مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب 29

کیا سبت کے دن اچھے کام کرنا جائز ہے؟‏

کیا سبت کے دن اچھے کام کرنا جائز ہے؟‏

یوحنا 5:‏1-‏16

  • یسوع مسیح نے یہودیہ میں مُنادی کی

  • بیت‌زاتا کے تالاب پر شفا

یسوع مسیح گلیل میں اپنے دورِخدمت کے دوران بہت کچھ انجام دے چُکے تھے۔‏ لیکن جب اُنہوں نے کہا تھا کہ ”‏مجھے دوسرے شہروں میں بھی خدا کی بادشاہت کی خوش‌خبری سنانی ہے“‏ تو وہ صرف گلیل کے شہروں کی بات نہیں کر رہے تھے۔‏ اِس لیے اُنہوں نے یہودیہ کا سفر کِیا اور وہاں کی ”‏عبادت‌گاہوں میں [‏بھی]‏ مُنادی کرنے لگے۔‏“‏ (‏لُوقا 4:‏43،‏ 44‏)‏ یہ یہودیہ جانے کا اچھا وقت تھا کیونکہ یسوع مسیح کو ویسے بھی ایک عید منانے کے لیے یروشلیم جانا تھا۔‏

اناجیل میں ہم گلیل میں یسوع مسیح کے دورِخدمت کے بارے میں تو بہت کچھ پڑھتے ہیں لیکن یہودیہ میں اُن کی خدمت کے بارے میں اِتنا کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔‏ شاید اِس کی وجہ یہ ہو کہ یہودیہ میں کم ہی لوگوں نے یسوع مسیح کے پیغام کو قبول کِیا۔‏ مگر اِس کے باوجود یسوع وہاں بادشاہت کی خوش‌خبری سناتے رہے اور اچھے کام کرتے رہے۔‏

یسوع مسیح 31ء کی عیدِفسح منانے کے لیے یہودیہ کے مرکزی شہر یروشلیم پہنچ گئے۔‏ وہ بھیڑ دروازے کے پاس سے گزرے جہاں بیت‌زاتا نامی ایک تالاب تھا۔‏ اِس تالاب کے اِردگِرد برآمدے تھے جن میں بہت سے بیمار،‏ اندھے اور لنگڑے لوگ پڑے تھے۔‏ یہ لوگ اِس لیے یہاں آئے تھے کیونکہ خیال کِیا جاتا تھا کہ جب اِس تالاب کا پانی ہلنے لگتا تھا اور کوئی بیمار شخص اِس میں اُتر جاتا تھا تو وہ ٹھیک ہو جاتا تھا۔‏

یہ سبت کا دن تھا۔‏ تالاب سے گزرتے وقت یسوع مسیح کی نظر ایک آدمی پر پڑی جو 38 سال سے بیمار تھا۔‏ اُنہوں نے اُس سے پوچھا:‏ ”‏کیا آپ تندرست ہونا چاہتے ہیں؟‏“‏ اُس آدمی نے جواب دیا:‏ ”‏جناب،‏ میرے پاس کوئی نہیں جو مجھے اُس وقت تالاب میں اُتارے جب پانی ہلتا ہے۔‏ اِس لیے جب تک مَیں وہاں پہنچتا ہوں،‏ کوئی اَور تالاب میں اُتر جاتا ہے۔‏“‏—‏یوحنا 5:‏6،‏ 7‏۔‏

پھر یسوع مسیح نے ایک ایسی بات کہی جسے سُن کر وہ آدمی اور آس‌پاس کھڑے لوگ حیران ہوئے ہوں گے۔‏ اُنہوں نے اُس آدمی سے کہا:‏ ”‏اُٹھیں!‏ اپنی چٹائی اُٹھائیں اور چلیں پھریں۔‏“‏ (‏یوحنا 5:‏8‏)‏ اِس پر وہ آدمی فوراً ٹھیک ہو گیا اور اپنی چٹائی اُٹھا کر چلنے پھرنے لگا۔‏ یہ کتنی خوشی کی بات تھی!‏

لیکن کیا وہاں موجود یہودی اِس معجزے کو دیکھ کر خوش ہوئے؟‏ بالکل نہیں بلکہ اُنہوں نے اُس آدمی کو ٹوکا اور کہا:‏ ”‏آج سبت کا دن ہے اور چٹائی اُٹھانا جائز نہیں!‏“‏ آدمی نے جواب دیا:‏ ”‏جس شخص نے مجھے تندرست کِیا،‏ اُسی نے مجھ سے کہا کہ اپنی چٹائی اُٹھاؤ اور چلو پھرو۔‏“‏ (‏یوحنا 5:‏10،‏ 11‏)‏ اُن یہودیوں کو اِس بات پر اِعتراض تھا کہ اِس آدمی کو سبت کے دن شفا کیوں دی گئی۔‏

اِس لیے اُنہوں نے اُس آدمی سے پوچھا:‏ ”‏وہ کون ہے جس نے تمہیں چٹائی اُٹھانے اور چلنے پھرنے کو کہا؟‏“‏ مگر وہ آدمی اُن کو نہیں بتا سکا کہ کس نے اُس کو ٹھیک کِیا تھا کیونکہ ”‏یسوع بِھیڑ میں آگے نکل گئے تھے“‏ اور وہ یسوع کا نام نہیں جانتا تھا۔‏ (‏یوحنا 5:‏12،‏ 13‏)‏ لیکن بعد میں جب یہ آدمی ہیکل میں تھا تو اُس کی یسوع مسیح سے دوبارہ ملاقات ہوئی۔‏ تب وہ جان گیا کہ کس نے اُس کو شفا دی تھی۔‏

یہ آدمی اُن یہودیوں کے پاس گیا جنہوں نے اُس سے پوچھا تھا کہ کس نے اُس کو شفا دی۔‏ اُس نے اُنہیں بتایا کہ یسوع نے اُس کو ٹھیک کِیا تھا۔‏ یہ سُن کر وہ یہودی یسوع مسیح کے پاس گئے اور اُن کی نکتہ‌چینی کرنے لگے کہ اُنہوں نے سبت کے دن شفا کیوں دی۔‏ ذرا سوچیں،‏ اِس معجزے پر خدا کی بڑائی کرنے کی بجائے وہ لوگ یسوع مسیح کی مخالفت کرنے لگے۔‏ یہ کتنی افسوس کی بات تھی!‏