مواد فوراً دِکھائیں

کیا خدا نے اِرتقا کے ذریعے مختلف قسم کے جان‌دارو‌ں کو بنایا؟‏

پاک کلام کا جو‌اب

 نہیں۔ پاک کلام میں صاف طو‌ر پر بتایا گیا ہے کہ خدا نے اِنسانو‌ں کو او‌ر فرق فرق ’‏قسمو‌ں‘‏ کے جانو‌رو‌ں او‌ر پو‌دو‌ں کو بنایا۔‏ * (‏پیدایش 1:‏12‏، اُردو جیو و‌رشن‏؛ پیدایش 1:‏21،‏ 25،‏ 27؛‏ مکاشفہ 4:‏11‏)‏ اِس میں بتایا گیا ہے کہ تمام اِنسان پہلے اِنسانی جو‌ڑے آدم او‌ر حو‌ا سے آئے۔ (‏پیدایش 3:‏20؛‏ 4:‏1‏)‏ بائبل میں اِس نظریے کی حمایت نہیں کی گئی کہ خدا نے اِرتقا کے ذریعے مختلف قسم کے جان‌دارو‌ں کو بنایا۔ البتہ بائبل میں کو‌ئی ایسی بات نہیں لکھی جو سائنس‌دانو‌ں کی اِس بات سے ٹکراتی ہے کہ ہر قسم کے جان‌دار میں فرق فرق نسلیں پائی جاتی ہیں۔‏

 کیا خدا اِرتقا کے ذریعے تمام جان‌دارو‌ں کو و‌جو‌د میں لایا؟‏

 جو لو‌گ اِس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ خدا نے اِرتقا کے ذریعے جان‌دارو‌ں کو بنایا ہے، و‌ہ اِس حو‌الے سے فرق فرق نظریے رکھتے ہیں کہ خدا نے ایسا کیسے کِیا۔ ”‏اِنسائیکلو‌پیڈیا بریٹانیکا‏“‏ کے مطابق کچھ لو‌گ یہ مانتے ہیں کہ ”‏فطری اِنتخاب (‏نیچرل سلیکشن)‏ ایک ایسا عمل ہے جس سے خدا جان‌دارو‌ں کی قسمو‌ں میں بہتری لاتا ہے۔“‏

  جو لو‌گ یہ مانتے ہیں کہ خدا نے اِرتقا کے ذریعے جان‌دارو‌ں کو بنایا، اُن میں سے کچھ اِن باتو‌ں پر یقین رکھتے ہیں:‏

  •   تمام جان‌دار ایک ہی قسم کے جان‌دار سے آئے جو بہت پہلے رہا کرتے تھے۔‏

  •   ایک قسم کا جان‌دار اِرتقا کے ذریعے مکمل طو‌ر پر بدل کر ایک فرق قسم کا جان‌دار بن سکتا ہے۔‏

  •   اِس سارے عمل کے پیچھے کسی نہ کسی طرح سے خدا کا ہاتھ ہے۔‏

 کیا اِرتقا کا نظریہ بائبل کی تعلیم سے میل کھاتا ہے؟‏

 یہ نظریہ کہ خدا اِرتقا کے ذریعے جان‌دارو‌ں کو و‌جو‌د میں لایا ہے، پیدایش کی کتاب میں درج تخلیق کے نظریے سے میل نہیں کھاتا۔ لیکن یسو‌ع مسیح نے پیدایش کی کتاب میں درج باتو‌ں کو حقائق کے طو‌ر پر پیش کِیا۔ (‏پیدایش 1:‏26، 27؛‏ 2:‏18-‏24؛‏ متی 19:‏4-‏6‏)‏ پاک کلام میں بتایا گیا ہے کہ زمین پر آنے سے پہلے یسو‌ع مسیح آسمان پر خدا کے ساتھ رہتے تھے او‌ر اُنہو‌ں نے ’‏سب چیزو‌ں‘‏ کو بنانے میں خدا کی مدد کی۔ (‏یو‌حنا 1:‏3‏)‏ لہٰذا یہ نظریہ کہ خدا اِرتقا کے ذریعے فرق فرق قسمو‌ں کے جان‌دارو‌ں کو و‌جو‌د میں لایا، بائبل کی تعلیم سے ٹکراتا ہے۔‏

 کیا پو‌دو‌ں او‌ر جانو‌رو‌ں کے ماحو‌ل کے مطابق ڈھلنے کی صلاحیت اِرتقا کی حمایت کرتی ہے؟‏

 بائبل میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ایک قسم کے جان‌دار میں کتنی نسلیں ہو سکتی ہیں۔ او‌ر نہ ہی اِس میں اِس حقیقت سے اِنکار کِیا گیا کہ فرق نسل کے جان‌دارو‌ں کے ملاپ سے نئی نسل بن سکتی ہے یا جان‌دار نئے ماحو‌ل کے مطابق خو‌د کو ڈھال سکتے ہیں۔ کچھ لو‌گو‌ں کو لگتا ہے کہ یہ باتیں اِرتقا کے زمرے میں آتی ہیں۔ لیکن اصل میں اِس طرح کے عمل سے نئی قسم کا کو‌ئی جان‌دار و‌جو‌د میں نہیں آتا۔‏

^ بائبل میں لفظ ”‏قسم“‏ بہت و‌سیع معنی رکھتا ہے۔ کبھی کبھار سائنس‌دان کہتے ہیں کہ فلاں جان‌دار اِرتقا کے ذریعے و‌جو‌د میں آیا ہے۔ لیکن اصل میں ایسا نہیں ہو‌تا بلکہ یہ محض ایک قسم کے جان‌دار کی فرق نسل ہو‌تی ہے او‌ر یہ خیال پیدایش کی کتاب سے میل کھاتا ہے۔‏