مواد فوراً دِکھائیں

کیا یہ خالق کی کاریگری ہے؟‏

ڈالفن میں ماحول کا جائزہ لینے کی حیرت‌انگیز صلاحیت

ڈالفن میں ماحول کا جائزہ لینے کی حیرت‌انگیز صلاحیت

ڈالفن فرق فرق قسم کی سیٹی جیسی آوازیں نکالتی ہے اور پھر جب یہ آوازیں کسی سطح سے ٹکرا کر واپس آتی ہیں تو وہ اِنہیں سُن کر اپنے اِردگِرد کے ماحول کا جائزہ لیتی ہے اور راستہ تلاش کرتی ہے۔‏ بوتل جیسی ناک والی ڈالفن کی اِس صلاحیت کو دیکھ کر سائنس‌دان ایسے آلات ایجاد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو زیرِآب اِستعمال کیے جا سکیں اور جن سے اُن مسئلوں کو حل کِیا جا سکے جنہیں موجودہ آلات کی مدد سے حل نہیں کِیا جا سکا۔‏

غور کریں:‏ ڈالفن اپنی آواز سے پیدا ہونے والی لہروں کو جس طرح سے اِستعمال کرتی ہے،‏ وہ واقعی حیران‌کُن ہے۔‏ اِس کی مدد سے وہ سمندر کی تہہ میں چھپی مچھلیوں کو تلاش کر سکتی ہے اور مچھلی اور چٹان میں فرق کر سکتی ہے۔‏ سکاٹ‌لینڈ کی ایک یونیورسٹی کے پروفیسر کیتھ براؤن نے بتایا کہ ”‏ڈالفن 10 میٹر (‏8.‏32 فٹ)‏ کے فاصلے سے بھی یہ جان سکتی ہے کہ فلاں کنٹینر میں میٹھا پانی ہے،‏ کھارا پانی ہے،‏ شربت ہے یا تیل ہے۔‏“‏ سائنس‌دان ایسے آلات بنانا چاہتے ہیں جنہیں وہ کچھ اِسی طرح کے مقاصد کے لیے اِستعمال کر سکیں۔‏

ڈالفن 10 میٹر کے فاصلے سے بھی یہ جان سکتی ہے کہ فلاں کنٹینر میں کیا ہے۔‏

سائنس‌دانوں نے ڈالفن کی اِس صلاحیت کا مشاہدہ کِیا ہے جس میں وہ آوازیں نکال کے اور پھر اِن کی گُونج سُن کے اِردگِرد کے ماحول کا جائزہ لیتی ہے۔‏ پھر اُنہوں نے ڈالفن کی اِس صلاحیت کی نقل پر ایک آلہ بنایا ہے۔‏ یہ آلہ 1 میٹر (‏3.‏3 فٹ)‏ سے بھی چھوٹا اور سلنڈر کی شکل کا ہے اور اِس میں بہت ہی پیچیدہ پُرزے لگائے گئے ہیں۔‏ اِس آلے کو پانی کے اندر ایک آبدوزنما گاڑی سے جوڑا جاتا ہے اور پھر اِس کی مدد سے سمندر کے فرش کا مشاہدہ کِیا جاتا ہے،‏ سمندر کی تہہ میں غرق چیزوں،‏ مثلاً تاروں اور پائپ لائنوں کو تلاش کِیا جاتا ہے اور اِنہیں چُھوئے بغیر اِن کا جائزہ لیا جاتا ہے۔‏ اِس آلے کو بنانے والے سائنس‌دانوں کے مطابق اِسے تیل اور گیس کی صنعت میں اِستعمال کِیا جا سکتا ہے۔‏ ڈالفن کی صلاحیت کی نقل پر بنائے گئے اِس آلے کے ذریعے بہت سی ایسی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں جو موجودہ آلات سے نہیں مل سکتیں۔‏ اِن معلومات کی مدد سے انجینئر زیرِآب اِستعمال ہونے والے سازوسامان کو سمندر میں صحیح جگہ رکھ سکتے ہیں اور جب اِن میں کوئی خرابی ہو جائے تو وہ اِسے بھی دریافت کر سکتے ہیں،‏ مثلاً جب تیل نکالنے والی مشینوں کے زیرِآب حصوں میں کوئی گڑبڑ ہو جائے یا جب سمندر کے اندر موجود پائپ لائنیں بند ہو جائیں۔‏

آپ کا کیا خیال ہے؟‏ کیا بوتل جیسی ناک والی ڈالفن میں اپنی آواز کے ذریعے ماحول کا جائزہ لینے کی صلاحیت خودبخود وجود میں آئی ہے؟‏ یا کیا یہ خالق کی کاریگری ہے؟‏