مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب 16

خدا کے گھر کے لیے یسوع مسیح کا جوش

خدا کے گھر کے لیے یسوع مسیح کا جوش

یوحنا 2:‏12-‏22

  • یسوع مسیح نے تاجروں کو ہیکل سے نکالا

قانا میں شادی پر جانے کے بعد یسوع مسیح کفرنحوم کے لیے روانہ ہوئے۔‏ اُن کے ساتھ اُن کی ماں اور اُن کے بھائی یعقوب،‏ یوسف،‏ شمعون اور یہوداہ بھی تھے۔‏

مگر یسوع مسیح کفرنحوم کیوں گئے؟‏ کیونکہ کفرنحوم شہر ناصرت اور قانا سے بڑا شہر تھا اور وہاں زیادہ لوگوں کا آنا جانا تھا۔‏ اِس کے علاوہ یسوع کے بہت سے شاگرد کفرنحوم میں یا اِس کے آس‌پاس رہتے تھے۔‏ یوں یسوع مسیح شاگردوں کو اُن ہی کے شہر میں تعلیم اور تربیت دے سکتے تھے۔‏

یسوع مسیح نے کفرنحوم میں کئی معجزے کیے اور اِن کا چرچا پورے شہر اور آس‌پاس کے علاقوں میں ہو گیا۔‏ پھر یسوع مسیح اور اُن کے شاگرد 30ء کی عیدِفسح منانے کے لیے یروشلیم گئے جو کہ یہودی مرد ہونے کے ناتے اُن پر فرض تھا۔‏

یروشلیم پہنچ کر وہ ہیکل میں گئے۔‏ وہاں شاگردوں نے یسوع مسیح کی شخصیت کا ایک نیا پہلو دیکھا جس سے وہ بہت متاثر ہوئے۔‏

موسیٰ کی شریعت میں یہ حکم تھا کہ بنی‌اِسرائیل ہیکل میں جانوروں کی قربانیاں پیش کریں۔‏ لیکن بہت سے لوگ دوسرے علاقوں سے یروشلیم آتے تھے۔‏ اِس لیے شریعت میں اِن لوگوں کو قربانی کے جانور لانے کی بجائے پیسے لانے کی اِجازت تھی تاکہ وہ یروشلیم ہی میں گائے،‏ بیل،‏ بھیڑ بکریاں اور ضرورت کی دوسری چیزیں خرید سکیں۔‏ (‏اِستثنا 14:‏24-‏26‏)‏ اِس بات کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے یروشلیم کے تاجر ہیکل کے ایک بڑے صحن میں ہی جانور اور پرندے بیچنے لگے۔‏ اَور تو اَور،‏ بہت سے تاجروں نے ناجائز منافع کمانے کے لیے اِن چیزوں کی قیمتوں کو بڑھا دیا۔‏

یہ دیکھ کر یسوع مسیح کو بہت غصہ آیا۔‏ اُنہوں نے پیسوں کا کاروبار کرنے والوں کے سِکے بکھیر دیے،‏ اُن کی میزیں اُلٹ دیں اور اُنہیں ہیکل سے باہر نکال دیا۔‏ پھر یسوع مسیح نے کہا:‏ ”‏یہ چیزیں یہاں سے لے جاؤ!‏ میرے باپ کے گھر کو منڈی نہ بناؤ!‏“‏—‏یوحنا 2:‏16‏۔‏

جب یسوع مسیح کے شاگردوں نے یہ دیکھا تو اُنہیں یاد آیا کہ خدا کے بیٹے کے بارے میں یہ پیش‌گوئی کی گئی تھی کہ ”‏میرے دل میں تیرے گھر کے لیے جوش بھڑک اُٹھے گا۔‏“‏ لیکن وہاں موجود یہودیوں نے یسوع مسیح سے کہا:‏ ”‏ہمیں کوئی نشانی دِکھاؤ جس سے ثابت ہو کہ تمہیں یہ سب کچھ کرنے کا اِختیار دیا گیا ہے۔‏“‏ اِس پر یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏اِس ہیکل کو گِرا دیں اور مَیں تین دن میں اِسے دوبارہ کھڑا کر دوں گا۔‏“‏—‏یوحنا 2:‏17-‏19؛‏ زبور 69:‏9‏۔‏

یہودیوں کا خیال تھا کہ یسوع مسیح اصلی ہیکل کے بارے میں بات کر رہے ہیں اِس لیے اُنہوں نے کہا:‏ ”‏اِس ہیکل کو بنانے میں 46 (‏چھیالیس)‏ سال لگے تو تُم اِسے تین دن میں کیسے کھڑا کرو گے؟‏“‏ (‏یوحنا 2:‏20‏)‏ لیکن یسوع مسیح اصلی ہیکل کی نہیں بلکہ اپنے جسم کی بات کر رہے تھے۔‏ اِس واقعے کے تین سال بعد جب یسوع مسیح کو مُردوں میں سے زندہ کِیا گیا تو اُن کے شاگردوں کو یہ بات یاد آئی۔‏