مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب 26

‏”‏آپ کے گُناہ معاف ہو گئے ہیں“‏

‏”‏آپ کے گُناہ معاف ہو گئے ہیں“‏

متی 9:‏1-‏8 مرقس 2:‏1-‏12 لُوقا 5:‏17-‏26

  • یسوع مسیح نے ایک فالج‌زدہ شخص کے گُناہ معاف کیے اور اُسے شفا دی

اب یسوع مسیح کا چرچا دُوردراز علاقوں میں بھی ہو گیا تھا۔‏ وہ جہاں کہیں بھی ہوتے،‏ لوگ اُن سے تعلیم اور شفا پانے کے لیے اُن کے پاس جاتے۔‏ کچھ عرصہ سنسان جگہوں میں رہنے کے بعد یسوع مسیح دوبارہ سے کفرنحوم آئے جہاں وہ اکثر ٹھہرا کرتے تھے۔‏ جلد ہی گلیل کی جھیل کے کنارے واقع اِس شہر میں یہ خبر پھیل گئی کہ یسوع مسیح واپس آ گئے ہیں۔‏ اِس وجہ سے بہت سے لوگ اُس گھر میں جمع ہو گئے جہاں یسوع تھے۔‏ اِن لوگوں میں فریسی اور شریعت کے اُستاد بھی شامل تھے جو گلیل اور یہودیہ کے کونے کونے سے آئے تھے۔‏ کچھ تو یروشلیم سے بھی آئے تھے۔‏

اُس گھر میں اِتنے لوگ جمع ہو گئے کہ گھر کھچاکھچ بھر گیا،‏ یہاں تک کہ دروازے سے اندر آنا بھی مشکل ہو گیا۔‏ پھر ”‏یسوع لوگوں کو خوش‌خبری سنانے لگے۔‏“‏ (‏مرقس 2:‏2‏)‏ اِس کے بعد جو کچھ ہوا،‏ اُس سے پتہ چلتا ہے کہ یسوع مسیح کو دُکھ،‏ تکلیف اور بیماریوں کی جڑ کو دُور کرنے کا اِختیار ملا ہے اور وہ جسے بھی چاہیں،‏ اُسے شفا دے سکتے ہیں۔‏

جب یسوع مسیح گھر میں بیٹھے تعلیم دے رہے تھے تو چار آدمی ایک فالج‌زدہ شخص کو ایک چارپائی پر اُٹھا کر لائے۔‏ وہ چاہتے تھے کہ یسوع مسیح اُن کے دوست کو ٹھیک کر دیں۔‏ لیکن گھر میں بِھیڑ اِتنی زیادہ تھی کہ اُس شخص کو ”‏یسوع کے پاس لانا ممکن نہیں تھا۔‏“‏ (‏مرقس 2:‏4‏)‏ اُس شخص کے دوست اِس مایوس‌کُن صورتحال سے کیسے نمٹے؟‏ وہ گھر کی چھت پر چڑھ گئے۔‏ پھر اُنہوں نے چھت میں ایک بڑا سا سوراخ کر کے اپنے دوست کو چارپائی سمیت اُس جگہ اُتار دیا جہاں یسوع مسیح تھے۔‏

کیا یسوع مسیح یہ دیکھ کر ناراض ہوئے؟‏ نہیں بلکہ وہ اُن لوگوں کے ایمان کو دیکھ کر بہت متاثر ہوئے۔‏ اُنہوں نے فالج‌زدہ شخص سے کہا:‏ ”‏آپ کے گُناہ معاف ہو گئے ہیں۔‏“‏ (‏متی 9:‏2‏)‏ مگر کیا یسوع مسیح واقعی گُناہ معاف کرنے کا اِختیار رکھتے تھے؟‏ شریعت کے اُستادوں اور فریسیوں کو یسوع کی یہ بات بالکل اچھی نہیں لگی اور وہ سوچنے لگے:‏ ”‏یہ آدمی کیا کہہ رہا ہے؟‏ یہ تو کفر بک رہا ہے!‏ بھلا خدا کے سوا بھی کوئی گُناہ معاف کر سکتا ہے؟‏“‏—‏مرقس 2:‏7‏۔‏

یسوع مسیح جانتے تھے کہ وہ لوگ کیا سوچ رہے ہیں اِس لیے اُنہوں نے کہا:‏ ”‏آپ اپنے دل میں ایسی باتیں کیوں سوچ رہے ہیں؟‏ اِس آدمی سے کیا کہنا زیادہ آسان ہے؟‏ ”‏آپ کے گُناہ معاف ہوئے“‏ یا ”‏اُٹھیں،‏ اپنی چارپائی اُٹھائیں اور چلیں پھریں“‏؟‏“‏ (‏مرقس 2:‏8،‏ 9‏)‏ بِلاشُبہ یسوع مسیح اُس قربانی کی بِنا پر جو اُنہوں نے دینی تھی،‏ اُس شخص کے گُناہ معاف کر سکتے تھے۔‏

پھر یسوع مسیح نے وہاں موجود سب لوگوں پر ثابت کِیا کہ اُنہیں زمین پر گُناہ معاف کرنے کا اِختیار دیا گیا ہے۔‏ اُنہوں نے اُس فالج‌زدہ شخص کی طرف دیکھ کر کہا:‏ ”‏مَیں آپ سے کہتا ہوں کہ اُٹھیں!‏ اپنی چارپائی اُٹھائیں اور اپنے گھر چلے جائیں۔‏“‏ وہ شخص فوراً اُٹھ گیا اور اپنی چارپائی اُٹھا کر سب کے سامنے باہر چلا گیا۔‏ یہ دیکھ کر سب لوگ ہکابکا رہ گئے اور یہ کہتے ہوئے خدا کی بڑائی کرنے لگے کہ ”‏ہم نے پہلے کبھی ایسا نہیں دیکھا۔‏“‏—‏مرقس 2:‏11،‏ 12‏۔‏

یسوع مسیح نے اِس موقعے پر جو کچھ کہا،‏ اِس سے پتہ چلتا ہے کہ گُناہ اور بیماری کا آپس میں تعلق ہے۔‏ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ سب سے پہلے اِنسان آدم نے گُناہ کِیا تھا اور آدم کی اولاد ہونے کے ناتے تمام اِنسانوں نے گُناہ کے اثرات یعنی بیماری اور موت ورثے میں پائے ہیں۔‏ مگر مستقبل میں یسوع مسیح خدا کی بادشاہت کے بادشاہ کے طور پر اُن تمام لوگوں کے گُناہ معاف کریں گے جو خدا سے محبت کرتے ہیں اور اُس کی خدمت کرتے ہیں۔‏ تب ہر طرح کی بیماری کا نام‌ونشان ہمیشہ کے لیے مٹ جائے گا۔‏—‏رومیوں 5:‏12،‏ 18،‏ 19‏۔‏