مواد فوراً دِکھائیں

2014ء کے سالانہ اِجلاس کی رپورٹ

بادشاہت کی 100 سالہ تاریخ

2014ء کے سالانہ اِجلاس کی رپورٹ

4 اکتوبر 2014ء کو واچ ٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف پینسلوانیا کا 130واں سالانہ اِجلاس منعقد ہوا جس پر تقریباً 19 ہزار لوگ آئے۔‏ اِس اِجلاس کا پروگرام امریکہ کے شہر جرسی سٹی میں پیش کِیا گیا اور ویڈیو لنک کے ذریعے کچھ دوسری جگہوں پر بھی نشر کِیا گیا۔‏

یہوواہ کے گواہوں کی گورننگ باڈی کے رُکن مارک سینڈرسن نے اِس اِجلاس کی میزبانی کی۔‏ اُنہوں نے پروگرام کے آغاز میں اِس بات پر زور دیا کہ یہ اِجلاس بہت خاص ہے کیونکہ اِس سال مسیح کی بادشاہت کو قائم ہوئے 100 سال ہو گئے ہیں۔‏

بھائی سینڈرسن نے اِس بات پر روشنی ڈالی کہ اِن 100 سال کے دوران مسیح کی بادشاہت نے تین اہم کام انجام دیے ہیں:‏

  • دُنیا بھر میں خوش خبری کی مُنادی۔‏ یہوواہ کے بندوں نے اُس کی بادشاہت کی خوش خبری سنانے کے لیے بہت محنت کی اور یہوواہ خدا نے اُن کی کوششوں میں برکت ڈالی۔‏ 1914ء میں صرف کچھ ہزار لوگ خوش خبری سنا رہے تھے لیکن 2014ء میں اُن کی تعداد 80 لاکھ سے زیادہ ہو گئی۔‏ جب تک یہوواہ خدا ہمیں مُنادی کے کام کو بند کرنے کا حکم نہیں دیتا تب تک ہم دل و جان سے اِسے کرتے رہیں گے۔‏

  • اپنی رعایا کی حفاظت۔‏ مذہبی اور سیاسی رہنماؤں نے یہوواہ کے گواہوں کی سخت مخالفت کی یہاں تک کہ اُن کا نام و نشان مٹانے کی کوشش بھی کی۔‏ لیکن یہوواہ خدا نے اِجتمائی طور پر اپنے بندوں کی حفاظت کی۔‏ اِس کا ثبوت ہمیں اُن فیصلوں سے ملتا ہے جو امریکہ کی عدالتِ عظمیٰ اور اِنسانی حقوق کی یورپی عدالت میں یہوواہ کے گواہوں کے حق میں سنائے گئے۔‏

  • طرح طرح کے لوگوں میں اِتحاد۔‏ خدا کی بادشاہت نے ایسے لوگوں کو متحد کِیا جو فرق فرق پس منظروں اور قوموں سے تعلق رکھتے ہیں اور مختلف زبانیں بولتے ہیں۔‏ اِس بادشاہت نے اُنہیں طرح طرح کی مشکلوں سے نپٹنے کے قابل بنایا اور اب وہ مل کر خدا کی عبادت کر رہے ہیں۔‏ بھائی سینڈرسن نے کہا کہ ”‏یہ واقعی ایک معجزہ ہے جسے صرف یہوواہ خدا ہی انجام دے سکتا ہے۔‏“‏ اُنہوں نے دوبارہ سے اِس بات پر زور دیا کہ اِس خاص اِجلاس پر حاضر ہونا ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔‏

سلسلہ وار ویڈیوز یہوواہ کے دوست بنیں۔‏

سالانہ اِجلاس کے پروگرام کا اگلا حصہ اِن سلسلہ وار ویڈیوز کے بارے میں تھا۔‏ پہلے تو بھائی سینڈرسن نے بچوں کے اِنٹرویوز کی ایک ویڈیو دِکھائی جس میں مختلف ملکوں کے بچوں نے بتایا کہ اُنہیں یہ سلسلہ وار ویڈیوز کتنی اچھی لگتی ہیں۔‏ تمام حاضرین بچوں کی معصوم اور سادہ باتوں کو سُن کر بہت خوش ہوئے۔‏

اِس کے بعد اِن سلسلہ وار ویڈیوز کی ایک نئی ویڈیو دِکھائی گئی جس کا عنوان ہے:‏ ”‏یہوواہ آپ کو ہمت دے گا۔‏‏“‏ یہ ویڈیو 12 منٹ کی ہے اور اِس میں اُس اِسرائیلی لڑکی کے بارے میں بتایا گیا ہے جس نے بڑی دلیری سے نعمان کی بیوی سے یہوواہ خدا کے متعلق بات کی۔‏ (‏2-‏سلاطین 5:‏1-‏14‏)‏ یہ ویڈیو سوموار،‏ 6 اکتوبر 2014ء کو ہماری ویب سائٹ پر پوسٹ کی گئی۔‏ اب یہ 20 سے زیادہ زبانوں میں دستیاب ہے۔‏

زبان سیکھنے کے لیے ایک ایپ۔‏

اِس کے بعد بھائی سینڈرسن نے ایک نئی ایپ کا اِعلان کِیا جس کے ذریعے یہوواہ کے گواہ کوئی دوسری زبان سیکھ کر اِس میں خوش خبری سنا سکتے ہیں۔‏ اِس ایپ میں 18 زبانوں میں 4000 لفظ اور جملے موجود ہیں۔‏ مستقبل میں اِس میں مزید ایسے الفاظ،‏ جملے اور سہولتیں ڈالی جائیں گی جو مُنادی کے کام میں فائدہ مند ثابت ہوں گی۔‏

یہوواہ کے گواہوں کا آن لائن ٹی وی چینل۔‏

جب بھائی سینڈرسن نے اِعلان کِیا کہ یہوواہ کے گواہ اِنٹرنیٹ پر ایک نیا چینل شروع کر رہے ہیں تو حاضرین بہت خوش ہوئے۔‏ اِس چینل کا سٹوڈیو ہمارے مرکزی دفتر میں ہے۔‏ یہ چینل فی الحال صرف انگریزی زبان میں دستیاب ہے اور اِس پر ہماری ویڈیوز،‏ موسیقی اور پاک کلام کی ڈرامائی ریکارڈنگز پیش کی جاتی ہیں۔‏ اِس کے علاوہ اِس پر ہر مہینے ایک خاص پروگرام پیش کِیا جاتا ہے جس کی میزبانی گورننگ باڈی یا اِس کی کمیٹیوں کے ایک رُکن کرتے ہیں۔‏

بھائی سینڈرسن نے اِس سلسلے کے سب سے پہلے پروگرام کی ایک ویڈیو بھی دِکھائی جس کے میزبان گورننگ باڈی کے رُکن سٹیون لیٹ تھے۔‏ اِس ویڈیو میں دِکھایا گیا کہ اِس چینل کا سٹوڈیو بنانے کے لیے کیا کچھ کِیا گیا۔‏ یہ چینل 6 اکتوبر 2014ء کو شروع ہوا اور اِسے ویب سائٹ tv.jw.org پر دیکھا جا سکتا ہے۔‏

‏”‏بادشاہت کی 100 سالہ تاریخ۔‏“‏

گورننگ باڈی کے رُکن سموئیل ہرڈ نے اِس ویڈیو کی میزبانی کی۔‏ اِس ویڈیو میں دِکھایا گیا ہے کہ خدا کی بادشاہت نے ہماری مدد کیسے کی تاکہ ہم مُنادی کے کام کو زیادہ مؤثر طریقے سے انجام دے سکیں۔‏ اِس میں تاریخی تصویریں،‏ مناظر اور ایسے یہوواہ کے گواہوں کے اِنٹرویو ہیں جو بہت عرصے سے یہوواہ خدا کی خدمت کر رہے ہیں۔‏ اِس میں بتایا گیا ہے کہ ”‏فوٹو ڈرامہ آف کریئیشن“‏ کیسے تیار کِیا گیا اور کتنے لوگ اِسے دیکھنے آئے۔‏ اِس کے علاوہ اِس میں دِکھایا گیا ہے کہ مُنادی کے کام کو پھیلانے کے لیے لوگوں کو تقریروں کی ریکارڈنگز سنوائی جاتی تھیں،‏ ایسے کارڈز دِکھائے جاتے تھے جن پر ایک مختصر پیغام لکھا ہوتا تھا اور بڑے بڑے پلےکارڈ اُٹھا کر مارچ کی جاتی تھی۔‏ اِس میں اُن مختلف سکولوں کے متعلق بھی بتایا گیا ہے جن میں مُنادی کے کام کے لیے تربیت دی جاتی ہے۔‏

ہمیں اِس بات پر غور کرنے سے کیا فائدہ ہوتا ہے کہ 100 سال کے دوران بادشاہت نے کیا کچھ انجام دیا ہے؟‏ خدا کی بادشاہت پر ہمارا ایمان اَور مضبوط ہوتا ہے اور ہمارے دل میں یہ دیکھنے کی خواہش بڑھتی ہے کہ یہ بادشاہت مستقبل میں اَور کیا کچھ کرے گی۔‏

عبادت کے لیے گیت۔‏

جب یہوواہ کے گواہوں کی گورننگ باڈی کے رُکن ڈیوڈ سپلین نے حاضرین کو یہ بتایا کہ مستقبل میں ہماری گیتوں کی کتاب پر نظرثانی کی جائے گی تو وہ بہت خوش ہوئے۔‏ اُنہوں نے کہا کہ اِس کتاب کا رنگ اور کوالٹی بالکل نیو ورلڈ ٹرانسلیشن جیسی ہوگی۔‏ اِس پر اِتنا خرچہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ موسیقی ہماری عبادت میں بہت اہم مقام رکھتی ہے۔‏

بھائی سپلین نے یہ بھی بتایا کہ گیتوں کی کتاب میں کچھ نئے گیت بھی شامل کیے جائیں گے۔‏ لیکن ہمیں اِن گیتوں کو اِستعمال کرنے کے لیے گیتوں کی نئی کتاب کا اِنتظار نہیں کرنا پڑے گا بلکہ جیسے جیسے یہ گیت تیار ہوتے جائیں گے،‏ اِنہیں ہماری ویب سائٹ پر پوسٹ کِیا جائے گا۔‏

اِس اِجلاس پر نئے گیتوں میں سے تین گیت گائے گئے جن کی بیت ایل کے ارکان نے پہلے سے مشق کی تھی۔‏ سب سے پہلے جو گیت گایا گیا،‏ اُس کا عنوان تھا:‏ ”‏بادشاہت قائم ہو گئی ہے—‏دُعا ہے کہ وہ آئے۔‏‏“‏ یہ گیت خاص طور پر بادشاہت کے 100 سال مکمل ہونے کی وجہ سے لکھا گیا۔‏ بھائی سپلین نے اِس گیت کو گانے میں بہن بھائیوں کے ایک گروپ کی پیشوائی کی۔‏ اِس کے بعد حاضرین نے بھی اُن کے ساتھ مل کر یہ گیت گایا۔‏ پروگرام کے دوران اُن سب نے ایک اَور نیا گیت بھی گایا جس کا عنوان تھا:‏ ”‏ہمیں دلیری عطا کر۔‏‏“‏

اِنٹرویو۔‏

اِس کے بعد ایک ویڈیو دِکھائی گئی جس میں گورننگ باڈی کے رُکن گیرٹ لوش نے تین ایسے جوڑوں کا اِنٹرویو لیا جو بہت سالوں سے بیت ایل میں خدمت کر رہے ہیں۔‏ اِن جوڑوں نے اپنے اِنٹرویو میں کئی ایسی تبدیلیوں کے متعلق بتایا جو اُنہوں نے اِن تمام سالوں کے دوران دیکھی ہیں اور جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا کی تنظیم آگے بڑھ رہی ہے۔‏ بھائی لوش نے اِس بات پر توجہ دِلائی کہ پاک کلام میں بتایا گیا ہے کہ خدا کی تنظیم میں بہتری آئے گی۔‏ (‏یسعیاہ 60:‏17‏)‏ پھر اُنہوں نے تمام حاضرین کو نصیحت کی کہ وہ یہوواہ کی تنظیم کے ساتھ آگے بڑھتے رہیں۔‏

‏”‏مشابہتیں۔‏“‏

اِس تقریر کو بھائی سپلین نے پیش کِیا۔‏ اِس میں بتایا گیا کہ آج کل ہماری کتابوں اور رسالوں میں ایسی مشابہتوں کا ذکر کم کیوں ہو گیا ہے جو بائبل میں درج اشخاص اور واقعات اور ہمارے زمانے کے اشخاص اور واقعات میں کی جاتی ہیں۔‏

کئی سال پہلے ہماری کتابوں اور رسالوں میں بتایا جاتا تھا کہ بہت سے ایسے خداپرست مرد اور عورتیں جن کا بائبل میں ذکر ہوا ہے،‏ ہمارے زمانے میں خداپرست گواہوں کے گروہوں کی طرف اِشارہ کرتے ہیں۔‏ اِس کے علاوہ بائبل کے کئی واقعات کے بارے میں بھی سمجھا جاتا تھا کہ یہ ہمارے زمانے کے کچھ واقعات کی طرف اِشارہ کرتے ہیں۔‏ بےشک اِس طرح کی مشابہتوں پر تحقیق اور سوچ بچار کرنا دلچسپ ہے۔‏ تو پھر ہماری حالیہ مطبوعات میں ایسی مشابہتوں کا ذکر کم کیوں ہو گیا ہے؟‏

جب پاک کلام میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ ایک شخص یا واقعہ کس کا عکس ہے تو ہم اِسے مانتے ہیں۔‏ لیکن اگر یہ واضح طور پر نہ بتایا گیا ہو کہ ایک شخص یا واقعہ کس کا عکس ہے تو ہمیں اِس میں کوئی مجازی معنی نہیں ڈھونڈنے چاہئیں۔‏ اگر ہم پاک کلام کی ہر بات میں مجازی معنی ڈھونڈیں گے تو ہم یہ نہیں دیکھ پائیں گے کہ اِس میں ہم سب کے لیے کون سا عملی سبق ہے،‏ چاہے ہم آسمان پر زندگی کی اُمید رکھتے ہوں یا زمین پر۔‏—‏رومیوں 15:‏4‏۔‏ *

‏”‏کیا آپ جاگتے رہیں گے؟‏“‏

اِس تقریر کو بھائی لیٹ نے پیش کِیا۔‏ اُنہوں نے بتایا کہ یسوع مسیح نے دس کنواریوں کی جو مثال دی،‏ اُس کے سلسلے میں ہماری سمجھ میں کون سی تبدیلیاں آئی ہیں۔‏ (‏متی 25:‏1-‏13‏)‏ اب ہم اِس مثال کو یوں سمجھتے ہیں:‏ دُلہا یسوع مسیح ہیں اور کنواریاں اُن کے ممسوح پیروکار ہیں۔‏ (‏لُوقا 5:‏34،‏ 35؛‏ 2-‏کُرنتھیوں 11:‏2‏)‏ یہ مثال آخری زمانے کے بارے میں ہے اور اِس کے اِختتام میں جو باتیں بتائی گئی ہیں،‏ وہ بڑی مصیبت کے دوران پوری ہوں گی۔‏ جب یسوع مسیح نے پانچ بےوقوف کنواریوں کا ذکر کِیا تو وہ یہ نہیں کہہ رہے تھے کہ بہت سے ممسوح مسیحی وفادار نہیں رہیں گے اور اُن کی جگہ کسی اَور کو مقرر کِیا جائے گا۔‏ اِس کی بجائے وہ یہ کہہ رہے تھے کہ اُن کے ممسوح پیروکاروں کو خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔‏ جس طرح دس کنواریوں کے ہاتھ میں تھا کہ وہ عقل مندی سے کام لیں گی یا بےوقوفی سے اُسی طرح یہ ہر ایک ممسوح مسیحی کے ہاتھ میں ہے کہ وہ چوکس اور وفادار رہے گا یا نہیں۔‏

چونکہ ہمیں ہر بات میں مجازی معنی نہیں ڈھونڈنے چاہئیں اِس لیے ہمیں اِس مثال کی چھوٹی چھوٹی تفصیلات میں نہیں اُلجھنا چاہیے۔‏ اِس کی بجائے ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ اِس مثال سے ہم کون سا عملی سبق سیکھ سکتے ہیں۔‏ ہم سیکھتے ہیں کہ چاہے ہم ممسوح مسیحیوں میں شامل ہوں یا ’‏اَور بھی بھیڑوں‘‏ میں،‏ ہم سب کی ذمےداری ہے کہ ہم اپنی روشنی چمکائیں اور جاگتے رہیں۔‏ (‏یوحنا 10:‏16؛‏ مرقس 13:‏37؛‏ متی 5:‏16‏)‏ اور ہم یہ ذمےداری کسی اَور کے کندھوں پر نہیں ڈال سکتے۔‏ ہم میں سے ہر ایک کو روحانی طور پر بیدار رہنا پڑے گا اور جوش سے مُنادی کا کام کرنا ہوگا تاکہ ہم ”‏زندگی کو اِختیار“‏ کر سکیں۔‏—‏اِستثنا 30:‏19‏۔‏

‏”‏توڑوں کی مثال۔‏“‏

یہ تقریر گورننگ باڈی کے رُکن انتھونی مورس نے پیش کی۔‏ اُنہوں نے بتایا کہ توڑوں کی مثال کے سلسلے میں ہماری سمجھ میں کچھ تبدیلیاں آئی ہیں۔‏ (‏متی 25:‏14-‏30‏)‏ اِس مثال میں مالک،‏ یسوع مسیح ہیں اور نوکر زمین پر موجود ممسوح مسیحی ہیں۔‏ مستقبل میں جب یسوع مسیح واپس آ کر اپنے نوکروں کو آسمان پر زندگی عطا کریں گے تو وہ اُن کو اِنعام دیں گے۔‏ جب یسوع مسیح نے ”‏شریر اور سُست نوکر“‏ کے بارے میں بات کی تو وہ یہ نہیں کہہ رہے تھے کہ اُن کے ممسوح پیروکاروں کی ایک بڑی تعداد بےوفا ہو جائے گی۔‏ اِس کی بجائے وہ اپنے ممسوح پیروکاروں کو آگاہ کر رہے تھے کہ شریر نوکر جیسی سوچ اور رویہ نہ اپنائیں بلکہ محنت سے کام کریں۔‏

اِس مثال سے ہم کون سے عملی سبق سیکھ سکتے ہیں؟‏ مثال میں مالک نے اپنے نوکروں کو قیمتی مال کی دیکھ بھال کرنے کی ذمےداری دی۔‏ اِسی طرح یسوع مسیح نے اپنے پیروکاروں کو ایک ایسی چیز سونپی ہے جو اُن کی نظر میں بہت ہی قیمتی ہے یعنی بادشاہت کی مُنادی کرنے اور شاگرد بنانے کی ذمےداری۔‏ وہ چاہتے ہیں کہ ہم سب دل وجان سے مُنادی کے کام میں حصہ لیں۔‏ بھائی مورس نے حاضرین کو داد دی کہ وہ جوش و خروش سے مُنادی کا کام کر رہے ہیں۔‏

‏”‏خدا کے بندوں پر حملہ کون کرے گا؟‏“‏

یہ اِجلاس کی آخری تقریر کا عنوان تھا جسے گورننگ باڈی کے رُکن جیفری جیکسن نے پیش کِیا۔‏ اِس تقریر میں اُنہوں نے اُس حملے کی وضاحت کی جو ماجوج کا جوج خدا کے بندوں پر کرے گا۔‏—‏حِزقی ایل 38:‏14-‏23۔‏

پہلے ہم سمجھتے تھے کہ جوج شیطان کا وہ نام ہے جو اُسے آسمان سے نکالے جانے کے بعد دیا گیا۔‏ لیکن بھائی جیکسن نے کہا کہ اِس وضاحت کے سلسلے میں کچھ سوال اُٹھتے ہیں۔‏ مثال کے طور پر یہوواہ خدا نے پیش گوئی کی کہ جب جوج کو شکست ہوگی تو وہ اُسے ’‏ہر قسم کے شکاری پرندوں اور میدان کے درندوں کو دے گا کہ اُسے کھا جائیں۔‏‘‏ (‏حِزقی ایل 39:‏4)‏ یہوواہ خدا نے یہ بھی کہا کہ جوج اور اُس کی فوج کو زمین میں دفن کِیا جائے گا۔‏ (‏حِزقی ایل 39:‏11)‏ لیکن ایک روحانی مخلوق کے ساتھ یہ سب کچھ کیسے ہو سکتا ہے؟‏ شیطان کو تو 1000 سال کے لیے اتھاہ گڑھے میں ڈالا جائے گا،‏ اُسے کھایا یا دفن نہیں کِیا جائے گا۔‏ (‏مکاشفہ 20:‏1،‏ 2‏)‏ اِس کے علاوہ 1000 سال کے بعد شیطان کو اتھاہ گڑھے سے نکالا جائے گا اور وہ ”‏اُن قوموں کو جو زمین کی چاروں طرف ہوں گی یعنی جوؔج وماؔجوج کو گمراہ کر کے لڑائی کے لئے جمع کرنے کو نکلے گا۔‏“‏ (‏مکاشفہ 20:‏7،‏ 8‏)‏ اِس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ شیطان جوج نہیں ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو گمراہ نہیں کر سکتا۔‏

بھائی جیکسن نے کہا کہ حِزقی ایل کی پیش گوئی میں ماجوج کا جوج شیطان کی طرف اِشارہ نہیں کرتا بلکہ اُن تمام قوموں کی طرف اِشارہ کرتا ہے جو متحد ہو کر خدا کے بندوں پر حملہ کریں گی۔‏ بائبل میں جوج کے حملے کے علاوہ ”‏شاہِ شمال“‏ اور ”‏زمین کے بادشاہوں“‏ کے حملوں کا بھی ذکر ملتا ہے۔‏ غالباً یہ سب حملے ایک ہی حملے کی طرف اِشارہ کرتے ہیں۔‏—‏دانی ایل 11:‏40،‏ 44،‏ 45؛‏ مکاشفہ 17:‏12-‏14؛‏ 19:‏19‏۔‏

لیکن ”‏شاہِ شمال“‏ کون ہے؟‏ فی الحال ہم اِس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔‏ مگر یہ دیکھ کر ہمارا ایمان مضبوط ہوتا ہے کہ جیسے جیسے خاتمہ قریب آ رہا ہے،‏ پاک کلام میں درج پیش گوئیوں کے بارے میں ہماری سمجھ بڑھتی جا رہی ہے۔‏ ہم اُس حملے سے نہیں ڈرتے جو خدا کے بندوں پر کِیا جائے گا کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جب ماجوج کا جوج ہم پر حملہ کرے گا تو اُسے شکست ہوگی اور اُس کا نام ونشان مٹا دیا جائے گا لیکن خدا کے بندے ہمیشہ تک زندہ رہیں گے۔‏ *

اِختتام۔‏

بھائی سینڈرسن نے اِعلان کِیا کہ نیو ورلڈ ٹرانسلیشن اب چھوٹے سائز میں بھی دستیاب ہے۔‏ اُنہوں نے یہ بھی بتایا کہ انگریزی زبان میں بائبل کی آڈیو ریکارڈنگز تیار کی جا رہی ہیں جن میں مختلف کرداروں کے لیے فرق فرق آوازیں اِستعمال کی جائیں گی۔‏ جیسے جیسے یہ ریکارڈنگز تیار ہوتی جائیں گی،‏ اِنہیں ہماری ویب سائٹ پر پوسٹ کِیا جائے گا۔‏ فی الحال متی کی کتاب کی ریکارڈنگ دستیاب ہے۔‏

بھائی سینڈرسن نے یہ بھی بتایا کہ سن 2015ء کی سالانہ آیت زبور 106:‏1 ہے جس میں لکھا ہے:‏ ”‏[‏یہوواہ]‏ کا شکر کرو کیونکہ وہ بھلا ہے۔‏“‏ اُنہوں نے تمام حاضرین سے کہا کہ وہ ہر دن اِس بات پر غور کریں کہ وہ کن باتوں کے لیے یہوواہ خدا کا شکر ادا کر سکتے ہیں۔‏

اِجلاس کے اِختتام پر تیسرا نیا گیت گایا گیا جس کا عنوان ہے:‏ ”‏یہوواہ تیرا نام ہے۔‏‏“‏ گورننگ باڈی کے ساتوں ارکان نے بھی پلیٹ فارم پر آ کر دوسرے بہن بھائیوں کے ساتھ مل کر یہ خوب صورت گیت گایا۔‏ یوں یہ خاص اِجلاس اپنے اِختتام کو پہنچا۔‏

^ پیراگراف 22 یہ تقریر اور اِس کے بعد والی دونوں تقریریں جن مضامین پر مبنی تھیں،‏ وہ مینارِنگہبانی 15 مارچ 2015ء میں شائع ہوئے۔‏

^ پیراگراف 30 یہ تقریر جس مضمون پر مبنی تھی،‏ وہ مینارِنگہبانی 15 مئی 2015ء میں شائع ہوا۔‏