مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب 68

خدا کا بیٹا—‏”‏دُنیا کی روشنی“‏

خدا کا بیٹا—‏”‏دُنیا کی روشنی“‏

یوحنا 8:‏12-‏36

  • یسوع مسیح نے بتایا کہ خدا کا بیٹا کون ہے

  • یہودی کن معنوں میں غلام تھے؟‏

جھونپڑیوں کی عید کے آخری دن یعنی ساتویں دن یسوع مسیح ہیکل میں اُس جگہ تعلیم دے رہے تھے ”‏جہاں عطیات کے ڈبے رکھے تھے۔‏“‏ (‏یوحنا 8:‏20؛‏ لُوقا 21:‏1‏)‏ یہ جگہ عورتوں کے صحن میں تھی اور لوگ یہیں پر آ کر عطیات ڈالتے تھے۔‏

عید کے دوران ہر رات کو اِس صحن میں چار بڑے شمع‌دان جلائے جاتے تھے۔‏ ہر شمع‌دان کے چار چراغ ہوتے تھے جن میں تیل بھرا ہوتا تھا۔‏ اِن شمع‌دانوں کی روشنی اِتنی تیز تھی کہ یہ دُور دُور تک دِکھائی دیتی تھی۔‏ عید کے آخری دن یسوع مسیح نے ایک ایسی بات کہی جس سے اُن کے سننے والوں کے ذہن میں یہ شمع‌دان آئے ہوں گے۔‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏مَیں دُنیا کی روشنی ہوں۔‏ جو میری پیروی کرتا ہے،‏ وہ ہرگز تاریکی میں نہیں چلے گا بلکہ زندگی کی روشنی اُس کی ہوگی۔‏“‏—‏یوحنا 8:‏12‏۔‏

فریسیوں کو یسوع مسیح کی یہ بات اچھی نہیں لگی اِس لیے اُنہوں نے یسوع سے کہا:‏ ”‏تُم اپنے بارے میں گواہی دیتے ہو اِس لیے تمہاری گواہی سچی نہیں ہے۔‏“‏ یسوع مسیح نے جواب دیا:‏ ”‏اگر مَیں اپنے بارے میں گواہی دیتا بھی ہوں تو میری گواہی سچی ہے کیونکہ مَیں جانتا ہوں کہ مَیں کہاں سے آیا ہوں اور کہاں جا رہا ہوں۔‏ لیکن آپ نہیں جانتے کہ مَیں کہاں سے آیا ہوں اور کہاں جا رہا ہوں۔‏ .‏ .‏ .‏ آپ کی اپنی شریعت میں بھی تو لکھا ہے کہ ”‏دو آدمیوں کی گواہی سچی ہوتی ہے۔‏“‏ ایک تو مَیں ہوں جو اپنے بارے میں گواہی دیتا ہوں اور دوسرا میرا باپ ہے جس نے مجھے بھیجا ہے۔‏“‏—‏یوحنا 8:‏13-‏18‏۔‏

فریسیوں نے اِعتراض کرتے ہوئے کہا:‏ ”‏تمہارا باپ کہاں ہے؟‏“‏ اِس پر یسوع مسیح نے کھرا جواب دیا:‏ ”‏آپ نہ تو مجھے جانتے ہیں اور نہ ہی میرے باپ کو۔‏ اگر آپ مجھے جانتے تو میرے باپ کو بھی جانتے۔‏“‏ (‏یوحنا 8:‏19‏)‏ فریسی ابھی بھی یسوع مسیح کو گِرفتار کرنا چاہتے تھے لیکن کسی نے اُن پر ہاتھ ڈالنے کی جُرأت نہیں کی۔‏

پھر یسوع مسیح نے وہی بات کہی جو وہ پہلے بھی کہہ چُکے تھے:‏ ”‏مَیں جا رہا ہوں۔‏ آپ مجھے ڈھونڈیں گے لیکن پھر بھی آپ اپنے گُناہ کی وجہ سے مر  جائیں گے۔‏ جہاں مَیں جا رہا ہوں وہاں آپ نہیں آ سکتے۔‏“‏ یہودیوں کو یسوع مسیح کی یہ بات سمجھ نہیں آئی اور وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے:‏ ”‏کہیں یہ خودکُشی تو نہیں کرنے والا؟‏ کیونکہ یہ کہہ رہا ہے کہ ”‏جہاں مَیں جا رہا ہوں وہاں آپ نہیں آ سکتے۔‏“‏“‏ یہ لوگ یسوع مسیح کی بات اِس لیے نہیں سمجھ پائے کیونکہ اُنہیں معلوم نہیں تھا کہ یسوع اصل میں کہاں سے آئے تھے۔‏ اِس لیے یسوع نے اُنہیں بتایا:‏ ”‏آپ نیچے کے ہیں،‏ مَیں اُوپر کا ہوں۔‏ آپ اِس دُنیا کے ہیں،‏ مَیں اِس دُنیا کا نہیں ہوں۔‏“‏—‏یوحنا 8:‏21-‏23‏۔‏

دراصل یسوع مسیح اُس زندگی کے بارے میں بات کر رہے تھے جو اُنہوں نے زمین پر آنے سے پہلے آسمان پر گزاری تھی۔‏ پھر اُنہوں نے فریسیوں پر ظاہر کِیا کہ وہ وہی مسیح ہیں جس کے یہودی منتظر تھے۔‏ اِس کے باوجود فریسیوں نے بڑی حقارت سے یسوع سے پوچھا:‏ ”‏تُم کون ہو؟‏“‏—‏یوحنا 8:‏25‏۔‏

اِن لوگوں کی ہٹ‌دھرمی اور مخالفت کو دیکھ کر یسوع مسیح نے کہا:‏ ”‏مَیں آپ لوگوں سے بات ہی کیوں کر رہا ہوں؟‏“‏ مگر پھر بھی یسوع نے اُن کی توجہ اپنے آسمانی باپ کی طرف دِلائی اور پھر بتایا کہ یہودیوں کو بیٹے کی تعلیم کو کیوں قبول کرنا چاہیے۔‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏جس نے مجھے بھیجا ہے،‏ وہ سچا ہے۔‏ اور جو باتیں مَیں نے اُس سے سنی ہیں،‏ وہی مَیں دُنیا میں کہہ رہا ہوں۔‏“‏—‏یوحنا 8:‏25،‏ 26‏۔‏

یسوع مسیح کی اگلی بات سے ظاہر ہوا کہ اِن یہودیوں کے برعکس وہ اپنے آسمانی باپ پر بڑا بھروسا رکھتے تھے۔‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏جب آپ اِنسان کے بیٹے کو لٹکا دیں گے تب آپ کو پتہ چلے گا کہ مَیں وہی ہوں اور مَیں اپنے اِختیار سے کچھ نہیں کرتا بلکہ وہی کہتا ہوں جو باپ نے مجھے سکھایا ہے۔‏ اور جس نے مجھے بھیجا ہے،‏ وہ میرے ساتھ ہے۔‏ اُس نے مجھے اکیلا نہیں چھوڑا کیونکہ مَیں ہمیشہ وہی کام کرتا ہوں جو اُس کو پسند ہے۔‏“‏—‏یوحنا 8:‏28،‏ 29‏۔‏

مگر وہاں ایسے یہودی بھی موجود تھے جو یسوع مسیح پر ایمان لے آئے تھے۔‏ اُن سے یسوع نے کہا:‏ ”‏اگر آپ میری باتوں پر عمل کرتے رہیں گے تو آپ واقعی میرے شاگرد ہوں گے۔‏ اور آپ سچائی کو جان جائیں گے اور سچائی آپ کو آزاد کر دے گی۔‏“‏—‏یوحنا 8:‏31،‏ 32‏۔‏

باقی یہودیوں کو یہ بات عجیب لگی کہ اُنہیں آزاد ہونے کی ضرورت ہے۔‏ اُنہوں نے اِعتراض کِیا:‏ ”‏ہم تو ابراہام کی اولاد ہیں۔‏ ہم کبھی کسی کے غلام نہیں رہے۔‏ تو پھر تُم کیوں کہہ رہے ہو کہ ”‏آپ آزاد ہو جائیں گے“‏؟‏“‏ یہودی جانتے تھے کہ وقتاًفوقتاً اُن کی قوم پر غیریہودیوں نے حکمرانی کی تھی لیکن پھر بھی وہ خود کو کسی کا غلام نہیں سمجھتے تھے۔‏ اِس لیے یسوع نے اُن پر واضح کِیا کہ چاہے وہ یہ مانیں یا نہ مانیں،‏ وہ غلام ہیں۔‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏مَیں آپ سے بالکل سچ کہتا ہوں کہ جو شخص گُناہ کرتا ہے،‏ وہ گُناہ کا غلام ہے۔‏“‏—‏یوحنا 8:‏33،‏ 34‏۔‏

یہودی یہ تسلیم نہیں کرنا چاہتے تھے کہ وہ گُناہ کے غلام ہیں۔‏ مگر یہ اُن کے لیے نقصان‌دہ ہو سکتا تھا جیسا کہ یسوع مسیح کی اِس بات سے ظاہر ہوا:‏ ”‏غلام گھر میں ہمیشہ نہیں رہتا جبکہ بیٹا ہمیشہ رہتا ہے۔‏“‏ (‏یوحنا 8:‏35‏)‏ غلام میراث کے حق‌دار نہیں ہوتے تھے اور اُنہیں کسی بھی وقت گھر سے نکالا جا سکتا تھا۔‏ اِس کے برعکس سگا بیٹا یا گود لیا ہوا بیٹا ”‏ہمیشہ“‏ یعنی زندگی بھر گھر کا فرد رہتا تھا۔‏

بیٹے کے بارے میں سچائی ہی وہ سچائی تھی جس کے ذریعے لوگ ہمیشہ کے لیے گُناہ اور موت سے آزاد ہو سکتے تھے۔‏ یسوع مسیح نے کہا:‏ ”‏اگر بیٹا آپ کو آزاد کرتا ہے تو آپ واقعی آزاد ہوں گے۔‏“‏—‏یوحنا 8:‏36‏۔‏