مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب 77

مال‌ودولت کے سلسلے میں نصیحت

مال‌ودولت کے سلسلے میں نصیحت

لُوقا 12:‏1-‏34

  • ناسمجھ امیر آدمی کی مثال

  • یسوع مسیح نے کوّوں اور جنگلی پھولوں کی مثال دی

  • چھوٹے گلّے کو بادشاہت ملے گی

جس دوران یسوع مسیح یہودیہ میں ایک فریسی کے گھر دعوت پر تھے،‏ اُس دوران گھر کے سامنے ہزاروں لوگ اُن سے ملنے کے لیے جمع ہو گئے۔‏ گلیل میں بھی اکثر ایسا ہی ہوتا تھا۔‏ (‏مرقس 1:‏33؛‏ 2:‏2؛‏ 3:‏9‏)‏ جو لوگ یسوع مسیح سے تعلیم پانے کے لیے آئے تھے،‏ اُن کی سوچ اُن فریسیوں سے بہت فرق تھی جو یسوع کے ساتھ دعوت پر تھے۔‏

گھر سے نکلنے کے بعد یسوع مسیح نے جو بات پہلے کہی،‏ وہ خاص طور پر اُن کے شاگردوں کے لیے تھی۔‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏فریسیوں کے خمیر یعنی ریاکاری سے خبردار رہیں۔‏“‏ ویسے تو یسوع مسیح پہلے بھی اپنے شاگردوں کو اِس بات سے آگاہ کر چُکے تھے لیکن دعوت پر فریسیوں کے ردِعمل کو دیکھ کر اُنہوں نے اِس بات کو دُہرانا ضروری سمجھا۔‏ (‏لُوقا 12:‏1؛‏ مرقس 8:‏15‏)‏ فریسی دین‌داری کا دِکھاوا کر کے اپنی بُرائی پر پردہ ڈالنا چاہتے تھے۔‏ یوں وہ لوگوں کے لیے ایک خطرہ بن گئے تھے۔‏ یسوع مسیح لوگوں کو اِس خطرے سے آگاہ کرنا چاہتے تھے اِس لیے اُنہوں نے کہا:‏ ”‏جو بھی بات پوشیدہ ہے،‏ وہ ظاہر ہو جائے گی اور جو بھی بات چھپی ہے،‏ وہ جانی جائے گی۔‏“‏—‏لُوقا 12:‏2‏۔‏

یسوع مسیح کے اِردگِرد جو بِھیڑ جمع تھی،‏ اُن میں سے بہت سے لوگ یہودیہ کے رہنے والے تھے۔‏ اِن لوگوں نے وہ تعلیمات نہیں سنی تھیں جو یسوع مسیح نے گلیل میں دی تھیں اِس لیے یسوع نے کچھ باتیں دُہرائیں۔‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏اُن لوگوں سے نہ ڈریں جو آپ کی جان تو لے سکتے ہیں لیکن اِس کے بعد اَور کچھ نہیں کر سکتے۔‏“‏ (‏لُوقا 12:‏4‏)‏ اِس موقعے پر بھی اُنہوں نے نمایاں کِیا کہ اُن کے پیروکاروں کو بھروسا کرنا چاہیے کہ خدا اُن کی ضروریات پوری کرے گا،‏ اُنہیں اِنسان کے بیٹے کا اِقرار کرنا چاہیے اور مدد کے لیے خدا پر آس لگانی چاہیے۔‏—‏متی 10:‏19،‏ 20،‏ 26-‏33؛‏ 12:‏31،‏ 32‏۔‏

پھر بِھیڑ میں سے ایک آدمی نے یسوع مسیح کے سامنے اپنا ایک مسئلہ پیش کِیا۔‏ اُس نے کہا:‏ ”‏اُستاد،‏ میرے بھائی سے کہیں کہ وراثت میں سے میرا حصہ دے۔‏“‏ (‏لُوقا 12:‏13‏)‏ شریعت میں حکم تھا کہ وراثت کا دُگنا حصہ پہلوٹھے بیٹے کو دیا جانا چاہیے اِس لیے جھگڑے کی کوئی وجہ نہیں بنتی تھی۔‏ (‏اِستثنا 21:‏17‏)‏ مگر لگتا ہے کہ وہ اپنے حصے سے مطمئن نہیں تھا اور زیادہ چاہتا تھا۔‏ البتہ یسوع مسیح اِس معاملے میں نہیں اُلجھے بلکہ اُنہوں نے اُس آدمی سے کہا:‏ ”‏بھئی،‏ کیا مجھے آپ دونوں کا منصف اور درمیانی مقرر کِیا گیا ہے؟‏“‏—‏لُوقا 12:‏14‏۔‏

پھر یسوع مسیح نے وہاں موجود سب لوگوں کو یہ نصیحت کی:‏ ”‏خبردار رہیں اور ہر طرح کے لالچ سے بچیں کیونکہ ایک شخص جتنا بھی امیر ہو،‏ اُسے اُس کے مال سے زندگی نہیں ملتی۔‏“‏ (‏لُوقا 12:‏15‏)‏ چاہے ایک شخص کے پاس کتنا ہی مال‌ودولت کیوں نہ ہو،‏ ایک نہ ایک دن اُسے مرنا پڑے گا اور اپنا سب کچھ پیچھے چھوڑنا پڑے گا۔‏ اِس بات پر زور دینے کے لیے یسوع مسیح نے ایک مثال دی جس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ خدا کے حضور نیک نام ہونا کتنا اہم ہے۔‏

اُنہوں نے کہا:‏ ”‏ایک امیر آدمی کی زمین پر بڑی اچھی فصل ہوئی۔‏ اُس نے سوچا:‏ ”‏مَیں اِتنی ساری فصل کہاں جمع کروں؟‏“‏ پھر اُس نے کہا:‏ ”‏مَیں ایسا کرتا ہوں کہ اپنے گوداموں کو گِرا کر بڑے گودام بناتا ہوں اور اِن میں اپنی ساری فصل اور مال جمع کرتا ہوں۔‏ اور پھر مَیں خود سے کہوں گا کہ ”‏فکر نہ کرو۔‏ تمہارے پاس تو بہت سالوں کے لیے مال جمع ہے۔‏ کھاؤ،‏ پیو اور عیش کرو۔‏“‏“‏ لیکن خدا نے اُس سے کہا:‏ ”‏ناسمجھ آدمی!‏ آج رات تمہاری جان لے لی جائے گی۔‏ پھر وہ سب چیزیں کس کو ملیں گی جو تُم نے جمع کی ہیں؟‏“‏ اُن لوگوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے جو اپنے لیے بہت کچھ جمع کرتے ہیں لیکن خدا کی نظر میں امیر ہونے کی کوشش نہیں کرتے۔‏“‏—‏لُوقا 12:‏16-‏21‏۔‏

یسوع کے شاگردوں اور بِھیڑ میں موجود باقی لوگوں کے لیے دولت جمع کرنا یا اِس کی خواہش کرنا ایک پھندا بن سکتا تھا۔‏ اِس کے علاوہ زندگی کی پریشانیاں بھی اُن کی توجہ یہوواہ خدا کی خدمت سے ہٹا سکتی تھیں۔‏ اِس لیے یسوع مسیح نے اُن ہدایات کو دُہرایا جو اُنہوں نے ڈیڑھ سال پہلے پہاڑی وعظ میں دی تھیں۔‏

اُنہوں نے کہا:‏ ”‏یہ فکر چھوڑ دیں کہ آپ زندہ رہنے کے لیے کیا کھائیں گے یا جسم ڈھانپنے کے لیے کیا پہنیں گے۔‏ .‏ .‏ .‏ ذرا کوّوں کو دیکھیں،‏ وہ نہ تو بیج بوتے ہیں،‏ نہ فصل کاٹتے ہیں اور نہ ہی اُن کے پاس گودام ہیں لیکن خدا اُن کو کھانا دیتا  ہے۔‏ کیا آپ پرندوں سے زیادہ اہم نہیں ہیں؟‏ .‏ .‏ .‏ ذرا جنگلی پھولوں کو دیکھیں۔‏ وہ کیسے بڑھتے ہیں؟‏ وہ نہ تو محنت کرتے ہیں اور نہ ہی دھاگہ کاتتے ہیں۔‏ لیکن مَیں آپ سے کہتا ہوں کہ سلیمان بادشاہ بھی اِتنا شان‌دار لباس نہیں پہنتے تھے جتنا یہ پھول پہنتے ہیں۔‏ .‏ .‏ .‏ لہٰذا یہ فکر چھوڑ دیں کہ آپ کیا کھائیں گے یا کیا پئیں گے اور حد سے زیادہ پریشان مت ہوں۔‏ .‏ .‏ .‏ آپ کا آسمانی باپ جانتا ہے کہ آپ کو اِن چیزوں کی ضرورت ہے۔‏ .‏ .‏ .‏ خدا کی بادشاہت کو اپنی زندگی میں پہلا درجہ دیتے رہیں پھر یہ چیزیں بھی آپ کو دی جائیں گی۔‏“‏—‏لُوقا 12:‏22-‏31؛‏ متی 6:‏25-‏33‏۔‏

کون لوگ خدا کی بادشاہت کو اپنی زندگی میں پہلا درجہ دیں گے؟‏ یسوع مسیح نے بتایا کہ ایک ’‏چھوٹا گلّہ‘‏ یعنی خدا کے وفادار بندوں کا ایک چھوٹا گروہ ایسا کرے گا۔‏ بعد میں خدا نے آشکارا کِیا کہ اِن کی تعداد 1 لاکھ 44 ہزار ہوگی۔‏ اِن لوگوں کو اِنعام میں کیا ملے گا؟‏ یسوع مسیح نے اُن سے کہا:‏ ”‏آپ کے باپ نے آپ کو بادشاہت دینے کا فیصلہ کِیا ہے۔‏“‏ اِن لوگوں کا دھیان زمین پر خزانے جمع کرنے پر نہیں ہوگا جہاں چور ڈاکا ڈالتے ہیں۔‏ اِس کی بجائے اُن کا دل ”‏آسمان پر لازوال خزانہ جمع“‏ کرنے پر ہوگا جہاں وہ یسوع مسیح کے ساتھ حکمرانی کریں گے۔‏—‏لُوقا 12:‏32-‏34‏۔‏