مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب 71

شفایافتہ اندھے آدمی سے فریسیوں کی پوچھ‌گچھ

شفایافتہ اندھے آدمی سے فریسیوں کی پوچھ‌گچھ

یوحنا 9:‏19-‏41

  • فریسیوں نے شفایافتہ اندھے فقیر سے پوچھ‌گچھ کی

  • مذہبی رہنماؤں کا اندھاپن

فریسیوں نے اِس بات پر یقین نہیں کِیا کہ یسوع مسیح نے ایک پیدائشی اندھے فقیر کو شفا دی ہے اِس لیے اُنہوں نے اُس آدمی کے ماں باپ کو بلوایا۔‏ اِس آدمی کے والدین بہت ڈرے ہوئے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر وہ یسوع مسیح کے حق میں بولیں گے تو اُنہیں ”‏عبادت‌گاہ سے خارج کر دیا جائے گا۔‏“‏ (‏یوحنا 9:‏22‏)‏ ایسی صورت میں باقی یہودی اُن سے ہر ناتا توڑ لیں گے جس کی وجہ سے اُن کے لیے گزر بسر کرنا مشکل ہو جائے گا۔‏

فریسیوں نے اُس آدمی کے ماں باپ سے پوچھا:‏ ”‏کیا یہ تمہارا وہی بیٹا ہے جس کے بارے میں تُم کہتے ہو کہ یہ پیدائش سے اندھا تھا؟‏ تو اب اِس کی آنکھیں کیسے ٹھیک ہو گئیں؟‏“‏ اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏ہاں،‏ یہ ہمارا بیٹا ہے اور پیدائش سے اندھا تھا۔‏ لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ اِسے دِکھائی کیسے دینے لگا اور اِس کی آنکھیں کس نے ٹھیک کی ہیں۔‏“‏ ہو سکتا ہے کہ اُن کے بیٹے نے اُنہیں بتایا ہو کہ یسوع مسیح نے اُسے کیسے شفا دی تھی۔‏ لیکن اُنہوں نے ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے فریسیوں کو یہ جواب دیا:‏ ”‏اِسی سے پوچھیں۔‏ یہ بالغ ہے اور خود جواب دے سکتا ہے۔‏“‏—‏یوحنا 9:‏19-‏21‏۔‏

لہٰذا فریسیوں نے اُس آدمی کو پھر سے بلایا اور اُسے یہ تاثر دیا کہ اُن کے پاس یسوع مسیح کے خلاف ثبوت ہیں۔‏ اُنہوں نے اُس سے کہا:‏ ”‏خدا کو حاضروناظر جان کر سچ بولو۔‏ ہم جانتے ہیں کہ وہ آدمی گُناہ‌گار ہے۔‏“‏ مگر اُس آدمی نے کہا:‏ ”‏مَیں یہ نہیں جانتا کہ وہ آدمی گُناہ‌گار ہے کہ نہیں۔‏ لیکن مَیں یہ ضرور جانتا ہوں کہ مَیں اندھا تھا مگر اب دیکھ سکتا ہوں۔‏“‏—‏یوحنا 9:‏24،‏ 25‏۔‏

فریسیوں کو یہ جواب بالکل اچھا نہیں لگا اِس لیے اُنہوں نے اُس آدمی سے پوچھا:‏ ”‏اُس نے کس طرح تمہاری آنکھیں کھولی تھیں؟‏ اُس نے کیا کِیا تھا؟‏“‏ اِس پر اُس نے دلیری سے جواب دیا:‏ ”‏مَیں پہلے بھی آپ کو بتا چُکا ہوں لیکن آپ نے میری بات نہیں سنی۔‏ آپ دوبارہ سے ساری بات کیوں سننا چاہتے ہیں؟‏ کہیں آپ بھی تو اُس کے شاگرد نہیں بننا چاہتے؟‏“‏ یہ سُن کر فریسی آگ‌بگولا ہو گئے اور اُس سے کہنے لگے:‏ ”‏تُم ہوگے اُس کے شاگرد۔‏ ہم تو موسیٰ کے شاگرد ہیں۔‏ ہم جانتے ہیں کہ خدا نے موسیٰ سے باتیں کیں لیکن جہاں تک اُس آدمی کا تعلق ہے،‏ ہمیں نہیں پتہ کہ اُسے کس نے بھیجا ہے۔‏“‏—‏یوحنا 9:‏26-‏29‏۔‏

یہ سُن کر اُس آدمی نے کہا:‏ ”‏یہ تو بڑی عجیب بات ہے کہ آپ نہیں جانتے کہ اُسے کس نے بھیجا ہے حالانکہ اُس نے میری آنکھیں ٹھیک کی ہیں۔‏“‏ پھر اُس نے بڑی اچھی دلیل پیش کی کہ خدا کس کی سنتا ہے۔‏ اُس نے کہا:‏ ”‏ہم جانتے ہیں کہ خدا گُناہ‌گاروں کی نہیں سنتا لیکن اگر کوئی شخص خدا سے ڈرتا ہے اور اُس کی مرضی پر چلتا ہے تو وہ اُس کی سنتا ہے۔‏ آج تک کبھی یہ سننے میں نہیں آیا کہ کسی نے ایک پیدائشی اندھے کی آنکھیں ٹھیک کی ہوں۔‏“‏ پھر اُس نے یہ نتیجہ نکالا کہ ”‏اگر وہ آدمی خدا کی طرف سے نہیں آیا تو وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا۔‏“‏—‏یوحنا 9:‏30-‏33‏۔‏

فریسی اُس فقیر کی دلیل کا کوئی جواب نہیں دے پائے۔‏ لہٰذا وہ اُس کی ملامت کرنے لگے۔‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏تُم خود تو پیدائش سے گُناہ‌گار ہو اور ہمیں سکھا رہے ہو؟‏“‏ پھر اُنہوں نے اُس کو عبادت‌گاہ سے نکال دیا۔‏—‏یوحنا 9:‏34‏۔‏

جب یسوع مسیح کو اِس واقعے کی خبر ملی تو اُنہوں نے اُس آدمی کو ڈھونڈا اور اُس سے کہا:‏ ”‏کیا آپ اِنسان کے بیٹے پر ایمان لے آئے ہیں؟‏“‏ اُس نے جواب دیا:‏ ”‏جناب،‏ مجھے بتائیں کہ وہ کون ہے تاکہ مَیں اُس پر ایمان لاؤں؟‏“‏ اِس پر یسوع نے اُسے صاف صاف بتایا:‏ ”‏آپ نے اُسے دیکھا ہے۔‏ دراصل وہ ابھی آپ سے بات کر رہا ہے۔‏“‏—‏یوحنا 9:‏35-‏37‏۔‏

یہ سُن کر اُس آدمی نے کہا:‏ ”‏جی مالک،‏ مَیں اُس پر ایمان لاتا ہوں۔‏“‏ پھر اُس نے یسوع کے سامنے جھک کر اُن کی تعظیم کی۔‏ یسوع نے کہا:‏ ”‏مَیں اِسی لیے دُنیا میں آیا ہوں کہ لوگوں کی عدالت کی جائے تاکہ جو اندھے ہیں،‏ وہ دیکھ سکیں اور جو دیکھ سکتے ہیں،‏ وہ اندھے ہو جائیں۔‏“‏—‏یوحنا 9:‏38،‏ 39‏۔‏

وہاں کچھ فریسی موجود تھے۔‏ اُنہیں احساس ہوا کہ یسوع مسیح اُن کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔‏ اِس لیے اُنہوں نے کہا:‏ ”‏تمہارے خیال میں کیا ہم اندھے ہیں؟‏“‏ یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏اگر آپ اندھے ہوتے تو آپ کو قصوروار نہ ٹھہرایا جاتا۔‏ لیکن آپ تو کہہ رہے ہیں کہ ”‏ہم دیکھ سکتے ہیں“‏ اِس لیے آپ کا گُناہ معاف نہیں ہوگا۔‏“‏ (‏یوحنا 9:‏40،‏ 41‏)‏ اگر فریسی شریعت سے واقف نہ ہوتے اور مسیح کی مخالفت کرتے تو اُن کے حق میں بولا جا سکتا تھا۔‏ مگر یہ لوگ تو اِسرائیل کے مذہبی اُستاد تھے اور شریعت سے اچھی طرح واقف تھے۔‏ اِس کے باوجود اُنہوں نے یسوع کو مسیح کے طور پر ترک کر دیا۔‏ اِس لیے یہ ایک سنگین گُناہ تھا۔‏