مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب 137

یسوع مسیح سینکڑوں شاگردوں پر ظاہر ہوئے

یسوع مسیح سینکڑوں شاگردوں پر ظاہر ہوئے

متی 28:‏16-‏20 لُوقا 24:‏50-‏52 اعمال 1:‏1-‏12؛‏ 2:‏1-‏4

  • یسوع مسیح بہت سے شاگردوں کو دِکھائی دیے

  • اُنہیں آسمان پر اُٹھا لیا گیا

  • یسوع مسیح نے 120 شاگردوں پر پاک روح نازل کی

یسوع مسیح کے حکم کے مطابق اُن کے 11 رسول گلیل کے ایک پہاڑ پر گئے جہاں یسوع اُن سے ملے۔‏ اُس موقعے پر تقریباً 500 شاگرد بھی موجود تھے۔‏ لیکن اُن میں سے کچھ کو اِس بات پر شک تھا کہ جس شخص کو وہ دیکھ رہے ہیں،‏ وہ یسوع ہے۔‏ (‏متی 28:‏17؛‏ 1-‏کُرنتھیوں 15:‏6‏)‏ مگر یسوع نے اُن سے ایک ایسی بات کہی جس سے اُن سب کو یقین ہو گیا کہ وہ واقعی زندہ ہو گئے ہیں۔‏

یسوع مسیح نے بتایا کہ خدا نے اُنہیں آسمان اور زمین کا سارا اِختیار دیا ہے۔‏ پھر اُنہوں نے یہ حکم دیا:‏ ”‏جائیں،‏ سب قوموں کے لوگوں کو شاگرد بنائیں اور اُن کو باپ اور بیٹے اور پاک روح کے نام سے بپتسمہ دیں۔‏ اور اُن کو اُن سب باتوں پر عمل کرنا سکھائیں جن کا مَیں نے آپ کو حکم دیا ہے۔‏“‏ (‏متی 28:‏18-‏20‏)‏ اِس پر شاگردوں کو پکا یقین ہو گیا کہ یسوع واقعی زندہ ہو گئے ہیں اور اُن کی خواہش ہے کہ بادشاہت کی خوش‌خبری سنانے کا کام آگے بھی جاری رہے۔‏

لہٰذا یسوع مسیح کے تمام پیروکاروں کو جن میں مرد،‏ عورتیں اور بچے شامل ہیں،‏ شاگرد بنانے کے کام میں حصہ لینا چاہیے۔‏ یسوع جانتے تھے کہ مُنادی کرنے اور تعلیم دینے کے کام کی مخالفت کی جائے گی۔‏ اِس لیے اُنہوں نے کہا:‏ ”‏آسمان اور زمین کا سارا اِختیار مجھے دیا گیا ہے۔‏“‏ شاگرد اِس بات سے ہمت کیوں باندھ سکتے تھے؟‏ یسوع مسیح نے آگے کہا:‏ ”‏دیکھیں!‏ مَیں دُنیا کے آخری زمانے تک ہر وقت آپ کے ساتھ رہوں گا۔‏“‏ وہ یہ نہیں کہہ رہے تھے کہ مُنادی کے کام میں حصہ لینے والے تمام شاگردوں کو معجزے کرنے کی طاقت دی جائے گی۔‏ البتہ اُن سب کو پاک روح کی مدد ضرور ملے گی۔‏

زندہ ہونے کے بعد یسوع مسیح 40 دن تک شاگردوں کو دِکھائی دیے۔‏ اِس دوران اُنہوں نے مختلف اِنسانی جسم اپنائے اور ”‏ٹھوس ثبوت دے کر [‏شاگردوں]‏ کو یقین دِلایا کہ وہ زندہ ہو گئے ہیں۔‏“‏ اِس کے ساتھ ساتھ وہ شاگردوں کو ”‏خدا کی بادشاہت کے بارے میں“‏ بھی بتاتے رہے۔‏—‏اعمال 1:‏3؛‏ 1-‏کُرنتھیوں 15:‏7‏۔‏

غالباً رسول ابھی گلیل ہی میں تھے جب یسوع مسیح نے اُنہیں یروشلیم واپس جانے کو کہا۔‏ پھر جب یروشلیم میں یسوع مسیح اور رسولوں کی ملاقات ہوئی تو یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏یروشلیم کو چھوڑ کر نہ جانا بلکہ اُس نعمت کا اِنتظار کرنا جس کا باپ نے وعدہ کِیا ہے اور جس کے بارے میں مَیں آپ کو بتا چُکا ہوں۔‏ کیونکہ یوحنا نے پانی سے بپتسمہ دیا لیکن آپ کو کچھ دن بعد پاک روح سے بپتسمہ دیا جائے گا۔‏“‏—‏اعمال 1:‏4،‏ 5‏۔‏

بعد میں یسوع مسیح پھر سے رسولوں سے ملے اور ”‏اُن کو بیت‌عنیاہ تک لے گئے“‏ جو کوہِ‌زیتون کی مشرقی ڈھلان پر تھا۔‏ (‏لُوقا 24:‏50‏)‏ حالانکہ یسوع نے بار بار ظاہر کِیا تھا کہ وہ آسمان پر جانے والے ہیں لیکن پھر بھی رسولوں کا خیال تھا کہ یسوع زمین پر بادشاہت قائم کریں گے۔‏—‏لُوقا 22:‏16،‏ 18،‏ 30؛‏ یوحنا 14:‏2،‏ 3‏۔‏

رسولوں نے یسوع مسیح سے پوچھا:‏ ”‏مالک،‏ کیا آپ ابھی اِسرائیل کی بادشاہت بحال کریں گے؟‏“‏ یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏یہ آپ کا کام نہیں کہ اُن وقتوں یا زمانوں کے بارے میں جانیں جنہیں مقرر کرنے کا اِختیار باپ نے اپنے پاس رکھا ہے۔‏“‏ پھر اُنہوں نے مُنادی کے کام کی اہمیت کو نمایاں کرنے کے لیے رسولوں سے کہا:‏ ”‏جب پاک روح آپ پر نازل ہوگی تو آپ کو قوت ملے گی اور آپ یروشلیم میں،‏ سارے یہودیہ اور سامریہ میں اور زمین کی اِنتہا تک میرے گواہ ہوں گے۔‏“‏—‏اعمال 1:‏6-‏8‏۔‏

رسول ابھی کوہِ‌زیتون پر ہی تھے کہ یسوع مسیح اُن کی آنکھوں کے سامنے آسمان کی طرف جانے لگے۔‏ پھر ایک بادل نے اُنہیں رسولوں کی نظروں سے چھپا لیا۔‏ زندہ ہونے کے بعد یسوع مسیح نے مختلف اِنسانی جسم اپنائے تھے۔‏ مگر اب وہ اِنسانی جسم کو چھوڑ کر روحانی مخلوق کے طور پر آسمان پر چلے گئے۔‏ (‏1-‏کُرنتھیوں 15:‏44،‏ 50؛‏ 1-‏پطرس 3:‏18‏)‏ جب رسول یسوع کو آسمان کی طرف جاتے دیکھ رہے تھے تو دو آدمی اُن کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے ”‏جنہوں نے سفید کپڑے پہنے تھے۔‏“‏ یہ فرشتے تھے جنہوں نے رسولوں سے پوچھا:‏ ”‏گلیلیو،‏ آپ آسمان کی طرف کیوں دیکھ رہے ہیں؟‏ یہی یسوع جنہیں آسمان پر اُٹھا لیا گیا،‏ اُسی طرح آئیں گے جس طرح آپ نے اُنہیں آسمان پر جاتے دیکھا۔‏“‏—‏اعمال 1:‏10،‏ 11‏۔‏

یسوع مسیح بڑی دُھوم دھام سے آسمان پر نہیں گئے تھے بلکہ صرف اُن کے پیروکاروں نے اُنہیں آسمان پر جاتے دیکھا تھا۔‏ فرشتوں نے کہا کہ یسوع ’‏اِسی  طرح واپس آئیں گے‘‏ یعنی صرف اُن کے وفادار پیروکار جان پائیں گے کہ اُنہوں نے آسمان پر بادشاہت سنبھال لی ہے۔‏

یسوع کے آسمان پر جانے کے بعد رسول یروشلیم لوٹ گئے۔‏ اگلے دنوں میں وہ کئی موقعوں پر دوسرے شاگردوں کے ساتھ جمع ہوئے۔‏ اِن میں ”‏یسوع کی ماں مریم اور یسوع کے بھائی“‏ بھی شامل تھے۔‏ (‏اعمال 1:‏14‏)‏ وہ سب مل کر دُعا کِیا کرتے تھے۔‏ اُنہوں نے اِس بارے میں بھی دُعا کی کہ وہ یہوداہ اِسکریوتی کی جگہ کس شاگرد کو رسول کے طور پر مقرر کریں تاکہ 12 رسولوں کی تعداد مکمل ہو جائے۔‏ (‏متی 19:‏28‏)‏ وہ ایک ایسے شاگرد کو چُننا چاہتے تھے جو یسوع مسیح کے کاموں اور اُن کے زندہ ہونے کا گواہ ہو۔‏ اِس سلسلے میں اُنہوں نے قُرعہ ڈالا۔‏ یہ بائبل میں قُرعہ ڈال کر خدا کی مرضی جاننے کا آخری ذکر ہے۔‏ (‏زبور 109:‏8؛‏ امثال 16:‏33‏)‏ قُرعہ متیاہ کے نام کا نکلا جو شاید اُن 70 شاگردوں میں شامل تھے جنہیں یسوع مسیح نے مُنادی کرنے کے لیے بھیجا تھا۔‏ یوں متیاہ ”‏12 رسولوں میں شمار ہوئے۔‏“‏—‏اعمال 1:‏26‏۔‏

جب یسوع مسیح کو آسمان پر گئے 10 دن ہو گئے تو 33ء کی عیدِپنتِکُست شروع ہوئی۔‏ اُس موقعے پر تقریباً 120 شاگرد یروشلیم میں کسی گھر کے اُوپر والے کمرے میں جمع تھے۔‏ اچانک ایک آواز آئی جو بالکل ویسی تھی جیسی تیز ہوا کی ہوتی ہے اور اِس سے سارا گھر گُونج اُٹھا۔‏ شاگردوں کو آگ کے شعلوں جیسا کچھ دِکھائی دیا جو الگ الگ ہو کر اُن میں سے ہر ایک پر ٹھہر گیا اور وہ سب فرق فرق زبانیں بولنے لگے۔‏ یوں اُن پر پاک روح نازل ہوئی جسے بھیجنے کا وعدہ یسوع مسیح نے کِیا تھا۔‏—‏یوحنا 14:‏26‏۔‏