مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب 128

پیلاطُس اور ہیرودیس کی نظر میں بےقصور

پیلاطُس اور ہیرودیس کی نظر میں بےقصور

متی 27:‏12-‏14،‏ 18،‏ 19 مرقس 15:‏2-‏5 لُوقا 23:‏4-‏16 یوحنا 18:‏36-‏38

  • یسوع مسیح پیلاطُس اور ہیرودیس کے سامنے

یسوع مسیح نے پیلاطُس سے یہ چھپانے کی کوشش نہیں کی کہ وہ واقعی بادشاہ ہیں۔‏ مگر اُن کی بادشاہت سے رومی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں تھا۔‏ یسوع نے کہا:‏ ”‏میری بادشاہت کا اِس دُنیا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‏ اگر اِس کا دُنیا سے تعلق ہوتا تو میرے خادم لڑتے تاکہ مَیں یہودیوں کے حوالے نہ کِیا جاتا۔‏ لیکن میری بادشاہت یہاں کی نہیں ہے۔‏“‏ (‏یوحنا 18:‏36‏)‏ بِلاشُبہ یسوع مسیح ایک بادشاہ تھے لیکن اُن کی بادشاہت کا اِس دُنیا سے کوئی تعلق نہیں تھا۔‏

پیلاطُس نے یسوع کی بات سے نتیجہ اخذ کر لیا کہ وہ ایک بادشاہ ہیں لیکن پھر بھی اُس نے یسوع سے دوبارہ پوچھا:‏ ”‏کیا تُم ایک بادشاہ ہو؟‏“‏ یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ پیلاطُس صحیح نتیجے پر پہنچا ہے،‏ یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏آپ نے خود ہی کہہ دیا کہ مَیں ایک بادشاہ ہوں۔‏ مَیں اِسی لیے پیدا ہوا اور دُنیا میں آیا تاکہ سچائی کے بارے میں گواہی دوں۔‏ جو شخص سچائی کی طرف ہے،‏ وہ میری سنتا ہے۔‏“‏—‏یوحنا 18:‏37‏۔‏

کچھ عرصہ پہلے یسوع مسیح نے توما سے کہا تھا:‏ ”‏مَیں راستہ اور سچائی اور زندگی ہوں۔‏“‏ اب اُنہوں نے پیلاطُس پر ظاہر کِیا کہ اُنہیں سچائی کے بارے میں گواہی دینے کے لیے زمین پر بھیجا گیا تھا،‏ خاص طور پر بادشاہت کے سلسلے میں سچائی کے بارے میں۔‏ یسوع مسیح کا عزم تھا کہ وہ اِس سچائی کے بارے میں گواہی دیتے رہیں گے،‏ خواہ اِس کے لیے اُنہیں اپنی جان بھی کیوں نہ دینی پڑے۔‏ مگر پیلاطُس نے پوچھا:‏ ”‏سچائی کیا ہے؟‏“‏ لیکن اُسے جواب جاننے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔‏ اُسے لگتا تھا کہ اب اُس کے پاس یسوع پر فیصلہ سنانے کے لیے کافی معلومات ہیں۔‏—‏یوحنا 14:‏6؛‏ 18:‏38‏۔‏

پیلاطُس دوبارہ سے اُن یہودیوں کے پاس گیا جو اُس کے گھر کے باہر کھڑے تھے۔‏ غالباً وہ یسوع مسیح کو بھی اپنے ساتھ لے گیا۔‏ اُس نے اعلیٰ کاہنوں اور باقی لوگوں سے کہا:‏ ”‏میرے خیال میں تو اِس آدمی نے کوئی جُرم نہیں کِیا۔‏“‏ یہ سُن کر اُن لوگوں کو بہت غصہ آیا اور اُنہوں نے کہا:‏ ”‏یہ آدمی تمام یہودیہ میں بلکہ گلیل سے لے کر یہاں تک،‏ سب لوگوں کو اپنی تعلیم سے بھڑکا رہا ہے۔‏“‏—‏لُوقا 23:‏4،‏ 5‏۔‏

پیلاطُس کو اُن یہودیوں کی ہٹ‌دھرمی اور اِنتہاپسندی پر تعجب ہوا ہوگا۔‏ اعلیٰ کاہن اور بزرگ چلّا چلّا کر یسوع مسیح پر اِلزامات لگا رہے تھے۔‏ یہ دیکھ کر پیلاطُس نے یسوع سے کہا:‏ ”‏کیا تُم سُن نہیں رہے کہ وہ تمہارے خلاف کیا کیا کہہ رہے ہیں؟‏“‏ (‏متی 27:‏13‏)‏ لیکن یسوع نے آگے سے کوئی جواب نہیں دیا۔‏ اُن کے پُرسکون رویے کو دیکھ کر پیلاطُس بہت حیران ہوا۔‏

یہودیوں کی بات سے پیلاطُس کو پتہ چلا کہ یسوع مسیح گلیل سے ہیں۔‏ یہ جان کر اُسے یسوع کے خلاف فیصلہ سنانے سے بچنے کا راستہ دِکھائی دیا۔‏ اُس نے یسوع کو ہیرودیس انتپاس (‏یعنی ہیرودیسِ‌اعظم کے بیٹے)‏ کے پاس بھجوا دیا جو گلیل کا حاکم تھا اور عیدِفسح کے موقعے پر یروشلیم میں تھا۔‏ اِسی ہیرودیس نے یوحنا بپتسمہ دینے والے کا سر قلم کروایا تھا۔‏ بعد میں جب اُس نے یسوع مسیح کے معجزوں کے بارے میں سنا تھا تو اُسے یہ فکر ستانے لگی تھی کہ شاید یوحنا بپتسمہ دینے والے زندہ ہو گئے ہیں۔‏—‏لُوقا 9:‏7-‏9‏۔‏

ہیرودیس،‏ یسوع مسیح کو دیکھ کر بہت خوش ہوا۔‏ مگر اِس لیے نہیں کیونکہ وہ یسوع کی مدد کرنا چاہتا تھا یا اُن کے خلاف لگائے گئے اِلزامات کی تہہ تک جانا چاہتا تھا۔‏ اُس کے دل میں تو بس تجسّس تھا اور ”‏وہ یسوع کو کوئی معجزہ کرتے ہوئے دیکھنا چاہتا تھا۔‏“‏ (‏لُوقا 23:‏8‏)‏ مگر یسوع نے اُس کی خواہش پوری نہیں کی۔‏ ہیرودیس نے یسوع مسیح سے سوال پر سوال پوچھے لیکن اُنہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔‏ اِس پر ہیرودیس اور اُس کے سپاہیوں نے یسوع کی ”‏بےعزتی کی۔‏“‏ (‏لُوقا 23:‏11‏)‏ اُنہوں نے یسوع کو شان‌دار کپڑے پہنائے اور اُن کا مذاق اُڑایا۔‏ پھر ہیرودیس نے یسوع کو واپس پیلاطُس کے پاس بھیج دیا۔‏ حالانکہ ہیرودیس اور پیلاطُس ایک دوسرے کے دُشمن تھے لیکن اُس دن سے اُن میں دوستی ہو گئی۔‏

جب یسوع مسیح،‏ پیلاطُس کے پاس واپس آئے تو پیلاطُس نے اعلیٰ کاہنوں،‏ یہودیوں کے پیشواؤں اور باقی لوگوں کو بلوایا اور اُن سے کہا:‏ ”‏جب مَیں نے تمہارے سامنے اِس [‏آدمی]‏ سے پوچھ‌گچھ کی تو مَیں نے دیکھا کہ تمہارے اِلزام بےبنیاد ہیں۔‏ اور ہیرودیس بھی اِسی نتیجے پر پہنچے کیونکہ اُنہوں نے اِسے ہمارے پاس واپس بھیج دیا ہے۔‏ دیکھو!‏ اِس نے کوئی ایسا کام نہیں کِیا جس کے لیے اِسے  سزائےموت دی جائے۔‏ اِس لیے مَیں اِس کو کوڑے لگواؤں گا اور پھر رِہا کر دوں گا۔‏“‏—‏لُوقا 23:‏14-‏16‏۔‏

پیلاطُس جانتا تھا کہ کاہنوں نے حسد کی وجہ سے یسوع مسیح کو اُس کے حوالے کِیا ہے اِس لیے وہ اُن کو رِہا کرنا چاہتا تھا۔‏ پھر ایک ایسی بات ہوئی جس کی وجہ سے وہ یسوع کو رِہا کرنے کی اَور بھی زیادہ کوشش کرنے لگا۔‏ جب وہ تختِ‌عدالت پر بیٹھا تھا تو اُس کی بیوی نے اُس کو پیغام بھیجا کہ ”‏آپ اِس نیک آدمی کے معاملے میں نہ پڑیں کیونکہ اِس کی وجہ سے مَیں نے آج خواب میں بڑی تکلیف اُٹھائی ہے۔‏“‏ (‏متی 27:‏19‏)‏ یقیناً یہ خواب خدا کی طرف سے تھا۔‏

پیلاطُس اِس بےقصور آدمی کو رِہا کرنے کے لیے اَور کیا کر سکتا تھا؟‏