مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب 131

سُولی پر سزائےموت

سُولی پر سزائےموت

متی 27:‏33-‏44 مرقس 15:‏22-‏32 لُوقا 23:‏32-‏43 یوحنا 19:‏17-‏24

  • یسوع مسیح کو سُولی پر لٹکایا گیا

  • اُن کی سُولی پر لگی تختی کو دیکھ کر اُن کا مذاق اُڑایا گیا

  • یسوع مسیح نے ڈاکو کو زمین پر فردوس میں رہنے کی اُمید دی

سپاہی یسوع مسیح اور دو ڈاکوؤں کو یروشلیم سے باہر اُس جگہ لے گئے جہاں اُنہیں سزائےموت دی جانی تھی۔‏ اِس جگہ کا نام گلگتا یعنی کھوپڑی تھا اور یہ ”‏کچھ فاصلے“‏ سے بھی دِکھائی دیتی تھی۔‏—‏مرقس 15:‏40‏۔‏

سپاہیوں نے یسوع مسیح اور ڈاکوؤں کے کپڑے اُتارے۔‏ پھر اُنہوں نے تینوں کو مے دی جس میں مُر اور کوئی کڑوی چیز ملی ہوئی تھی۔‏ غالباً یروشلیم کی عورتیں یہ مے اُن مُجرموں کے لیے تیار کرتی تھیں جنہیں سزائےموت دی جاتی تھی کیونکہ اِس کو پینے سے درد کا احساس کم ہو جاتا تھا۔‏ جب یسوع مسیح نے اِس مے کو چکھا تو اُنہوں نے اِسے پینے سے اِنکار کر دیا۔‏ اُنہوں نے ایسا کیوں کِیا؟‏ وہ پورے ہوش‌وحواس میں رہ کر اِس کڑی آزمائش کو سہنا چاہتے تھے تاکہ وہ مرتے دم تک خدا کے وفادار رہ سکیں۔‏

پھر سپاہیوں نے یسوع مسیح کو سُولی پر لِٹایا‏۔‏ (‏مرقس 15:‏25‏)‏ اِس کے بعد اُنہوں نے اُن کے ہاتھوں اور پیروں میں کیل ٹھونکے۔‏ ذرا سوچیں کہ جب یہ کیل یسوع کے ہاتھوں اور پیروں کے اندر جا رہے تھے تو اُنہیں کتنی تکلیف ہوئی ہوگی۔‏ پھر جب سپاہیوں نے سُولی کو کھڑا کِیا تو یسوع کی تکلیف اَور بھی بڑھ گئی کیونکہ اُن کے جسم کے وزن سے اُن کے زخموں میں کھچاؤ پڑنے لگا۔‏ اِس کے باوجود یسوع مسیح نے سپاہیوں کو بُرا بھلا نہیں کہا بلکہ اُن کے لیے یہ دُعا کی:‏ ”‏باپ،‏ اُن کو معاف کر دے کیونکہ اُن کو پتہ نہیں کہ کیا کر رہے ہیں۔‏“‏—‏لُوقا 23:‏34‏۔‏

رومی عام طور پر مُجرموں کی سُولی پر ایک تختی بھی لگاتے تھے جس پر اُن کا جُرم لکھا ہوتا تھا۔‏ پیلاطُس نے یسوع مسیح کی سُولی پر بھی ایک تختی لگوائی جس پر اُس نے یہ خطاب لکھوایا:‏ ”‏یہودیوں کا بادشاہ،‏ یسوع ناصری۔‏“‏ یہ خطاب عبرانی،‏ لاطینی اور یونانی زبان میں لکھا تھا تاکہ زیادہ‌تر لوگ اِسے پڑھ سکیں۔‏ اِس خطاب سے ظاہر ہوا کہ پیلاطُس کو اُن یہودیوں سے کتنی گھن آ رہی تھی جنہوں نے اُسے یسوع مسیح کو سزائےموت دینے پر مجبور کِیا تھا۔‏ جب اعلیٰ کاہنوں نے یہ تختی دیکھی تو اُنہوں نے اِعتراض کِیا:‏ ”‏یہ نہ لکھوائیں:‏ ”‏یہودیوں کا بادشاہ“‏ بلکہ وہ لکھوائیں جو اُس نے کہا تھا کہ ”‏مَیں یہودیوں کا بادشاہ ہوں۔‏“‏“‏ مگر پیلاطُس دوبارہ سے اُن کے ہاتھ کی کٹھ‌پتلی نہیں بننا چاہتا تھا اِس لیے اُس نے جواب دیا:‏ ”‏جو مَیں نے لکھوانا تھا،‏ لکھوا دیا۔‏“‏—‏یوحنا 19:‏19-‏22‏۔‏

یہ سُن کر کاہنوں کو بہت غصہ آیا اور وہ اُس جھوٹی گواہی کو دُہرانے لگے جو عدالتِ‌عظمیٰ کے سامنے یسوع کے خلاف دی گئی تھی۔‏ اِس وجہ سے یسوع کی سُولی کے پاس سے گزرنے والے لوگ سر ہلا ہلا کر اُن کی بےعزتی کرنے لگے اور کہنے لگے:‏ ”‏بڑا آیا ہیکل کو گِرانے اور تین دن میں بنانے والا!‏ اب سُولی سے نیچے اُتر کر اپنے آپ کو بچا!‏“‏ وہاں کھڑے اعلیٰ کاہن اور شریعت کے عالم بھی ایک دوسرے سے کہنے لگے:‏ ”‏یہ تو مسیح اور اِسرائیل کا بادشاہ ہے۔‏ تو پھر ذرا سُولی سے اُتر کر دِکھائے۔‏ اگر اُتر آیا تو ہم اِس پر ایمان لے آئیں گے۔‏“‏ (‏مرقس 15:‏29-‏32‏)‏ یہاں تک کہ وہ ڈاکو بھی یسوع کی بےعزتی کر رہے تھے جو اُن کی دائیں اور بائیں طرف سُولیوں پر لٹکے ہوئے تھے۔‏

یسوع مسیح کے پاس کھڑے چار رومی سپاہی بھی اُن کا مذاق اُڑانے لگے۔‏ ہو سکتا ہے کہ وہ کھٹی مے پی رہے تھے اور اُنہوں نے یسوع مسیح کا مذاق اُڑانے کے لیے اُنہیں بھی یہ مے پیش کی حالانکہ وہ جانتے تھے کہ یسوع اِسے لینے کے لیے ہاتھ نہیں بڑھا سکتے۔‏ سپاہیوں نے یسوع کی سُولی پر لگی تختی کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے کہا:‏ ”‏اگر تُو یہودیوں کا بادشاہ ہے تو خود کو بچا لے۔‏“‏ (‏لُوقا 23:‏36،‏ 37‏)‏ ذرا  سوچیں کہ اُس شخص کے ساتھ کتنا بُرا سلوک کِیا جا رہا تھا جو راستہ،‏ سچائی اور زندگی تھا۔‏ لیکن اِس کے باوجود یسوع مسیح نے سب کچھ خاموشی سے سہا۔‏ اُنہوں نے وہاں موجود کسی کی ملامت نہیں کی،‏ نہ تو اُن یہودیوں کی جو وہاں کھڑے تماشا دیکھ رہے تھے؛‏ نہ رومی سپاہیوں کی جو اُنہیں طعنے دے رہے تھے اور نہ ہی اُن ڈاکوؤں کی جو اُنہیں بُرا بھلا کہہ رہے تھے۔‏

اُن چار سپاہیوں نے یسوع مسیح کی چادر لے لی اور اِسے چار حصوں میں تقسیم کر لیا۔‏ پھر اُنہوں نے قُرعہ ڈالا کہ کس کو کون سا حصہ ملے گا۔‏ یسوع مسیح کا کُرتا بہت اعلیٰ معیار کا تھا کیونکہ ”‏اِس میں کوئی سلائی نہیں تھی بلکہ یہ پورے کا پورا بُنا ہوا تھا۔‏“‏ اِس لیے سپاہیوں نے ایک دوسرے سے کہا:‏ ”‏ایسا کرتے ہیں کہ اِسے پھاڑتے نہیں ہیں بلکہ قُرعہ ڈال کر فیصلہ کرتے ہیں کہ یہ کس کو ملنا چاہیے۔‏“‏ اِس طرح یہ پیش‌گوئی پوری ہوئی‏:‏ ”‏اُنہوں نے میرے کپڑے آپس میں تقسیم کیے اور اُنہوں نے میرے کپڑوں پر قُرعہ ڈالا۔‏“‏—‏یوحنا 19:‏23،‏ 24؛‏ زبور 22:‏18‏۔‏

کچھ دیر بعد ایک ڈاکو کو احساس ہوا کہ یسوع مسیح واقعی ایک بادشاہ ہیں۔‏ اُس نے دوسرے ڈاکو کو جھڑکا اور کہا:‏ ”‏کیا تجھے خدا کا کوئی خوف نہیں جبکہ تجھے وہی سزا ملی ہے جو اِس آدمی کو ملی ہے؟‏ اور ہمیں تو سزا ملنی بھی چاہیے کیونکہ ہم نے بُرے کام کیے ہیں مگر اِس آدمی نے کوئی بُرا کام نہیں کِیا۔‏“‏ پھر اُس نے یسوع سے درخواست کی:‏ ”‏یسوع،‏ جب آپ بادشاہ بن جائیں گے تو مجھے یاد فرمائیں۔‏“‏—‏لُوقا 23:‏40-‏42‏۔‏

اِس پر یسوع مسیح نے اُس سے کہا:‏ ”‏مَیں آج آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ فردوس میں ہوں گے‏۔‏“‏ (‏لُوقا 23:‏43‏)‏ غور کریں کہ یسوع نے ڈاکو سے یہ وعدہ نہیں کِیا کہ وہ اُن کے ساتھ بادشاہت میں ہوگا بلکہ اُنہوں نے کہا کہ وہ فردوس میں ہوگا۔‏ یہ اُس وعدے سے فرق تھا جو یسوع نے اپنے رسولوں سے کِیا تھا یعنی یہ کہ رسول اُن کے ساتھ بادشاہت میں تختوں پر بیٹھیں گے۔‏ (‏متی 19:‏28؛‏ لُوقا 22:‏29،‏ 30‏)‏ یقیناً اِس یہودی ڈاکو کو معلوم تھا کہ یہوواہ خدا نے آدم اور حوا کو زمین پر فردوس میں آباد کِیا تھا تاکہ وہ اپنی اولاد کے ساتھ وہاں رہ سکیں۔‏ اب یہ ڈاکو اِس اُمید کے ساتھ مر سکتا تھا کہ اُسے فردوس میں زندہ کِیا جائے گا۔‏