مواد فوراً دِکھائیں

مضامین کی فہرست فوراً دِکھائیں

 باب 90

‏”‏مَیں وہ ہوں جو زندہ کرتا ہوں“‏

‏”‏مَیں وہ ہوں جو زندہ کرتا ہوں“‏

یوحنا 11:‏17-‏37

  • یسوع مسیح،‏ لعزر کی موت کے بعد بیت‌عنیاہ پہنچے

  • زندہ کرنے اور زندگی دینے والا

یسوع مسیح پیریہ کے علاقے سے نکل کر بیت‌عنیاہ کے گِردونواح میں آئے جو کہ لعزر،‏ مارتھا اور مریم کا گاؤں تھا۔‏ یہ گاؤں یروشلیم سے تقریباً 3 کلومیٹر (‏2 میل)‏ دُور مشرق میں واقع تھا۔‏ مارتھا اور مریم اپنے بھائی لعزر کی موت کا سوگ منا رہی تھیں اور بہت سے لوگ اُن کے پاس افسوس کرنے آ رہے تھے۔‏

پھر کسی نے آ کر مارتھا کو بتایا کہ یسوع مسیح گاؤں پہنچنے والے ہیں۔‏ یہ سُن کر مارتھا جلدی سے یسوع سے ملنے کے لیے گئیں۔‏ جب مارتھا نے یسوع کو دیکھا تو اُنہوں نے اُن سے وہ بات کہی جو چار دنوں سے شاید اُن کے اور اُن کی بہن کے دل میں تھی۔‏ مارتھا نے کہا:‏ ”‏مالک،‏ اگر آپ یہاں ہوتے تو میرا بھائی نہ مرتا۔‏“‏ لیکن مارتھا کو ابھی بھی اُمید تھی کہ یسوع اُن کے بھائی کے لیے کچھ کر سکتے ہیں۔‏ اِس لیے اُنہوں نے کہا:‏ ”‏مجھے ابھی بھی یقین ہے کہ آپ خدا سے جو کچھ بھی مانگیں گے،‏ خدا آپ کو دے گا۔‏“‏—‏یوحنا 11:‏21،‏ 22‏۔‏

یسوع مسیح نے اُن سے کہا:‏ ”‏آپ کا بھائی جی اُٹھے گا۔‏“‏ مارتھا کو لگا کہ یسوع مستقبل کی بات کر رہے ہیں جب زمین پر مُردوں کو زندہ کِیا جائے گا۔‏ ابراہام اور خدا کے باقی وفادار خادم بھی یہی اُمید رکھتے تھے۔‏ مارتھا کی اگلی بات سے ظاہر ہوا کہ اُنہیں بھی مُردوں کے زندہ ہونے پر پکا یقین تھا۔‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏مجھے پتہ ہے کہ آخری دن جب مُردوں کو زندہ کِیا جائے گا تو وہ بھی جی اُٹھے گا۔‏“‏—‏یوحنا 11:‏23،‏ 24‏۔‏

مگر کیا یسوع فوراً مارتھا اور مریم کا دُکھ ختم کر سکتے تھے؟‏ اُنہوں نے مارتھا کو یاد دِلایا کہ اُنہیں خدا کی طرف سے موت پر بھی اِختیار ملا ہے۔‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏جو مجھ پر ایمان ظاہر کرتا ہے،‏ چاہے وہ مر بھی جائے تو بھی دوبارہ زندہ ہوگا۔‏ اور جو زندہ ہے اور مجھ پر ایمان ظاہر کرتا ہے،‏ وہ کبھی نہیں مرے گا۔‏“‏—‏یوحنا 11:‏25،‏ 26‏۔‏

یسوع مسیح یہ نہیں کہہ رہے تھے کہ اُن کے شاگرد جو اُس وقت زندہ تھے،‏ کبھی نہیں مریں گے۔‏ اُنہیں خود بھی مرنا تھا جیسا کہ اُنہوں نے اپنے رسولوں کو بتایا تھا۔‏ (‏متی 16:‏21؛‏ 17:‏22،‏ 23‏)‏ دراصل یسوع اِس بات کو نمایاں کر رہے تھے کہ جو لوگ اُن پر ایمان ظاہر کرتے ہیں،‏ اُنہیں ہمیشہ کی زندگی ملے گی۔‏ بہت سے لوگوں کو مُردوں میں سے زندہ ہونے کے بعد ہمیشہ کی زندگی ملے گی۔‏ لیکن یسوع کے جو پیروکار دُنیا کے آخر ہونے تک زندہ ہوں گے،‏ اُن کو شاید کبھی نہیں مرنا پڑے گا۔‏ بہرحال،‏ جو کوئی بھی یسوع مسیح پر ایمان ظاہر کرے گا،‏ اُسے ابدی موت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔‏

لیکن کیا یسوع مسیح،‏ لعزر کو زندہ کر سکتے تھے جنہیں فوت ہوئے چار دن ہو گئے تھے؟‏ یسوع نے ابھی ابھی کہا تھا کہ ”‏مَیں وہ ہوں جو زندہ کرتا ہوں اور زندگی دیتا ہوں۔‏“‏ پھر اُنہوں نے مارتھا سے پوچھا:‏ ”‏کیا آپ اِس بات پر یقین رکھتی ہیں؟‏“‏ مارتھا نے جواب دیا:‏ ”‏جی مالک،‏ مَیں یقین رکھتی ہوں کہ آپ مسیح اور خدا کے بیٹے ہیں۔‏ آپ وہی ہیں جسے دُنیا میں آنا تھا۔‏“‏ مارتھا کو اُمید تھی کہ یسوع اُسی دن لعزر کے لیے کچھ کر سکتے ہیں۔‏ اِس لیے وہ جلدی سے گھر گئیں اور مریم کے کان میں کہا:‏ ”‏اُستاد آ گئے ہیں اور تمہیں بلا رہے ہیں۔‏“‏ (‏یوحنا 11:‏25-‏28‏)‏ یہ سُن کر مریم فوراً اُٹھیں اور گھر سے باہر گئیں۔‏ جب دوسروں نے یہ دیکھا تو وہ اُن کے پیچھے گئے کیونکہ اُنہیں لگا کہ مریم قبر پر رونے کے لیے جا رہی ہیں۔‏

جب مریم،‏ یسوع کے پاس پہنچیں تو وہ اُن کے قدموں میں گِر گئیں اور کہنے لگیں:‏ ”‏مالک،‏ اگر آپ یہاں ہوتے تو میرا بھائی نہ مرتا۔‏“‏ مریم اور باقی یہودیوں کو روتے دیکھ کر یسوع نے گہری آہ بھری اور بہت پریشان ہو گئے،‏ یہاں تک کہ اُن کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے‏۔‏ یہ دیکھ کر وہاں موجود لوگوں کو اندازہ ہوا کہ یسوع کو لعزر سے کتنا پیار تھا۔‏ لیکن اُن میں سے کچھ کہنے لگے:‏ ”‏اگر یہ آدمی ایک اندھے کی آنکھیں ٹھیک کر سکتا ہے تو کیا یہ لعزر کو نہیں بچا سکتا تھا؟‏“‏—‏یوحنا 11:‏32،‏ 37‏۔‏