھیں لیکن آگ کی شدت کی وجہ سے کوئی بھی حادثے والی جگہ کے قریب نہیں جا سکا۔‏“‏

کئی ٹرکوں کے ڈرائیور آگ بجھانے والا آلہ لے کر آئے اور سیرژ کے کہنے پر آگ بجھانے لگے۔‏ اِس سے کچھ دیر کے لیے شعلے تھم گئے۔‏ ڈرائیور گاڑی کے نیچے پھنسا ہوا تھا۔‏ لہٰذا سیرژ اور دوسرے لوگوں نے گاڑی اُٹھائی اور ڈرائیور کو کھینچ کر باہر نکالا۔‏

سیرژ بتاتے ہیں:‏ ”‏ایک دم گاڑی میں دوبارہ شعلے بھڑک اُٹھے۔‏“‏ لیکن ابھی بھی گاڑی میں ایک شخص سیٹ بیلٹ سے اُلٹا لٹک رہا تھا۔‏ اُس لمحے ایک اَور شخص وہاں آ پہنچا جو آگ بجھانے والے عملے میں کام کرتا تھا۔‏ سیرژ کہتے ہیں:‏ ”‏مَیں نے اُس سے کہا کہ گاڑی کسی بھی پَل دھماکے سے اُڑ سکتی ہے۔‏ لہٰذا ہم نے گاڑی میں پھنسے شخص کو بازو سے کھینچ کر نکال لیا۔‏“‏ ایک منٹ کے اندر اندر گاڑی دھماکے سے اُڑ گئی۔‏

جب آگ بجھانے والا عملہ اور ایمبولینس وہاں پہنچے تو اُنہوں نے زخمیوں کو اپنی نگرانی میں لے لیا۔‏ سیرژ کے ہاتھ تھوڑے جل گئے تھے اور اُنہیں کچھ چوٹیں بھی آئی تھیں۔‏ اِس لیے اُن کے زخموں پر پٹی باندھی گئی۔‏ جب سیرژ اپنی بس کی طرف واپس جا رہے تھے تو کچھ آدمی دوڑتے ہوئے اُن کے پاس آئے اور اُن کا شکریہ ادا کِیا۔‏

سیرژ کو اِس بات کی خوشی ہے کہ وہ اُن لوگوں کی مدد کر پائے۔‏ وہ کہتے ہیں:‏ ”‏یہوواہ خدا کے خادم کے طور پر مَیں نے اُن لوگوں کی جان بچانا اپنا فرض سمجھا۔‏ اِس بات سے مجھے بہت اِطمینان ملتا ہے۔‏“‏