مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب 110

ہیکل میں یسوع مسیح کا آخری دن

ہیکل میں یسوع مسیح کا آخری دن

متی 23:‏25–‏24:‏2 مرقس 12:‏41–‏13:‏2 لُوقا 21:‏1-‏6

  • یسوع مسیح نے مذہبی پیشواؤں پر تنقید جاری رکھی

  • ہیکل کی تباہی کی پیش‌گوئی

  • غریب بیوہ نے عطیے کے ڈبے میں دو سِکے ڈالے

یہ ہیکل میں یسوع مسیح کا آخری دن تھا اور وہ شریعت کے عالموں اور فریسیوں کی ریاکاری کو بےنقاب کر رہے تھے بلکہ وہ تو کُھلے عام اُنہیں ریاکار کہہ رہے تھے۔‏ یسوع مسیح نے اُن سے کہا:‏ ”‏تُم پیالے اور تھالی کو باہر سے تو صاف کرتے ہو لیکن اندر سے وہ لالچ اور نفس‌پرستی سے بھرے ہیں۔‏ اندھے فریسیو!‏ پہلے پیالے اور تھالی کو اندر سے صاف کرو تاکہ یہ باہر سے بھی صاف ہو جائے۔‏“‏ (‏متی 23:‏25،‏ 26‏)‏ فریسیوں کو طہارت کی رسمیں ادا کرنے اور ظاہری طور پر پاک صاف رہنے کا تو بڑا خیال تھا لیکن وہ اپنے اندر کے اِنسان کو یعنی اپنے دل کو بُرائی سے پاک نہیں کرتے تھے۔‏

اِن پیشواؤں کی ریاکاری اِس بات سے بھی ظاہر ہوتی تھی کہ وہ نبیوں کی قبریں بناتے اور سجاتے تھے حالانکہ وہ ’‏اُن لوگوں کی اولاد تھے جنہوں نے نبیوں کو قتل کِیا۔‏‘‏ (‏متی 23:‏31‏)‏ اب وہ اپنے باپ‌دادا کے گُناہوں کا پیمانہ بھرنے والے تھے کیونکہ وہ یسوع مسیح کو مار ڈالنے پر تُلے ہوئے تھے۔‏—‏یوحنا 5:‏18؛‏ 7:‏1،‏ 25‏۔‏

یسوع مسیح نے بتایا کہ اگر اِن پیشواؤں نے اپنی بُری روِش سے توبہ نہیں کی تو اُن کا انجام کیا ہوگا۔‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏سانپ کے بچو!‏ تُم ہنوم کی وادی میں جھونکے جانے سے کیسے بچو گے؟‏“‏ (‏متی 23:‏33‏)‏ ہنوم کی وادی یروشلیم کے قریب واقع تھی اور وہاں کچرا جلایا جاتا تھا۔‏ اِس وادی کا ذکر کرنے سے یسوع مسیح نے ظاہر کِیا کہ اِن پیشواؤں کو ابدی ہلاکت کی سزا ملے گی۔‏

یسوع نے ظاہر کِیا کہ اُن کی موت کے بعد اُن کے شاگرد ”‏نبیوں،‏ دانش‌مندوں اور اُستادوں“‏ کے طور پر اُن کی نمائندگی کریں گے۔‏ اِن شاگردوں کے ساتھ کیسا سلوک کِیا جائے گا؟‏ یسوع مسیح نے مذہبی پیشواؤں سے کہا:‏ ”‏تُم [‏میرے شاگردوں]‏ میں سے کچھ کو قتل کرو گے اور سُولی پر چڑھاؤ گے اور کچھ کو اپنی عبادت‌گاہوں میں کوڑے لگواؤ گے اور سب شہروں میں اُن کو اذیت پہنچاؤ گے تاکہ تُم اُس نیک خون کے ذمےدار ٹھہرو جو زمین پر بہایا گیا ہے یعنی ہابل کے خون سے لے کر .‏ .‏ .‏ زکریاہ کے خون تک جنہیں تُم نے .‏ .‏ .‏ قتل کِیا۔‏“‏ پھر یسوع مسیح نے اُن پیشواؤں کو آگاہ کِیا:‏ ”‏مَیں تُم سے سچ کہتا ہوں کہ یہ پُشت اِن سب باتوں کے لیے جواب‌دہ ٹھہرائی جائے گی۔‏“‏ (‏متی 23:‏34-‏36‏)‏ یہ بات 70ء میں پوری ہوئی جب رومی فوجوں نے یروشلیم کو تباہ کِیا اور لاکھوں یہودیوں کو مار ڈالا۔‏

اِس تباہی کا سوچ کر یسوع مسیح پریشان ہو گئے اور دُکھی ہو کر کہا:‏ ”‏یروشلیم کے لوگو!‏ نبیوں کو قتل کرنے والو اور پیغمبروں کو سنگسار کرنے والو!‏ مَیں نے بہت بار چاہا کہ مَیں ویسے ہی تمہیں جمع کروں جیسے مُرغی،‏ چُوزوں کو اپنے پَروں کے نیچے جمع کرتی ہے۔‏ لیکن تُم نے ایسا نہیں چاہا۔‏ دیکھو!‏ تمہارا گھر چھوڑ دیا جائے گا۔‏“‏ (‏متی 23:‏37،‏ 38‏)‏ اِس ”‏گھر“‏ سے مُراد یروشلیم میں واقع شان‌دار ہیکل تھی جس کے بارے میں یہودیوں کا خیال تھا کہ خدا اِس کی حفاظت کر رہا ہے۔‏

یسوع مسیح نے آگے کہا:‏ ”‏مَیں تُم سے کہتا ہوں کہ اب تُم مجھے اُس وقت تک نہیں دیکھو گے جب تک یہ نہیں کہو گے کہ ”‏اُس شخص کو بڑی برکتیں حاصل ہیں جو یہوواہ کے نام سے آتا ہے۔‏“‏“‏ (‏متی 23:‏39‏)‏ یسوع زبور 118:‏26 میں درج پیش‌گوئی کا حوالہ دے رہے تھے جہاں لکھا ہے:‏ ”‏مبارک ہے وہ جو [‏یہوواہ]‏ کے نام سے آتا ہے۔‏ ہم نے تُم کو [‏یہوواہ]‏ کے گھر سے دُعا دی ہے۔‏“‏ لہٰذا یسوع مسیح یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ جب ہیکل تباہ کر دی جائے گی تو کوئی بھی وہاں یہوواہ کی عبادت کرنے کے لیے نہیں آ سکے گا۔‏

پھر یسوع ہیکل میں ایک ایسی جگہ بیٹھ گئے جہاں سے وہ عطیات کے ڈبوں کو دیکھ سکتے تھے۔‏ یہ ڈبے دِکھنے میں نرسنگے جیسے لگتے تھے اور اِن کے اُوپر ایک چھوٹا سا سوراخ تھا جس سے لوگ پیسے ڈال سکتے تھے۔‏ یسوع مسیح نے دیکھا کہ کئی امیر لوگ ڈبوں میں ”‏بہت زیادہ پیسے ڈال رہے“‏ ہیں۔‏ پھر ایک غریب بیوہ نے ”‏دو چھوٹے سِکے ڈالے جن کی قیمت بہت ہی کم تھی۔‏“‏ (‏مرقس 12:‏41،‏ 42‏)‏ یسوع مسیح جانتے تھے کہ یہوواہ خدا اِس بیوہ کے نذرانے سے بہت خوش ہے۔‏

اُنہوں نے اپنے شاگردوں کو پاس بلایا اور کہا:‏ ”‏مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ اِس غریب بیوہ نے عطیات کے ڈبوں میں باقی سب لوگوں کی نسبت زیادہ ڈالا ہے۔‏“‏ مگر یسوع نے یہ کیوں کہا؟‏ اُنہوں نے بتایا:‏ ”‏کیونکہ اُن سب نے اپنے فالتو پیسوں میں سے ڈالا لیکن اِس بیوہ نے اپنا سب کچھ یعنی اپنے  سارے پیسے ڈال دیے حالانکہ یہ بہت غریب ہے۔‏“‏ (‏مرقس 12:‏43،‏ 44‏)‏ اِس بیوہ کی سوچ اور کام مذہبی پیشواؤں سے کتنے فرق تھے!‏

گیارہ نیسان کا دن ڈھل رہا تھا۔‏ یسوع مسیح ہیکل سے نکل رہے تھے جب ایک شاگرد نے اُن سے کہا:‏ ”‏اُستاد،‏ دیکھیں!‏ کتنے خوب‌صورت پتھر اور عمارتیں ہیں!‏“‏ (‏مرقس 13:‏1‏)‏ ہیکل کی دیواروں میں لگے کچھ پتھر واقعی بہت بڑے اور شان‌دار تھے۔‏ ایسا لگتا تھا جیسے اِن دیواروں کو کبھی ڈھایا نہیں جا سکتا۔‏ مگر یسوع مسیح کے جواب کو سُن کر شاگرد بہت حیران ہوئے ہوں گے۔‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏آپ یہ شان‌دار عمارتیں دیکھ رہے ہیں؟‏ یہ ساری کی ساری ڈھا دی جائیں گی۔‏ یہاں ایک پتھر بھی دوسرے پتھر پر نہیں رہے گا۔‏“‏—‏مرقس 13:‏2‏۔‏

یہ کہہ کر یسوع نے رسولوں کے ساتھ وادیِ‌قدرون کو پار کِیا اور کوہِ‌زیتون پر چڑھ گئے۔‏ پھر وہ پطرس،‏ اندریاس،‏ یعقوب اور یوحنا کے ساتھ ایک ایسی جگہ بیٹھ گئے جہاں سے ہیکل نظر آتی تھی۔‏