مواد فوراً دِکھائیں

ڈیٹنگ کے حوالے سے یہوواہ کے گواہوں کا کیا نظریہ ہے؟‏

ڈیٹنگ کے حوالے سے یہوواہ کے گواہوں کا کیا نظریہ ہے؟‏

ڈیٹنگ کے حوالے سے یہوواہ کے گواہ اُن حکموں اور اصولوں پر عمل کرتے ہیں جو پاک کلام میں پائے جاتے ہیں۔‏ ہمارا ماننا ہے کہ اِن پر عمل کرنے سے ہم ایسے فیصلے کر پاتے ہیں جن سے خدا خوش ہوتا ہے اور ہمیں بھی فائدہ ہوتا ہے۔‏ (‏یسعیاہ 48:‏17،‏ 18‏)‏ ہم نے یہ حکم اور اصول خود نہیں بنائے لیکن ہم اِن کے مطابق زندگی گزارنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔‏ دیکھیں کہ اِن میں سے کچھ حکموں اور اصولوں کا ڈیٹنگ سے کیا تعلق ہے۔‏ *

  • شادی عمر بھر کا بندھن ہے۔‏ (‏متی 19:‏6‏)‏ ہم سمجھتے ہیں کہ ڈیٹنگ شادی کے لیے اُٹھایا جانے والا ایک قدم ہے اِس لیے ہم اِسے سنجیدہ معاملہ خیال کرتے ہیں۔‏

  • ڈیٹنگ صرف اُن لوگوں کو کرنی چاہیے جن کی عمر شادی کے لائق ہو چُکی ہے۔‏ یہ ایسے لوگ ہیں جو ’‏اُس عمر سے گزر چُکے ہیں‘‏ جب جوانی کی خواہشیں یعنی جنسی خواہشیں زوروں پر ہوتی ہیں۔‏—‏1-‏کُرنتھیوں 7:‏36‏۔‏

  • ڈیٹنگ صرف اُن لوگوں کو کرنی چاہیے جو شادی کرنے کے لیے آزاد ہوں۔‏ لازمی نہیں کہ جو لوگ قانونی لحاظ سے طلاق یافتہ ہیں،‏ وہ خدا کی طرف سے دوبارہ شادی کرنے کے لیے آزاد ہوں کیونکہ خدا کی نظر میں طلاق صرف اُس صورت میں جائز ہے جب شوہر یا بیوی میں سے کوئی حرام کاری کرے۔‏—‏متی 19:‏9‏۔‏

  • جو مسیحی شادی کرنا چاہتے ہیں،‏ اُنہیں پاک کلام میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ صرف اپنے ہم ایمانوں سے شادی کریں۔‏ (‏1-‏کُرنتھیوں 7:‏39‏)‏ یہوواہ کے گواہ سمجھتے ہیں کہ ہم ایمانوں سے مُراد محض ایسے لوگ نہیں ہیں جو اُن کے عقیدوں کا احترام کرتے ہیں بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو اُن جیسے عقیدے رکھتے ہیں اور بپتسمہ یافتہ گواہوں کے طور پر اِن عقیدوں کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔‏ (‏2-‏کُرنتھیوں 6:‏14‏)‏ خدا نے ہمیشہ اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ صرف اپنے ہم ایمانوں سے شادی کریں۔‏ (‏پیدایش 24:‏3؛‏ ملاکی 2:‏11‏)‏ اِس حکم پر عمل کرنا بہت فائدہ مند ہے۔‏ اور یہ بات جدید تحقیق سے بھی ثابت ہوئی ہے۔‏ *

  • بچوں کو اپنے ماں باپ کی فرمانبرداری کرنی چاہیے۔‏ (‏امثال 1:‏8؛‏ کُلسّیوں 3:‏20‏)‏ جو بچے اپنے ماں باپ کے ساتھ رہتے ہیں،‏ اُنہیں ڈیٹنگ کے حوالے سے بھی اُن کی فرمانبرداری کرنی چاہیے۔‏ ہو سکتا ہے کہ ماں باپ یہ طے کریں کہ بچہ کس عمر میں ڈیٹنگ کر سکتا ہے اور اِس دوران اُسے کون کون سے کام کرنے کی اِجازت ہوگی۔‏

  • یہوواہ کے گواہ پاک کلام کے مطابق خود یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ وہ ڈیٹنگ کریں گے یا نہیں اور اگر کریں گے تو کس سے کریں گے۔‏ یہ بات پاک کلام کے اِس اصول کے مطابق ہے:‏ ”‏ہر کوئی اپنی ذمےداری کا بوجھ اُٹھائے گا۔‏“‏ (‏گلتیوں 6:‏5‏)‏ لیکن پھر بھی بہت سے یہوواہ کے گواہ ڈیٹنگ کرنے کے سلسلے میں ایسے پُختہ یہوواہ کے گواہوں سے مشورہ لیتے ہیں جو دل سے اُن کا بھلا چاہتے ہیں۔‏—‏امثال 1:‏5‏۔‏

  • لوگ ڈیٹنگ کرتے ہوئے بہت سے ایسے کام کرتے ہیں جو اصل میں سنگین گُناہ ہیں۔‏ مثال کے طور پر پاک کلام میں حرام کاری سے دُور رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔‏ حرام کاری میں محض جنسی تعلق قائم کرنا شامل نہیں ہے۔‏ اِس میں ایسے لوگوں کے درمیان کی جانے والی ناپاک حرکتیں بھی شامل ہیں جن کی آپس میں شادی نہیں ہوئی،‏ مثلاً دوسرے شخص کے جنسی اعضا کی چھیڑچھاڑ،‏ اورل سیکس (‏مُنہ کے ذریعے جنسی فعل)‏ اور اینل سیکس (‏مقعد یعنی پاخانہ کرنے کی جگہ کے ذریعے جنسی عمل)‏۔‏ (‏1-‏کُرنتھیوں 6:‏9-‏11‏)‏ خدا کی نظر میں ایسی حرکتیں بھی ’‏ناپاک‘‏ ہیں جن کے ذریعے شادی سے پہلے دوسرے شخص میں اِس حد تک جنسی خواہش بھڑکائی جائے کہ بس جنسی تعلقات قائم کرنے کی کسر رہ جائے۔‏ (‏گلتیوں 5:‏19-‏21‏)‏ پاک کلام میں فحش اور ”‏بےہودہ باتیں“‏ کرنے سے بھی سختی سے منع کِیا گیا ہے۔‏—‏کُلسّیوں 3:‏8‏۔‏

  • اِنسان کا دل دھوکےباز ہے۔‏ (‏یرمیاہ 17:‏9‏)‏ یہ ایک شخص کو ایسے کام کرنے پر اُکسا سکتا ہے جو وہ جانتا ہے کہ غلط ہیں۔‏ ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے ڈیٹنگ کرنے والے جوڑے ایسی جگہوں پر اکیلے ہونے سے گریز کر سکتے ہیں جہاں اُن کا دل اُنہیں کچھ غلط کرنے پر اُکسا سکتا ہے۔‏ اِس کے علاوہ وہ سمجھ دار لوگوں کے گروپ میں اِکٹھے وقت گزار سکتے ہیں یا پھر کسی شخص کی موجودگی میں مل سکتے ہیں۔‏ (‏امثال 28:‏26‏)‏ جو مسیحی شادی کرنا چاہتے ہیں،‏ وہ جانتے ہیں کہ آن لائن ڈیٹنگ سائٹس خطرناک ہو سکتی ہیں۔‏ ایک بہت بڑا خطرہ یہ ہے کہ اِن کے ذریعے وہ ایک ایسے شخص کے قریب جا سکتے ہیں جس کے بارے میں وہ بہت کم جانتے ہیں۔‏

^ پیراگراف 2 کچھ ثقافتوں میں ڈیٹنگ کرنے کا رواج ہے لیکن کچھ میں نہیں۔‏ پاک کلام میں یہ نہیں کہا گیا کہ ہمیں ڈیٹنگ کرنی چاہیے یا ڈیٹنگ کیے بغیر شادی نہیں ہو سکتی۔‏

^ پیراگراف 6 مثال کے طور پر ایک رسالے میں بتایا گیا کہ ”‏لمبے عرصے تک چلنے والی شادیوں پر کی گئی تین تحقیقوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اُن لوگوں کی شادیاں زیادہ عرصے تک (‏25 سے 50 یا اِس بھی زیادہ سال تک)‏ قائم رہتی ہیں جن کا مذہب اور عقیدے ایک جیسے ہوتے ہیں۔‏“‏‏—‏میرج اینڈ فیملی ریویو،‏ جِلد 38،‏ شمارہ 1،‏ صفحہ 88 (‏2005ء)‏