مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب 135

زندہ ہونے کے بعد شاگردوں سے ملاقاتیں

زندہ ہونے کے بعد شاگردوں سے ملاقاتیں

لُوقا 24:‏13-‏49 یوحنا 20:‏19-‏29

  • اِماؤس کے راستے میں دو شاگردوں سے بات‌چیت

  • یسوع مسیح نے کئی موقعوں پر صحیفوں کی وضاحت کی

  • توما کا شک دُور ہو گیا

اِتوار 16 نیسان کو شاگرد بہت اُداس تھے۔‏ اُنہیں معلوم تھا کہ یسوع مسیح کی قبر خالی ہے لیکن وہ یہ سمجھ نہیں پائے کہ یسوع زندہ ہو گئے ہیں۔‏ (‏متی 28:‏9،‏ 10؛‏ لُوقا 24:‏11‏)‏ اُسی دن کلیُپاس ایک اَور شاگرد کے ساتھ یروشلیم سے اِماؤس کے لیے روانہ ہو گئے جو یروشلیم سے تقریباً 11 کلومیٹر (‏7 میل)‏ کے فاصلے پر تھا۔‏

راستے میں وہ دونوں اُن واقعات کے بارے میں بات کر رہے تھے جو حال ہی میں ہوئے تھے۔‏ پھر ایک آدمی اُن کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔‏ اُس نے پوچھا:‏ ”‏آپ آپس میں کس بارے میں بات کر رہے تھے؟‏“‏ کلیُپاس نے کہا:‏ ”‏کیا آپ یروشلیم میں اجنبی ہیں اور اکیلے رہتے ہیں جو آپ کو نہیں پتہ کہ پچھلے دنوں وہاں کیا ہوا ہے؟‏“‏ اُس آدمی نے پوچھا:‏ ”‏کیوں؟‏ کیا ہوا؟‏“‏—‏لُوقا 24:‏17-‏19‏۔‏

اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏کیا آپ کو نہیں پتہ کہ یسوع ناصری کے ساتھ کیا کچھ ہوا؟‏ .‏ .‏ .‏ ہمیں توقع تھی کہ یہ آدمی اِسرائیل کو نجات دِلائے گا۔‏“‏—‏لُوقا 24:‏19-‏21‏۔‏

پھر کلیُپاس اور اُن کے ساتھی نے اُس آدمی کو بتایا کہ اُس دن صبح سویرے جب کچھ عورتیں یسوع مسیح کی قبر پر گئیں تو قبر خالی تھی۔‏ اِن عورتوں نے اپنی آنکھوں سے دو فرشتوں کو بھی دیکھا جنہوں نے اُن کو بتایا کہ یسوع مسیح زندہ ہو گئے ہیں‏۔‏ اِس کے بعد کچھ اَور شاگرد بھی قبر پر گئے اور ”‏اُنہوں نے دیکھا کہ سب کچھ بالکل ویسا ہی ہے جیسا اُن عورتوں نے کہا تھا۔‏“‏—‏لُوقا 24:‏24‏۔‏

کلیُپاس اور اُن کے ساتھی اِن واقعات کی وجہ سے بڑی اُلجھن میں تھے۔‏ وہ مسیح کے بارے میں کچھ غلط‌فہمیوں کا شکار تھے اِس لیے اُس آدمی نے اُن سے کہا:‏ ”‏ارے ناسمجھو!‏ تمہارے دل نبیوں کی باتوں پر یقین کرنے میں سُستی کیوں کرتے ہیں؟‏ کیا لازمی نہیں تھا کہ مسیح یہ سب کچھ سہے اور عظمت حاصل کرے؟‏“‏ (‏لُوقا 24:‏25،‏ 26‏)‏ پھر اُس نے اُنہیں صحیفوں کی وہ تمام باتیں سمجھائیں جو مسیح کے بارے میں تھیں۔‏

آخرکار وہ تینوں اِماؤس کے قریب پہنچ گئے۔‏ کلیُپاس اور اُن کا ساتھی اُس آدمی سے مزید بات‌چیت کرنا چاہتے تھے اِس لیے اُنہوں نے اِصرار کِیا:‏ ”‏ہمارے ساتھ رہیں کیونکہ دن ڈھل رہا ہے اور شام ہونے والی ہے۔‏“‏ لہٰذا وہ آدمی وہاں رُک گیا اور اُن کے ساتھ کھانا کھانے کے لیے بیٹھ گیا۔‏ جب اُس نے روٹی لی،‏ اِس پر دُعا کی اور توڑ کر اُن دونوں کو دی تو وہ پہچان گئے کہ وہ آدمی یسوع ہیں۔‏ لیکن پھر یسوع اُن کی نظروں سے غائب ہو گئے۔‏ (‏لُوقا 24:‏29-‏31‏)‏ اب اِن دو شاگردوں کو پکا یقین ہو گیا کہ یسوع مسیح زندہ ہیں۔‏

وہ خوش ہو کر ایک دوسرے سے کہنے لگے:‏ ”‏جب اُنہوں نے راستے میں ہمارے سامنے صحیفوں کی وضاحت کی تو کیا ہمارے دل جوش سے نہیں بھر گئے تھے؟‏“‏ (‏لُوقا 24:‏32‏)‏ وہ فوراً اُٹھ کر یروشلیم واپس گئے۔‏ وہاں پہنچ کر وہ اُس جگہ گئے جہاں رسول اور باقی شاگرد جمع تھے۔‏ مگر اِس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتے،‏ وہاں موجود لوگوں نے اُنہیں بتایا:‏ ”‏بےشک ہمارے مالک زندہ ہو گئے ہیں۔‏ وہ شمعون کو دِکھائی دیے ہیں۔‏“‏ (‏لُوقا 24:‏34‏)‏ پھر کلیُپاس اور اُن کے ساتھی نے بھی دوسروں کو بتایا کہ اُنہیں یسوع کیسے دِکھائی دیے۔‏

اچانک یسوع اُن کے بیچ میں آ کر کھڑے ہو گئے۔‏ یہ دیکھ کر وہ سب حیران ہو گئے کہ یسوع کمرے میں کیسے داخل ہوئے کیونکہ اُنہوں نے یہودیوں کے ڈر سے دروازوں پر تالا لگایا ہوا تھا۔‏ یسوع مسیح نے اُن سے کہا:‏ ”‏آپ پر سلامتی ہو۔‏“‏ لیکن شاگرد بہت ڈر گئے کیونکہ ”‏اُنہیں لگا کہ وہ کوئی روحانی مخلوق دیکھ رہے ہیں۔‏“‏ ایک بار پہلے بھی وہ ایک ایسی غلط‌فہمی کا شکار ہوئے تھے۔‏—‏لُوقا 24:‏36،‏ 37؛‏ متی 14:‏25-‏27‏۔‏

یسوع مسیح نے اُنہیں اپنے ہاتھ پاؤں دِکھائے تاکہ شاگرد سمجھ جائیں کہ وہ کوئی روحانی مخلوق نہیں ہیں۔‏ پھر یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏آپ گھبرا کیوں رہے ہیں اور آپ کے دل میں شک کیوں پیدا ہو رہے ہیں؟‏ میرے ہاتھوں اور پاؤں کو دیکھیں!‏ یہ مَیں ہی ہوں۔‏ ذرا مجھے چُھو کر تو دیکھیں۔‏ میری ہڈیاں ہیں،‏ گوشت ہے۔‏ کیا روحانی مخلوق کی ہڈیاں اور گوشت ہوتا ہے؟‏“‏ (‏لُوقا 24:‏36-‏39‏)‏ اُن سب کو حیرت اور خوشی تو ہوئی لیکن اُنہیں پھر بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ واقعی یسوع کو دیکھ رہے ہیں۔‏

یہ ثابت کرنے کے لیے کہ وہ کوئی روحانی مخلوق نہیں ہیں،‏ یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏کیا آپ کے پاس کوئی کھانے کی چیز ہے؟‏“‏ اُنہوں نے یسوع کو بھنی  ہوئی مچھلی کا ٹکڑا دیا۔‏ یسوع نے اِسے لے کر اُن کے سامنے کھایا۔‏ اِس کے بعد اُنہوں نے کہا:‏ ”‏یاد ہے کہ جب [‏مرنے سے پہلے]‏ مَیں آپ کے ساتھ تھا تو مَیں نے کہا تھا کہ موسیٰ کی شریعت،‏ نبیوں کے صحیفوں اور زبور میں جتنی باتیں میرے بارے میں لکھی ہیں،‏ وہ ضرور پوری ہوں گی؟‏“‏—‏لُوقا 24:‏41-‏44‏۔‏

جس طرح یسوع مسیح نے کلیُپاس اور اُن کے ساتھی کو صحیفوں میں لکھی ہوئی باتیں سمجھائی تھیں اُسی طرح وہ وہاں موجود شاگردوں کو بھی یہ باتیں سمجھانے لگے۔‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏صحیفوں میں یہی لکھا ہے کہ مسیح کو اذیت اُٹھانی پڑے گی اور تیسرے دن اُسے زندہ کِیا جائے گا اور یروشلیم سے شروع کر کے سب قوموں میں اُس کے نام سے یہ پیغام سنایا جائے گا کہ توبہ کرو تاکہ تمہیں گُناہوں کی معافی حاصل ہو۔‏ آپ اِن باتوں کے بارے میں گواہی دیں گے۔‏“‏—‏لُوقا 24:‏46-‏48‏۔‏

اُس موقعے پر توما رسول وہاں موجود نہیں تھے۔‏ بعد میں باقی شاگردوں نے اُنہیں بتایا:‏ ”‏ہم نے مالک کو دیکھا ہے۔‏“‏ لیکن توما نے کہا:‏ ”‏جب تک مَیں اُن کے ہاتھوں میں کیلوں کے زخم نہیں دیکھوں گا اور اِن میں اُنگلی نہیں ڈالوں گا اور اُن کی پسلیوں میں ہاتھ نہیں ڈالوں گا تب تک مَیں تمہاری بات کا ہرگز یقین نہیں کروں گا۔‏“‏—‏یوحنا 20:‏25‏۔‏

آٹھ دن بعد شاگرد پھر سے ایک گھر میں جمع تھے لیکن اِس بار توما بھی اُن کے ساتھ تھے۔‏ اِس موقعے پر بھی دروازوں کو تالا لگا ہوا تھا لیکن پھر بھی یسوع اندر آ گئے اور کہا:‏ ”‏آپ پر سلامتی ہو۔‏“‏ پھر اُنہوں نے توما سے کہا:‏ ”‏میرے ہاتھوں کو دیکھیں اور اِن میں اُنگلی ڈالیں اور میری پسلیوں میں اپنا ہاتھ ڈالیں اور شک نہ کریں بلکہ یقین کریں۔‏“‏ توما نے اُن سے کہا:‏ ”‏میرے مالک اور میرے خدا!‏“‏ (‏یوحنا 20:‏26-‏28‏)‏ اب اُن کو پکا یقین ہو گیا تھا کہ یسوع مسیح زندہ ہیں۔‏ توما نے یسوع کو ”‏میرے خدا“‏ اِس لیے کہا کیونکہ یسوع مسیح خدا کی طرح ہیں اور واحد اور سچے خدا یہوواہ کے نمائندے ہیں۔‏

یسوع نے توما سے کہا:‏ ”‏کیا مجھے دیکھ کر آپ کو یقین آ گیا ہے؟‏ وہ لوگ خوش رہتے ہیں جو دیکھے بغیر یقین کرتے ہیں۔‏“‏—‏یوحنا 20:‏29‏۔‏