مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب 47

یائیر کی بیٹی زندہ ہو گئی!‏

یائیر کی بیٹی زندہ ہو گئی!‏

متی 9:‏18،‏ 23-‏26 مرقس 5:‏22-‏24،‏ 35-‏43 لُوقا 8:‏40-‏42،‏ 49-‏56

  • یسوع مسیح نے ایک چھوٹی لڑکی کو زندہ کر دیا

یائیر کا خیال تھا کہ اب تک اُن کی بچی ”‏مر چکی ہوگی۔‏“‏ (‏متی 9:‏18‏)‏ لیکن جب اُنہوں نے دیکھا کہ وہ عورت ٹھیک ہو گئی ہے جس کو خون آتا تھا تو اُن کو ضرور حوصلہ ملا ہوگا۔‏ یقیناً یسوع مسیح اُن کی بچی کے لیے بھی کچھ کر سکتے تھے۔‏

ابھی یسوع مسیح اُس عورت سے بات کر ہی رہے تھے کہ یائیر کے گھر سے کچھ آدمی آئے اور کہنے لگے:‏ ”‏آپ کی بیٹی مر گئی ہے۔‏“‏ پھر اُن آدمیوں نے کہا:‏ ”‏اب اُستاد کو تکلیف دینے کا کیا فائدہ؟‏“‏—‏مرقس 5:‏35‏۔‏

یہ بُری خبر سُن کر یائیر بالکل ٹوٹ گئے ہوں گے۔‏ حالانکہ وہ اِتنے اثرورسوخ والے تھے لیکن اِس صورتحال میں وہ بالکل بےبس تھے۔‏ مگر یسوع مسیح نے اُن آدمیوں کی بات سُن لی اور یائیر سے کہا:‏ ”‏پریشان مت ہوں بلکہ ایمان رکھیں۔‏“‏—‏مرقس 5:‏36‏۔‏

جب یسوع مسیح،‏ یائیر کے گھر پہنچے تو وہاں شور مچا ہوا تھا۔‏ گھر میں بہت سے لوگ جمع تھے اور دھاڑیں مارمار کر رو رہے تھے اور ماتم کر رہے تھے۔‏ یسوع نے اندر جا کر لوگوں سے کہا:‏ ”‏بچی مری نہیں بلکہ سو رہی ہے۔‏“‏ (‏مرقس 5:‏39‏)‏ یہ سُن کر لوگ اُن کا مذاق اُڑانے لگے کیونکہ اُنہیں معلوم تھا کہ لڑکی واقعی مر چُکی ہے۔‏ لیکن یسوع مسیح جانتے تھے کہ خدا کی طاقت سے وہ مُردوں کو اُتنی ہی آسانی سے زندہ کر سکتے ہیں جتنی آسانی سے ایک شخص کو گہری نیند سے جگایا جا سکتا ہے۔‏

یسوع مسیح نے گھر میں موجود سب لوگوں کو باہر بھیج دیا سوائے پطرس،‏ یوحنا،‏ یعقوب اور لڑکی کے ماں باپ کے۔‏ پھر وہ سب اُس کمرے میں گئے جہاں بچی کی لاش پڑی ہوئی تھی۔‏ یسوع مسیح نے بچی کا ہاتھ پکڑا اور اُس سے کہا:‏ ”‏تلیتا قومی!‏“‏ جس کا ترجمہ ہے:‏ ”‏بچی،‏ مَیں تُم سے کہتا ہوں اُٹھ جاؤ۔‏“‏ (‏مرقس 5:‏41‏)‏ وہ بچی فوراً اُٹھ گئی اور چلنے پھرنے لگی۔‏ یہ دیکھ کر اُس کے ماں باپ خوشی سے پاگل ہو گئے۔‏ پھر یسوع نے کہا:‏ ”‏اِس کو کچھ کھانے کو دیں۔‏“‏

پہلے بھی جب یسوع مسیح نے کسی کو شفا دی تھی تو اُنہوں نے ساتھ میں یہ تاکید بھی کی تھی کہ کسی کو اِس واقعے کے بارے میں نہ بتائیں۔‏ اِس بار بھی اُنہوں نے ایسا ہی کِیا۔‏ لیکن بچی کے والدین اور وہاں موجود دوسرے لوگ اِتنے خوش تھے کہ اُنہوں نے اِس واقعے کا چرچا کِیا اور یوں اِس کی خبر ”‏سارے علاقے میں پھیل گئی۔‏“‏ (‏متی 9:‏26‏)‏ اور واقعی،‏ اگر ہمارے کسی عزیز کو زندہ کِیا جاتا تو یقیناً ہم بھی خوشی کے مارے یہ بات سب کو بتاتے۔‏ پاک کلام کے مطابق یہ دوسری بار تھا کہ یسوع مسیح نے ایک مُردے کو زندہ کِیا۔‏