مواد فوراً دِکھائیں

یہوواہ کے گواہ جنازے کے سلسلے میں کیا نظریہ رکھتے ہیں؟‏

یہوواہ کے گواہ جنازے کے سلسلے میں کیا نظریہ رکھتے ہیں؟‏

جنازے کے سلسلے میں ہمارے نظریات خدا کے کلام کی تعلیمات پر مبنی ہیں۔‏ اِن میں سے کچھ کا ذکر نیچے کِیا گیا ہے۔‏

  • کسی عزیز کی موت پر ماتم کرنا فطری بات ہے۔‏ یسوع مسیح کے اِبتدائی پیروکاروں نے اپنے عزیزوں کی موت پر ماتم کِیا۔‏ (‏یوحنا 11:‏33-‏35،‏ 38؛‏ اعمال 8:‏2؛‏ 9:‏39‏)‏ لہٰذا ہم جنازے کو کھانے پینے اور مل بیٹھنے کا موقع خیال نہیں کرتے۔‏ (‏واعظ 3:‏1،‏ 4؛‏ 7:‏1-‏4‏)‏ اِس کی بجائے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جنازہ دوسروں سے ہمدردی کرنے کا موقع ہوتا ہے۔‏—‏رومیوں 12:‏15‏۔‏

  • مُردے بالکل بےخبر ہیں۔‏ چاہے ہمارا تعلق کسی بھی نسل یا ثقافت سے ہو،‏ ہم کوئی بھی ایسی رسم یا رواج نہیں مناتے جو پاک کلام کی اِس تعلیم کے خلاف ہے کہ مُردے بالکل بےخبر ہیں اور وہ نہ تو ہمیں فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی نقصان۔‏ (‏واعظ 9:‏5،‏ 6،‏ 10‏)‏ اِن رسموں میں جنازے اور برسیوں پر بڑی بڑی تقریبات کرنا،‏ مُردوں کے لیے دُعائیں کرنا اور نذرانے چڑھانا،‏ اُن سے دُعائیں کرنا اور اُن سے رابطہ کرنے کی کوشش کرنا شامل ہیں۔‏ ہم اِن تمام رسموں اور کاموں سے دُور رہتے ہیں۔‏ اِس طرح ہم پاک کلام میں درج اِس حکم پر عمل کرتے ہیں:‏ ”‏اُن میں سے نکل آؤ اور ... ناپاک چیز کو مت چُھوؤ۔‏“‏—‏2-‏کُرنتھیوں 6:‏17‏۔‏

  • مُردوں کو زندہ کِیا جائے گا۔‏ پاک کلام میں بتایا گیا ہے کہ ایک وقت آئے گا جب مُردوں کو زندہ کِیا جائے گا اور موت کو ختم کر دیا جائے گا۔‏ (‏اعمال 24:‏15؛‏ مکاشفہ 21:‏4‏)‏ پاک کلام کے اِس وعدے کی وجہ سے ہم حد سے زیادہ ماتم نہیں کرتے،‏ بالکل ویسے ہی جیسے یسوع مسیح کے اِبتدائی پیروکار حد سے زیادہ ماتم نہیں کرتے تھے۔‏—‏1-‏تھسلُنیکیوں 4:‏13‏۔‏

  • پاک کلام میں خاکسار بننے کی نصیحت کی گئی ہے۔‏ ‏(‏امثال 11:‏2‏)‏ ہمارا ماننا ہے کہ جنازے کی تقریب یہ ظاہر کرنے کا موقع نہیں ہوتی کہ ایک شخص کے پاس کتنا پیسہ ہے یا معاشرے میں اُس کا کتنا مقام ہے۔‏ (‏1-‏یوحنا 2:‏16‏)‏ ہم جنازے کی ایسی بڑی بڑی تقریبات نہیں کرتے جن کا مقصد صرف تفریح کرنا ہو،‏ جن میں مہنگے مہنگے تابوتوں کی نمائش کی جائے اور جن میں لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے ایسا لباس پہنا جائے جو موقعے کی مناسبت سے نہ ہو۔‏

  • ہم دوسروں کو مجبور نہیں کرتے کہ وہ جنازے کے سلسلے میں ہمارے نظریات کو مانیں۔‏ اِس حوالے سے ہم پاک کلام کے اِس اصول پر عمل کرتے ہیں:‏ ”‏ہم سب کو خدا کے سامنے حساب دینا پڑے گا۔‏“‏ (‏رومیوں 14:‏12‏)‏ البتہ اگر کوئی شخص ہمارے نظریات کے بارے میں جاننا چاہے تو ہم اُسے ’‏نرم مزاجی اور گہرے احترام‘‏ سے اِن کے بارے میں بتاتے ہیں۔‏—‏1-‏پطرس 3:‏15‏۔‏

یہوواہ کے گواہ جنازہ کیسے کرتے ہیں؟‏

جگہ:‏ اگر کوئی خاندان جنازے کی تقریب منعقد کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اِسے اُسی جگہ منعقد کِیا جاتا ہے جہاں وہ خاندان چاہتا ہے جیسے کہ یہوواہ کے گواہوں کی عبادت گاہ میں،‏ گھر پر یا قبرستان میں۔‏

تقریب:‏ سوگواروں کو تسلی دینے کے لیے ایک تقریر کی جاتی ہے جس میں بتایا جاتا ہے کہ پاک کلام میں موت کے بارے میں کیا تعلیم دی گئی ہے اور مُردوں کو کیسے زندہ کِیا جائے گا۔‏ (‏یوحنا 11:‏25؛‏ رومیوں 5:‏12؛‏ 2-‏پطرس 3:‏13‏)‏ جنازے کی تقریب میں شاید مرنے والے شخص کی خوبیوں کا ذکر کِیا جائے اور یہ بتایا جائے کہ دوسرے لوگ اُس کی مثال سے کیا سیکھ سکتے ہیں۔‏—‏2-‏سموئیل 1:‏17-‏27‏۔‏

ہو سکتا ہے کہ پاک کلام پر مبنی ایک گیت بھی گایا جائے۔‏ (‏کُلسّیوں 3:‏16‏)‏ تقریب کے آخر میں سوگواروں کو تسلی دینے کے لیے دُعا کی جاتی ہے۔‏—‏فِلپّیوں 4:‏6،‏ 7‏۔‏

فیس یا چندہ:‏ ہم اپنے ارکان سے کسی قسم کی مذہبی خدمات کی فیس نہیں لیتے جن میں جنازہ بھی شامل ہے۔‏ اِس کے علاوہ ہم اپنے اِجلاسوں پر چندہ بھی نہیں لیتے۔‏—‏متی 10:‏8‏۔‏

حاضرین:‏ اگر جنازے کی تقریب یہوواہ کے گواہوں کی عبادت گاہ میں ہو رہی ہے تو اِس میں وہ لوگ بھی آ سکتے ہیں جو یہوواہ کے گواہ نہیں ہیں۔‏ ہمارے اِجلاسوں کی طرح جنازے کی تقریب میں بھی ہر کوئی آ سکتا ہے۔‏

کیا یہوواہ کے گواہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کے جنازے پر بھی جاتے ہیں؟‏

اِس سلسلے میں ہر یہوواہ کا گواہ اپنے ضمیر کی روشنی میں فیصلہ کرتا ہے جس کی تربیت اُس نے پاک کلام کے اصولوں کے مطابق کی ہے۔‏ (‏1-‏تیمُتھیُس 1:‏19‏)‏ لیکن ہم ایسی مذہبی تقریبات میں نہیں جاتے جن کے بارے میں ہمیں لگتا ہے کہ وہ پاک کلام کے اصولوں کے مطابق نہیں ہیں۔‏—‏2-‏کُرنتھیوں 6:‏14-‏17‏۔‏