مواد فوراً دِکھائیں

یہوواہ کے گواہ سیاست میں حصہ کیوں نہیں لیتے؟‏

یہوواہ کے گواہ سیاست میں حصہ کیوں نہیں لیتے؟‏

یہوواہ کے گواہ پاک کلام میں درج وجوہات کی بِنا پر سیاست میں حصہ نہیں لیتے۔‏ ہم کسی سیاسی پارٹی کی حمایت نہیں کرتے،‏ ہم کسی سیاسی رہنما کے لیے ووٹ نہیں ڈالتے،‏ ہم الیکشن میں کھڑے نہیں ہوتے اور ہم حکومت کے خلاف کوئی تحریک نہیں چلاتے۔‏ ہم اِن وجوہات کی بِنا پر سیاست میں حصہ نہیں لیتے:‏

  • ہم یسوع مسیح کی مثال پر عمل کرتے ہیں جنہوں نے سیاسی عہدہ قبول نہیں کِیا تھا۔‏ (‏یوحنا 6:‏15‏)‏ اُنہوں نے اپنے شاگردوں کے بارے میں کہا:‏ ”‏جس طرح مَیں دُنیا کا نہیں وہ بھی دُنیا کے نہیں۔‏“‏ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُن کے شاگردوں کو سیاسی معاملوں میں کسی کی حمایت نہیں کرنی چاہیے۔‏—‏یوحنا 17:‏14،‏ 16؛‏ 18:‏36؛‏ مرقس 12:‏13-‏17‏۔‏

  • ہم خدا کی بادشاہت کی حمایت کرتے ہیں جس کے بارے میں یسوع مسیح نے کہا تھا:‏ ”‏بادشاہی کی اِس خوش خبری کی مُنادی تمام دُنیا میں ہوگی۔‏“‏ (‏متی 24:‏14‏)‏ چونکہ ہم خدا کی بادشاہت کے سفیر ہیں اور اِس کا اِعلان کرتے ہیں اِس لیے ہم کسی بھی ملک کے سیاسی معاملوں میں حصہ نہیں لیتے۔‏—‏2-‏کُرنتھیوں 5:‏20؛‏ اِفسیوں 6:‏20‏۔‏

  • سیاست میں حصہ نہ لینے کی وجہ سے ہم کُھل کر سب لوگوں کو خدا کی بادشاہت کی خوش خبری سنا سکتے ہیں،‏ چاہے وہ کسی بھی سیاسی پارٹی کی حمایت کرتے ہوں۔‏ ہم اپنی باتوں اور کاموں سے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمیں پورا بھروسا ہے کہ صرف خدا کی بادشاہت ہی اِنسانوں کے مسئلوں کو حل کرے گی‏۔‏—‏زبور 56:‏11‏۔‏

  • چونکہ ہم کسی سیاسی جماعت کی حمایت نہیں کرتے اِس لیے ہم میں کوئی اِختلاف نہیں پایا جاتا اور ہم ایک عالم گیر برادری کے طور پر متحد ہیں۔‏ (‏کُلسّیوں 3:‏14؛‏ 1-‏پطرس 2:‏17‏)‏ لیکن جو مذہبی فرقے سیاست میں شامل ہوتے ہیں،‏ اُن میں اِختلافات پائے جاتے ہیں۔‏—‏1-‏کُرنتھیوں 1:‏10‏۔‏

ہم حکومتوں کا احترام کرتے ہیں۔‏ اگرچہ ہم سیاست میں حصہ نہیں لیتے پھر بھی ہم حکومتوں کا احترام کرتے ہیں۔‏ پاک کلام میں لکھا ہے:‏ ”‏ہر شخص اعلےٰ حکومتوں کا تابع دار رہے۔‏“‏ (‏رومیوں 13:‏1‏)‏ ہم قانون کی پابندی کرتے ہیں،‏ ٹیکس ادا کرتے ہیں اور حکومت کی اُن کوششوں کی حمایت کرتے ہیں جو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کی جاتی ہیں۔‏ ہم حکومت کے خلاف تحریکیں نہیں چلاتے بلکہ پاک کلام کی ہدایت کے مطابق ”‏بادشاہوں اور سب بڑے مرتبہ والوں“‏ کے لیے دُعا کرتے ہیں،‏ خاص طور پر اُس صورت میں جب وہ مذہبی آزادی کے حوالے سے فیصلے کرتے ہیں۔‏—‏1-‏تیمُتھیُس 2:‏1،‏ 2‏۔‏

ہم اِس بات کا احترام کرتے ہیں کہ ہر شخص کو سیاسی معاملوں کے سلسلے میں خود فیصلہ کرنے کا حق ہے۔‏ مثال کے طور پر جو لوگ ووٹ ڈالنا چاہتے ہیں،‏ ہم اُنہیں منع نہیں کرتے اور ہم الیکشن میں کوئی رُکاوٹ نہیں ڈالتے۔‏

کیا سیاست میں حصہ نہ لینا کوئی نئی بات ہے؟‏ جی نہیں۔‏ یسوع مسیح کے اِبتدائی پیروکاروں نے بھی سیاست میں حصہ نہیں لیا تھا۔‏ ایک کتاب میں جو سیاست میں مسیحیوں کے کردار کے بارے میں ہے،‏ لکھا ہے:‏ ”‏حالانکہ اِبتدائی مسیحی مانتے تھے کہ حکومت کا احترام کرنا اُن کا فرض ہے لیکن وہ یہ نہیں مانتے تھے اُنہیں سیاسی معاملوں میں حصہ لینا چاہیے۔‏“‏ ایک اَور کتاب میں جو تاریخ کے بارے میں ہے،‏ لکھا ہے کہ اِبتدائی مسیحی ”‏سیاسی عہدوں پر فائز نہیں ہوتے تھے۔‏“‏

کیا سیاست میں حصہ نہ لینے کی وجہ سے ہم ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں؟‏ جی نہیں۔‏ ہم پُرامن شہری ہیں اِس لیے حکومتوں کو ہم سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔‏ 2001ء میں ایک اکیڈمی (‏نیشنل اکیڈمی آف سائنسز آف یوکرین)‏ نے ایک رپورٹ شائع کی جس میں لکھا تھا:‏ ”‏آج کل کچھ لوگ اِس بات کو پسند نہیں کرتے کہ یہوواہ کے گواہ سیاست میں حصہ نہیں لیتے۔‏ اِسی وجہ سے نازی اور کیمونسٹ حکومتوں کے تحت یہوواہ کے گواہوں پر مُقدمے چلائے گئے۔‏ .‏.‏.‏ سوویت یونین کی کیمونسٹ حکومت کے تحت سخت حالات میں بھی یہوواہ کے گواہوں نے .‏.‏.‏ قانون کی پابندی کی۔‏ اُنہوں نے اُن کھیتوں اور کارخانوں میں بڑی محنت اور ایمان داری سے کام کِیا جو کیمونسٹ حکومت کی نگرانی میں تھے اور وہ کسی بھی لحاظ سے حکومت کے لیے خطرہ نہیں تھے۔‏“‏ رپورٹ کے آخر میں لکھا تھا کہ آج کل بھی یہوواہ کے گواہ ”‏کسی ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔‏“‏