مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب 52

چند مچھلیوں اور روٹیوں سے ہزاروں سیر

چند مچھلیوں اور روٹیوں سے ہزاروں سیر

متی 14:‏13-‏21 مرقس 6:‏30-‏44 لُوقا 9:‏10-‏17 یوحنا 6:‏1-‏13

  • یسوع مسیح نے 5000 آدمیوں کو کھانا کھلایا

جب 12 رسول پورے گلیل میں مُنادی کر چُکے تو وہ یسوع کے پاس لوٹ آئے اور اُن کو ”‏وہ سب کچھ بتایا جو اُنہوں نے کِیا تھا اور سکھایا تھا۔‏“‏ ظاہری بات ہے کہ اب وہ بہت تھک گئے تھے۔‏ لیکن یسوع مسیح کے پاس بہت سے لوگ آ جا رہے تھے اِس لیے اُن کے پاس کھانا کھانے کی بھی فرصت نہیں تھی۔‏ لہٰذا یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏آئیں،‏ کسی سنسان جگہ چلیں تاکہ ہم اکیلے میں کچھ وقت گزار سکیں اور تھوڑا سا آرام کر سکیں۔‏“‏—‏مرقس 6:‏30،‏ 31‏۔‏

وہ کفرنحوم کے نزدیک ایک کشتی میں سوار ہو کر ایک سنسان علاقے کے لیے روانہ ہو گئے جو دریائےاُردن کے مشرق میں بیت‌صیدا کے آس‌پاس تھا۔‏ لیکن بہت سے لوگوں نے اُن کو جاتے دیکھ لیا اور دوسروں کو بھی اِس بات کی خبر ہو گئی۔‏ اِس لیے لوگ بھاگے بھاگے اُس جگہ گئے جہاں یسوع اور اُن کے ساتھی جا رہے تھے اور اُن سے پہلے وہاں پہنچ گئے۔‏

جب یسوع کشتی سے اُترے تو اُنہوں نے دیکھا کہ بہت سارے لوگ جمع ہیں۔‏ اُنہیں اُن پر بڑا ترس آیا کیونکہ وہ ایسی بھیڑوں کی طرح تھے جن کا کوئی چرواہا نہیں تھا۔‏ اِس لیے یسوع مسیح ”‏اُن کو بہت سی باتوں کی تعلیم دینے لگے۔‏“‏ (‏مرقس 6:‏34‏)‏ اُنہوں نے بیمار لوگوں کو بھی ٹھیک کِیا۔‏ (‏لُوقا 9:‏11‏)‏ جب شام ہوئی تو شاگردوں نے یسوع سے کہا:‏ ”‏یہ جگہ سنسان ہے اور رات ہونے والی ہے۔‏ لوگوں کو آس‌پاس کے گاؤں میں بھیج دیں تاکہ وہ اپنے لیے کھانا خرید سکیں۔‏“‏—‏متی 14:‏15‏۔‏

لیکن یسوع نے کہا:‏ ”‏اُنہیں کہیں جانے کی ضرورت نہیں۔‏ آپ لوگ اُن کو کھانا دیں۔‏“‏ (‏متی 14:‏16‏)‏ حالانکہ یسوع مسیح کو پتہ تھا کہ وہ کیا کرنے والے ہیں لیکن اُنہوں نے فِلپّس کو آزمانے کے لیے اُن سے پوچھا:‏ ”‏ہم اِن سب لوگوں کے لیے روٹی کہاں سے خریدیں گے؟‏“‏ اُنہوں نے یہ سوال فِلپّس سے ہی کیوں کِیا؟‏ کیونکہ فِلپّس شہر بیت‌صیدا سے تھے جو قریب ہی واقع تھا۔‏ مگر وہاں تو 5000 آدمی تھے اور عورتوں اور بچوں کو ملا کر لوگوں کی تعداد 10 ہزار سے زیادہ تھی۔‏ اِتنے زیادہ لوگوں کے لیے روٹیاں خریدنا کیسے ممکن تھا؟‏ اِس لیے فِلپّس نے کہا:‏ ”‏اگر ہم 200 دینار [‏جو کہ 200 دن کی مزدوری تھی]‏ کی روٹیاں بھی خریدیں تو یہ اِتنے سارے لوگوں کے لیے کافی نہیں ہوں گی۔‏“‏—‏یوحنا 6:‏5-‏7‏۔‏

اندریاس بھی اِس بات سے متفق تھے۔‏ اِس لیے اُنہوں نے کہا:‏ ”‏دیکھیں،‏ اِس بچے کے پاس جَو کی پانچ روٹیاں اور دو چھوٹی مچھلیاں ہیں۔‏ لیکن اِن سے کیا بنے گا؟‏“‏—‏یوحنا 6:‏9‏۔‏

سن 32ء کی عیدِفسح نزدیک تھی اور بہار کا موسم تھا۔‏ لہٰذا جس پہاڑ پر یسوع اور وہ سب لوگ تھے،‏ وہاں ہری ہری گھاس تھی۔‏ یسوع نے شاگردوں سے کہا کہ وہ لوگوں کو پچاس پچاس اور سو سو کی ٹولیوں میں گھاس پر بٹھا دیں۔‏ پھر یسوع مسیح نے وہ پانچ روٹیاں اور دو مچھلیاں لیں اور دُعا کی۔‏ اِس کے بعد اُنہوں نے اِن کو توڑ توڑ کر شاگردوں کو دیا جنہوں نے اِنہیں لوگوں میں تقسیم کر دیا۔‏ وہاں موجود سب لوگوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔‏ یہ بڑا ہی شان‌دار معجزہ تھا!‏

بعد میں یسوع مسیح نے شاگردوں سے کہا:‏ ”‏جو ٹکڑے بچ گئے ہیں،‏ اُنہیں جمع کر لیں تاکہ کچھ ضائع نہ ہو۔‏“‏ (‏یوحنا 6:‏12‏)‏ جب شاگردوں نے بچی ہوئی روٹیاں جمع کیں تو اُن سے 12 ٹوکرے بھر گئے۔‏