مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب 83

شان‌دار دعوت والی مثال

شان‌دار دعوت والی مثال

لُوقا 14:‏7-‏24

  • خاکساری کے متعلق سبق

  • دعوت پر بلائے گئے مہمانوں نے بہانے بنائے

یسوع مسیح ابھی بھی اُس فریسی کے گھر تھے جہاں اُنہوں نے ایک ایسے آدمی کو شفا دی تھی جس کے ہاتھ پاؤں سُوجھے ہوئے تھے۔‏ وہاں یسوع مسیح نے دیکھا کہ آنے والے مہمان سب سے آگے والی جگہوں پر بیٹھ رہے ہیں۔‏ لہٰذا اُنہوں نے اِس موقعے کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے خاکساری کے متعلق ایک اہم سبق دیا۔‏

یسوع مسیح نے کہا:‏ ”‏جب آپ کو شادی کی دعوت پر بلایا جائے تو سب سے آگے والی جگہ پر نہ بیٹھیں۔‏ ہو سکتا ہے کہ میزبان نے کسی ایسے شخص کو بھی بلایا ہو جو آپ سے زیادہ مُعزز ہے۔‏ پھر میزبان آ کر آپ سے کہے گا:‏ ”‏اِس شخص کو یہاں بیٹھنے دیں۔‏“‏ تب آپ کو شرمندہ ہو کر سب سے پچھلی جگہ پر بیٹھنا پڑے گا۔‏“‏—‏لُوقا 14:‏8،‏ 9‏۔‏

پھر اُنہوں نے کہا:‏ ”‏جب آپ کو دعوت پر بلایا جائے تو جا کر سب سے پچھلی جگہ پر بیٹھیں تاکہ جب میزبان آئے تو وہ آپ سے کہے:‏ ”‏دوست،‏ یہاں نہیں بلکہ سب سے آگے جا کر بیٹھو۔‏“‏ پھر سب مہمانوں کے سامنے آپ کی عزت ہوگی۔‏“‏ مگر یسوع مسیح صرف اچھے آداب‌واطوار نہیں سکھا رہے تھے کیونکہ اُنہوں نے آگے بتایا کہ ”‏جو کوئی اپنے آپ کو بڑا خیال کرتا ہے،‏ اُس کو چھوٹا کِیا جائے گا اور جو کوئی اپنے آپ کو چھوٹا خیال کرتا ہے،‏ اُس کو بڑا کِیا جائے گا۔‏“‏ (‏لُوقا 14:‏10،‏ 11‏)‏ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یسوع مسیح وہاں موجود لوگوں کی حوصلہ‌افزائی کر رہے تھے کہ وہ خود میں خاکساری کی خوبی پیدا کریں۔‏

اِس کے بعد یسوع مسیح اپنے میزبان سے مخاطب ہوئے۔‏ اُنہوں نے اُسے سمجھایا کہ جب وہ دعوت کرتا ہے تو اُسے کن لوگوں کو بلانا چاہیے تاکہ خدا اُس سے خوش ہو۔‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏جب آپ دوپہر یا رات کے کھانے کی دعوت کرتے ہیں تو اپنے دوستوں،‏ بھائیوں،‏ رشتےداروں یا امیر پڑوسیوں کو نہ بلائیں ورنہ شاید وہ بھی بدلے میں آپ کی دعوت کریں اور یوں حساب برابر ہو جائے۔‏ لیکن جب آپ دعوت کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کو بلائیں جو غریب،‏ معذور،‏ لنگڑے یا اندھے ہیں۔‏ پھر آپ کو خوشی ملے گی کیونکہ وہ بدلے میں آپ کو دعوت پر نہیں بلا سکتے۔‏“‏—‏لُوقا 14:‏12-‏14‏۔‏

یسوع مسیح یہ نہیں کہہ رہے تھے کہ اپنے دوستوں،‏ رشتےداروں یا پڑوسیوں کو دعوت پر بلانا غلط ہوتا ہے بلکہ وہ یہ کہہ رہے تھے کہ غریب،‏ معذور،‏ لنگڑے یا اندھے لوگوں کی دعوت کرنے سے برکتیں ملتی ہیں۔‏ اُنہوں نے اپنے میزبان سے کہا:‏ ”‏آپ کو اُس وقت اجر ملے گا جب نیک لوگوں کو زندہ کِیا جائے گا۔‏“‏ یہ سُن کر ایک مہمان نے کہا:‏ ”‏اُس شخص کو خوشی حاصل ہے جو خدا کی بادشاہت میں روٹی کھاتا ہے۔‏“‏ (‏لُوقا 14:‏15‏)‏ یہ مہمان جان گیا تھا کہ خدا کی بادشاہت میں روٹی کھانا کتنا بڑا شرف ہے۔‏ لیکن بہت سے لوگوں نے اِس شرف کی قدر نہیں کی جیسا کہ یسوع مسیح کی اگلی بات سے ظاہر ہوا۔‏

اُنہوں نے یہ مثال دی:‏ ”‏ایک آدمی نے بڑی شان‌دار دعوت کا اِنتظام کِیا اور بہت سے لوگوں کو بلایا۔‏ .‏ .‏ .‏ اُس نے اپنے غلام کو مہمانوں کے پاس یہ کہنے کے لیے بھیجا کہ ”‏آئیں،‏ سب کچھ تیار ہے۔‏“‏ لیکن وہ سب کے سب بہانے بنانے لگے۔‏ ایک مہمان نے کہا:‏ ”‏مَیں نے ایک کھیت خریدا ہے اور اُسے دیکھنے جا رہا ہوں۔‏ مَیں معافی چاہتا ہوں،‏ مَیں نہیں آ سکتا۔‏“‏ ایک اَور نے کہا:‏ ”‏مَیں نے بیلوں کی پانچ جوڑیاں خریدی ہیں اور اُنہیں آزمانے جا رہا ہوں۔‏ مَیں معافی چاہتا ہوں،‏ مَیں نہیں آ سکتا۔‏“‏ ایک اَور مہمان نے کہا:‏ ”‏میری ابھی‌ابھی شادی ہوئی ہے اِس لیے مَیں نہیں آ سکتا۔‏“‏“‏—‏لُوقا 14:‏16-‏20‏۔‏

یہ کتنے کھوکھلے بہانے تھے!‏ عام طور پر ایک شخص کھیت یا مویشی خریدنے سے پہلے اِنہیں اچھی طرح سے دیکھتا بھالتا ہے۔‏ لہٰذا خریدنے کے بعد اُنہیں فوراً دیکھنے یا آزمانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔‏ تیسرے آدمی کا بہانہ بھی بےبنیاد تھا کیونکہ وہ شادی کرنے کی تیاری نہیں کر رہا تھا بلکہ شادی کر چُکا تھا۔‏ لہٰذا وہ اِس اہم دعوت پر جا سکتا تھا۔‏ جب مالک نے یہ بہانے سنے تو اُسے بہت غصہ آیا۔‏

اُس نے اپنے غلام سے کہا:‏ ”‏جلدی سے شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں جاؤ اور اُن لوگوں کو یہاں لاؤ جو غریب،‏ معذور،‏ اندھے اور لنگڑے ہیں۔‏“‏ غلام نے مالک کے حکم پر عمل کِیا مگر ابھی بھی اَور مہمانوں کے لیے گنجائش تھی۔‏ اِس لیے مالک نے اُس سے کہا:‏ ”‏شہر سے باہر سڑکوں اور کچے راستوں پر جاؤ اور وہاں موجود لوگوں کو یہاں آنے پر مجبور کرو تاکہ میرا گھر مہمانوں سے بھر جائے۔‏ مَیں تُم  سے کہتا ہوں کہ جن مہمانوں کو مَیں نے پہلے بلایا تھا،‏ اُن میں سے ایک بھی اِس دعوت کا کھانا نہیں چکھے گا۔‏“‏—‏لُوقا 14:‏21-‏24‏۔‏

اِس مثال کا کیا مطلب تھا؟‏ یہوواہ خدا یسوع مسیح کے ذریعے لوگوں کو بادشاہت کے وارث بننے کی دعوت دے رہا تھا۔‏ سب سے پہلے یسوع مسیح کے دورِخدمت کے دوران یہودیوں کو اور خاص طور پر مذہبی رہنماؤں کو دعوت دی گئی لیکن اُن میں سے زیادہ‌تر نے اِسے قبول نہیں کِیا۔‏ اِس مثال سے واضح ہوا کہ مستقبل میں اَور لوگوں کو یہ دعوت دی جانی تھی۔‏ بعد میں ایسے یہودیوں کو دعوت دی گئی جنہیں مذہبی رہنما حقیر سمجھتے تھے اور ایسے لوگوں کو بھی جنہوں نے یہودی مذہب اپنایا تھا۔‏ تیسری اور آخری دعوت غیریہودیوں کو دی گئی جن کے ساتھ یہودی میل جول نہیں رکھتے تھے۔‏—‏اعمال 10:‏28-‏48‏۔‏

بِلاشُبہ اُس مہمان کی یہ بات سچ تھی کہ ”‏اُس شخص کو خوشی حاصل ہے جو خدا کی بادشاہت میں روٹی کھاتا ہے۔‏“‏