مواد فوراً دِکھائیں

پاک کلام کی تعلیم زندگی سنوارتی ہے

‏”‏آخرکار مَیں ابو سے محبت کرنے لگا!‏“‏

‏”‏آخرکار مَیں ابو سے محبت کرنے لگا!‏“‏
  • پیدائش:‏ 1954ء 

  • پیدائش کا ملک:‏ فلپائن 

  • ماضی:‏ ظالم باپ سے نفرت کرنے والا بیٹا 

میری سابقہ زندگی:‏

فلپائن کے شہر پاگسانجان کے قریب مشہور آبشاریں ہیں جہاں بہت سے سیاح اِن کا نظارہ کرنے کے لیے آتے ہیں۔‏ میرے ابو اِسی علاقے میں پلے بڑھے اور اُنہوں نے بڑی غربت بھری زندگی گزاری۔‏ حکومت،‏ پولیس اور ساتھی کارکنوں کو کرپشن میں ڈوبا دیکھ کر وہ بہت غصیلے اور تلخ‌مزاج بن گئے۔‏

میرے امی ابو کو ہم آٹھ بہن بھائیوں کو پالنے کے لیے سخت محنت کرنی پڑتی تھی۔‏ وہ پہاڑوں پر فصلوں کی دیکھ‌بھال کرنے کے لیے اکثر کافی عرصے تک وہاں رہتے تھے۔‏ اِس وجہ سے کبھی کبھی مجھے اور میرے بڑے بھائی کو خود اپنی دیکھ‌بھال کرنی پڑتی تھی اور اکثر ہم بھوکے پیٹ ہی سو جاتے تھے۔‏ بچپن میں ہمیں کھیلنے کا بہت کم موقع ملتا تھا۔‏ سات سال کی عمر سے ہی ہم سب بہن بھائیوں کو ناریل کے باغوں میں کام پر لگا دیا جاتا تھا اور ہمیں پہاڑی راستوں پر ناریل کی بھاری بوریاں اُٹھا کر لے جانے کو کہا جاتا تھا۔‏ اگر ہم زیادہ وزن اُٹھا کر چل نہیں پاتے تھے تو ہمیں اُن بوریوں کو گھسیٹ کر لے جانا پڑتا تھا۔‏

ہمارے ابو ہمیں بہت مارتے تھے لیکن خود مار کھانے سے ہمیں اِتنی تکلیف نہیں ہوتی تھی جتنی امی کو پٹتے دیکھ کر ہوتی تھی۔‏ ہم ابو کو روکنے کی کوشش کرتے لیکن ہم بےبس تھے۔‏ مَیں نے اور میرے بڑے بھائی نے فیصلہ کِیا کہ بڑے ہو کر ہم ابو کو مار ڈالیں گے۔‏ مَیں ایسے باپ کا ترسا ہوا تھا جو ہم سے پیار کرے!‏

ابو کے تشدد سے تنگ آ کر مَیں نے 14 سال کی عمر میں گھر چھوڑ دیا۔‏ کچھ عرصے کے لیے تو مَیں سڑکوں پر رہا اور چرس پینے لگا۔‏ آخرکار مَیں ایک مانجھی کے طور پر کام کرنے لگا اور سیاحوں کو کشتی میں آبشاروں تک لے جانے لگا۔‏

کچھ سال بعد مَیں شہر منیلا کی ایک یونیورسٹی میں پڑھنے لگا۔‏ لیکن چونکہ مجھے ہفتے اور اِتوار کو کام کرنے کے لیے واپس پاگسانجان جانا پڑتا تھا اِس لیے میرے پاس پڑھائی کے لیے کم ہی وقت ہوتا تھا۔‏ مجھے لگتا تھا کہ میری زندگی بہت کٹھن اور بےمقصد ہے اور اب تو چرس پینے سے بھی میری پریشانی دُور نہیں ہوتی تھی۔‏ اِس لیے مَیں کوکین اور ہیروئن اِستعمال کرنے لگا۔‏ منشیات لینے کے ساتھ ساتھ مَیں حرام‌کاری بھی کرنے لگا۔‏ مَیں ہر طرف بس غربت،‏ نااِنصافی اور تکلیفیں دیکھتا تھا۔‏ مجھے لگتا تھا کہ حکومت اِس سب کی ذمےدار ہے اِس لیے مَیں حکومت سے نفرت کرتا تھا۔‏ مَیں خدا سے پوچھتا تھا کہ ”‏زندگی ایسی کیوں ہے؟‏“‏ مَیں نے فرق فرق مذہبوں میں اِس سوال کا جواب حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن مایوسی کے سوا میرے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔‏ مَیں اپنی مایوسی پر قابو پانے کے لیے اَور زیادہ منشیات لینے لگا۔‏

سن 1972ء میں فلپائن کے طالبِ‌علموں نے حکومت کے خلاف ایک تحریک چلائی اور کئی احتجاج کیے۔‏ مَیں نے بھی اُن میں سے ایک احتجاج میں حصہ لیا لیکن اِس میں حصہ لینے والوں نے دنگے فساد کا سہارا لیا۔‏ اِس وجہ سے بہت سے لوگوں کو حراست میں لے لیا گیا اور کچھ مہینوں بعد پورے ملک میں مارشل لاء لگا دیا گیا۔‏

مَیں پھر سے سڑکوں پر آ گیا لیکن اِس بار فوج کے خوف سے اِس لیے کیونکہ مَیں نے بغاوت میں حصہ لیا تھا۔‏ اپنی منشیات کی لت کو پورا کرنے کے لیے مَیں چوری کرتا تھا۔‏ آخرکار مَیں امیر لوگوں اور غیرملکیوں کو اپنا جسم بیچنے لگا۔‏ مجھے اِس بات کی کوئی پرواہ نہیں تھی کہ مَیں جیٔوں یا مروں۔‏

اِسی دوران میری امی اور چھوٹے بھائی نے یہوواہ کے گواہوں کے ساتھ بائبل کورس کرنا شروع کر دیا۔‏ ابو کو یہ بات بالکل پسند نہیں تھی۔‏ وہ اُن پر بہت غصہ ہوتے تھے اور اُن کی بائبل پر مبنی کتابیں اور رسالے جلا دیتے تھے۔‏ لیکن اُن دونوں نے ہمت نہیں ہاری اور وقت گزرنے پر یہوواہ کے گواہوں کے طور پر بپتسمہ لے لیا۔‏

ایک دن ایک گواہ نے ابو کو بائبل سے بتایا کہ خدا کا وعدہ ہے کہ مستقبل میں زمین پر حقیقی اِنصاف قائم ہوگا۔‏ (‏زبور 72:‏12-‏14‏)‏ اِس بات سے ابو اِتنے متاثر ہوئے کہ اُنہوں نے خود بائبل سے اِس بارے میں تحقیق کرنے کا فیصلہ کیا۔‏ پاک کلام سے اُنہیں نہ صرف ایک اِنصاف‌پسند حکومت کی اُمید ملی بلکہ اُنہوں نے یہ بھی سیکھا کہ خدا ایک شوہر اور باپ سے کیا چاہتا ہے۔‏ (‏اِفسیوں 5:‏28؛‏ 6:‏4‏)‏ تھوڑے عرصے بعد ابو اور میرے باقی بہن بھائی گواہ بن گئے۔‏ چونکہ مَیں گھر سے دُور تھا اِس لیے مجھے اِس سب کے بارے میں کچھ پتہ نہیں تھا۔‏

پاک کلام کی تعلیم کا اثر:‏

سن 1978ء میں مَیں آسٹریلیا منتقل ہو گیا۔‏ لیکن اِس پُرامن اور خوش‌حال ملک میں بھی مجھے ذہنی سکون نہیں ملا۔‏ مَیں نے شراب پینے اور منشیات لینے کی عادت کو نہیں چھوڑا۔‏ اُسی سال مَیں یہوواہ کے گواہوں سے ملا۔‏ اُنہوں نے مجھے پاک کلام سے بتایا کہ زمین پر امن قائم ہوگا۔‏ اُن کی باتیں تو مجھے بہت اچھی لگیں لیکن مَیں اُن کے ساتھ بائبل کورس کرنے سے کتراتا تھا۔‏

اِس کے تھوڑی دیر بعد مَیں کچھ ہفتوں کے لیے فلپائن واپس گیا۔‏ میرے بہن بھائیوں نے مجھے بتایا کہ ابو نے ایک اچھا اِنسان بننے کے لیے سخت کوشش کی ہے۔‏ لیکن چونکہ میرے دل میں اُن کے لیے نفرت بھری تھی اِس لیے مَیں نے اُن سے کنارہ کرنے کی کوشش کی۔‏

میری چھوٹی بہن نے مجھے بائبل سے بتایا کہ زندگی مشکلات اور نااِنصافیوں سے کیوں بھری ہے۔‏ مَیں حیران تھا کہ بھلا ایک نوجوان لڑکی جس کے پاس اِتنا تجربہ نہیں ہے،‏ میرے سوالوں کے جواب کیسے دے سکتی ہے۔‏ میرے آسٹریلیا واپس جانے سے پہلے ابو نے مجھے کتاب ‏”‏آپ زمین پر فردوس میں ہمیشہ زندہ رہ سکتے ہیں“‏  * دی۔‏ اُنہوں نے مجھ سے کہا:‏ ”‏ذہنی سکون پانے کے لیے نشے کا سہارا لینا بند کرو۔‏ یہ کتاب تمہاری تلاش ختم کر دے گی۔‏“‏ اُنہوں نے مجھ سے یہ بھی کہا کہ جب مَیں آسٹریلیا واپس جاؤں تو وہاں یہوواہ کے گواہوں سے رابطہ کروں۔‏

ابو کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے مَیں نے شہر برِسبین میں اپنے گھر کے نزدیک یہوواہ کے گواہوں کی ایک عبادت‌گاہ ڈھونڈ لی۔‏ مَیں نے اُن کے ساتھ بائبل کورس کرنا شروع کر دیا۔‏ مَیں نے پاک کلام میں درج کئی پیش‌گوئیوں پر غور کِیا جیسے کہ دانی‌ایل 7 باب اور یسعیاہ 9 باب میں درج پیش‌گوئیوں پر۔‏ اِن کے مطابق خدا کی بادشاہت جو کرپشن سے پاک ہے،‏ بہت جلد زمین پر حکمرانی کرے گی۔‏ مَیں نے سیکھ لیا کہ زمین پر فردوس قائم ہوگا۔‏ مَیں خدا کی نظروں میں قابلِ‌قبول بننا چاہتا تھا لیکن مجھے پتہ تھا کہ مجھے اپنے جذبات پر قابو رکھنا ہوگا اور منشیات لینا،‏ شراب‌نوشی کرنا اور بدکاری کو چھوڑنا ہوگا۔‏ اِس لیے مَیں نے اُس لڑکی کو چھوڑ دیا جس کے ساتھ مَیں رہ رہا تھا۔‏ اِس کے علاوہ مَیں نے نشے کی لت کو بھی چھوڑ دیا۔‏ جیسے جیسے یہوواہ خدا پر میرا بھروسا بڑھا،‏ اُس کی مدد سے مَیں اپنی زندگی میں اَور بھی تبدیلیاں لانے کے قابل ہوا۔‏

آہستہ آہستہ مَیں جان گیا کہ جو کچھ مَیں سیکھ رہا ہوں،‏ وہ ایک شخص کو واقعی بدل سکتا ہے۔‏ پاک کلام میں لکھا ہے کہ اگر ہم اپنی طرف سے پوری کوشش کریں تو ہم ”‏نئی شخصیت“‏ کو پہن سکتے ہیں۔‏ (‏کُلسّیوں 3:‏9،‏ 10‏)‏ اور جب مَیں نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو مجھے احساس ہوا کہ مَیں نے ابو کی شخصیت میں آنے والی تبدیلیوں کے بارے میں جو کچھ سنا تھا،‏ وہ سچ ہو سکتا ہے۔‏ اب میرے دل میں ابو کے لیے غصے یا نفرت کی بجائے اُن سے صلح کرنے کی خواہش پیدا ہوئی۔‏ آخرکار مَیں نے ابو کو معاف کر دیا اور اپنے دل سے اُس نفرت کو نکال دیا جو بچپن سے پَل رہی تھی۔‏

میری زندگی سنور گئی:‏

جب مَیں نوجوان تھا تو دوسروں کے اثر کی وجہ سے مَیں ایسے کاموں میں ملوث ہو گیا جن کے نتائج بڑے نقصان‌دہ اور تباہ‌کُن تھے۔‏ پاک کلام میں درج یہ آگاہی میرے سلسلے میں بالکل سچ ثابت ہوئی:‏ ”‏بُرے ساتھی اچھی عادتوں کو بگاڑ دیتے ہیں۔‏“‏ (‏1-‏کُرنتھیوں 15:‏33‏)‏ لیکن یہوواہ کے گواہوں میں مَیں نے قابلِ‌بھروسا دوست بنائے جنہوں نے ایک اچھا اِنسان بننے میں میری مدد کی۔‏ اِنہی میں مجھے ایک اچھی بیوی ملی جس کا نام لوریٹا ہے۔‏ ہم دونوں مل کر لوگوں کو بتاتے ہیں کہ وہ بائبل سے مدد کیسے حاصل کر سکتے ہیں۔‏

رینے اور اُن کی بیوی اپنے دوستوں کے ساتھ کھانا کھا رہے ہیں۔‏

میرا خیال تھا کہ ابو کبھی نہیں بدلیں گے۔‏ لیکن بائبل کے اصولوں پر عمل کرنے سے وہ ایک محبت کرنے والے شوہر اور خاکسار اور صلح‌پسند مسیحی بن گئے۔‏ 1987ء میں مَیں نے یہوواہ کے گواہ کے طور پر بپتسمہ لیا۔‏ بعد میں جب مَیں ابو سے ملا تو وہ میرے بپتسمہ لینے سے اِتنے خوش تھے کہ زندگی میں پہلی بار اُنہوں نے مجھے گلے لگایا!‏

میرے امی ابو نے 35 سال سے زیادہ عرصے تک مل کر لوگوں کو پاک کلام سے اُمید کا پیغام دیا۔‏ ابو ایک محنتی،‏ ہمدرد اور ایسے شخص بن گئے جو دوسروں کی مدد کرنے والے کے طور پر جانے جاتے تھے۔‏ اُن سالوں کے دوران مَیں اُن کا احترام اور اُن سے محبت کرنے لگا۔‏ مجھے تو اِس بات پر بڑا فخر محسوس ہوتا ہے کہ مَیں اُن کا بیٹا ہوں!‏ 2016ء میں ابو فوت ہو گئے۔‏ مَیں جب بھی اُنہیں یاد کرتا ہوں تو یہ سوچ کر خوش ہوتا ہوں کہ ہم دونوں پاک کلام کے اصولوں پر عمل کرنے سے اپنی شخصیت میں کتنی بڑی تبدیلیاں کر پائے۔‏ میرے دل میں اُن کے لیے نفرت کا ذرا بھی نام‌ونشان نہیں رہا۔‏ مَیں بہت شکرگزار ہوں کہ مَیں نے اپنے آسمانی باپ یہوواہ کو پا لیا ہے جس کا وعدہ ہے کہ وہ اُن تمام مسئلوں کو ختم کر دے گا جس کی وجہ سے خاندانوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‏

^ پیراگراف 20 یہوواہ کے گواہوں کی شائع‌کردہ کتاب جو اب دستیاب نہیں ہے۔‏