مواد فوراً دِکھائیں

یہوواہ کے گواہ بین المذاہبی کو کیسا خیال کرتے ہیں؟‏

یہوواہ کے گواہ دوسروں سے مذہبی عقیدوں کے بارے میں بات چیت کرتے ہیں لیکن وہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ مل کر عبادت نہیں کرتے۔‏ پاک کلام میں بتایا گیا ہے کہ مسیح کے سچے پیروکار ”‏متحد“‏ ہیں اور اُن کے اِتحاد کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اُن کے عقیدے ایک جیسے ہیں۔‏ (‏1-‏کُرنتھیوں 1:‏10؛‏ اِفسیوں 4:‏16؛‏ فِلپّیوں 2:‏2‏)‏ اِس اِتحاد میں محبت،‏ ہمدردی اور معافی جیسی خوبیوں کی اہمیت پر متفق ہونے کے علاوہ بھی بہت کچھ شامل ہے۔‏ ہمارے عقیدوں کی بنیاد پاک کلام کا صحیح علم ہے جس کے بغیر ہمارا ایمان بےکار ہے۔‏—‏رومیوں 10:‏2،‏ 3‏۔‏

پاک کلام میں بتایا گیا ہے کہ غیر ایمان والوں کے ساتھ مل کر عبادت کرنا ایک ایسے جُوئے میں جت جانے کے برابر ہے جس میں ”‏جوڑی برابر نہیں ہوتی۔‏“‏ (‏2-‏کُرنتھیوں 6:‏14-‏17‏)‏ اِس کے نتیجے میں ایک مسیحی کا ایمان تباہ ہو سکتا ہے۔‏ لہٰذا یسوع مسیح نے اپنے پیروکاروں کو بین المذاہبی کی حمایت کرنے کی اِجازت نہیں دی۔‏ (‏متی 12:‏30؛‏ یوحنا 14:‏6‏)‏ اِسی طرح خدا نے موسیٰ نبی کے ذریعے بنی اِسرائیل کو اِردگِرد کی قوموں کے ساتھ مل کر عبادت کرنے سے منع کِیا تھا۔‏ (‏خروج 34:‏11-‏14‏)‏ بعد میں خدا کے وفادار رہنے والے اِسرائیلیوں نے دوسری قوموں کی طرف سے مدد کی پیشکش کو بھی رد کر دیا کیونکہ اِس طرح وہ دوسرے مذاہب کے لوگوں سے مذہبی اِلحاق کر رہے ہوتے۔‏—‏عزرا 4:‏1-‏3‏۔‏

کیا یہوواہ کے گواہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ مذہب کے بارے میں بات چیت کرتے ہیں؟‏

جی ہاں۔‏ 2015ء میں یہوواہ کے گواہوں نے دوسرے مذاہب کے لوگوں سے بات چیت کرنے میں 1 ارب 93 کروڑ 34 لاکھ 73 ہزار 727 گھنٹے صرف کیے۔‏ پولُس رسول کی طرح ہم بھی تبلیغ کرتے وقت ”‏زیادہ سے زیادہ لوگوں“‏ کے نظریات اور عقیدوں کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔‏ (‏1-‏کُرنتھیوں 9:‏19-‏22‏)‏ دوسروں سے بات چیت کرتے وقت ہم پاک کلام کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے اُن کے لیے ”‏گہرا احترام ظاہر“‏ کرتے ہیں۔‏—‏1-‏پطرس 3:‏15‏۔‏