مواد فوراً دِکھائیں

کیا یہوواہ کے گواہ اپنا علاج کرواتے ہیں؟‏

کیا یہوواہ کے گواہ اپنا علاج کرواتے ہیں؟‏

بےشک،‏ ہم اپنا علاج کرواتے ہیں اور دوائی بھی لیتے ہیں۔‏ اپنی صحت کا خیال رکھنے کے باوجود ہمیں بھی کبھی کبھار ڈاکٹر کے پاس جانا پڑتا ہے۔‏ (‏لُوقا 5:‏31‏)‏ کچھ یہوواہ کے گواہ تو خود بھی ڈاکٹر ہیں جیسے یسوع مسیح کے اِبتدائی شاگرد لُوقا تھے۔‏—‏کُلسّیوں 4:‏14‏۔‏

لیکن اگر علاج کا کوئی طریقۂ کار پاک کلام کے اصولوں کے خلاف ہے تو ہم اِسے قبول نہیں کرتے۔‏ مثال کے طور پر پاک کلام میں خون سے گریز کرنے کا حکم دیا گیا ہے اِس لیے ہم خون نہیں لگواتے۔‏ (‏اعمال 15:‏20‏)‏ اِس کے علاوہ پاک کلام میں ایسے علاج سے بھی منع کِیا گیا ہے جس میں جادوٹونا شامل ہو۔‏—‏گلتیوں 5:‏19-‏21‏۔‏

لیکن زیادہ تر علاج پاک کلام کے اصولوں کے خلاف نہیں ہیں۔‏ اِس لیے یہ ہر ایک کا ذاتی فیصلہ ہے کہ وہ کون سا علاج کروائے گا اور کون سا نہیں۔‏ کچھ یہوواہ کے گواہ ایک علاج کو قبول کرتے ہیں جبکہ کچھ اُسی علاج کو قبول نہیں کرتے۔‏—‏گلتیوں 6:‏5‏۔‏