مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب 81

بیٹا اور باپ کس لحاظ سے ایک ہیں؟‏

بیٹا اور باپ کس لحاظ سے ایک ہیں؟‏

یوحنا 10:‏22-‏42

  • ‏”‏مَیں اور میرا باپ ایک ہیں“‏

  • یسوع مسیح نے اِس اِلزام سے اِنکار کِیا کہ اُنہوں نے خود کو خدا کہا

یسوع مسیح عیدِتقدیس (‏یا عیدِتجدید)‏ منانے کے لیے یروشلیم آئے۔‏ یہ عید اُس وقت کی یاد میں منائی جاتی تھی جب ہیکل کو دوبارہ پاک کِیا گیا تھا۔‏ تقریباً ایک صدی پہلے سُوریوں نے یروشلیم پر قبضہ کر لیا تھا اور اُن کے بادشاہ انطاکس اپی‌فینس چہارم نے یہوواہ کی ہیکل کی قربان‌گاہ پر اپنے دیوتاؤں کے لیے ایک قربان‌گاہ بنا کر اِسے ناپاک کر دیا تھا۔‏ لیکن کچھ عرصے بعد ایک یہودی کاہن کے بیٹوں نے یروشلیم کو دُشمنوں کے ہاتھوں سے چھڑا لیا تھا اور ہیکل کو دوبارہ پاک کِیا تھا۔‏ اُس وقت سے یہ تہوار ہر سال کِسلیو کے مہینے کی 25 تاریخ کو منایا جاتا ہے۔‏ یہ مہینہ نومبر کے آخری حصے سے لے کر دسمبر کے پہلے حصے تک چلتا ہے۔‏

سردیوں کا موسم تھا اور یسوع ہیکل میں سلیمان کے برآمدے میں ٹہل رہے تھے۔‏ جب یہودیوں نے یسوع کو دیکھا تو اُنہوں نے اُنہیں گھیر لیا اور کہنے لگے:‏ ”‏تُم کب تک ہمیں اُلجھن میں رکھو گے؟‏ اگر تُم مسیح ہو تو صاف صاف کیوں نہیں کہتے؟‏“‏ (‏یوحنا 10:‏22-‏24‏)‏ یسوع مسیح نے کیا جواب دیا؟‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏مَیں آپ کو بتا چُکا ہوں لیکن آپ نے میری بات کا یقین نہیں کِیا۔‏“‏ یسوع نے اُن لوگوں کو سیدھے لفظوں میں نہیں بتایا تھا کہ وہ مسیح ہیں جیسا کہ اُنہوں نے یعقوب کے کنوئیں پر سامری عورت کو بتایا تھا۔‏ (‏یوحنا 4:‏25،‏ 26‏)‏ لیکن کچھ عرصہ پہلے اُنہوں نے واضح کِیا تھا کہ اصل میں وہ کون ہیں۔‏ اُنہوں نے کہا تھا:‏ ”‏اِس سے پہلے کہ ابراہام پیدا ہوئے،‏ مَیں موجود تھا۔‏“‏—‏یوحنا 8:‏58‏۔‏

یسوع مسیح چاہتے تھے کہ لوگ اُن کے کاموں کو دیکھیں اور اِن کا موازنہ اُن کاموں سے کریں جو پیش‌گوئیوں کے مطابق مسیح نے کرنے تھے اور پھر خود اِس نتیجے پر پہنچیں کہ یسوع ہی مسیح ہیں۔‏ اِسی لیے تو اُنہوں نے اکثر اپنے شاگردوں سے کہا کہ وہ کسی کو نہ بتائیں کہ وہ مسیح ہیں۔‏ لیکن اب یسوع نے اپنے مخالفوں کو صاف صاف بتایا:‏ ”‏جو کام مَیں اپنے باپ کے نام سے کرتا ہوں،‏ وہ میرے بارے میں گواہی دیتے ہیں۔‏ لیکن آپ یقین نہیں کرتے۔‏“‏—‏یوحنا 10:‏25،‏ 26‏۔‏

وہ لوگ اِس بات پر یقین کیوں نہیں کر رہے تھے کہ یسوع خدا کے بھیجے ہوئے مسیح تھے؟‏ یسوع نے کہا:‏ ”‏آپ یقین نہیں کرتے کیونکہ آپ میری بھیڑیں نہیں ہیں۔‏ میری بھیڑیں میری آواز سنتی ہیں اور میرے پیچھے چلتی ہیں۔‏ مَیں اُن کو جانتا ہوں اور اُنہیں ہمیشہ کی زندگی دیتا ہوں۔‏ وہ ہرگز کبھی ہلاک نہیں ہوں گی اور کوئی اُنہیں میرے ہاتھ سے نہیں چھینے گا۔‏ اُنہیں میرے باپ نے مجھے دیا ہے اور وہ دوسری تمام چیزوں سے زیادہ اہم ہیں۔‏“‏ پھر یسوع نے اپنے مخالفوں کو بتایا کہ وہ اپنے آسمانی باپ کے کتنے قریب ہیں۔‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏مَیں اور میرا باپ ایک ہیں۔‏“‏ (‏یوحنا 10:‏26-‏30‏)‏ ذرا سوچیں:‏ یسوع زمین پر تھے جبکہ اُن کا باپ آسمان پر تھا۔‏ لہٰذا وہ دونوں جسمانی طور پر ایک نہیں ہو سکتے تھے۔‏ اِس کی بجائے یسوع اور اُن کا آسمانی باپ اِس لحاظ سے ایک ہیں کہ وہ متحد ہیں اور ایک ہی مقصد کو انجام دینے میں ایک دوسرے کا ساتھ دے رہے ہیں۔‏

یسوع مسیح کی اِس بات پر یہودیوں کو اِتنا غصہ آیا کہ اُنہوں نے اُن کو سنگسار کرنے کے لیے پتھر اُٹھا لیے۔‏ لیکن یسوع ڈرے نہیں بلکہ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏مَیں نے آپ کے سامنے باپ کی طرف سے بہت سے اچھے کام کیے ہیں۔‏ آپ اِن میں سے کس کام کی وجہ سے مجھے سنگسار کرنا چاہتے ہیں؟‏“‏ یہودیوں نے جواب دیا:‏ ”‏ہم تمہیں اِس لیے سنگسار نہیں کر رہے کہ تُم نے کوئی اچھا کام کِیا ہے بلکہ اِس لیے کہ تُم نے کفر بکا ہے۔‏ کیونکہ تُم .‏ .‏ .‏ خود کو خدا کہتے ہو۔‏“‏ (‏یوحنا 10:‏31-‏33‏)‏ مگر یسوع نے کبھی نہیں کہا تھا کہ وہ خدا ہیں۔‏ تو پھر اُن پر یہ اِلزام کیوں لگایا جا رہا تھا؟‏

دراصل یسوع کہہ رہے تھے کہ وہ ایسے کام کر سکتے ہیں جو یہودیوں کے خیال میں صرف خدا کر سکتا ہے۔‏ مثال کے طور پر یسوع نے اپنی بھیڑوں کے بارے میں کہا کہ ”‏[‏مَیں]‏ اُنہیں ہمیشہ کی زندگی دیتا ہوں“‏ جو کہ کسی اِنسان کے بس کی بات نہیں ہے۔‏ (‏یوحنا 10:‏28‏)‏ البتہ یہودی اِس بات کو نظرانداز کر رہے تھے کہ یسوع مسیح نے یہ بھی تسلیم کِیا تھا کہ اُنہیں یہ کام کرنے کا اِختیار خدا سے ملا ہے۔‏

یہودیوں کے اِلزام کو غلط ثابت کرنے کے لیے یسوع مسیح نے اُن سے کہا:‏ ”‏کیا آپ کی شریعت [‏زبور 82:‏6‏]‏ میں نہیں لکھا کہ ”‏مَیں نے کہا:‏ ”‏تُم لوگ خدا ہو“‏“‏؟‏ خدا نے اِس صحیفے میں ایسے لوگوں کو ”‏خدا“‏ کہا جن کو اُس نے قصوروار ٹھہرایا۔‏ .‏ .‏ .‏ اور مَیں تو وہ شخص ہوں جسے خدا نے مخصوص کِیا اور دُنیا میں بھیجا۔‏ پھر بھی آپ لوگ کہہ رہے ہیں کہ مَیں نے کفر بکا ہے کیونکہ مَیں نے کہا ہے کہ ”‏مَیں خدا کا بیٹا ہوں۔‏“‏“‏—‏یوحنا 10:‏34-‏36‏۔‏

خدا کے کلام میں بےاِنصاف اِنسانی منصفوں کو بھی ”‏خدا“‏ کہا گیا ہے۔‏ تو پھر یہودی یسوع کو یہ کہنے کے لیے کیسے ٹوک سکتے تھے کہ ”‏مَیں خدا کا بیٹا ہوں“‏؟‏ یسوع نے اُن لوگوں کو قائل کرنے کے لیے آگے کہا:‏ ”‏اگر مَیں اپنے باپ کے کام نہیں کر  رہا تو میرا یقین نہ کریں۔‏ لیکن اگر مَیں اُس کے کام کر رہا ہوں تو بھلے آپ میرا یقین نہ کریں،‏ مگر اِن کاموں کا تو یقین کریں تاکہ آپ جان لیں اور آئندہ بھی جانتے رہیں کہ باپ میرے ساتھ متحد ہے اور مَیں باپ کے ساتھ متحد ہوں۔‏“‏—‏یوحنا 10:‏37،‏ 38‏۔‏

اِس پر یہودیوں نے دوبارہ سے یسوع کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن وہ اُن کے ہاتھ نہیں آئے۔‏ پھر یسوع یروشلیم سے نکل کر دریائےاُردن کے پار اُس علاقے میں گئے جہاں یوحنا تقریباً چار سال پہلے بپتسمہ دیتے تھے۔‏ غالباً یہ گلیل کی جھیل کے جنوبی ساحل کے قریب ہی تھا۔‏

وہاں بہت سے لوگ یسوع مسیح کے پاس آئے اور کہنے لگے:‏ ”‏یوحنا نے کوئی معجزہ تو نہیں کِیا لیکن اُنہوں نے اِس آدمی کے بارے میں جو کچھ کہا،‏ وہ سچ تھا۔‏“‏ (‏یوحنا 10:‏41‏)‏ لہٰذا بہت سے یہودی یسوع پر ایمان لے آئے۔‏