مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

مزید معلومات

کیا ہمیں تہوار منانے چاہئیں؟

کیا ہمیں تہوار منانے چاہئیں؟

دُنیا میں طرح طرح کے مذہبی اور غیرمذہبی تہوار منائے جاتے ہیں۔ لیکن پاک صحائف میں ان کا ذکر تک نہیں کِیا گیا ہے۔ تو پھر ان تہواروں کا آغاز کیسے ہوا؟ اگر آپ کے نزدیک ایک لائبریری ہے تو آپ وہاں جا کر لغات اور انسائیکلوپیڈیا میں ایسے تہواروں کی شروعات کے بارے میں تحقیق کر سکتے ہیں جو عام طور پر آپ کے علاقے میں منائے جاتے ہیں۔ آئیں ہم چند ایسے تہواروں پر غور کریں جو بعض ممالک میں بہت مقبول ہیں۔

ایسٹر۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹینیکا میں یوں بیان کِیا گیا ہے: ”نئے عہدنامے میں اس بات کا کوئی ذکر نہیں کہ یسوع کے شاگرد ایسٹر کا تہوار مناتے تھے۔“ تو پھر اس تہوار کا آغاز کیسے ہوا؟ ایسٹر دراصل بُت پرستوں کا تہوار ہوا کرتا تھا۔ اگرچہ لوگ مانتے ہیں کہ ایسٹر یسوع مسیح کے جی اُٹھنے کی یاد میں منایا جاتا ہے لیکن اس تہوار میں بہت سے ایسے رسم ورواج شامل ہیں جن کا یسوع مسیح سے کوئی تعلق نہیں۔ مثال کے طور پر بہت سے ممالک میں ایسٹر کے سلسلے میں خرگوش کو نشان کے طور پر استعمال کِیا جاتا ہے۔ دی کیتھولک انسائیکلوپیڈیا میں اس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ”قدیم زمانے سے ہی خرگوش بُت پرستوں کا ایک ایسا نشان رہا ہے جو بہت اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔“

نئے سال کی تقریب۔ دُنیابھر میں نئے سال کے جشن بہت سے مختلف طریقوں سے، یہاں تک کہ مختلف تاریخوں کو منائے جاتے ہیں۔ ان جشنوں کی شروعات کے بارے میں دی ورلڈ بُک انسائیکلوپیڈیا میں یوں بیان کِیا گیا ہے: ”سن ۴۶ قبلِ مسیح میں رومی قیصر جولیس نے یکم جنوری کو سال کا پہلا دن ٹھہرایا۔ یہ دن پھاٹکوں، دروازوں اور شروعات کے دیوتا، جانس کے لئے مخصوص تھا۔ اس لئے جنوری کے مہینے کا نام جانس دیوتا کے نام پر رکھا گیا۔ اس دیوتا کے دو چہرے تھے، ایک چہرے کا رُخ آگے کی طرف اور دوسرے کا پیچھے کی طرف تھا۔“ اس بیان سے پتا چلتا ہے کہ نئے سال کے جشن اصل میں بُت پرستی سے تعلق رکھتے ہیں۔

ویلن ٹائن ڈے۔ یہ تہوار ۱۴ فروری کو منایا جاتا ہے۔ دی ورلڈ بُک انسائیکلوپیڈیا میں اس تہوار کے بارے میں لکھا ہے: ”ویلن ٹائن ڈے دو مسیحی شہیدوں کی یاد میں منایا جاتا ہے جن کا نام ویلن ٹائن تھا۔ لیکن اس کی جڑ غالباً لوپرکالیا نامی ایک رومی تہوار میں پائی جاتی ہے جسے ۱۵ فروری کو منایا جاتا تھا۔ یہ تہوار عورتوں اور شادی کی دیوی جونو اور قدرت کے دیوتا پان کی تعظیم میں منایا جاتا تھا۔“

دوسرے تہوار۔ ہم اس مضمون میں دُنیابھر میں منائے جانے والے تمام تہواروں اور تقریبات پر غور نہیں کر سکتے۔ لیکن چند اصولوں کو یاد رکھنے سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہوواہ خدا مختلف تہواروں کو کیسا خیال کرتا ہے۔ مثال کے طور پر یہوواہ ایسے تہواروں کو ہرگز پسند نہیں کرتا جن میں کسی انسان یا انسانی تنظیم کی بڑائی کی جائے۔ (یرمیاہ ۱۷:‏۵-‏۷؛ اعمال ۱۰:‏۲۵، ۲۶) اس کے علاوہ ایک تہوار کی شروعات پر غور کرنے سے آپ اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آیا یہ خدا کو منظور ہے یا نہیں۔ (یسعیاہ ۵۲:‏۱۱؛ مکاشفہ ۱۸:‏۴) اس کتاب کے سولہویں باب میں پاک صحائف کے چند ایسے اصولوں کا ذکر کِیا گیا ہے جن کی بِنا پر آپ کسی غیرمذہبی تہوار کے بارے میں بھی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آیا یہ خدا کو منظور ہے یا نہیں۔

→ متعلقہ باب کو دیکھیں