مواد فوراً دِکھائیں

پاک کلام کی تعلیم زندگی سنوارتی ہے

‏”‏مَیں بہت گرم دماغ اور بدتمیز شخص تھا“‏

‏”‏مَیں بہت گرم دماغ اور بدتمیز شخص تھا“‏
  • پیدائش:‏ 1975ء 

  • پیدائش کا ملک:‏ میکسیکو 

  • ماضی میں پہچان:‏ غصیلا؛‏ پُرتشدد؛‏ جرائم پیشہ

میرا ماضی

مَیں میکسیکو کی ریاست چیاپاس کے ایک چھوٹے سے قصبے میں پیدا ہوا۔‏ میرے گھرانے کا تعلق چول قبیلے سے ہے۔‏ ہم بارہ بہن بھائی تھے اور مَیں پانچویں نمبر پر تھا۔‏ جب مَیں چھوٹا تھا تو مَیں اور میرے بہن بھائی یہوواہ کے گواہوں سے پاک کلام کا کورس کرتے تھے۔‏ لیکن افسوس کہ مَیں نے اُس وقت اُن باتوں پر عمل نہیں کِیا جو مَیں سیکھ رہا تھا۔‏

مَیں نے 13 سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے منشیات لینا اور چوریاں کرنا شروع کر دیا۔‏ مَیں نے اپنا گھر چھوڑ دیا اور دربدر پھرنے لگا۔‏ جب مَیں 16 سال کا ہوا تو مَیں ایک ایسی جگہ کام کرنے لگا جہاں چرس کاشت کی جاتی تھی۔‏ مجھے وہاں کام کرتے ہوئے تقریباً ایک سال ہو چُکا تھا۔‏ پھر ایک رات جب ہم کشتی کے ذریعے چرس کی ایک بڑی مقدار ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جا رہے تھے تو ایک مخالف منشیات فروش گینگ نے ہتھیاروں سے ہم پر حملہ کر دیا۔‏ مَیں نے گولیوں کی بوچھاڑ سے بچنے کے لیے دریا میں چھلانگ لگا دی اور پھر کافی دُور جا کر باہر نکلا۔‏ اِس کے بعد مَیں امریکہ بھاگ گیا۔‏

امریکہ میں بھی مَیں نے منشیات فروشی جاری رکھی اور مشکلات میں پھنستا چلا گیا۔‏ 19 سال کی عمر میں مجھے گِرفتار کر لیا گیا اور ڈکیتی اور کسی کو قتل کرنے کی کوشش کے اِلزام میں سزا سنائی گئی۔‏ جیل میں مَیں ایک گینگ کا رُکن بن گیا اور اَور پُرتشدد کاموں میں ملوث ہو گیا۔‏ اِس پر جیل کے حکام نے مجھے امریکہ کی ریاست پینسلوانیا کے علاقے لوئیسبرگ کی ایک ایسی جیل میں بھیج دیا جہاں سخت سیکیورٹی تھی۔‏

لوئیسبرگ کی جیل میں میرا چال چلن اَور بگڑ گیا۔‏ مَیں نے اپنے جسم پر اپنے گینگ کے ٹیٹوز بنوائے ہوئے تھے اِس لیے اِس جیل میں بھی مجھے اپنے گینگ کے لوگ مل گئے۔‏ مَیں اَور زیادہ پُرتشدد ہو گیا۔‏ مَیں ایک کے بعد ایک لڑائی مول لے لیتا تھا۔‏ ایک موقعے پر جیل کے احاطے میں ہماری ایک گینگ سے لڑائی ہو گئی۔‏ ہم وحشیوں کی طرح لڑے۔‏ ہم نے ایک دوسرے کو بیس بال کے بلّوں اور ورزش کے ڈمبلوں سے مارا۔‏ اِس لڑائی کو ختم کرانے کے لیے سپاہیوں کو آنسو گیس اِستعمال کرنی پڑی۔‏ اِس واقعے کے بعد جیل کے حکام نے مجھے جیل کے اُس حصے میں قید کر دیا جہاں خطرناک مُجرموں کو رکھا جاتا تھا۔‏ مَیں بہت گرم دماغ اور بدتمیز شخص تھا۔‏ میرے لیے لوگوں سے مارپیٹ کرنا معمولی سی بات تھی۔‏ سچ کہوں تو مجھے ایسا کرنے میں مزہ آتا تھا۔‏ اُس وقت مجھے اپنے رویے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہوتا تھا۔‏

پاک کلام کی تعلیم کا اثر

جیل کے اُس حصے میں مجھے زیادہ تر وقت کوٹھری میں بند رکھا جاتا تھا۔‏ اِس لیے مَیں نے وقت گزارنے کے لیے پاک کلام کو پڑھنا شروع کر دیا۔‏ بعد میں جیل کی ایک خاتون اہلکار نے مجھے کتاب ‏”‏آپ زمین پر فردوس میں ہمیشہ زندہ رہ سکتے ہیں“‏ * دی۔‏ اُس وقت یہوواہ کے گواہ لوگوں کو اُس کتاب کے ذریعے پاک کلام کا کورس کراتے تھے۔‏ جب مَیں نے اُس کتاب کو پڑھا تو مجھے بہت سی ایسی باتیں یاد آئیں جو مَیں نے بچپن میں اُس وقت سیکھی تھیں جب مَیں یہوواہ کے گواہوں سے پاک کلام کا کورس کرتا تھا۔‏ اِس کے بعد مَیں نے اِس بات پر سوچ بچار کی کہ میری پُرتشدد طبیعت کی وجہ سے میری زندگی کیا سے کیا ہو گئی تھی۔‏ مَیں نے اپنے گھر والوں کے بارے میں بھی سوچا۔‏ میری دو بہنیں یہوواہ کی گواہ بن چُکی تھیں اِس لیے میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ ”‏اُنہیں ہمیشہ تک زندہ رہنے کا شرف ملے گا۔‏“‏ پھر مَیں نے خود سے پوچھا کہ ”‏مَیں یہ شرف کیوں نہیں حاصل کر سکتا؟‏“‏ اُسی وقت مَیں نے اپنی زندگی کو بدلنے کا پکا اِرادہ کر لیا۔‏

لیکن مَیں جانتا تھا کہ مجھے اپنی زندگی بدلنے کے لیے کسی کی مدد کی ضرورت ہے۔‏ اِس لیے پہلے مَیں نے یہوواہ خدا سے دُعا کی کہ وہ میری مدد کرے۔‏ پھر مَیں نے امریکہ میں یہوواہ کے گواہوں کی برانچ کو خط لکھا اور درخواست کی کہ وہ میرے لیے پاک کلام کے کورس کا بندوبست کریں۔‏ برانچ نے ایک قریبی کلیسیا (‏یعنی جماعت)‏ کو مجھ سے رابطہ کرنے کو کہا۔‏ اُس وقت میرے گھر والوں کے علاوہ کسی کو مجھ سے ملنے کی اِجازت نہیں تھی۔‏ اِس لیے اُس کلیسیا سے یہوواہ کے ایک گواہ نے میرا حوصلہ بڑھانے کے لیے مجھے خط اور پاک کلام پر مبنی کتابیں اور رسالے بھیجنے شروع کیے جس سے میرے دل میں یہ خواہش اَور شدید ہو گئی کہ مَیں اپنی زندگی میں تبدیلیاں کروں۔‏

پھر مَیں نے ایک بڑا اہم قدم اُٹھایا۔‏ مَیں نے اُس گینگ کو چھوڑنے کا فیصلہ کِیا جس میں مَیں کئی سالوں سے تھا۔‏ گینگ کا سربراہ بھی اُسی جیل میں قید تھا۔‏ ایک دن مَیں اُس کے پاس گیا اور اُسے بتایا کہ مَیں یہوواہ کا گواہ بننا چاہتا ہوں۔‏ مجھے اُس وقت بہت حیرانی ہوئی جب اُس نے مجھ سے کہا:‏ ”‏اگر تُم واقعی ایسا کرنا چاہتے ہو تو ضرور کرو۔‏ مَیں تمہارے اور خدا کے بیچ نہیں آ سکتا۔‏ لیکن اگر تُم صرف گینگ کو چھوڑنے کے لیے ایسا کہہ رہے ہو تو تُم جانتے ہو کہ تمہارے ساتھ کیا ہو سکتا ہے۔‏“‏

اگلے دو سالوں میں جیل کے عملے نے دیکھا کہ مَیں نے اپنی شخصیت کو کتنا بدل لیا ہے۔‏ اِس لیے وہ مجھ سے تھوڑی نرمی برتنے لگے۔‏ مثال کے طور پر جب مجھے نہانے کے لیے کوٹھری سے باہر لے جایا جاتا تھا تو مجھے ہتھکڑی نہیں لگائی جاتی تھی۔‏ ایک سپاہی نے تو میرے پاس آ کر میرا حوصلہ بڑھایا اور کہا کہ مَیں اپنی زندگی میں تبدیلیاں کرتا رہوں۔‏ جیل میں میرے آخری سال میں جیل کے حکام نے مجھے ایک ایسی جگہ منتقل کر دیا جو مرکزی جیل کے قریب تھی اور جہاں سیکیورٹی اِتنی سخت نہیں تھی۔‏ دس سال جیل کاٹنے کے بعد 2004ء میں مجھے رِہا کر دیا گیا اور جیل کی بس میں میکسیکو واپس بھیج دیا گیا۔‏

میکسیکو پہنچنے کے بعد مَیں نے یہوواہ کے گواہوں کی عبادت گاہ ڈھونڈی۔‏ جب مَیں پہلی بار اُن کے اِجلاس پر گیا تو مَیں نے قیدیوں والا یونیفارم پہنا ہوا تھا کیونکہ اُس وقت میرے سب سے اچھے کپڑے وہی تھے۔‏ میرے اِس حُلیے کے باوجود یہوواہ کے گواہ مجھ سے بڑے پیار سے ملے۔‏ اُن کے پیار اور محبت کو دیکھ کر مجھے محسوس ہوا کہ یہی سچے مسیحی ہیں۔‏ (‏یوحنا 13:‏35‏)‏ اُس اِجلاس پر کلیسیا کے بزرگوں (‏یعنی پیشواؤں)‏ نے میرے لیے پاک کلام کے کورس کا بندوبست کِیا۔‏ اِس کے ایک سال بعد یعنی 3 ستمبر 2005ء کو مَیں نے یہوواہ کے ایک گواہ کے طور پر بپتسمہ لے لیا۔‏

جنوری 2007ء میں مَیں نے کُل وقتی طور پر خدا کی خدمت شروع کر دی اور لوگوں کو پاک کلام کی تعلیم دینے میں ہر مہینے 70 گھنٹے صرف کرنے لگا۔‏ 2011ء میں مَیں نے غیرشادی شُدہ بھائیوں کے لئے سکول (‏جسے اب بادشاہت کے مُنادوں کے لیے سکول کہا جاتا ہے)‏ سے تربیت حاصل کی۔‏ اِس سکول سے تربیت پانے کی وجہ سے مجھے کلیسیا میں اپنی ذمےداریوں کو اچھی طرح نبھانے میں مدد ملی ہے۔‏

اب مَیں دوسروں کو صلح پسند بننے کی تعلیم دیتا ہوں۔‏

سن 2013ء میں میری شادی ہو گئی۔‏ میری بیوی کا نام پیلر ہے۔‏ وہ اکثر مذاق سے کہتی ہیں کہ اُنہیں اُن باتوں پر یقین نہیں آتا جو مَیں اپنے ماضی کے بارے میں بتاتا ہوں۔‏ مَیں کبھی اپنی پُرانی زندگی میں نہیں لوٹا۔‏ میرا اور میری بیوی کا ماننا ہے کہ آج مَیں جس طرح کا شخص ہوں،‏ اُس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاک کلام کی تعلیم میں کسی شخص کو مکمل طور پر بدلنے کی طاقت ہے۔‏—‏رومیوں 12:‏2‏۔‏

میری زندگی سنور گئی

مجھے لگتا ہے کہ لُوقا 19:‏10 میں درج یسوع مسیح کے الفاظ میرے لیے ہی ہیں۔‏ اُنہوں نے کہا کہ ’‏مَیں اُن لوگوں کو تلاش کرنے اور بچانے آیا ہوں جو بھٹک گئے ہیں۔‏‘‏ اب مجھے ایسا نہیں لگتا کہ مَیں بھٹکا ہوا ہوں اور نہ ہی مَیں لوگوں کو کسی طرح سے تکلیف پہنچاتا ہوں۔‏ پاک کلام کی وجہ سے مجھے زندگی میں ایک مقصد مل گیا ہے،‏ مَیں دوسروں کے ساتھ صلح صفائی سے رہنے کے قابل ہوا ہوں اور سب سے بڑھ کر مجھے اپنے خالق یہوواہ خدا کی قُربت حاصل ہو گئی ہے۔‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

^ پیراگراف 13 اِس کتاب کو یہوواہ کے گواہ شائع کرتے تھے لیکن اب یہ دستیاب نہیں ہے۔‏ اب وہ لوگوں کو پاک کلام کا کورس کرانے کے لیے عام طور پر کتاب ‏”‏پاک کلام کی تعلیم حاصل کریں‏“‏ اِستعمال کرتے ہیں۔‏