مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب 139

فردوس قائم کرنے میں یسوع مسیح کا کردار

فردوس قائم کرنے میں یسوع مسیح کا کردار

1-‏کُرنتھیوں 15:‏24-‏28

  • بھیڑوں اور بکریوں کا مستقبل

  • بہت سے لوگ زمین پر فردوس میں رہیں گے

  • یسوع مسیح راستہ،‏ سچائی اور زندگی ثابت ہوں گے

یسوع مسیح کے بپتسمے کے تھوڑے ہی عرصے بعد شیطان نے اُنہیں کئی بار ورغلانے کی کوشش کی تاکہ وہ اپنے دورِخدمت کو شروع کرنے سے پہلے ہی ناکام ہو جائیں۔‏ بعد میں یسوع مسیح نے شیطان کے بارے میں کہا:‏ ”‏دُنیا کا حاکم آ رہا ہے لیکن مَیں اُس کی گِرفت سے باہر ہوں۔‏“‏—‏یوحنا 14:‏30‏۔‏

یوحنا رسول نے رُویا میں دیکھا کہ ’‏اُس بڑے اژدہے یعنی اُس قدیم سانپ‘‏ کا انجام کیا ہوگا ”‏جسے اِبلیس اور شیطان کہا جاتا ہے۔‏“‏ اِنسانوں کے اِس جانی دُشمن کو آسمان سے نیچے زمین پر پھینک دیا گیا ہے اور ”‏وہ بڑے غصے میں ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اُس کے پاس تھوڑا ہی وقت ہے۔‏“‏ (‏مکاشفہ 12:‏9،‏ 12‏)‏ یسوع کے پیروکاروں کو پورا یقین ہے کہ شیطان کو جو ”‏تھوڑا ہی وقت“‏ دیا گیا ہے،‏ وہ ختم ہونے والا ہے۔‏ جلد ہی یسوع مسیح اُس ’‏بڑے اژدہے یعنی قدیم سانپ‘‏ کو اتھاہ گڑھے میں ڈال دیں گے جہاں وہ اُن کی ہزار سالہ حکمرانی کے دوران بند رہے گا۔‏—‏مکاشفہ 20:‏1،‏ 2‏۔‏

اُس عرصے کے دوران زمین پر کیا ہوگا؟‏ اِس پر کون رہیں گے اور حالات کیسے ہوں گے؟‏ اِن سوالوں کے جواب بھیڑوں اور بکریوں والی مثال سے ملتے ہیں۔‏ اِس مثال میں یسوع مسیح نے بتایا کہ بھیڑوں یعنی اُن لوگوں کو کیا اجر ملے گا جو زمین پر موجود یسوع کے بھائیوں کی مدد کرتے ہیں۔‏ یسوع نے یہ بھی بتایا کہ بکریوں یعنی اُن لوگوں کا کیا انجام ہوگا جو یسوع کے بھائیوں کی مدد نہیں کرتے۔‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏اِن لوگوں [‏یعنی بکریوں]‏ کی سزا ہمیشہ کی موت ہوگی جبکہ نیک لوگوں [‏یعنی بھیڑوں]‏ کو ہمیشہ کی زندگی ملے گی۔‏“‏—‏متی 25:‏46‏۔‏

اِس مثال کو ذہن میں رکھ کر یسوع مسیح کی وہ بات سمجھنا آسان ہو جاتا ہے جو اُنہوں نے اپنے ساتھ والی سُولی پر لٹکے ڈاکو سے کہی تھی۔‏ یسوع نے اُس سے یہ نہیں کہا کہ وہ اُن کے ساتھ آسمان پر بادشاہ کے طور پر حکمرانی کرے گا جیسا کہ اُنہوں نے اپنے وفادار رسولوں سے کہا تھا۔‏ اِس کی بجائے اُنہوں نے اُس تائب ڈاکو سے کہا:‏ ”‏مَیں آج آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ فردوس میں ہوں گے۔‏“‏ (‏لُوقا 23:‏43‏)‏ فردوس کا مطلب ایک  خوب‌صورت باغ ہے۔‏ لہٰذا اُس ڈاکو کو زمین پر ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنے کی اُمید ملی۔‏ اِس سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ جو لوگ بھیڑوں کی طرح ثابت ہوں گے،‏ اُنہیں بھی فردوس میں ”‏ہمیشہ کی زندگی ملے گی۔‏“‏

یوحنا رسول نے بتایا کہ اُس وقت زمین پر حالات کیسے ہوں گے۔‏ اُنہوں نے لکھا:‏ ”‏خدا کا خیمہ اِنسانوں کے درمیان ہے۔‏ وہ اُن کے ساتھ رہے گا اور وہ اُس کے بندے ہوں گے۔‏ اور خدا خود اُن کے ساتھ ہوگا۔‏ اور وہ اُن کے سارے آنسو پونچھ دے گا اور نہ موت رہے گی،‏ نہ ماتم،‏ نہ رونا،‏ نہ درد۔‏ جو کچھ پہلے ہوتا تھا،‏ وہ سب ختم ہو گیا۔‏“‏—‏مکاشفہ 21:‏3،‏ 4‏۔‏

مگر جس ڈاکو سے یسوع نے فردوس میں رہنے کا وعدہ کِیا تھا،‏ وہ تو مر گیا تھا۔‏ لہٰذا وہ تب ہی فردوس میں رہ سکے گا اگر اُسے مُردوں میں سے زندہ کِیا جائے گا۔‏ لیکن اُس وقت صرف اُسے ہی زندہ نہیں کِیا جائے گا کیونکہ یسوع مسیح نے کہا تھا کہ ”‏وہ وقت آئے گا جب سب لوگ جو قبروں میں ہیں،‏ اُس کی آواز سنیں گے اور نکل آئیں گے؛‏ جنہوں نے زندہ ہو کر اچھے کام کیے،‏ اُنہیں زندگی ملے گی اور جنہوں نے زندہ ہو کر بُرے کام کیے،‏ اُنہیں سزا ملے گی۔‏“‏—‏یوحنا 5:‏28،‏ 29‏۔‏

لیکن یسوع مسیح کے وفادار رسول اور باقی مسح‌شُدہ پیروکار آسمان پر کیا کریں گے؟‏ پاک کلام میں بتایا گیا ہے کہ ”‏وہ خدا اور مسیح کے لیے کاہن ہوں گے اور 1000 سال تک مسیح کے ساتھ بادشاہوں کے طور پر حکمرانی کریں گے۔‏“‏ (‏مکاشفہ 20:‏6‏)‏ آسمان پر زندہ کیے جانے سے پہلے یہ لوگ زمین پر اِنسان کے طور پر رہے تھے۔‏ لہٰذا وہ اِنسانوں کے مسئلوں اور احساسات کو اچھی طرح سے سمجھ سکیں گے اور اچھے بادشاہ ثابت ہوں گے۔‏—‏مکاشفہ 5:‏10‏۔‏

یسوع مسیح فدیے کی بِنا پر اِنسانوں کو گُناہ کی غلامی سے آزاد کر دیں گے۔‏ وہ اپنے ساتھی حکمرانوں کے ساتھ مل کر وفادار اِنسانوں کو ہر عیب سے پاک کر دیں گے۔‏ پھر اِنسان ایسی زندگی سے لطف اُٹھائیں گے جیسی خدا آدم اور حوا اور اُن کی اولاد کے لیے چاہتا تھا۔‏ فردوس میں اُس موت کو بھی ختم کر دیا جائے گا جو آدم کے گُناہ کے نتیجے میں اِنسانوں پر آتی ہے۔‏

یوں یسوع مسیح اُن تمام کاموں کو پورا کریں گے جو یہوواہ خدا نے اُن کے سپرد کیے ہیں۔‏ اپنی ہزار سالہ حکمرانی کے آخر میں یسوع بڑی خاکساری سے اپنی بادشاہت کو اور بےعیب اِنسانوں کو اپنے آسمانی باپ کے حوالے کر دیں گے۔‏ پولُس رسول نے اِس سلسلے میں لکھا:‏ ”‏جب ساری چیزیں بیٹے کے تابع ہو جائیں گی تو پھر بیٹا خود کو بھی اُس کے تابع کر دے گا جس نے ساری چیزیں اُس کے تابع کیں تاکہ خدا سب کا حاکم ہو۔‏“‏—‏1-‏کُرنتھیوں 15:‏28‏۔‏

اِن سب باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یسوع مسیح خدا کے مقاصد کو پورا کرنے میں بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔‏ بِلاشُبہ وہ ہمیشہ تک خدا کے مقاصد کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتے رہیں گے اور یوں ہر لحاظ سے ”‏راستہ اور سچائی اور زندگی“‏ ثابت ہوں گے۔‏—‏یوحنا 14:‏6‏۔‏