مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب 127

پہلے عدالتِ‌عظمیٰ اور پھر پیلاطُس کے سامنے

پہلے عدالتِ‌عظمیٰ اور پھر پیلاطُس کے سامنے

متی 27:‏1-‏11 مرقس 15:‏1 لُوقا 22:‏66–‏23:‏3 یوحنا 18:‏28-‏35

  • عدالتِ‌عظمیٰ صبح سویرے یسوع کے مُقدمے کے لیے دوبارہ جمع ہوئی

  • یہوداہ اِسکریوتی نے خودکُشی کر لی

  • یسوع مسیح کو پیلاطُس کے حوالے کر دیا گیا

جب پطرس نے تیسری بار یسوع مسیح کو جاننے سے اِنکار کِیا تو رات تقریباً گزر چُکی تھی۔‏ یسوع پر مُقدمہ چلانے کے بعد عدالتِ‌عظمیٰ کے رُکن اپنے اپنے گھر چلے گئے تھے۔‏ لیکن جمعے کو پَو پھٹتے ہی وہ لوگ دوبارہ سے جمع ہوئے۔‏ وہ اُس غیرقانونی مُقدمے کو قانونی جامہ پہنانا چاہتے تھے جو اُنہوں نے رات کو چلایا تھا۔‏ اِس لیے اُنہوں نے یسوع کو عدالت‌گاہ میں بلوایا۔‏

عدالتِ‌عظمیٰ نے ایک بار پھر سے یسوع سے کہا:‏ ”‏اگر تُم مسیح ہو تو ہمیں صاف صاف بتاؤ!‏“‏ یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏اگر مَیں آپ کو بتا بھی دیتا تو آپ یقین نہ کرتے۔‏ اور اگر مَیں آپ سے سوال کرتا تو آپ مجھے کوئی جواب نہ دیتے۔‏“‏ پھر یسوع نے دلیری سے ظاہر کِیا کہ وہی وہ آدم‌زاد (‏یعنی اِنسان کا بیٹا)‏ ہیں جس کے بارے میں دانی‌ایل 7:‏13 میں پیش‌گوئی کی گئی تھی۔‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏اب سے اِنسان کا بیٹا قدرت والے خدا کے دائیں طرف بیٹھے گا۔‏“‏—‏لُوقا 22:‏67-‏69؛‏ متی 26:‏63‏۔‏

عدالتِ‌عظمیٰ نے کہا:‏ ”‏تو پھر کیا تُم خدا کے بیٹے ہو؟‏“‏ یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏آپ نے خود ہی کہہ دیا کہ مَیں ہوں۔‏“‏ اُن لوگوں کے خیال میں یسوع کی یہ بات خدا کے خلاف کفر بکنے کے برابر تھی جس کے لیے وہ سزائےموت کے لائق تھے۔‏ اِس لیے اُنہوں نے کہا:‏ ”‏اب ہمیں گواہوں کی کیا ضرورت ہے؟‏“‏ (‏لُوقا 22:‏70،‏ 71؛‏ مرقس 14:‏64‏)‏ پھر اُنہوں نے یسوع کو باندھا اور اُنہیں رومی حاکم پیلاطُس کے پاس لے گئے۔‏

ہو سکتا ہے کہ یہوداہ اِسکریوتی نے یہ دیکھا ہو کہ یسوع مسیح کو پیلاطُس کے پاس لے جایا جا رہا ہے۔‏ جب یہوداہ کو پتہ چلا کہ یسوع کو قصوروار ٹھہرایا گیا ہے تو وہ پریشان ہو گیا اور اُسے پچھتاوا ہوا۔‏ لیکن توبہ کر کے خدا سے معافی مانگنے کی بجائے وہ چاندی کے 30 سِکے اعلیٰ کاہنوں کو واپس کرنے گیا۔‏ یہوداہ نے اُن سے کہا:‏ ”‏مَیں نے ایک بےگُناہ آدمی کو آپ کے حوالے کر کے گُناہ کِیا ہے۔‏“‏ لیکن اعلیٰ کاہنوں نے اُسے یہ کرخت جواب دیا:‏ ”‏تو ہم کیا کریں؟‏ یہ تمہارا مسئلہ ہے،‏ تُم جانو!‏“‏—‏متی 27:‏4‏۔‏

اِس پر یہوداہ اُن 30 سِکوں کو ہیکل میں پھینک کر چلا گیا۔‏ پھر اُس نے اپنے گُناہوں میں اِضافہ کرتے ہوئے خودکُشی کرنے کی کوشش کی۔‏ جب وہ ایک درخت سے خود کو پھانسی لگا رہا تھا تو غالباً وہ شاخ ٹوٹ گئی جس پر اُس نے رسی باندھی تھی اور وہ نیچے پتھروں پر گِر گیا جہاں اُس کا پیٹ پھٹ گیا۔‏—‏اعمال 1:‏17،‏ 18‏۔‏

جب یہودی یسوع مسیح کو پُنطیُس پیلاطُس کی رہائش‌گاہ میں لائے تو ابھی صبح سویرے کا ہی وقت تھا۔‏ مگر وہ خود رہائش‌گاہ میں داخل نہیں ہوئے کیونکہ اُنہیں ڈر تھا  کہ کسی غیریہودی کے گھر میں داخل ہونے سے وہ ناپاک ہو جائیں گے اور 15 نیسان کا کھانا نہیں کھا سکیں گے۔‏ یہ دن بےخمیری روٹی کی عید کا پہلا دن تھا جسے عیدِفسح کے ساتھ شمار کِیا جاتا تھا۔‏

پیلاطُس نے باہر آ کر اُن یہودیوں سے پوچھا:‏ ”‏تُم اِس آدمی کو یہاں کیوں لائے ہو؟‏ اِس پر کیا اِلزام ہے؟‏“‏ اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏اگر یہ آدمی مُجرم نہ ہوتا تو ہم اِس کو آپ کے حوالے نہ کرتے۔‏“‏ شاید پیلاطُس کو لگا کہ وہ لوگ اُس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‏ اِس لیے اُس نے کہا:‏ ”‏تُم خود اِس کو لے کر جاؤ اور اپنی شریعت کے مطابق اِس کے بارے میں فیصلہ سناؤ۔‏“‏ یہودیوں کے جواب سے ظاہر ہوا کہ وہ ہر صورت میں یسوع مسیح کی موت چاہتے تھے۔‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏کسی کو مار ڈالنا ہمارے لیے جائز نہیں ہے۔‏“‏—‏یوحنا 18:‏29-‏31‏۔‏

اگر یہودیوں کے مذہبی پیشوا یسوع مسیح کو عیدِفسح کے دوران مار ڈالتے تو اُودھم مچ جاتا کیونکہ بہت سے لوگ یسوع کی عزت کرتے تھے۔‏ اِس لیے اُن کی کوشش تھی کہ وہ یسوع پر سیاسی اِلزامات لگا کر اُن کو رومیوں کے ہاتھ سزائےموت دِلوائیں کیونکہ رومی حکومت ہی سزائےموت دینے کا اِختیار رکھتی تھی۔‏ یوں مذہبی پیشوا یسوع کی موت کے ذمےدار نہ ٹھہرائے جاتے۔‏

مذہبی پیشواؤں نے پیلاطُس کو یہ نہیں بتایا کہ اُنہوں نے یسوع کو خدا کے خلاف کفر بکنے کے اِلزام میں قصوروار ٹھہرایا ہے۔‏ اِس کی بجائے اُنہوں نے یسوع پر یہ اِلزام لگائے:‏ ”‏یہ آدمی [‏1]‏ ہماری قوم کو بغاوت کرنے پر اُکساتا ہے،‏ [‏2]‏ قیصر کا ٹیکس ادا کرنے سے منع کرتا ہے اور [‏3]‏ اپنے بارے میں کہتا ہے کہ وہ بادشاہ اور مسیح ہے۔‏“‏—‏لُوقا 23:‏2‏۔‏

پیلاطُس رومی حکومت کا نمائندہ تھا۔‏ اِس لیے جب اُس نے سنا کہ یسوع مسیح پر یہ اِلزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ بادشاہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو وہ پریشان ہو گیا۔‏ وہ اپنی رہائش‌گاہ میں داخل ہوا اور یسوع کو بلوا کر اُن سے پوچھا:‏ ”‏کیا تُم یہودیوں کے بادشاہ ہو؟‏“‏ دوسرے لفظوں میں وہ یہ پوچھ رہا تھا کہ ”‏کیا تُم نے خود کو قیصر کی جگہ بادشاہ قرار دے کر رومی سلطنت کا قانون توڑا ہے؟‏“‏ شاید یسوع یہ جاننا چاہتے تھے کہ پیلاطُس نے اُن کے بارے میں کیا کچھ سنا ہے۔‏ اِس لیے اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏کیا آپ یہ بات اپنی طرف سے کہہ رہے ہیں یا پھر کسی نے آپ کو میرے بارے میں بتایا ہے؟‏“‏—‏یوحنا 18:‏33،‏ 34‏۔‏

پیلاطُس یہ ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ وہ یسوع کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔‏ اِس لیے اُس نے کہا:‏ ”‏مَیں تو یہودی نہیں ہوں۔‏ تمہاری اپنی قوم اور اعلیٰ کاہنوں نے تمہیں میرے حوالے کِیا ہے۔‏“‏ مگر وہ یسوع کے بارے میں جاننا چاہتا تھا اِس لیے اُس نے اُن سے پوچھا:‏ ”‏آخر تُم نے کیا کِیا ہے؟‏“‏—‏یوحنا 18:‏35‏۔‏

یسوع مسیح نے بادشاہ ہونے سے اِنکار نہیں کِیا۔‏ مگر اُنہوں نے پیلاطُس کو جو جواب دیا،‏ اِسے سُن کر وہ یقیناً بہت حیران ہوا ہوگا۔‏