مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب 73

رحم‌دل سامری کی مثال

رحم‌دل سامری کی مثال

لُوقا 10:‏25-‏37

  • ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنے کے لیے کیا کرنا ضروری ہے؟‏

  • ایک سامری سچا پڑوسی ثابت ہوا

یسوع مسیح ابھی بھی یروشلیم کے آس‌پاس کے علاقے میں تھے۔‏ اِس دوران یہودی اُن سے ملنے کے لیے آ جا رہے تھے۔‏ کچھ لوگ یسوع سے تعلیم پانے کے لیے آئے جبکہ دوسرے اُن کا اِمتحان لینا چاہتے تھے۔‏ اِن میں سے ایک شریعت کا ماہر تھا۔‏ اُس نے یسوع سے پوچھا:‏ ”‏اُستاد،‏ مجھے کیا کرنا چاہیے تاکہ مَیں ہمیشہ کی زندگی ورثے میں پاؤں؟‏“‏—‏لُوقا 10:‏25‏۔‏

یسوع مسیح جانتے تھے کہ اِس آدمی نے یہ سوال کچھ سیکھنے کے لیے نہیں پوچھا بلکہ وہ چاہتا تھا کہ یسوع جواب میں کوئی ایسی بات کہیں جو یہودیوں کو ناگوار گزرے۔‏ دراصل وہ آدمی اِس معاملے کے بارے میں پہلے سے رائے قائم کر چُکا تھا۔‏ اِس لیے یسوع مسیح نے بڑی دانش‌مندی سے اُس سے ایسے سوال کیے جن سے اُس کی سوچ ظاہر ہو گئی۔‏

یسوع مسیح نے اُس سے پوچھا:‏ ”‏آپ کا کیا خیال ہے؟‏ شریعت میں کیا لکھا ہے؟‏“‏ چونکہ یہ آدمی شریعت کا ماہر تھا اِس لیے اُس نے شریعت کی بِنا پر ہی جواب دیا۔‏ اُس نے اِستثنا 6:‏5 اور احبار 19:‏18 میں درج باتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا:‏ ”‏”‏یہوواہ اپنے خدا سے اپنے سارے دل،‏ اپنی ساری جان،‏ اپنی ساری طاقت اور اپنی ساری عقل سے محبت کرو“‏ اور ”‏اپنے پڑوسی سے اُسی طرح محبت کرو جس طرح تُم اپنے آپ سے کرتے ہو۔‏“‏“‏ (‏لُوقا 10:‏26،‏ 27‏)‏ کیا اُس کا جواب درست تھا؟‏

یسوع مسیح نے کہا:‏ ”‏آپ نے بالکل صحیح کہا۔‏ اِن حکموں پر عمل کرتے رہیں تو آپ کو زندگی ملے گی۔‏“‏ کیا بات یہیں پر ختم ہو گئی؟‏ نہیں کیونکہ وہ آدمی ”‏خود کو نیک ثابت کرنا چاہتا تھا۔‏“‏ وہ یسوع سے یہ سننا چاہتا تھا کہ اُس کے نظریے صحیح ہیں اور دوسروں کے ساتھ اُس کا رویہ بالکل مناسب ہے۔‏ اِس لیے اُس نے یسوع مسیح سے پوچھا:‏ ”‏پر میرا پڑوسی ہے کون؟‏“‏ (‏لُوقا 10:‏28،‏ 29‏)‏ اِس سادے سے سوال کے پیچھے بہت کچھ تھا۔‏

دراصل یہودی لفظ ”‏پڑوسی“‏ صرف اُن لوگوں کے لیے اِستعمال کرتے تھے جو یہودی روایتوں پر عمل کرتے تھے کیونکہ اُن کا خیال تھا کہ احبار 19:‏18 میں صرف ایسے ہی لوگوں سے محبت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔‏ یہودی تو یہ بھی کہتے تھے کہ کسی اَور قوم کے لوگوں سے میل جول رکھنا جائز نہیں ہے۔‏ (‏اعمال 10:‏28‏)‏ اِس لیے شریعت کے اِس ماہر کا خیال تھا کہ اگر وہ یہودیوں کے ساتھ رحم‌دلی سے پیش آتا ہے تو وہ بڑا نیک ہے لیکن کسی غیریہودی کے ساتھ وہ بےرحمی سے پیش آ سکتا ہے کیونکہ وہ اُس کا ”‏پڑوسی“‏ نہیں ہے۔‏ ہو سکتا ہے کہ یسوع کے کچھ شاگرد بھی یہی مانتے تھے۔‏

یسوع مسیح اِس غلط سوچ کو درست کرنا چاہتے تھے لیکن وہ اُس آدمی اور باقی یہودیوں کو ناراض بھی نہیں کرنا چاہتے تھے۔‏ اِس لیے اُنہوں نے یہ کہانی سنائی:‏ ”‏ایک آدمی یروشلیم سے یریحو کی طرف جا رہا تھا۔‏ اچانک ڈاکوؤں نے اُسے گھیر لیا۔‏ اُنہوں نے اُسے ماراپیٹا اور اُس کی ساری چیزیں چھین لیں۔‏ پھر وہ اُسے ادھ‌مؤا چھوڑ کر چلے گئے۔‏ اِتفاق سے ایک کاہن اُس راستے سے گزرا۔‏ لیکن جب اُس نے اُس آدمی کو دیکھا تو وہ دوسری طرف سے ہو کر چلا گیا۔‏ پھر لاوی قبیلے کا ایک شخص وہاں سے گزرا۔‏ اُس نے بھی اُس آدمی کو دیکھا اور دوسری طرف سے ہو کر چلا گیا۔‏ پھر ایک سامری سفر کرتا ہوا اُسی جگہ پہنچا۔‏ جب اُس نے اُس آدمی کی حالت دیکھی تو اُسے بڑا ترس آیا۔‏“‏—‏لُوقا 10:‏30-‏33‏۔‏

شریعت کا ماہر جانتا تھا کہ ہیکل میں خدمت کرنے والے بہت سے کاہن اور لاوی شہر یریحو میں رہتے ہیں۔‏ ہیکل سے گھر لوٹنے کے لیے اُنہیں 23 کلومیٹر (‏14 میل)‏ کا سفر طے کرنا پڑتا تھا۔‏ یہ سفر خطروں سے خالی نہیں تھا کیونکہ اِس سنسان سڑک پر ڈاکو اکثر مسافروں پر حملہ کرتے تھے۔‏ یسوع کی کہانی میں جب کاہن اور لاوی نے اپنے ہم‌ایمان کو مشکل میں دیکھا تو اُنہیں اُس کی مدد کرنی چاہیے تھی۔‏ مگر اُنہوں نے ایسا نہیں کِیا۔‏ البتہ جس شخص نے اُس یہودی کی مدد کی،‏ وہ ایک سامری تھا یعنی وہ ایسی قوم سے تعلق رکھتا تھا جسے یہودی حقیر جانتے تھے۔‏—‏یوحنا 8:‏48‏۔‏

اِس سامری نے زخمی یہودی کی مدد کیسے کی؟‏ یسوع نے آگے بتایا:‏ ”‏وہ اُس آدمی کے پاس گیا اور اُس کے زخموں پر تیل اور مے لگائی اور اُس کی مرہم‌پٹی کی۔‏ پھر اُس نے اُسے اپنے گدھے پر بٹھایا اور اُسے ایک مسافرخانے میں لے گیا اور اُس کی دیکھ‌بھال کی۔‏ اگلے دن اُس نے مسافرخانے کے مالک کو دو دینار دیے اور اُس سے کہا:‏ ”‏اِس آدمی کا خیال رکھنا۔‏ اور اگر اِس کے علاوہ کوئی اَور خرچہ ہوگا تو مَیں واپسی پر ادا کر دوں گا۔‏“‏“‏—‏لُوقا 10:‏34،‏ 35‏۔‏

 کہانی ختم کرنے کے بعد عظیم اُستاد یسوع مسیح نے شریعت کے ماہر سے پوچھا:‏ ”‏آپ کے خیال میں اِن تینوں میں سے کون اُس آدمی کا پڑوسی ثابت ہوا جسے ڈاکوؤں نے لُوٹ لیا تھا؟‏“‏ لگتا ہے کہ وہ ماہر لفظ ”‏سامری“‏ لبوں پر نہیں لانا چاہتا تھا اِس لیے اُس نے جواب دیا:‏ ”‏وہ جس نے اُس پر رحم کِیا تھا۔‏“‏ اِس پر یسوع نے کہانی کا سبق واضح کرنے کے لیے کہا:‏ ”‏جائیں اور ایسا ہی کریں۔‏“‏—‏لُوقا 10:‏36،‏ 37‏۔‏

یہ تعلیم دینے کا کتنا مؤثر طریقہ تھا!‏ اگر یسوع مسیح شریعت کے ماہر سے بس یہ کہتے کہ غیریہودی بھی اُس کے پڑوسی ہیں تو کیا وہ آدمی اور وہاں موجود باقی یہودی اُن کی بات کو قبول کرتے؟‏ شاید نہیں۔‏ لیکن یسوع مسیح نے ایک سادہ سی کہانی سنائی جس میں ایسی معلومات تھی جس سے اُن کے سننے والے واقف تھے۔‏ یوں اُنہوں نے صاف ظاہر کِیا کہ سچا پڑوسی وہ ہوتا ہے جو دوسروں کے ساتھ محبت اور رحم‌دلی سے پیش آتا ہے،‏ بالکل جیسا کہ خدا کے کلام میں حکم دیا گیا ہے۔‏