مواد فوراً دِکھائیں

کیا یہوواہ کے گواہ دہ یکی لیتے ہیں؟‏

کیا یہوواہ کے گواہ دہ یکی لیتے ہیں؟‏

نہیں،‏ ہم دہ یکی نہیں لیتے بلکہ ہماری تبلیغی سرگرمیوں کے اخراجات اُن عطیات سے پورے ہوتے ہیں جو رضاکارانہ طور پر دیے جاتے ہیں۔‏ لیکن دہ یکی کیا ہوتی ہے اور یہوواہ کے گواہ دہ یکی کیوں نہیں لیتے؟‏

دہ یکی مال کے دسویں حصے کو کہتے ہیں جو خدا کی راہ میں دیا جاتا ہے۔‏ دہ یکی دینے کا حکم موسیٰ کی شریعت میں تھا اور یہ حکم بنی اِسرائیل کو دیا گیا تھا۔‏ لیکن کتابِ مُقدس کے مطابق مسیحی موسیٰ کی شریعت کے پابند نہیں ہیں۔‏ لہٰذا وہ دہ یکی دینے کے پابند بھی نہیں ہیں۔‏—‏عبرانیوں 7:‏5،‏ 18؛‏ کُلسّیوں 2:‏13،‏ 14‏۔‏

ہم اپنے ارکان سے دہ یکی یا چندہ نہیں لیتے۔‏ اِس کی بجائے ہم یسوع مسیح کے اِبتدائی پیروکاروں کی طرح اپنی تبلیغی سرگرمیوں کے اخراجات دو طریقوں سے پورے کرتے ہیں:‏ (‏1)‏ ہم سب تبلیغی کام بِلامعاوضہ کرتے ہیں۔‏ (‏2)‏ ہم سب رضاکارانہ طور پر عطیات دیتے ہیں۔‏

یوں ہم کتابِ مُقدس کی اِس ہدایت پر عمل کرتے ہیں:‏ ”‏جس قدر ہر ایک نے اپنے دل میں ٹھہرایا ہے اُسی قدر دے نہ دریغ کر کے اور نہ لاچاری سے کیونکہ خدا خوشی سے دینے والے کو عزیز رکھتا ہے۔‏“‏—‏2-‏کُرنتھیوں 9:‏7‏۔‏