مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب 106

انگوروں کے باغ کے متعلق دو مثالیں

انگوروں کے باغ کے متعلق دو مثالیں

متی 21:‏28-‏46 مرقس 12:‏1-‏12 لُوقا 20:‏9-‏19

  • دو بیٹوں کی مثال

  • بُرے کاشت‌کاروں کی مثال

یسوع مسیح ہیکل میں تھے اور ابھی ابھی اعلیٰ کاہنوں اور بزرگوں نے اُن سے پوچھا تھا کہ اُنہیں وہ سب کام کرنے کا اِختیار کس نے دیا ہے جو وہ کر رہے تھے۔‏ یسوع نے اُنہیں جو جواب دیا،‏ اُسے سُن کر وہ خاموش ہو گئے۔‏ پھر یسوع نے ایک مثال دی جس سے ظاہر ہوا کہ یہ مذہبی رہنما اصل میں کس طرح کے لوگ تھے۔‏

یسوع مسیح نے کہا:‏ ”‏ایک آدمی کے دو بیٹے تھے۔‏ وہ بڑے بیٹے کے پاس گیا اور اُس سے کہا:‏ ”‏بیٹا،‏ جاؤ،‏ آج انگوروں کے باغ میں کام کرو۔‏“‏ اُس نے جواب دیا:‏ ”‏مَیں نہیں جاؤں گا۔‏“‏ لیکن بعد میں اُسے افسوس ہوا اِس لیے وہ کام کرنے چلا گیا۔‏ اُس آدمی نے چھوٹے بیٹے کے پاس جا کر اُسے بھی باغ میں کام کرنے کو کہا۔‏ اُس نے جواب دیا:‏ ”‏جی ابو،‏ جاتا ہوں۔‏“‏ لیکن وہ نہیں گیا۔‏ آپ کے خیال میں اُن دونوں میں سے کس نے اپنے باپ کی بات مانی؟‏“‏ (‏متی 21:‏28-‏31‏)‏ جواب واضح ہے۔‏ آخر میں بڑے بیٹے نے اپنے باپ کی بات مانی۔‏

پھر یسوع نے اپنے مخالفوں سے کہا:‏ ”‏مَیں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ فاحشائیں اور ٹیکس وصول کرنے والے آپ سے پہلے خدا کی بادشاہت میں جائیں گے۔‏“‏ فاحشائیں اور ٹیکس وصول کرنے والے پہلے تو خدا کی خدمت نہیں کر رہے تھے لیکن بڑے بیٹے کی طرح اُنہیں بعد میں افسوس ہوا یعنی اُنہوں نے توبہ کی اور وہ خدا کی خدمت کرنے لگے۔‏ اِن کے برعکس چھوٹے بیٹے کی طرح مذہبی رہنماؤں کا دعویٰ تھا کہ وہ خدا کی خدمت کر رہے ہیں لیکن اصل میں وہ خدا کی مرضی پر نہیں چل رہے تھے۔‏ یسوع نے آگے کہا:‏ ”‏یوحنا [‏بپتسمہ دینے والے]‏ آپ کو نیکی کی راہ دِکھانے آئے مگر آپ اُن پر ایمان نہیں لائے۔‏ لیکن فاحشائیں اور ٹیکس وصول کرنے والے اُن پر ایمان لائے۔‏ یہ دیکھ کر بھی آپ کو افسوس نہیں ہوا اور آپ یوحنا پر ایمان نہیں لائے۔‏“‏—‏متی 21:‏31،‏ 32‏۔‏

اِس کے بعد یسوع نے ایک اَور مثال دی جس سے ظاہر ہوا کہ مذہبی رہنما کس قدر بُرے تھے۔‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏ایک آدمی نے انگوروں کا باغ لگایا اور اُس کے اِردگِرد باڑ لگائی۔‏ پھر اُس نے باغ میں ایک بُرج کھڑا کِیا اور انگور روندنے کے لیے ایک حوض بنایا۔‏ اِس کے بعد اُس نے باغ کاشت‌کاروں کو کرائے پر دیا اور خود پردیس چلا گیا۔‏ جب انگوروں کا موسم آیا تو اُس نے ایک غلام کو کاشت‌کاروں کے پاس بھیجا تاکہ وہ باغ سے کچھ پھل لے آئے۔‏ لیکن اُنہوں نے اُس کو پکڑ کر ماراپیٹا اور خالی ہاتھ واپس بھیج دیا۔‏ مالک نے پھر سے ایک غلام کو اُن کے پاس بھیجا لیکن اُنہوں نے اُس کے سر پر مارا اور اُسے ذلیل کِیا۔‏ اِس کے بعد مالک نے ایک اَور غلام بھیجا مگر اُنہوں نے اُسے مار ڈالا۔‏ اُس نے اُن کے پاس اَور بھی بہت سے غلام بھیجے لیکن اُنہوں نے کچھ کو ماراپیٹا اور کچھ کو قتل کر دیا۔‏“‏—‏مرقس 12:‏1-‏5‏۔‏

کیا یسوع مسیح کے مخالفوں نے اِس مثال کا مطلب سمجھ لیا؟‏ شاید اُنہیں یسعیاہ نبی کی یہ تنقید یاد آئی ہو:‏ ”‏ربُ‌الافواج [‏یہوواہ]‏ کا تاکستان بنی‌اِسرائیل کا گھرانا ہے اور بنی‌یہوداہ اُس کا خوش‌نما پودا ہے۔‏ اُس نے اِنصاف کا اِنتظار کِیا پر خون‌ریزی دیکھی۔‏“‏ (‏یسعیاہ 5:‏7‏)‏ یسوع مسیح نے جو مثال دی،‏ وہ یسعیاہ نبی کی اِس بات سے ملتی جلتی تھی۔‏ تاکستان یعنی انگوروں کے باغ کا ملک یہوواہ خدا تھا۔‏ انگوروں کا باغ اِسرائیلی قوم تھی اور خدا کی شریعت ایک باڑ کی طرح اُن کی حفاظت کرتی تھی۔‏ یہوواہ خدا نے نبی بھیجے تاکہ وہ اُس کی قوم کو تعلیم دیں اور اچھے پھل پیدا کرنے میں اُس کی مدد کریں۔‏

مگر باغ کے ”‏کاشت‌کاروں“‏ نے اُن ’‏غلاموں‘‏ کو ماراپیٹا جو اُن کے پاس بھیجے گئے،‏ یہاں تک کہ کچھ کو قتل بھی کر دیا۔‏ یسوع نے مثال کو جاری رکھتے ہوئے کہا:‏ ”‏آخر میں [‏باغ کے]‏ مالک نے اپنے پیارے بیٹے کو یہ سوچ کر کاشت‌کاروں کے پاس بھیجا کہ ”‏وہ میرے بیٹے کا تو لحاظ کریں گے۔‏“‏ لیکن کاشت‌کار آپس میں کہنے لگے:‏ ”‏یہی تو باغ کا وارث ہے۔‏ آؤ،‏ اِسے قتل کر دیں۔‏ پھر باغ ہمیں مل جائے گا۔‏“‏ لہٰذا اُنہوں نے اُسے پکڑ کر مار ڈالا۔‏“‏—‏مرقس 12:‏6-‏8‏۔‏

پھر یسوع مسیح نے پوچھا:‏ ”‏اب باغ کا مالک کیا کرے گا؟‏“‏ (‏مرقس 12:‏9‏)‏ مذہبی رہنماؤں نے جواب دیا:‏ ”‏چونکہ وہ کاشت‌کار بُرے ہیں اِس لیے مالک اُن کو ہلاک کرے گا اور باغ ایسے کاشت‌کاروں کو دے گا جو انگوروں کے موسم میں اُس کو پھل دیں۔‏“‏—‏متی 21:‏41‏۔‏

یوں اِن مذہبی رہنماؤں نے نہ چاہتے ہوئے بھی خود کو سزا کے لائق ٹھہرایا کیونکہ اُن کا شمار یہوواہ کے انگوروں کے باغ کے ”‏کاشت‌کاروں“‏ میں تھا۔‏  یہوواہ خدا اِن کاشت‌کاروں سے جس طرح کے پھل کی توقع کر رہا تھا،‏ اِس میں اُس کے بیٹے یسوع پر ایمان لانا شامل تھا۔‏ اِس لیے یسوع مسیح نے مذہبی رہنماؤں کی طرف دیکھ کر کہا:‏ ”‏کیا آپ نے کبھی صحیفوں میں یہ نہیں پڑھا کہ ”‏جس پتھر کو مزدوروں نے ٹھکرا دیا،‏ وہ کونے کا سب سے اہم پتھر بن گیا۔‏ یہ پتھر یہوواہ کی طرف سے آیا اور ہماری نظر میں شان‌دار ہے“‏؟‏“‏ (‏مرقس 12:‏10،‏ 11‏)‏ پھر یسوع نے اُن سے صاف صاف کہا:‏ ”‏مَیں آپ سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہت آپ سے لے لی جائے گی اور اُس قوم کو دے دی جائے گی جو خدا کی مرضی کے مطابق کام کرتی ہے۔‏“‏—‏متی 21:‏43‏۔‏

شریعت کے عالم اور اعلیٰ کاہن سمجھ گئے کہ یسوع ”‏اُن کی بات کر رہے ہیں۔‏“‏ (‏لُوقا 20:‏19‏)‏ اب تو باغ کے ”‏وارث“‏ یعنی یسوع کو مار ڈالنے کا اُن کا عزم اَور بھی پکا ہو گیا۔‏ لیکن اُنہوں نے فوراً کوئی کارروائی نہیں کی کیونکہ وہ لوگوں سے ڈرتے تھے جو کہ یسوع کو ایک نبی مانتے تھے۔‏