نوجوانوں کا سوال

مَیں اپنے ٹیچر کے ساتھ اچھی طرح سے کیسے پیش آ سکتا ہوں؟‏

مَیں اپنے ٹیچر کے ساتھ اچھی طرح سے کیسے پیش آ سکتا ہوں؟‏

 بُرے ٹیچر کا ڈر

 تقریباً ہر طالبِ‌علم کو کبھی نہ کبھی کوئی ایسا ٹیچر ملتا ہے جو اُس کے ساتھ بُری طرح پیش آتا ہے اور نااِنصافی کرتا ہے۔‏

  •   لوئس جو 21 سال کی ہیں، کہتی ہیں:‏ ”‏میری ایک ٹیچر تھیں جو طالبِ‌علموں کے ساتھ بات کرتے ہوئے بہت بُرے الفاظ اِستعمال کرتی تھیں اور اُن کی بے‌عزتی کرتی تھیں۔ وہ جلد ہی ریٹائر ہونے والی تھیں اِس لیے اُنہیں اِس بات کا ڈر نہیں تھا کہ اُنہیں اِس وجہ سے نوکری سے نکال دیا جائے گا۔“‏

  •   میلانی جو 25 سال کی ہیں، بتاتی ہیں کہ ”‏مجھے یاد ہے کہ میری ایک ٹیچر دوسرے بچوں سے زیادہ میرے ساتھ بُرا سلوک کرتی تھیں۔ وہ ایسا اِس لیے کرتی تھیں کیونکہ مَیں کسی مشہور مذہب کا حصہ نہیں تھی۔ وہ مجھ سے کہتی تھیں کہ مجھے اِس سب کی عادت ڈال لینی چاہیے کیونکہ میرے ساتھ ہمیشہ ایسے ہی ہوگا۔“‏

 اگر آپ کا بھی کوئی ٹیچر آپ کے ساتھ ایسا سلوک کرتا ہے تو آپ نیچے دیے گئے مشوروں پر عمل کر سکتے ہیں تاکہ آپ حد سے زیادہ پریشان نہ ہوں اور اِن مسئلوں کا سامنا کر سکیں۔‏

 مسئلوں سے نمٹنے کے طریقے

  •   خود کو صورتحال کے مطابق ڈھالیں۔‏ ہر ٹیچر کی اپنے طالبِ‌علموں سے فرق فرق توقعات ہوتی ہیں۔ یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ آپ کا ٹیچر آپ سے کیا چاہتا ہے اور پھر وہ کام کرنے کی پوری کوشش کریں۔‏

     پاک کلام کا اصول:‏ ”‏دانش‌مند شخص سنتا ہے اور اَور زیادہ سیکھتا ہے۔“‏—‏اَمثال 1:‏5‏۔‏

     ‏”‏مجھے احساس ہوا کہ مجھے اپنی ٹیچر کی توقعات کو جاننے کی ضرورت ہے۔‏ اِس لیے مَیں اپنا کام ویسے ہی کرنے کی پوری کوشش کرتا تھا جیسا وہ مجھ سے چاہتی تھیں۔‏ اِس طرح میرے لیے اُن کی بات ماننا آسان ہو گیا۔“‏—‏کرسٹوفر۔‏

  •   اُن کی عزت کریں‏۔ اپنے ٹیچرز کے ساتھ عزت سے بات کریں اور بحث نہ کریں۔ ایسا اُس وقت بھی جب وہ آپ کے ساتھ بُرا سلوک کرتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ وہ آپ کو اپنا طالبِ‌علم سمجھتے ہیں، دوست نہیں۔‏

     پاک کلام کا اصول:‏ ”‏آپ کی باتیں ہمیشہ دلکش اور نمک کی طرح ذائقے‌دار ہوں تاکہ آپ کو پتہ ہو کہ لوگوں کو کس طرح جواب دینا ہے۔“‏—‏کُلسّیوں 4:‏6‏۔‏

     ‏”‏زیادہ‌تر طالبِ‌علم اپنے ٹیچرز کی عزت نہیں کرتے اِس لیے جب آپ اُن کے لیے عزت دِکھائیں گے تو اِس سے آپ کے ساتھ اُن کے رویے پر بھی بہت اثر پڑے گا۔“‏—‏سیارا۔‏

  •   اُنہیں سمجھنے کی کوشش کریں۔‏ آپ کے ٹیچرز بھی آپ کی طرح ہیں۔ اُنہیں بھی دباؤ اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اِس لیے فوراً یہ رائے قائم نہ کر لیں کہ ”‏میرا ٹیچر بہت بُرا ہے“‏ یا ”‏میرا ٹیچر مجھ سے نفرت کرتا ہے۔“‏

     پاک کلام کا اصول:‏ ”‏ہم سب .‏.‏.‏ غلطی کرتے ہیں۔“‏—‏یعقوب 3:‏2‏۔‏

     ‏”‏ٹیچرز کا کام بہت مشکل ہوتا ہے۔‏ مَیں تو اِتنے سارے بچوں کو سنبھالنے اور اُنہیں پڑھانے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔‏ اِس لیے مَیں ہمیشہ کوشش کرتی تھی کہ میری ٹیچر میری وجہ سے پریشان نہ ہوں۔“‏—‏الیکسِس۔‏

  •    اپنے امی ابو سے بات کریں۔‏ آپ کے امی ابو آپ کو سب سے اچھا مشورہ دے سکتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ آپ سکول میں اچھے سے پڑھائی کریں۔ اُن کے مشوروں پر عمل کرنے سے آپ اپنے ٹیچر کی طرف سے ہونے والی نااِنصافی کا سامنا کر پائیں گے۔‏

     پاک کلام کا اصول:‏ ”‏صلاح مشورہ نہ کرنے سے منصوبے ناکام ہو جاتے ہیں۔“‏—‏اَمثال 15:‏22‏۔‏

     ‏”‏ہمارے امی ابو اپنی زندگی میں بہت سی مشکلوں کا سامنا کرتے ہیں اور اُن کے پاس ہم سے زیادہ تجربہ ہوتا ہے۔‏ اِس لیے اُن کے مشوروں کو سننے اور اُن پر عمل کرنے سے ہمیں بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔“‏—‏اولیویا۔‏

 آپ اپنے ٹیچر سے کیسے بات کر سکتے ہیں؟‏

 ہو سکتا ہے کہ آپ کو اپنے ٹیچر کو بتانا پڑے کہ آپ کو کن مسئلوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اگر آپ کو ایسا کرنے سے ڈر لگ رہا ہے تو پریشان نہ ہوں۔ یاد رکھیں کہ آپ صرف بات‌چیت کرنا چاہتے ہیں، بحث نہیں۔ آپ یہ دیکھ کر حیران ہوں گے کہ ایسا کرنے سے آپ کے لیے چیزیں آسان ہو جائیں گی اور آپ کو فائدہ بھی ہوگا۔‏

 پاک کلام کا اصول:‏ ”‏ایسے کام کریں جن سے امن کو فروغ ملے۔“‏—‏رومیوں 14:‏19‏۔‏

 ‏”‏اگر آپ کا ٹیچر صرف آپ کے ساتھ اچھی طرح پیش نہیں آ رہا تو اُس سے پوچھیں کہ ‏”‏کیا مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہے؟“‏ ٹیچر کے جواب سے آپ یہ اندازہ لگا سکیں گے کہ آپ کو کہاں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔“‏—‏جولیانا۔‏

 ‏”‏یہ اچھا ہوگا کہ آپ اپنی کلاس سے پہلے یا بعد میں اپنے ٹیچر سے اکیلے میں بات کریں اور پُرسکون ماحول میں اُسے اُس مسئلے کے بارے میں بتائیں جس کا آپ سامنا کر رہے ہیں۔‏ یوں اِس بات کا زیادہ اِمکان ہوگا کہ آپ کا ٹیچر آپ کی بات کو سمجھے گا اور اِس بات سے خوش ہوگا کہ آپ نے معاملے کو کتنی سمجھ‌داری سے سلجھایا ہے۔“‏—‏بینجمن۔‏

 سچی کہانی

 ‏”‏میرے نمبر بہت کم آ رہے تھے اور میری ٹیچر میری بالکل بھی مدد نہیں کر رہی تھیں۔ مَیں سکول چھوڑنا چاہتی تھی کیونکہ اُنہوں نے میری زندگی بہت مشکل بنا دی تھی۔‏

 مَیں نے ایک اَور ٹیچر سے مشورہ لیا۔ اُنہوں نے مجھ سے کہا کہ ”‏آپ دونوں ہی ایک دوسرے کو اچھی طرح نہیں جانتیں۔ آپ کو اُن سے اِس بارے میں بات کرنی چاہیے۔ یوں آپ دوسرے بچوں کی بھی مدد کر پائیں گی جو اُن سے بات کرنے سے ڈرتے ہیں۔“‏

 مَیں اپنی ٹیچر سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن پھر مَیں نے اُس ٹیچر کے مشورے کے بارے میں سوچا اور مجھے احساس ہوا کہ وہ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ اگر مَیں صورتحال کو بدلنا چاہتی ہوں تو مجھے کوئی نہ کوئی قدم تو اُٹھانا ہی پڑے گا۔‏

 اگلے ہی دن مَیں اپنی ٹیچر سے ملی اور اُنہیں بہت احترام سے بتایا کہ مَیں آپ کی بہت قدر کرتی ہوں اور آپ سے اَور زیادہ سیکھنا چاہتی ہوں۔ لیکن مجھے کچھ مسئلوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ مَیں کیا کروں۔ اُنہوں نے مجھے کچھ مشورے دیے اور یہ بھی کہا کہ وہ کلاس کے بعد میری مدد کریں گی۔‏

 مَیں اِس بات‌چیت سے بہت حیران ہوئی۔ اُن سے بات کرنے کی وجہ سے مَیں اُن کے ساتھ اپنے رشتے کو بہتر کر پائی اور سکول میں میری زندگی آسان ہو گئی۔“‏—‏ماریہ۔‏

 مشورہ:‏ اگر آپ کو بھی اپنے کسی ٹیچر کے حوالے سے کسی مسئلے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو اِسے سیکھنے کا ایک موقع سمجھیں کیونکہ یہ بڑے ہو کر بھی آپ کے کام آئے گا۔ کے‌ٹی جن کی عمر 22 سال ہے، کہتی ہیں:‏ ”‏ہو سکتا ہے کہ سکول ختم ہونے کے بعد بھی آپ کا سامنا ایسے لوگوں سے ہو جن کے پاس اِختیار ہے اور جو آپ کے ساتھ اچھی طرح پیش نہ آئیں۔ اگر آپ ابھی سے ہی ایسے ٹیچرز کا سامنا کرنا سیکھ لیں گے جو آپ کے ساتھ بُرا سلوک کرتے ہیں تو آپ کے لیے مستقبل میں ایسے لوگوں کا سامنا کرنا آسان ہو جائے گا جو آپ کے ساتھ بُری طرح پیش آئیں گے۔ “‏