مواد فوراً دِکھائیں

یہوواہ کے گواہ اپنی عبادت گاہ کو چرچ کیوں نہیں کہتے؟‏

یہوواہ کے گواہ اپنی عبادت گاہ کو چرچ کیوں نہیں کہتے؟‏

پاک کلام میں جس یونانی اِصطلاح کا ترجمہ کبھی کبھار ”‏چرچ“‏ کِیا گیا ہے،‏ وہ خدا کی عبادت کرنے والے لوگوں کے ایک گروہ کی طرف اِشارہ کرتا ہے نہ کہ اُس عمارت کی طرف جس میں وہ جمع ہوتے ہیں۔‏

ذرا اِس مثال پر غور کریں:‏ جب خدا کے ایک بندے پولُس نے روم کے مسیحیوں کے نام خط لکھا تو اُنہوں نے ایک جوڑے اکوِلہ اور پرِسکِلّہ کو سلام بھیجا اور یہ بھی کہا:‏ ”‏اُس چرچ کو بھی میرا سلام دیں جو اُن کے گھر میں جمع ہوتا ہے۔‏“‏ (‏رومیوں 16:‏5‏،‏ کونٹیمپرری اِنگلش ورشن‏)‏ پولُس کسی عمارت کو سلام دینے کی بات نہیں کر رہے تھے بلکہ وہ اُن لوگوں یا کلیسیا (‏یعنی جماعت)‏ کو سلام بھیج رہے تھے جو اُن کے گھر میں جمع ہوتے تھے۔‏ *

اِس لیے ہم اپنی عبادت گاہ کو چرچ نہیں کہتے بلکہ ”‏یہوواہ کے گواہوں کی عبادت گاہ“‏ کہتے ہیں۔‏

ہم اپنی عبادت گاہ کو ”‏یہوواہ کے گواہوں کی عبادت گاہ“‏ کیوں کہتے ہیں؟‏

اِس کی کئی وجوہات ہیں:‏

  • ہم یہوواہ خدا کی عبادت کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں جس نے بائبل کو لکھوایا ہے۔‏ اِس کے علاوہ اِس جگہ سے ہم یہوواہ خدا کے بارے میں گواہی یعنی شہادت دینا سیکھتے ہیں۔‏—‏زبور 83:‏18؛‏ یسعیاہ 43:‏12‏۔‏

  • ہم خدا کی بادشاہت کے بارے میں سیکھنے کے لیے بھی جمع ہوتے ہیں جس کے متعلق یسوع مسیح نے اکثر بات کی۔‏—‏متی 6:‏9،‏ 10؛‏ 24:‏14؛‏ لُوقا 4:‏43‏۔‏

آپ بھی ہماری عبادت گاہ میں آ کر یہ دیکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ کے گواہوں کے اِجلاس کیسے ہوتے ہیں۔‏

^ پیراگراف 3 اِس طرح کی اِصطلاحیں 1-‏کُرنتھیوں 16:‏19؛‏ کُلسّیوں 4:‏15 اور فلیمون 2 میں بھی اِستعمال ہوئی ہیں۔‏