مواد فوراً دِکھائیں

اگر ایک شخص یہوواہ کے گواہوں کی تنظیم کا رُکن نہیں رہنا چاہتا تو کیا وہ اِس سے تعلق توڑ سکتا ہے؟‏

اگر ایک شخص یہوواہ کے گواہوں کی تنظیم کا رُکن نہیں رہنا چاہتا تو کیا وہ اِس سے تعلق توڑ سکتا ہے؟‏

جی ہاں۔‏ ایک شخص دو طریقوں سے ہماری تنظیم سے تعلق ختم کر سکتا ہے۔‏

  • باضابطہ درخواست کے ذریعے۔‏ ایک شخص زبانی یا لکھ کر یہ بتا سکتا ہے کہ اب وہ یہوواہ کا گواہ نہیں رہنا چاہتا۔‏

  • کاموں کے ذریعے۔‏ ایک شخص کوئی ایسا کام کر سکتا ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ وہ ہماری تنظیم کا حصہ نہیں رہنا چاہتا۔‏ (‏1-‏پطرس 5:‏9‏)‏ مثال کے طور پر شاید وہ کوئی دوسرا مذہب اِختیار کرے اور یہ واضح کرے کہ اب وہ اُسی مذہب کا حصہ رہنا چاہتا ہے۔‏—‏1-‏یوحنا 2:‏19‏۔‏

اگر کوئی شخص آپ کے ساتھ مل کر عبادت کرنا یا تبلیغ کرنا چھوڑ دے تو کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ آپ کی تنظیم کا رُکن نہیں رہا؟‏

جی نہیں۔‏ تنظیم سے تعلق توڑنے اور ایمان کمزور ہونے میں فرق ہے۔‏ جو لوگ کچھ عرصے کے لیے ہمارے ساتھ مل کر عبادت کرنا یا تبلیغ کرنا بند کر دیتے ہیں،‏ اکثر وہ اِس وجہ سے ایسا نہیں کرتے کہ اُنہوں نے اپنے ایمان کو چھوڑ دیا ہے بلکہ اِس وجہ سے کہ وہ بےحوصلہ ہو گئے ہیں۔‏ ایسے لوگوں سے کنارہ کرنے کی بجائے ہم اُن کا حوصلہ بڑھانے اور اُن کی مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‏ (‏1-‏تھسلُنیکیوں 5:‏14؛‏ یہوداہ 22‏)‏ اگر وہ شخص چاہے تو کلیسیا (‏یعنی جماعت)‏ کے بزرگ اُس کی مدد کر سکتے ہیں تاکہ اُس کا ایمان مضبوط ہو جائے۔‏—‏گلتیوں 6:‏1؛‏ 1-‏پطرس 5:‏1-‏3‏۔‏

لیکن بزرگوں کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی شخص کو یہوواہ کا گواہ رہنے پر مجبور کریں۔‏ ہر شخص کو خود یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کون سا مذہب اِختیار کرے گا۔‏ (‏یشوع 24:‏15‏)‏ ہمارا ماننا ہے کہ جو لوگ خدا کی عبادت کرتے ہیں،‏ اُنہیں دل کی خوشی سے ایسا کرنا چاہیے۔‏—‏زبور 110:‏3؛‏ متی 22:‏37‏۔‏